30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قلت : فکما ان سبب الموت عم البدن کان ینبغی ان یعمہ ایضا سبب الحیاۃ وبہ اتی الشرع فی الحدث الاکبر لکن الاصغر یتکرر کثیرا فلوامروا کلما احد ثوا ان یغتسلوا لوقعوا فی الحرج والحرج مدفوع فاقامت الشریعۃ السمحۃ السہلۃ مقام الغسل غسل الاطراف اذ من سنۃ کرمہ تعالٰی ان اذ اصلح الاول والاخر تجاوز عن الوسط وجعلہ معمورا
کہ حدث تمام بدن میں سرایت کرتا ہے ، پھر میں نے اس مسئلہ کو ہندیہ میں زاہدی سے منصوص دیکھا وہ فرماتے ہیں اعضاءطہارۃ اور وہ اعضاء جو وضو کی تکمیل سے قبل دھوئے گئے ہوں اُن سے مسِ مصحف میں اختلاف ہے ، اور منع اصح ہے اھ(ت)
ثالثًا عرفاء کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ حدث چھوٹا ہو خواہ بڑا مطلقًا کھانا کھانے ہی سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ نماز میں قہقہہ بھی کہ عین دربار میں ایسی سخت غفلت اُسی سے ہوسکے گی جس کا پیٹ بھرا اور نہایت بھرا ہو کہ بھُوک میں تو ہنسی سے دانت کھلنا ہی نادر ہے نہ کہ ٹھٹھا اور وہ بھی نماز میں ، اور شک نہیں کہ کھانے کا نفع تمام بدن کو پہنچتا ہے یونہی فضلہ نکل جانے کی منفعت وراحت بھی سارے بدن کو ہوتی ہے تو کھانا معدہ میں جانا غفلت پیدا کرتا ہے اور موذی یعنی فضلہ کا نکلنا غفلت کو ثابت ومؤکد کرتا ہے اور غفلت سے دل کی موت ہے اور دل بدن کا بادشاہ ہے کہ یہی بوٹی درست ہو تو سارا بدن درست رہے اور بگڑے تو سارا بدن خراب ہوجائے اور پانی تازگی لاتا اور غفلت دُور کرتا ہے جیسا کہ غشی والے کے مُنہ پر چھڑکنے میں مشاہدہ ہے۔
تو میں کہتا ہوں جس طرح موت کا سبب سارے بدن کو عام ہوا تھا چاہئے تھا کہ حیات کا سبب یعنی پانی بھی سب جسم پر پہنچے حدث اکبر میں تو شرع نے یہی حکم دیا مگر حدث اصغر بکثرت مکرر ہوتا ہے تو ہر حدث اصغر پر اگر نہانے کا حکم ہوتا تو لوگ حرج میں پڑتے اور اس دین میں حرج نہیں لہٰذا اس نرم وآسان شریعت نے اطراف بدن کا دھونا قائم مقام نہانے کے فرمایا دیا کہ اللہ عزوجل کی سنتِ کریم ہے
فیھما ثم کان من الاطراف الراس وغسلہ کل یوم مرارا ایضا کان یورث البؤس والباس فابدل فیہ الغسل بالمسح رحمۃ من الذی یقول عز من قائل یرید الله بکم الیسر ولا یرید بکم العسر فقضیۃ ھذا ان الحدث ولو اصغر یحل البدن کلہ۔
اقول : (۱) وبہ تبین ان ماصرح بہ غیر واحد من مشائخنا وغیرھم ان غسل غیر المصاب فی الحدث امرتعبدی کما فی الھدایۃ وغیرھا وقدمناہ عن الکافی(۲) وکذلك الاقتصار علی الاربعۃ فی الوضوء کما فیھا وفی الحلیۃ وغیرھما وبہ قال الامام الحرمین واختارہ الامام عزّ الدین بن عبدالسلام کلاھما من الشافعیۃ فان کل ذلك فی علم الحقائق احکام معقولۃ المعنی والله تعالٰی اعلم ھذا تقریر اسئلۃ ظھرت لی واتیت بھا کیلا تعن لقاصر مثلی ولا یتفرع للتدبر فیحتاج لکشفھا۔
اقول : فی الجواب عن الاول المراد نجاسۃ الاٰثام اذلوارید نجاسۃ الحدث لزم ان من لم یسم لم یتم طھرہ وھو مذھب الظاھریۃ وروایۃ عن الامام احمد رضی الله تعالٰی عنہ ولم یقل بہ احد من علمائنا وبقاء نجاسۃ الاٰثام فیما عدا اعضاء الطھر بل
کہ جب اول وآخر ٹھیک ہوتے ہیں تو بیچ میں جو نقصان ہو اُس سے درگزر فرماتا ہے اب اطراف بدن میں سر بھی تھا اور اُسے ہر روز چند بار دھونا بھی بیمار کردیتا مشقّت میں ڈالتا لہٰذا اس کو دھونے کے عوض مسح مقرر فرمادیا ، رحمت اس کی جو فرماتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا۔ (اس تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ حدث خواہ اصغر ہی ہو تمام بدن میں حلول کرتا ہے۔ ت)
میں کہتا ہوں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے مشائخ کا یہ فرمانا کہ اُن اعضاء کودھونا جن کو حدث نہیں پہنچا ہے محض امر تعبدی ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے اور ہم نے کافی سے بھی نقل کیا ہے ، اور اسی طرح وضو میں چار پر اقتصار جیسا کہ ہدایہ اور حلیہ وغیرہ میں ہے اور یہی امام الحرمین کا قول ہے اور امام عزّ الدین بن عبدالسلام نے اس کو اختیار کیا ہے یہ دونوں شافعی علماء ہیں کیونکہ یہ تمام حقائق کے معقول احکام ہیں والله تعالٰی اعلم ، یہ اُن سوالوں کی تقریر ہے جو مجھے منکشف ہوئے ، میں نے ان پر اس لئے گفتگو کی ہے کہ کہیں مجھ جیسے قاصر کو یہ درپیش نہ آجائیں اور وہ مشکل میں مبتلا نہ ہوجائے۔ (ت)
اب میں پہلے کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد گناہوں کی نجاست ہے کیونکہ اگر حدث کی نجاست کا ارادہ کیا جائے تو یہ لازم آئے گا جو بسم اللہ نہ کرے اُس کی طہارت مکمل نہ ہوگی ، اور یہ ظاہر یہ کا مذہب ہے ، اور امام احمد کی ایک روایت ہے اور ہمارے علماء میں سے کسی کا قول نہیں ، اور اعضاء طہارت کے علاوہ
وفیھا ایضا کما قدمنا لاینافی صحۃ الطھارۃ والصلاۃ وبہ(۱)ظھر الجواب عن استدلال ابی الفرج بالحدیث
وعن الثانی : ان المنع للحدث بالمعنی الثانی الغیر المتجزی لقولہ تعالٰی لایمسہ الا المطھرون وقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لایمس القران الا طاھر وھو لایکون طاھر ام بقیت لمعۃ وان خفت فمنع المس انما یقتضی تلبس المکلف بنجاسۃ حکمیۃ لاتلبس خصوص العضو الممسوس بہ الا تری انہ لایجوز مسہ بید قدغسلہا مالم یستکمل الوضوء الا تری انھم منعوا المس بما علیہ من الثیاب ولا نجاسۃ فیھا حقیقۃ ولا حکمیۃ انما المنع لانھا تبع لبدن شخص محدث فلان یمنع بنفس بدنہ اولی وان کان بدنا لم یحلہ الحدث ھذا علی الاصح اما علی قول من یقول ان المنع للمعنی الاول ای لقیام النجاسۃ الحکمیۃ بالمسوس بہ فالمسألۃ ممنوعۃ من رأسھا بل ھو قائل بجواز مسہ بغیر اعضاء الطھارۃ کمامر عن الھندیۃ وان منع المس بالثیاب فبثوث تابع لما فیہ الحدث کالکم لید لم یغسل لامطلقًا کما لایخفی ،
وعن الثالث : نعم ذلك تخفیف من ربکم ورحمۃ لکنہ یحتمل وجہین الاول ان یعتبر الشرع حلول الحدث بکل البدن ثم یجعل تطھیر الاعضاء الاربعۃ تطھیرا للکل والثانی ان الشارع لما رأی فیہ الحرج
باقی اعضاء میں گناہوں کی نجاست کا باقی رہنا ، بلکہ اعضاء طہارت میں بھی ، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا صحت طہارت کے منافی ہے اور نہ ادائیگی نماز کے ، اور اسی سے ظاہر ہوگیا جو اب اس استدلال سے جو ابو الفرج نے حدیث سے کیا ہے۔
اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ حَدَث کا منع کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے جو غیر متجزی ہے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کی وجہ سے “ اس کو پاک لوگ ہی چُھوئیں “ اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے “ قرآن کو پاک ہی چھُوئے “ اور مُحدِث اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک ایک “ لُمعہ “ بھی باقی رہے خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو ، تو چھُونے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ کے ساتھ ملوث ہے ، یہ نہیں کہ اس کا کوئی خاص عضو اس میں ملوّث ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کو محض دُھلے ہوئے ہاتھ سے چھُونا جائز نہیں تاوقتیکہ وضو مکمل نہ ہو ، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس ہاتھ سے قرآن چھُونے کو منع کیا ہے جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہو خواہ اس پر نہ حقیقی نجاست ہو اور نہ حکمی ، ممانعت اس لئے ہے کہ وہ مُحدِث کی ذات کے تابع ہے تو نفسِ بدن سے چھُونے کی ممانعت بدرجہ اولی ہوگی ، خواہ اس میں حدث نے حلول نہ کیا ہو ، یہ اصح کے مطابق ہے ، اور جو حضرات منع معنی اول میں قرار دیتے ہیں ، یعنی ممسوس بہ کے ساتھ نجاست حکمیہ کا قائم ہونا ، تو مسئلہ اصلا ممنوع ہے ، بلکہ اُس کے مَس کے جواز کے قائل ہیں
اسقط اعتبارہ الا فی الاعضاء الاربعۃ ولکل منھما نظیر فی الشرع فنظیر الاول التیمم جعل فیہ مسح عضوین مطھراللاربع بالاتفاق ونظیر الثانی العین کان فی غسلھا حرج فلم یجعلھا الشرع محل حلول حدث اصلا لاانہ حل وسقط الغسل للحرج(۱)فلوغسل عینیہ لایصیر الماء مستعملا بالوفاق وعندالاحتمال ینقطع الاستدلال ،
بل اقول : (۲)لوتأملت لرجحت الثانی اذعدم الاعتبار اولی من الاعتبار ثم الا ھدار والقیاس علی العین بجامع الحرج واضح صحیح بخلاف التیمم فان اصل الواجب ثم الوضوء والتیمم خلف ولم یزعم ھھنا احد ان اصل الواجب بکل حدث ھو الغسل والوضوء خلف بل لم یقل احد ان الغسل عزیمۃ والوضوء رخصۃ وھٰؤلاء ساداتنا العرفاء الکرام اعاد الله تعالٰی علینا برکاتھم فی الدارین رأینا ھم یأخذون انفسھم فی کل نقیر وقطمیر بالغرائم ولا یرضون لھم التنزل الی الرخص ثم لم ینقل عن احد منھم انہ الزم نفسہ الغسل عند کل حدث مکان الوضوء ولو التزمہ الاٰن احد لکان متعمقا مشددامتنطعا فظھرانہ من الباب الثانی دون الاول علی ان ذلك طور اخر وراء الطور الذی نتکلم فیہ والاحکام(٣)لاتخلو عن الحکم لکن لاتدار علیھا الا تری ان من
بلا اعضاء طہارت کے ، جیسا کہ ہندیہ سے گزرا ، اور اگر کپڑوں کے ساتھ چُھونا جائز نہیں تو اس کپڑے کے ساتھ جو تابع ہو کیونکہ اس میں حَدَث ہے ، جیسے آستین ہاتھ کیلئے جو دُھلا نہ ہو ، نہ کہ مطلقًا کمالا یخفی۔
اور تیسرے کا جواب یہ ہے ، ہاں یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے اور رحمۃ ہے لیکن اس میں دو وجہیں ہیں پہلی تو یہ کہ شرع تمام بدن میں حدث کے حلول کا اعتبار کرتی ہے اور پھر چار اعضاء کی تطہیر کے بعد کل بدن کی طہارت کا حکم کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ شارع نے جب اس میں حرج دیکھا تو اس کے اعتبار کو ساقط کردیا صرف اعضاء اربعہ میں رہنے دیا ، اور ان میں سے ہر ایک کی نظیر شرع میں موجود ہے ، پہلے کی نظیر تمیم ہے اس میں دو اعضاء کے مسح کرنے کو چاروں اعضاء کی پاکی قرار دیا ہے ، اور دوسرے کی نظیر آنکھ ہے کہ اس کے دھونے میں حرج تھا ، تو شریعت نے اس میں حدث کا حلول نہیں مانا ، یہ نہیں کہ حدث حلول کرگیا ہو ، اب اگر کسی نے اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع