30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : ھذا کلہ علی المتبادر من ارادۃ النیۃ الشرعیۃ اما لوحملت علی قصد الفعل ارتفع النزاع فان المامور بہ المکلف لایکون الافعلہ الاختیاری فما وقع عنہ من دون قصد منہ لایخرجہ عن عھدۃ ایجاب الفعل وغسل المیت لہ وجہان وجہ الی الشرطیۃ وھو عدم صحۃ الصلاۃ علیہ بدون الطھارۃ وھذا مایکفی فیہ وجودہ بلا ایجادہ کطھارۃ الحی ووجہ الی الفرضیۃ علینا ولا یتأتی الا بفعل توقعہ قصدا ولولم تقصد العبادۃ المامور بھا وھذا معنی قول ابی یوسف لانا امرنا بالغسل وقول المحیط ان الخطاب یتوجہ الی بنی اٰدم وبھذا تتفق الکلمات(۱)ویظھر مافی کلام الغنیۃ ولله الحمد۔
کسی نہ کسی فعل کا ہونا ضروری ہے اور نیت حصول ثواب کیلئے شرط ہے ، اس لئے ذمی عورت اپنے مسلمان شوہر کو غسل دے سکتی ہے حالانکہ نیت کیلئے اسلام شرط ہے تو فرض ہمارے فعل سے ساقط ہوجائے گا خواہ نیت نہ ہو اور خانیہ کے قول أجزأھم سے بظاہر یہی معلو ہوتا ہے اھ۔ ت
میں کہتا ہوں یہ سب نیت شرعیہ کے ارادہ سے متبادر ہے اور اگر نیت سے مراد ارادہ فعل لیا جائے تو اختلاف ختم ہوجائے گا ، کیونکہ مکلّف کو جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کا فعل اختیاری ہوگا اور جو اُس سے بلا قصد واختیار سرزد ہو وہ ایجاب فعل کی ذمہ داری سے اس کو عہدہ برآ نہیں کرسکتا ، اور غسل میت کی دو وجہیں ہیں ایک تو شرطیہ کی طرف اور وہ یہ ہے کہ اس پر نماز بلا طہارت جائز نہیں ، اور اس صورت میں غسل کا وجود کافی ہے خواہ اس کی طرف سے ایجاد نہ ہو ، جیسے زندہ انسان کی پاکی ، اور ایک وجہ ہم پر فرضیت کی ہے ، اور یہ اُسی فعل سے ادا ہوسکتی ہے جو قصداً کیا جائے اگرچہ مامور بہا عبادت کا قصد نہ کیا جائے ، اور یہی مفہوم ہے حضرت امام ابو یوسف کے قول “ اس لئے کہ ہم کو غسل کا حکم دیا گیا ہے “ کا ، اور محیط کے اس قول “ کہ خطاب بنو آدم کی طرف متوجہ ہے “ کا بھی یہی مفہوم ہے ، اس طرح مختلف اقوال میں تطبیق ہوجائے گی ، اور جو غنیہ میں ہے وہ ظاہر ہوجائے گا ولله الحمد۔ ت
اسی لئے ہم نے مکلف پر جس عضو کا دھونا واجب کہا نہ مکلف کا عضو کہ میت مکلف نہیں۔
فائدہ ۳ : عورت(۲)ابھی حیض یا نفاس میں ہے خون منقطع نہ ہوا اس حالت میں اگر اس کا ہاتھ یا کوئی عضو پانی میں پڑ جائے مستعمل نہ ہوگا کہ ہنوز اس پر غسل کا حکم نہیں والمسألۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ والبحر وغیرھا اس لئے ہم نے بالفعل کی قید ذکر کی۔
فائدہ ۴ : جس عضو کا(۳)جہاں تک پانی میں ڈالنا بضرورت ہو اُتنا معاف ہے پانی کو مستعمل نہ کرے گا مثلاً :
(۱)پانی لگن یا چھوٹے حوض میں ہے کہ دہ در دہ نہیں اور کوئی برتن نہیں جس سے نکال کر وضو کرے تو چُلّو لینے کیلئے اُسی میں ہاتھ ڈالنے سے مستعمل نہ ہوگا۔
(۲)اسی صورت میں اگر ہاتھ مثلاً کہنی یا نصف کلائی تک ڈال کر چلّو لیا یعنی جس قدر کے ادخال کی چلو میں حاجت نہ تھی مستعمل ہوجائے گا کہ زیادت بے ضرورت واقع ہوئی۔
(۳)کَولی یا مٹکے میں کٹورا ڈوب گیا اُس کے نکالنے کو جتنا ہاتھ ڈالنا ہو مستعمل نہ کرے گا ، اگرچہ بازو تک ہو کہ ضرورت ہے۔
(۴)برتن میں پاؤں پڑ گیا پانی مستعمل ہوگیا کہ اس کی ضرورت نہ تھی۔
(۵)کنوئیں یا حوض میں ٹھنڈ لینے کو غوطہ مارا یا صرف ہاتھ پاؤں ڈالا مستعمل ہوگیا کہ ضرورت نہیں۔
(۶)برتن یا حوض(۱)میں ہاتھ ڈالا تو تھا چُلُّو لینے کو پھر اُس میں ہاتھ دھونے کی نیت کرلی مستعمل ہوگیا کہ حوض میں دھونا بضرورت نہ تھا صرف چُلُّو لینے کی حاجت تھی۔
(۷)کُنوئیں سے ڈول نکالنے گھُسا اور وہاں غسل یا وضو کی نیت کرلی بالاتفاق مستعمل ہوگیا اگرچہ امام محمد نے ڈول نکالنے کیلئے اجازت دی تھی کہ قصد طہارت کی ضرورت نہ تھی وقس علیہ۔ فتح القدیر میں ہے :
لوادخل المحدث اوالجنب اوالحائض التی طھرت الید فی الماء للاغتراف لایصیر مستعملا للحاجۃ بخلاف مالو ادخل المحدث رجلہ او رأسہ حیث یفسد الماء لعدم الضرورۃ وفی کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ان غمس جنب او غیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین او احدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضوء منہ لانہ سقط فرضہ عنہ وذلک لان الضرورۃ لم تتحقق فی الادخال الی المرفقین حتی لوتحققت بان وقع الکوز فی الجب فادخل یدہ الی المرفق لاخراجہ لایصیر مستعملا نص علیہ فی الخلاصۃ قال بخلاف مالوادخل یدہ للتبرد لعدم الضرورۃ ثم ادخال مجرد الکف انما لایصیر مستعملا اذا لم یرد الغسل فیہ بل اراد رفع
اگر بے وضو ، جنب یا پاک ہوجانے والی حائض عورت نے اپنا ہاتھ چُلّو بھر پانی لینے کیلئے پانی میں ڈالا تو پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ یہ ضرورۃً کیا گیا ہے ، لیکن اگر بے وضو نے اپنا سریا پیر اس پانی میں ڈال دیا تو مستعمل ہوجائے گا کیونکہ بغیر ضرورت ہوا ، اور حسن کی کتاب جو ابو حنیفہ سے ہے میں ہے کہ اگر جنب یا بے وضو نے اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈالے تو اُس سے وضو جائز نہیں ، کیونکہ اس طرح اس کا فرض اس سے ساقط ہوگیا کیونکہ کہنیوں تک ہاتھوں کو ڈبونے کی کوئی ضرورت نہ تھی ہاں اگر یہ ضرورت ہو ، مثلاً لوٹا کنویں میں گر پڑا اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ کہنیوں تک اس میں ڈالنا پڑا اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ کہنیوں تک اس میں پانی ڈالنا پڑا تو پانی مستعمل نہ ہوگا ، یہ خلاصہ میں منصوص ہے ، فرمایا اگر ہاتھ محض ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے بلا ضرورت ڈالا تو اس کا یہ حکم نہیں ، کیونکہ وہاں ضرورت نہیں ، پھر
الماء وفی المبتغی وغیرہ بتبردہ یصیر مستعملا ان کان محدثا والا فلا[1] اھ باختصار۔
محض ہاتھ کا ڈالنا پانی کو مستعمل نہیں کردیتا ہے جبکہ غسل کا ارادہ نہ ہو ، مثلاً یہ کہ پانی اٹھانے کا ارادہ ہو ، اور مبتغٰی وغیرہ میں ہے ٹھنڈک حاصل ہونے سے مستعمل ہوجائے گا اگر بے وضو ہو ورنہ نہیں اھ۔ ت
ردالمحتار میں زیر قول شارح محدث انغمس فی بئرلدلو ولم ینو [2] (بے وضو جس نے ڈول نکالنے کیلئے کنویں میں غوطہ لگایا اور نیت نہ کی۔ ت)فرمایا :
لم ینو ای الاغتسال فلو نواہ صار مستعملا بالاتفاق الافی قول زفر سراج والمراد لم ینو بعد انغماسہ فلا ینافی قولہ لدلو افادہ[3]ط۔
نیت نہ کی یعنی غسل کی ، اگر غسل کی نیت کی تو پانی بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا مگر زفر کے قول میں ، سراج۔ اور مراد یہ ہے کہ غوطہ کھانے کے بعد نیت نہ کی تو ان کے قول لدلو کے منافی نہیں ، اس کا افادہ 'ط' نے کیا۔ ت
ولہٰذا ہم نے بے ضرورت کی قید لگائی۔
فائدہ ۵ : (۱)امام ابو یوسف سے روایت معروفہ یہ ہے کہ عضو کا ٹکڑا ڈوب جانے سے مستعمل نہیں ہوتا جب تک پورا عضو نہ ڈوبے ، مثلاً انگلیاں پانی میں ڈالیں تو مستعمل نہ ہوگا کفِ دست کے ڈوبنے سے حکمِ استعمال دیا جائے گا اور صحیح یہ ہے کہ بے ضرورت کتنا ہی ٹکڑا ہو مستعمل کر دے گا۔ فتح القدیر میں ہے :
لو ادخل الجنب فی البئر غیر الید والرجل من الجسد افسدہ لان الحاجۃ فیھما وقولنا من الجسد یفید الاستعمال بادخال بعض عضو وھو یوافق المروی عن ابی یوسف فی الطاھر اذا ادخل رأسہ فی الاناء وابتل بعض رأسہ انہ یصیر مستعملا اما الروایۃ المعروفۃ عن ابی یوسف انہ لایصیر مستعملا ببعض العضو [4]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع