دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

بحصول الاستعمال مع کون الماء مترددا بعد علی نفس العضو غیر منفصل عنہ وھو(۳)باطل لاجرم ان نص فی الخلاصۃ ثم البحر فیما اذا مسح باطراف اصابعہ ومدھا حتی بلغ المفروض انہ یجوز سواء کان الماء متقاطرا اولا قالا وھو [1] الصحیح ، قال ش قال الشیخ اسمٰعیل ونحوہ فی الواقعات                                      

ہوں یا کھڑی ، تاکہ اُن کا کلام تمام صورتوں کا استیعاب کرے ، لیکن وہ اس امر کے مدعی ہیں کہ وہ نقل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو ضمیر کے منصوبہ کی طرف لوٹنے کا احتمال اُن کیلئے مضر ہوگا اور پھر وہ اقرب بھی ہے ، اور حلیہ میں مراد واضح کی ہے فرمایا۔ فروع اگر کسی نے تین کھڑی انگلیوں سے مسح کیا تو جائز نہیں اور اگر ان کو اتنا کھینچا کہ فرض مقدار کو پہنچا دیا تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہیں اور اگر انگلیوں کو رکھا اور نہ کھینچا تو چوتھائی کی روایت پر جائز نہیں ، اس کو تحفہ ، محیط اور بدائع میں ذکر کیا ہے اھ ت

میں کہتا ہوں بعض متأخرین نے جس کی طرف عدول کیا ہے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں محسوس کرتا ہوں کیونکہ اگر ان کی مراد انگلی سے جدا ہونا ہے تو استعمال کا فائدہ نہ ہوگا کیونکہ وہ تو آلہ ہے اس کو تو محل سے جدا ہونا یا کل سر سے جدا ہونا مفید ہے ، تو یہ ظاہراً غلط ہے یا اس کی جگہ سے جہاں انگلی لگی ہے یا نہیں ، تو ہاں ، مگر اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ نظیر ہوگا اس چیز کی جس سے عدول کیا ہے تاکہ استعمال کے حصول کا حکم ہو حالانکہ پانی متردد ہے عضو پر اس سے جدا نہیں ، اور وہ باطل ہے ، پھر خلاصہ وبحر میں صراحت ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی انگلیوں کے کناروں سے مسح کیا اور ان کو کھینچا یہاں تک کہ فرض کے مقام کو پہنچا تو یہ جائز ہے خواہ پانی ٹپکے یا نہ ٹپکے اُن دونوں

والفیض [2] اھ۔ ای علی خلاف مافی المحیط انہ انما یجوز اذا کان متقاطر لان الماء ینزل من اصابعہ الی اطرافھا فمدہ کاخذ جدید [3]۔

والثانی :  مااختار شمس الائمۃ ان المنع فی مد الاصبع والا ثنتین غیر معلل باستعمال البلۃ بدلیل انہ(۱)لومسح باصبعین فی التیمم لایجوز مع عدم شیئ یصیر مستعملا خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد بل الوجہ انامامورون بالمسح بالید والاصبعان لاتسمی یدا بخلاف الثلاث لانھا اکثر ماھو الاصل فیھا [4] اھ

ای فی الید وھی الاصابع(۲)ولذا یجب بقطعھا ارش الید کاملا وردہ المحقق بعد استحسانہ بانہ یقتضی تعیین الاصابۃ بالید(۳)وھو منتف بمسألۃ المطر وقد یدفع بان المراد تعیینہا اوما یقوم مقامھا من الالات عند قصد الاسقاط بالفعل اختیارا غیران لازمہ کون تلك الاٰلۃ قدر ثلاث اصابع حتی لوکان(۴)عودا لایبلغ ذلك القدر قلنا بعدم جوازمدہ[5]                                    

نے کہا کہ وہی صحیح ہے۔

ش نے فرمایا شیخ اسمٰعیل نے فرمایا نیز واقعات اور فیض میں ہے اھ یعنی محیط کے برعکس یہ اس وقت جائز ہے جبکہ پانی ٹپک رہا ہو کیونکہ پانی اس کی انگلیوں کے کناروں تک ٹپک آئے گا تو اس کا کھینچنا گویا نیا پانی لینے کے مترادف ہے۔ ت

اور دوسرا وہ ہے جو شمس الائمہ نے اختیار کیا ہے کہ ایک یا دو انگلیوں کے کھینچنے کی ممانعت تری کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس نے دو انگلیوں سے تیمم میں مسح کیا تو جائز نہیں ، حالانکہ کوئی چیز ایسی نہیں جو مستعمل ہو خصوصاً جب چکنے پتھر پر تیمم کیا ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ہاتھ سے مسح کا حکم دیا گیا ہے اور دوانگلیوں کو ہاتھ نہیں کہا جاتا ہے بخلاف تین انگلیوں کے کیونکہ یہ مسح کے اصل میں جو اصل ہے اس کا اکثر حصہ ہیں اھ۔ یعنی ہاتھ اور وُہ انگلیاں ہیں اور اسی لئے تین انگلیوں کے کاٹنے پر پورے ہاتھ کی دیت لازم ہوتی ہے اور محقق نے اس کو پسند کرنے کے بعد رد کردیا ، کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہاتھ کا لگانا ہی ضروری ہے حالانکہ بارش کے مسئلہ کی وجہ سے ایسا نہیں ہے ، اس کا ایک جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ دراصل مراد ہاتھ کی تعیین ہے یا جو اس کے قائم مقام ہو ، کوئی بھی آلہ ہو ، جبکہ اختیاری فعلی سے اسقاط مطلوب ہو ، البتہ یہ ضروری ہے کہ جو بھی آلہ ہو تین انگلیوں کی مقدار میں ہو یہاں تک کہ اگر کسی نے ایسی لکڑی پھیری جو اس مقدار کی نہ تھی تو جائز نہ ہوگا اھ۔

اقول وحاصلہ ان الید غیر لازمۃ ولکن اذا وقع بھا لم یجز الا بما ینطلق علیہ اسمہا ولکن لقائل ان یقول اولا : (۱)مسألۃ القدر المفروض کیفما کان ولا نظر الی الاٰلۃ ولا الفعل القصدی اصلا وقد قرر مشائخنا ان ذکر الید المقدرۃ فی قولہ تعالٰی  وامسحوا برؤوسکم ای ایدیکم برؤوسکم لتقدیر المحل دون الاٰلۃ کما حققہ الامام صدر الشریعۃ وابن الساعاتی والمحقق نفسہ فی الفتح فلیتأمل ۔

وثانیا : (۲)اجمعوا ان لومسح باطراف اصابعہ والماء متقاطر جاز فظھر ان تعیین الاٰلۃ ملغاۃ ھھنا رأسا وان(۳)القیاسعلی التیمم مع الفارق ،

 والثالث :  ماابداہ بقولہ قد یقال عدم الجواز بالاصبع بناء علی ان البلۃ تتلاشی وتفرغ قبل بلوغ قدر الفرض بخلاف الاصبعین فان الماء ینحمل بین اصبعین مضمومتین فضل زیادۃ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض وھذا مشاھد(۴)او مظنون فوجب اثبات الحکم باعتبارہ فعلی الاکتفاء بثلاث اصابع یجوز مدالا صبعین لان مابینھما من الماء یمتد قدر اصبع وعلی اعتبار الربع لایجوز لان مابینھما مما لایغلب علی الظن ایعابہ الربع [6] اھ۔                              

میں کہتا ہوں کہ اس کا حاصل یہ نکلا کہ ہاتھ لازم نہیں ہے لیکن جب ہاتھ سے مسح کرنا ہو تو ضروری ہے کہ اتنی مقدار ہو کہ اس پر ہاتھ کا اطلاق ہوتا ہو۔ مگر اس پر متعدد طریقوں سے اعتراض ہوسکتا ہے ، اوّل بارش کا مسئلہ ہمارے حق میں مفید ہے کیونکہ مقصود شرع یہ ہے کہ تری کی ایک معین مقدار لگ جائے خواہ کسی طرح ہو اس میں نہ تو آلہ زیر بحث ہے اور نہ اختیاری فعل ، اور ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ فرمان الٰہی “ اور مسح کرو تم سروں کا “ اس کا مفہوم یہ ہے کہ “ اپنے ہاتھوں کا اپنے سروں سے “ میں محل مقدر ہے نہ کہ آلہ صدرالشریعۃ ، ابن الساعاتی اور خود محقق نے فتح میں یہی تقریر فرمائی ہے ، غور کر۔

دوم : فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے انگلیوں کے پوروں سے مسح کیا اور اُن سے پانی ٹپک رہا تھا تو جائز ہے ، تو معلوم ہوا کہ یہاں آلہ کی تعیین اہم نہیں ہے اور اس کوتیمم پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

سوم : انہوں نے “ عدم الجواز بالاصبع “ کہہ کر جو اعتراض کیا ہے سو وہ اس بنا پر ہے کہ تری فرض مقدار تک پہنچنے سے قبل ختم ہوجاتی ہے لیکن دو انگلیاں اگر ملی ہوں تو ان میں فرض مقدار تک پانی پہنچ سکتا ہے ، اس کا مشاہدہ ہے یا ظن غالب ہے ، تو اس پر اعتبار کرتے ہوئے حکم کا لگا دینا لازم ہوا تو تین انگلیوں پر اکتفاء کرنا دو کے پھیر لینے کو جائز قرار دیتا ہے کیونکہ ان دو کے درمیان اتنا پانی موجود ہوتا ہے جو مزید ایک انگلی کی مقدار

اقول :  اخر کلامہ یشھد ان مرادہ بقولہ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض ھو قدرہ علی القول باجزاء ثلاث فکان الاولی التعبیر بہ دفعا للوھم ثم ان المحقق ردہ بقولہ الا ان ھذا یعکر علیہ عدم جواز التیمم باصبعین [7] اھ۔  

اقول :  ای فلیس ثمہ شیئ یفرغ ویتلاشی اذلا حاجۃ الی اثر غبار علی الید فان کان فضل غیر ملتفت الیہ شرعا فکان معدوما حکما وان لم یکن فاظھر للعدم حقیقۃ وحکما وھذا معنی قول شمس الائمۃ خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد فھذا کل مااوردہ المحقق ولم یفصل القول فیہ فصلا۔

 



[1]              بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵

[2]        ردالمحتار کتاب الطہارۃ البابی مصر ۱ / ۴۵

[3]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ البابی مصر ۱ / ۴۷

[4]   فتح القدیر  کتاب الطہارۃ  نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۶

[5]   فتح القدیر  کتاب الطہارۃ  نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۶

[6]       فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷

[7]   فتح القدیر  کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن