30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : اقتصر لغنیۃ علی الثانی من تعریفات المطلق وجمع الحلیۃ بینہ وبین السابع فمشی علی الثانی فی تحدید اضافۃ التقیید وعلی السابع فی تعریف اضافۃ التعریف ولاغزو فالامر قریب۔
ہو اور اس پر صرف ماء کا اطلاق صحیح ہو ، اس لئے اس پر ماء کا اطلاق حقیقی بئر وغیرہ کی قید کے بغیر بھی جائز ہے ، اس تقیید سے ظاہر ہوا کہ جو اس قید کے ساتھ مقید ہو اس کا ماءِ مطلق میں داخل ہونا ممنوع نہیں بخلاف اول کے اھ(ت)
میں کہتا ہوں غنیہ نے مطلق کی دوسری تعریف پر اکتفأ کیا ہے اور حلیہ نے اس کو اور ساتویں کو جمع کیا ہے ، اوراضافۃِ تقیید کی تعریف میں انہوں نے دوسری کو ملحوظ رکھا ہے اور اضافتِ تعریف میں ساتویں کو ، مگر یہ قریب قریب درست ہے۔ (ت)
ہفتم عــہ جس کی ماہیت بے اضافت پہچانی جائے اور مطلق نام آب لینے سے مفہوم ہو وہاں اضافت تعریف کی ہے ورنہ تقیید کی۔ شلبیہ علی الزیلعی میں امام حافظ الدین کی مستصفٰی سے ہے :
فان قیل مثل ھذہ الاضافۃ یعنی ماء الباقلاء واشباھہ موجود فیما ذکرت من المیاہ المطلقۃ لانہ یقال ماء الوادی وماء العین قلنا اضافتہ الی الوادی والعین اضافۃ تعریف لاتقیید لانہ تتعرف ماھیتہ
اگر کہا جائے کہ اس جیسی اضافت یعنی ماء الباقلی وغیرہ کی مذکورہ مطلق پانیوں میں بھی موجود ہے ، اس لئے کہ ماء الوادی اور ماء العین کہا جاتا ہے ، ہم کہتے ہیں پانی کی اضافۃ وادی اور عین کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے ، کیونکہ ان کی ماہیت کو
عــہ اقول : ھذہ سبع عبارات الثلاث الاُخری منھا متقاربۃ المعنی بل متحدۃ المال مختلفۃ المبی والثالثۃ والرابعۃ تعریفان بما یستلزم ھذا المعنی والنقص و القصور فی الاولیین وا لله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں یہ سات عبارتیں ہیں ان میں سے آخری تین معنوی اعتبار سے قریب ہیں بلکہ انجام کے اعتبار سے متحد ہیں ، عبارت میں مختلف ہیں ، تیسری اور چوتھی تعریفیں اُس چیز کے ساتھ ہیں جو اس معنی کو مستلزم ہیں ، اور نقص وقصور پہلی دو تعریفوں میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
بدون ھذہ الاضافۃ وتفھم بمطلق قولنا الماء بخلاف ماء الباقلاء واشباھہ فانہ لاتتعرف ماھیتہ بدون ذلك القید ولاینصرف الوھم الیہ عند الاطلاق ولھذا صح نفی اسم الماء عنہ فیقال فلان لم یشرب الماء وان کان شرب الباقلاء اوالمرق ولوکان ماء حقیقۃ لماصح نفیہ لان الحقیقۃ لاتسقط عن المسمی ابدا ویکذب نافیھا وھذاکمایقال صلاۃ الجمعۃ ولحم الابل وصلاۃ الجنازۃ(۱)ولحم السمك [1] اھ وقد ذکر نحوہ فی کافیہ وجلال الدین فی کفایتہ والبدر محمود فی بنایتہ اقول : جمع بین الثانی والثانی عشر بل والثامن ارشادا الی تقاربھا ولو اکتفی بالوسط عـــــہ لکفی وصفا عن
اس قید کے بغیر بھی سمجھا جاسکتا ہے اور مطلق لفظ ماء سے سمجھ میں آجاتے ہیں بخلاف باقلٰی وغیرہ کے پانیوں کے ، کیونکہ ان کی ماہیت اس قید کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی ہے اور جب مطلق لفظ ماء بولا جاتا ہے تو ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوتا ہے ، اس لئے پانی کے لفظ کی نفی ان پانیوں سے درست ہے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ فلاں نے پانی نہیں پیا ، اگرچہ اس نے شوربہ یا باقلٰی کا پانی پیا ہو ، اور اگر یہ حقیقۃ پانی ہوتے تو یہ نفی صحیح نہ ہوتی۔ کیونکہ حقیقت کبھی اپنے مسمی سے ساقط نہیں ہوتی ہے اور جو شخص اس کی نفی کرے اس کی تکذیب کی جاتی ہے اور یہ ایسا ہے جیسا کہ صلٰوۃ الجمعۃ ، لحم الابل ، صلاۃ الجنازۃ اور لحم السمك کہا جاتا ہے اھ اسی قسم کی چیز انہوں نے اپنی کافی میں ذکر کی اور جلال الدین نے کفایہ
عـــــہ : ثم رأیت الامام العینی کذلك فعل فی البنایۃ اذقال الاضافۃ نوعان اضافۃ تعریف کغلام زید وانہ لایغیر المسمی واضافۃ تقیید کماء العنب وانہ یغیرہ وانہ لایفھم من مطلق اسم الماء اھ اقول : استدلال انی والمراد بماء العنب مانقع فیہ العنب لانہ الماء المقید لامایخرج بعصرہ فانہ لیس من الماء اصلا کما قدمنا فی حاشیتہ ۲۰۷ خلافا
اقول : پھر امام عینی نے بنایہ میں ایسا ہی کیا ہے فرمایا اضافت کی دو قسمیں ہیں ایك اضافت تعریف کیلئے ہے جیسے غلام زید ، یہ مسمّی میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتی ہے اور دوسری اضافت برائے تقیید ، جیسے ماء العنب ، یہ مسمّٰی کو متغیر کردیتی ہے اور مطلق ماء کے نام سے مفہوم نہیں ہوتا ہے اھ میں کہتا ہوں یہ استدلال “ اِنّی “ ہے اور ماء العنب سے مراد وہ پانی ہے جس میں انگور پڑے ہوئے ہوں کیونکہ یہی ماءِ مقید ہے وہ نہیں جو(باقی برصفحہ آئندہ)
مجال کل جدال۔
میں اور بدر محمود نے بنایہ میں۔ میں کہتا ہوں انہوں نے دوسرے اور بارہ کو یکجا کردیا ہے بلالکہ آٹھ کو بھی ، تاکہ ان کے قریب ہونے کا پتا چل جائے ، اور اگر درمیانی پر اکتفا کرلیتے تو کوئی جھگڑا باقی نہ رہتا۔ (ت)
بالجملہ اصح واحسن وہی تعریف اخیر مائے مطلق پر یہاں بھی حوالہ ہے کہ جس کی طرف مطلق آب کہنے سے افہام سبقت کریں اُس کی اضافت اضافتِ تعریف ہے ورنہ اضافتِ تقیید اقول یعنی جبکہ جنس آب حقیقی لغوی سے خارج نہ ہو ورنہ اضافتِ تقیید بھی نہیں مجاز ہے جیسے آبِ زر و الله تعالٰی اعلم۔
فصل ثالث ضوابط جزئیہ متون وغیرہا
اقول : وبالله التوفیق اوّل چند مسائل اجماعیہ ذکر کریں کہ کوئی ضابطہ اُن کے خلاف نہیں ہوسکتا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لما اوھم العلامۃ ابن کمال ثم رأیت فی نص الکفایۃ التصریح بما ذھبت الیہ اذقال لایجوز بما اعتصر لانہ لیس بماء حقیقۃ ثم اقول احال الامام العینی امر التعریف والتقیید علی التغیر وعدمہ وعللہ بالانفھام من المطلق وعدمہ وھذا اجلی من التغیر المبھم فکان الاولی الارادۃ علیہ کما فعل قبلہ فی غایۃ البیان اذقال واضافتہ الی البئر للتعریف لاللتقیید اذایفھم بمطلق قولنا الماء اھ والعجب ان العینی مشی ھھنا علی ھذا الصحیح ثم بعد ورقتین عاد الی الاول الجریح ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
نچوڑنے سے نکلے ، کیو نکہ وہ تو پانی ہے ہی نہیں ، جیسا کہ ہم نے ۲۰۷ کے حاشیہ میں ذکر کیا ، یہ علامہ ابن کمال کے وہم کے برخلاف ہے پھر مجھے کفایہ میں یہی تصریح مل گئی ، وہ فرماتے ہیں اس پانی سے وضو جائز نہیں جو نچوڑا گیا ہو کیونکہ وہ درحقیقت پانی نہیں ہے۔ پھر میں کہتا ہوں امام عینی نے تعریف وتقیید کا دارومدار تغیر وعدمِ تغیر پر رکھا ہے اور اس کی علت یہ بیان کی کہ وہ مطلق سے مفہوم ہوتا ہے یا نہیں ، اور یہ تغیر مبہم سے زیادہ واضح ہے تو اولٰی یہ ہے کہ اسی پر دارومدار کیا جائے جیسا کہ اس سے قبل غایۃ البیان میں کیا ہے فرمایا اس کی اضافت کنویں کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے کیونکہ وہ مطلق المأ سے مفہوم ہوجاتا ہے اھ اور تعجب ہے کہ عینی نے اس صحیح قول کو اختیار کیا ، پھر دو۲ ورق بعد وہ پہلے مجروح قول کی طرف آگئے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
(۱)اجماعِ اُمّت ہے کہ پانی کے سوا کسی مائع سے وضو وغسل یعنی ازالہ نجاست حکمیہ نہیں ہوسکتا۔
(۲)اجماع ہے کہ وہ پانی مائے مطلق ہونا چاہئے مائے مقید سے وضو نہیں ہوسکتا سوائے نبیذتمر کے کہ سیدنا
امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ابتدا نظر بحدیث اُس سے جواز کے قائل تھے پھر رجوع فرمائی اور اُس سے بھی عدم جواز پر اجماع منعقد ہوگیا الا مایذکرمن امام عــہ۱ الشام الاوزاعی رحمہ ا لله تعالٰی من التجویز بکل نبیذ ان ثبت عنہ وا لله تعالٰی اعلم(مگر وہ جو امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ ہر نبیذ سے وضو جائز ہے بشرطیکہ یہ روایت ان کی طرف درست منسوب ہو و الله تعالٰی اعلم۔ ت)
(۳)اجماع ہے کہ غسل بالفتح یعنی کسی عضو کے دھونے میں اُس پر پانی کا بہنا ضرور ہے صرف تر ہوجانا کافی نہیں کہ وہ مسح ہے اور حضرت عزت عزجلالہ ، نے غسل ومسح دو۲ وظیفے جُدا رکھے ہیں الاما عــہ۲ حکی عن الامام الثانی رحمہ ا لله وھو مؤول کما تقدم(مگر وہ جو امام یوسف سے منقول ہے وہ مؤول ہے جیسا گزرچکا۔ ت)تو پانی کا اپنے سیلان پر باقی رہنا قطعًا لازم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع