دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

دونوں آنکھیں دھوئیں تو پانی بالاتفاق مستعمل نہ ہوگا ، اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے ، بلکہ میں کہتا ہوں اگر آپ تأمل کریں تو دوسرے کو ترجیح ہے کیونکہ اعتبار نہ کرنا اعتبار کرنے سے اَولیٰ ہے کہ پہلے اعتبار کیا جائے پھر اس کو باطل کیا جائے ، اور آنکھ پر قیاس کرنا حرج کی علّت سے

اشتغل فی لھو ولعب ومزاح وقھقھۃ خارج الصلاۃ فلا شك  انہ غافل فی تلك الساعات عن ربہ عزوجل(۱)لاسیما الذی قھقہ فی صلاۃ الجنازۃ مع ان فی ذکری الموت شغلا شاغلا ولم یجعل الشرع شیئا من ذلك حدثا وکذا لم یجعل الاکل وھوالاصل ولا النوم الذی ھو اخ الموت مالم یظن خروج شیئ بان لم یکن متمکنا فعلینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم والله تعالٰی  اعلم باحکامہ۔

تنبیہ : (۲)معلوم ان اقامۃ قربۃ اورفع حدث اواسقاط فرض اوازالۃ نجاسۃ حکمیۃ بایھا عبرت کل ذلك یشمل المسح المفروض مطلقًا  والمسنون بشرط النیۃ فیجب ان تصیر البلۃ مستعملۃ اذا انفصلت من رأس اوخف اوجبیرۃ اواذن مثلا ولذا عولنا علیہ وصرحنا بعمومہ المسح لکن قال الامام فقیہ النفس فی الخانیۃ(۳)لوادخل المحدث                          

واضح اور صحیح ہے بخلاف تیمم کے کیونکہ وہاں اصالۃ جو چیز واجب ہے وہ وضو ہے اور تیمم خلیفہ ہے ، اور یہاں کسی نے گمان نہیں کیا کہ ہر حدث میں اصالۃ واجب غسل ہے اور وضو خلیفہ ہے ، بلکہ کسی نے یہ بھی نہ کہا کہ غسل عزیمۃ ہے اور وضو رخصۃ ہے ، حالانکہ ہمارے یہ بزرگ ، اللہ ان کی برکتیں ہم پر نازل کرے ، باریک سے باریک تر چیز کا اعتبار کرتے ہیں اور کسی قسم کی رخصت پر تیار نہیں ہوتے ، پھر ان میں سے کسی سے منقول نہیں کہ بجائے وضو کے غسل کرتا ہو اور اگر اب کوئی ایسا کرے تو وہ انتہا درجہ کا متشدد ہوگا تو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے باب سے ہے نہ کہ پہلے باب سے۔ علاوہ ازیں یہ ہماری گفتگو کا ایک نیا انداز ہے ، اور احکام حکمتوں سے خالی نہیں ہوتے ، لیکن اُن پر دارومدار نہیں ہوتا ، مثلاً کوئی شخص لہو ولعب ، مزاح اور قہقہوں میں بیرونِ نماز مصروف ہے تو بلا شبہ اِن لمحات میں وہ اپنے رب سے غافل ہے ، خاص طور پر قہقہہ لگانے والا نماز جنازہ میں ، حالانکہ موت انسان کو ہر چیز سے موڑ کر اللہ کی طرف متوجہ کردیتی ہے ، مگر شارع نے ان اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی حَدَث قرار نہیں دیا ہے ، اور اس طرح کھانے کو ، جو اصل ہے ، اور نیند کو جو موت کی نظیر ہے تاوقتیکہ اُس شخص کو یہ ظن نہ ہوجائے کہ کوئی چیز خارج ہوئی ہے ، مثلاً یہ کہ جم کر نہیں بیٹھا یا لیٹا تھا ، تو ہم پر لازم ہے کہ جس چیز کو فقہاء نے راجح قرار دیا اور صحیح قرار دیا ہے ہم اس کی بالکل اسی طرح پیروی کریں جیسے اگر وہ حضرات اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔ ت تنبیہ : یہ امر معلوم ہے کہ قُربۃ کی ادائیگی ، رفعِ حدث ، اسقاطِ فرض ، نجاستِ حکمیہ کا ازالہ وغیرہ ، جو تعبیر بھی آپ کریں یہ مفروض مسح کو مطلقًا  شامل ہے اور مسنون کو بشرط نیت ، لہٰذا لازم ہے کہ تری سر سے ، موزے سے ، پٹّی سے یا کان سے جُدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائے ، اور اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا ، اور مسح کے عام ہونے کی تصریح کی ، لیکن امام فقیہ النفس نے خانیہ میں فرمایا اگر بے وضو نے اپنا سر مسح کیلئے

رأسہ فی الاناء یرید بہ المسح لایصیر الماء مستعملا فی قول ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی قال انما یتنجس الماء فی کل شیئ یغسل اماما یمسح فلا یصیر الماء مستعملا وان اراد بہ المسح وقال محمد رحمہ الله تعالٰی  اذا کان علی ذرا عیہ جبائر فغمسھا فی الماء اوغمس رأسہ فی الاناء لایجوز ویصیر الماء مستعملا [1] اھ و(۱)قد قدم قول ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی فکان ھو الاظھر الاشھر کما افادنی فی خطبتہ فکان ھوالمعتمد کما فی ط وش بل صححوا ان محمدا فیہ مع ابی یوسف رحمہما الله تعالٰی  فلا خلاف قال فی البحر(۲)لوادخل رأسہ الاناء اوخفہ اوجبیرتہ وھو محدث قال ابو یوسف رحمہ الله تعالٰی  یجزئہ المسح ولا یصیر الماء مستعملا سواء نوی اولم ینووقال محمد رحمہ الله تعالٰی ان لم ینویجزئہ ولا یصیر مستعملا وان نوی المسح اختلف المشائخ علی قولہ قال بعضھم لایجزئہ ویصیرالماء مستعملا والصحیح انہ یجوز ولا یصیرالماء مستعملا کذا فی البدائع فعلم بھذا ان مافی الجمع [2]۔  (قلت ای والخانیۃ والفتح وغیرھا)من الخلاف فی ھذہ المسألۃ علی غیر الصحیح                                       

برتن میں ڈبو دیا تو ابو یوسف کے قول کے مطابق پانی مستعمل نہ ہوگا ، کیونکہ وہ فرماتے ہیں پانی اس چیز سے نجس ہوگا جو دھوئی جاتی ہے ، اور جو ممسوح ہے اُس سے نہیں خواہ اُس سے مسح کا ارادہ ہی کیا ہو ، اور امام محمد نے فرمایا کہ اگر کسی کے ہاتھوں پر پٹیاں ہوں اور اس نے وہ پانی میں ڈبو دیے یا اپنا سر پانی میں ڈبو دیا تو جائز نہیں اور پانی مستعمل ہوگا اھ ابو یوسف کے قول کو مقدم کیا گیا ہے وہی ظاہر ومشہور ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا تو وہی قابلِ اعتماد ہوگا ، جیسا کہ “ ط “ و “ ش “ میں ہے بلکہ فقہاء نے اس امر کو صحیح قرار دیا ہے کہ اس میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں ، تو کوئی اختلاف باقی نہ رہا۔ بحر میں فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنا سر ، موزہ یا پٹّی بے وضو ہونے کی حالت میں برتن میں ڈبودی تو امام ابو یوسف نے فرمایا مسح ہوجائے گا اور پانی مستعمل نہ ہوگا خواہ مسح کی نیت کی ہو یا نہ ، امام محمد نے فرمایا اگر نیت نہیں کی تو ان کے قول پر اس میں مشائخ کا اختلاف ہے ، بعضے کہتے ہیں اس کو کافی نہ ہوگا اور پانی مستعمل ہوجائے گا ، اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا کذا فی البدائع تو اس سے معلوم ہوا کہ جمع میں جو اختلاف ہے۔ (ت)(میں کہتا ہوں خانیہ اور فتح وغیرہ میں بھی)جو اختلاف بیان کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ، صحیح یہ ہے

بل الصحیح ان لاخلاف وعلم ایضا انہ لافرق بین الرأس والخف والجبیرۃ خلافا لما ذکرہ ابن الملك [3] اھ۔ واختصرہ فی الدر فقال لم یصر الماء مستعملا وان نوی اتفاقا علی الصحیح [4] اھ۔

اقول :  ولا یھولنک ھذا فلیس معناہ ان المسح لایفید الاستعمال کیف وکلامھم طرافی اسبابہ مطلق یعم الغسل والمسح ثم المسألۃ عینھا منصوصۃ علی لسان الکبراء منھم فقیہ النفس (۱)اذیقول توضأثم مسح الخف بلۃ بقیت علی کفہ بعد الغسل جاز ولو مسح برأسہ ثم مسح الخف بلۃ بقیت علی الکف بعد المسح لایجوز لانہ مسح الخف بلۃ مستعملۃ بخلاف الاول [5] اھ۔ واقرہ فی الفتح وغیرہ وفی الخانیۃ ایضا (۲) الاستیعاب فی مسح الرأس سنۃ وصورۃ ذلك ان یضع اصابع یدیہ علی مقدم راسہ وکفیہ علی فودیہ ویمدھما الی قفاہ فیجوز واشار بعضھم الی طریق اخراحترازاعن استعمال الماء المستعمل الا ان ذلك لایمکن الا بکلفۃ ومشقۃ فیجوز الاول ولا یصیر الماء مستعملا ضرورۃ اقامۃ  السنۃ[6] اھ۔ ای لما علم ان الماء مادام علی العضو لایصیر مستعملا وفی الفتح(۳)من مسح الرأس لومسح باصبع واحدۃ مدھا قدر الفرض                 

کہ اختلاف نہیں ، اور یہ بھی معلوم ہو کہ سر ، موزے اور پٹّی میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ ابن الملک نے ذکر کیا اھ

اور اسی کو دُر میں مختصر کیا ، فرمایا پا نی مستعمل نہ ہوگا خواہ نیت کی ہو ، یہ متفق علیہ ہے صحیح قول پر اھ ت

اقول : یہ چیز کوئی قابلِ تعجب نہیں ، اس کا یہ معنی نہیں کہ مسح سے استعمال نہیں ہوتا ، حالانکہ تمام فقہاء کا کلام اسباب استعمال کے سلسلہ میں عام ہے اس میں غسل اور مسح دونوں شامل ہیں ، اور پھر اکابر علماء نے مسئلہ کی صراحت بھی کی ہے ، مثلاً فقیہ النفس فرماتے ہیں کسی شخص نے وضو کیا پھر ہاتھ دھونے کے بعد جو تری باقی رہ گئی تھی اس سے موزے پر مسح کرلیا تو جائز ہے اور اگر سر پر مسح کیا اور مسح کے بعد ہاتھ پر جو تری رہ گئی تھی اُس سے موزے پر مسح کیا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے مستعمل تری سے موزے پر مسح کیا ہے بخلاف اول کے اھ ۔ فتح وخانیہ میں اسی کو برقرار رکھا ، پھر استیعاب مسح میں سنت ہے ، اور استیعاب کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی انگلیاں ماتھے پر رکھے اور ہتھیلیاں کنپٹیوں پر اور گُدی کی طرف کھینچ کر لے جائے تو جائز ہے ، اور بعض دوسرے فقہاء نے اور طریقہ بتایا کہ مستعمل پانی کے استعمال سے بچا جاسکے ، مگر اس میں بہت تکلف اور مشقت ہے ، تو پہلی صورت جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا تاکہ سنّت ادا ہوسکے اھ۔ یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ پانی جب تک عضو پر باقی

جاز عند زفر وعندنا لایجوز وعللوہ بان البلۃ صارت مستعملۃ وھو مشکل بان الماء لایصیر مستعملا قبل الانفصال وما قیل الاصل ثبوت الاستعمال بنفس الملاقاۃ لکنہ سقط فی المغسول للحرج اللازم بالزام اصابۃ کل جزء باسالۃ غیر المسال علی الجزء الاٰخر ولا حرج فی المسح لانہ یحصل بمجرد الاصابۃ فبقی فیہ علی الاصل دفع بانہ مناقض لما علل بہ لابی یوسف رحمہ الله تعالٰی  فی مسألۃ ادخال الراس الاناء فان الماء



[1]         فتاوٰی خانیۃ علی الھندیۃ باب الماء المستعمل نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵

[2]   بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵

[3]   بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵

[4]   الدرالمختار ارکان الوضوء ۱ / ۱۹

[5]   فتاوی خانیۃ مسح علی الخفین۱ / ۲۳

[6]   خانیۃ علی الہندیۃ فصل صفۃ الوضوء  نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن