دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

طھور عندہ فقالوا المسح حصل بالاصابۃ والماء انما یاخذ حکم الاستعمال بعد الانفصال والمصاب بہ لم یزایل العضو حتی عدل بعض المتاخرین الی التعلیل بلزوم انفصال بلۃ الاصبع بواسطۃ المد فیصیر مستعملا لذلك [1] اھ وبالجملۃ فالنقول فی الباب کثیرۃ بثیرۃ وفی الکتب شھیرۃ وان کان للعبد فی مسألۃ الاصبع ابحاث غزیرۃ فلیس وجہ مسألۃ الاناء مایتوھم بل مانقلناہ انفا عن الفتح وقد ذکرہ فی موضع اخر بقولہ ان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال الا بعد الانفصال والذی لاقی الراس من اجزائہ لصق بہ فطھرہ وغیرہ لم یلاقہ فلم یستعمل [2] اھ۔  فمعنی قولھم فیھا لایصیر الماء                              

رہتا ہے مستعمل نہیں ہوتا ہے۔ اور فتح میں ہے جس نے سرکا مسح کیا یا اگرچہ ایک انگلی سے مسح کیا کہ اس کو بقدرِ فرض کھینچا ، تو زفر کے نزدیک جائز ہے اور ہمارے نزدیک جائز نہیں اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ تری مستعمل ہوگئی ، مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ پانی عضو سے جُدا ہوئے بغیر مستعمل نہیں ہوتا ہے ، ایک قول یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ پانی عضو سے لگتے ہی مستعمل ہوجائے مگر اعضاء مغسولہ میں اس کو حرج کی وجہ سے معتبر نہیں مانا گیا ہے ورنہ تو عضو کے ایک حصہ کا پانی دوسرے حصہ کو ناپاک کردیتا ، اور مسح میں یہ صورت حال نہیں ہے کیونکہ اس میں بہانا نہیں ہے محض لگانا ہے تو اس میں اصل پر اعتبار کیا گیا۔ اس اعتراض کے جواب میں کہا گیا ہے کہ امام ابو یوسف نے سر کو برتن میں داخل کرنے کی بابت جو ارشاد فرمایا ہے یہ قول اس کے برخلاف ہے کیونکہ پانی اُن کے نزدیک پاک کرنے والا ہے ، وہ فرماتے ہیں پانی لگانے سے مسح تو ہوگیا اور چونکہ پانی عضو سے جدا ہونے کے بعد مستعمل ہوتا ہے اور مسح میں جدا نہیں ہوتا اس لئے مستعمل بھی نہ ہوگا حتی کہ بعض متاخرین نے بجائے اس دلیل کے یہ دلیل اختیار کی ہے کہ انگلی کی تری اس طرح جُدا ہوئی کہ اس کو کھینچا گیا تو اب یہ پانی مستعمل ہوجائے گا اھ۔ خلاصہ یہ کہ اس باب میں نقول بہت موجود ہیں جو مشہور کتب میں پائی جاتی ہیں ، اور

مستعملا ای مابقی فی الاناء وھو المراد بقول الخانیۃ عن الامام ابی یوسف انما یتنجس الماء فیما یغسل لامایمسح ای ماء الاناء بادخال ماوظیفۃ الغسل دون المسح فزال الوھم وفیہ المدعی۔

اقول : (۱)وان کان فی قصرھم اللقاء علی مالصق بالرأس تأمل ظاھر وکان ھذا ھو مراد المحقق اذقال بعد ذکرہ وفیہ نظر [3] اھ۔

اقول :  ویظھر لی ان سبیل المسألۃ سبیل الخلف فی الملقی والملاقی وتصحیح ھذہ بل تصحیح الوفاق فیھا ربما یعطی ترجیح عدم الفرق الا ان یفرق بین الغسل والمسح فلا یصیر بہ کل الماء مستعملا حکما بالاتفاق بخلاف الغسل ویحتاج لوجہ فلیتدبر والله تعالٰی  اعلم۔

تنبیہ : اعلم ان مسألۃ الاصبع المارۃ ترکہا المحقق فی الفتح غیر مبینۃ ذکرلہ ثلٰث تعلیلات وردالجمیع فالاول التعلیل بالاستعمال وقد علمت ردہ وما

ناچیز انگلی کے مسئلہ پر بڑی گہری ابحاث رکھتا ہے ، برتن کے مسئلہ کی وجہ وہ نہیں جو بعض حضرات کے وہم میں آئی ہے بلکہ وہ ہے جو ہم نے ابھی فتح سے نقل کی ہے اور اسی کو انہوں نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا ہے کہ پانی کو مستعمل ہونے کا حکم اُسی وقت ملے گا جب وہ عضو سے جدا ہواور پانی کے جواجزاء سر سے متصل ہوئے وہ اسی میں چپک جاتے ہیں اور اس کو پاک کر دیتے ہیں اور سر کے علاوہ کسی اور حصے پر نہیں لگتے ہیں تو مستعمل نہ ہوا اھ۔ تو فقہاء نے جو فرمایا ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک برتن میں رہے ، اور خانیہ نے امام ابو یوسف سے جو نقل کیا ہے کہ پانی اُن اعضاء میں مستعمل ہوتا ہے جو دھوئے جاتے ہیں نہ کہ اُن میں جو مسح کیے جاتے ہیں ، تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ برتن کا پانی اُن اعضاء کے داخل کرنے کی وجہ سے مستعمل ہوگا جو مغسولہ ہیں نہ کہ ممسوحہ تو وہم رفع ہوا اور یہی مقصود تھا۔ (ت)میں کہتا ہوں میں کہتا ہوں ا ور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کا حل ملنے والی شے اور جس سے ملی ہے اس میں اختلاف پر مبنی ہے ، اور اس کی تصحیح  فقہا ء نے ملنے کو جو سر کے ساتھ مختص کر دیا ہے اس میں بظاہر تامّل ہے ، اور غالبا محقق کی مراد یہی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ذکر کے بعد فرمایا : وفیہ نظر۔ (ت)بلکہ اس میں اتفاقی کی تصحیح سے عدم فرق کو ترجیح حاصل ہوتی ہے ، ہاں اگر غسل اور مسح میں ہی فرق کرلیا جائے تو بات اور ہے ، تو اُس سے تمام پانی حکما مستعمل نہ ہوگا بالاتفاق بخلاف غسل کے ، اور یہ دلیل کا محتاج ہے فلیتدبرو اللہ تعالٰی اعلم۔ ت)تنبیہ : انگلی کا مسئلہ جو گزرا اس کو محقق نے فتح میں واضح نہیں کیا تین تعلیلات بیان کیں اور تینوں کو رَد کردیا ، پہلی تعلیل استعمال سے متعلق ہے اور اس کا رَد تم معلوم کرچکے ہو ، اور اس کی

عدل الیہ بعض المتاخرین لاصلاحہ فردہ والاول معابان ھذا کلہ یستلزم(۱)ان مد اصبعین لایجوز وقد صرحوا بہ وکذا الثلاث علی القول بالربع وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما الله تعالٰی  ولکن لم ار فی مد الثلاث الا الجواز[4] اھ۔

واعترضہ فی النھر بقول البدائع لووضع ثلثۃ اصابع ولم یمدھا جاز علی روایۃ الثلاث لاالربع ولو مسح بھا منصوبۃ غیر موضوعۃ ولا ممدودۃ فلا(۲)فلو مدھا حتی بلغ القدر المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ خلافا لزفر [5] اھ۔  

قال وقد وقفت علی المنقول ای ان عدم الجواز قول ائمتنا الثلثۃ فکیف یقول المحقق لم ارفیہ الا الجواز وھو عجیب من مثلہ کما نبہ علیہ فی المنحۃ فان الضمیر فی مدھا للمنصوبۃ وکلام الفتح فی الموضوعۃ۔

اقول :  کان النھر نظر ای ان الصوراربع ثلاث اصابع موضوعۃ اومنصوبۃ والکل ممدودۃ اولا وقد ذکر فی البدائع اولا صورتی عدم المدثم قال فلو مدھا فلیکن الضمیر الی ثلث اصابع مطلقۃ موضوعۃ                  

اصلاح میں بعض متاخرین نے جو فرمایا ہے اس کو اور پہلے کو ساتھ ہی انہوں نے رَد کیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں کا کھینچنا جائز نہ ہو ، اور اس کی فقہاء نے تصریح کی ہے اور چوتھائی کے قول پر تین کا کھینچنا جائز نہ ہو ، اور یہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا قول ہے ، لیکن تین کے کھینچنے میں مجھے جواز ہی ملا ہے اھ اور نہر میں اس پر اعتراض کیا اور بدائع کایہ قول ذکر کیا ہے کہ اگر تین انگلیاں رکھیں اور ان کو کھینچا نہیں تو تین کی روایت پر جائز ہے نہ کہ چوتھائی کی روایت پر ، اور اگر کھڑی انگلیوں سے مسح کیا ، ان کو نہ تو رکھا نہ کھینچا تو جائز نہیں ، اور اگر اتنا کھینچاکہ فرض مقدار پوری ہوگئی تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہ ہوگا امام زفر کا اس میں اختلاف ہے اھ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں منقول پر مطلّع ہوا ہوں ، یعنی عدم جواز ہمارے تینوں ائمہ کا قول ہے ، تو محقق کا یہ قول کیونکر درست ہوگا کہ میں نے

صرف جواز ہی دیکھا ہے ، اور اُن جیسے شخص سے یہ بڑے تعجب کی بات ہے ، منحہ میں اسی پر تنبیہ کی ہے کیونکہ “ مدھا “ میں ھا کی ضمیر “ منصوبۃ “ کیلئے ہے اور فتح کا کلام “ موضوعۃ “ کیلئے ہے۔ ت

میں کہتا ہوں غالباً نہر نے دیکھا کہ صورتیں چار ہیں ، تین انگلیاں رکھی ہوئیں یا کھڑی اور سب کھینچی ہوئی یا نہیں ، اور بدائع میں پہلے نہ کھینچنے کی دو صورتیں ذکر کی ہیں ، پھر کہا کہ “ فلو مدھا “ تو اس میں ضمیر “ ثلث اصابع “ کی طرف ہونی چاہئے خواہ وہ رکھی

اومنصوبۃ لیستوعب کلامہ الصور لکن الشان انہ مدع ظفر النقل فیضرہ احتمال العود الی المنصوبۃ لاسیما وھی الاقرب وقد(۱)کشف المراد فی الحلیۃ حیث قال ، فروع ، مسح بثلثۃ اصابع منصوبۃ لم یجز ولو مدھا حتی بلغ المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ ولو وضعھا ولم یمد لم یجز علی روایۃ الربع ذکرہ فی التحفۃ والمحیط والبدائع [6] اھ۔  اقول :  علی ان ماعدل(۲)الیہ بعض المتأخرین لااعرف لہ محصلا فان المراد ان کان الانفصال عن الاصبع فلا یفیدالاستعمال لانھا اٰلۃ وانما یفیدہ الانفصال عن المحل اوعن الرأس کلہ فظاھر الغلط اوعن موضعہ الذی اصابتہ الاصبع او لافنعم ولم یشف غلیلا بل کان نظیرا لما عدل عنہ للحکم



[1]     فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۶

[2]            فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷

[3]      فتح القدیر کتاب الطہارۃ ۱ / ۱۷

[4]   فتح القدیر کتاب الطہارت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۶

[5]   بدائع الصنائع مطلب مسح الرأس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵

[6]   بدائع الصنائع مطلب مسح الرأس سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن