30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر جنب نے کنویں میں ہاتھ پیر کے علاوہ کوئی عضو ڈالا تو پانی فاسد ہوجائے گا ، کیونکہ ضرورت صرف انہی دو میں ہے اور ہمارا قول من الجسد بعض عضو کے داخل کرنے سے مستعمل ہونے کا فائدہ دیتا ہے ، اور وہ ابو یوسف سے مروی شدہ قول کے موافق ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ پاک شخص نے کسی برتن میں اپنا سر ڈالا اور اس کا کچھ حصہ تر ہوگیا تو مستعمل ہوگا ، اور ابویوسف سے جو روایت معروف ہے وہ یہ ہے کہ عضو کے بعض حصہ سے مستعمل نہ ہو گا۔ ت
اُسی میں اس سے کچھ پہلے ہے :
ان کان اصبعا اواکثر دون الکف لایضر ومع الکف بخلافہ ذکرہ فی الخلاصۃ ولا یخلو من حاجۃ الی تأمل وجہہ [1]۔
اگر انگلی یا اس سے زیادہ ہو اور ہتھیلی سے کم ہو تو مضر نہیں اور ہتھیلی کے ساتھ اس کے برعکس ہے ، اس کو خلاصہ میں ذکر کیا ، اس میں ضرورت ہے کہ اس کی وجہ پر غور کیا جائے۔ ت
وجیز امام کُردری میں ہے :
المعروف عن الامام الثانی عدم الفساد مالم یصر عضوا تاما والفساد ھو الظاھر [2] اھ۔
اقول : الحق ان المناط الحاجۃ فحیث کانت تندفع ببعض العضو فادخل کلہ یصیر مستعملا ولعل ھذا ھو محمل تلک الروایۃ ان ادخال الاصابع للاغتراف لایفسد بخلاف الکف ولھذا قال فی الخانیۃ من باب الوضؤ ان لم تکن معہ اٰنیۃ صغیرۃ فانہ یغترف من التوربا صابع یدہ الیسری مضمومۃ لابالکف [3]۔
امام ثانی سے مشہور یہ ہے کہ جب تک پورا عضو داخل نہ ہو فساد نہیں ، حالانکہ فساد ظاہر ہے۔ ت
میں کہتا ہوں حق یہ ہے کہ حکم کی علت حاجت ہے تو جہاں ضرورت عضو کے بعض حصّے سے پوری ہوجاتی ہو وہاں اگر کل عضو ڈال دیا تو پانی مستعمل ہوجائے گا اور شاید یہ اُس روایت کا محمِل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چُلّو بھر کر پانی لینے کیلئے انگلیوں کا ڈالنا پانی کو فاسد نہیں کرتا بخلاف ہتھیلی کے ، اس لئے خانیہ کے باب وضو میں ہے اگر اس کے پاس چھوٹا برتن نہ ہو تو طشت سے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر پانی نکال لے ہتھیلی نہ ڈالے۔ ت
ولہٰذا ہم نے حکم عام رکھا باقی فوائدہمارے رسالہ الطرس المعدل سے ظاہر ہیں اُسے قابل(۱)وضو کرنے کے دو۲ طریقے ہیں ، ایک یہ کہ اپنی مقدار سے زائد آب طاہر مطہر میں ملا دیا جائے سب قابلِ وضو ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے :
غلبۃ المخالط لو مماثلا کمستعمل فبا لاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر
ملنے والے پانی کا غلبہ اگر اسی کی مثل ہو جیسے مستعمل پانی تو اعتبار اجزاء(مقدار)کا ہوگا ، اگر مطلق نصف سے زیادہ ہے
بالکل والالا [4]۔
تو سب سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ ت
دوسرے یہ کہ اُس میں طاہر مطہر پانی ڈالتے رہیں یہاں تک کہ اُس کا برتن بھر کر اُبلے اور بہنا شروع ہو سب طاہر مطہر ہوجائے گا کہ اس طرح پاک پانی کے ساتھ بہانے سے ناپاک پانی پاک ہوجاتا ہے تو غیر مطہر ہوجانا بدرجہ اولیٰ درمختار میں ہے :
المختار طہارۃ المتنجس بمجرد جریانہ [5]۔
مختار قول یہ ہے کہ نجس پانی محض جاری ہونے سے پاک ہوجائے گا۔ ت
ردالمحتار میں ہے :
بمجرد جریانہ بان یدخل من جانب ویخرج من اٰخر حال دخولہ وان قل الخارج بحود لایلزم ان یکون ممتلأ اول وقت الدخول لانہ اذا کان ناقصا فدخل الماء حتی امتلأ وخرج بعضہ طھر ایضا کما حققہ فی الحلیۃ [6]۔
محض اس کے جاری ہونے سے ، کہ ایک طرف سے داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے نکالا جائے اس کے داخل ہونے کی حالت میں ، اگرچہ خارج کم ہو ، بحر ، یہ ضروری نہیں کہ داخل ہوتے وقت بھرا ہوا ہو ، کیونکہ جب ناقص ہوگا اور پانی داخل ہوکر برتن بھر جائے پھر پانی نکل جائے تو بھی یہ پانی پاک ہوجائے گا ، جیسا کہ حلیہ میں تحقیق کی۔ ت
بدائع میں ہے :
وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس [7]۔
اورا سی پر حمّام کے حوض کو قیاس کیا جائے یا برتنوں کو جب وہ ناپاک ہوجائیں۔ ت
شامی میں ہے :
مقتضاہ انہ علی قول الصحیح تطھر الاوانی ایضا بمجرد الجریان وقد علل فی البدائع ھذا القول بانہ صارماء جاریا فاتضح الحکم ولله الحمد[8] اھ وتمامہ فیہ ۔
اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ قول صحیح پر برتن بھی محض پانی کے بہنے سے پاک ہوجائیں گے ، اور اس کی وجہ بدائع میں یہ بیان کی ہے کہ یہ جاری پانی ہوگیا ، تو جاری پانی کا حکم اس پر لاگو ہوگا ، تو حکم ظاہر ہوگیا ولله الحمد اھ اور اس کی مکمل بحث اُسی میں ہے۔ ت
بعض لوگوں کا کہنا کہ اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اگر پینے کے حق میں مراد تو مذہب صحیح پر مبنی ہے کہ ماء مستعمل(۱)طاہر ہے مطہر نہیں اُس سے وضو نہ ہوگا اور پینا مکروہ۔ حلیہ پھر شامی میں ہے : بلعہ ایاہ مکروہ [9] (اس کا اس کو نگلنا مکروہ ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
[1] فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضؤ وما لایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
[2] بزازیۃ مع الہندیۃ نوع فی المستعمل والمقید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۹
[3] خانیہ مع الہندیۃ صفۃ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۳
[4] درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
[5] درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶)
[6] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
[7] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
[8] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
[9] درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع