دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

استعمال کرنے والا پانی کے علاوہ کوئی اور مائع سمجھنے لگے خواہ صرف گمان ہی ہو۔ خلاصہ یہ کہ وہ اس کے پانی ہونے میں شك کرے ، اور اسی پر ضابطہ مبنی ہے ، یہ ضابطہ امام اسبیجابی اور ملك العلماء نے بیان کیا ہے ، یہی وہی ضابطہ ہے جس کا مقابلہ ہم نے ضابطہ زیلعیہ سے کیا ہے اور پہلی دو قسموں میں بیان کیا ہے کہ ان کا اتفاق جواز اور منع میں ہے اور تیسرے میں وہ جس میں ان کا اختلاف ہے اس کا بیان اِن شاء  اللہ تعالٰی آئے گا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس بنا پر ناپاك اور مستعمل پانی کا ماء مطلق سے خارج ہونا لازم آتا ہے ، کیونکہ پانی کا سب سے بڑا مقصد پاکی کا حصول ہے فرمانِ الٰہی ہے “ وہ تم پر آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے تاکہ اس سے تم کو پاك کرے “ اور یہ وصف اُن دونوں پانیوں سے ختم ہوگیا ، تو جانب نقص میں زوالِ سیلان ورقت پر صفتِ طہوریۃ کے زوال کا اضافہ کیا جائیگا۔ میں کہتا ہوں حقائقِ شرعیہ مقاصد شرعیہ کیلئے ہوتے ہیں ، تو جب مقاصد شرعیہ فوت ہوجائیں

فحقیقۃ عینیۃ والمعتبر فی بقائھا المقاصد العرفیۃ الاتری ان اعظم المقصود من الانسان العبادۃ قال تعالٰی وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون وقد فاتت الکافر اذلیس اھلالھا ومع ذلك لم یخرج من المتفاھم باطلاق الانسان قال تعالٰی ان الانسان لفی خسر الاالذین اٰمنو اوقال تعالٰی قتل الانسان مااکفرہ۔                                                 

تو حقائق بھی فوت ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ روزہ اور نماز اور پانی حقیقۃ عینیہ ہے اور اسی کی بقاء میں مقاصد عرفیہ ہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ انسان کا بڑا مقصود عبادت ہے فرمانِ الٰہی ہے “ اور میں نے انس وجن کو عبادت ہی کیلئے پیدا کیا ہے “ اور یہ چیزیں کافر میں نہیں پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ عبادت کا اہل نہیں ، اس کے باوجود جب لفظ انسان کا اطلاق کیا جاتا ہے تو مفہوم انسان سے خارج نہیں ہوتا ہے فرمانِ الٰہی ہے “ بلاشبہ انسان خسارے میں ہے سوائے ایمان والوں کے “ ۔ فرمانِ الٰہی ہے “ لعنت ہو انسان پر کتنا ناشکرا ہے۔ (ت)

بالجملہ تحقیق(۱)فقیر غفرلہ ، میں مائے مطلق کی تعریف عـــــہ یہ ہے کہ وہ پانی کہ اپنی رقتِ طبعی پر باقی ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط وممتزج نہیں جو اُس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے نہ ایسی جو اُس کے ساتھ مل کر مجموع ایك دوسری شے کسی جُدامقصد کے لئے کہلائے ان تمام مباحث بلالکہ فہیم کیلئے جملہ فروع مذکورہ وغیر مذکورہ کو ان دو بیت میں منضبط کریں   ؎

مطلق آبے ست کہ بروقتِ طبعی خودست                               نہ درومزج دگر چیز مساوی یا بیش

     نہ بخلطے کہ بترکیب کُند چیز دگر                                                کہ بودز آب جُدا در لقب ومقصد خویش

عـــــہ : منح وسید کی تعریفیں کہ حاشیہ پر گزریں ۱۳ ، ۱۴ تھیں اور یہ تعریف رضوی بحمدہ تعالٰی پانزدھم

ثم وجدت عن المجتبی تعریفااٰخر ذکرہ عنہ فی انجاس البحران الماء المقید مااستخرج بعلاج کماء الصابون والحرض والزعفران والاشجار والاثمار والباقلاء اھ فالمطلق خلافہ اقول : (۲)لیس بشیئ ویوافقہ اول الاقوال الاٰتیۃ فی الاضافات وسیاتی ردہ ثمہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)               

پھر میں نے مجتبٰی سے ایك اور تعریف بحر کے انجاس میں دیکھی کہ مقید پانی وہ ہے جو کسی عمل کے ذریعہ نکالا جائے ، جیسے صابون کا پانی اور حرض ، زعفران ، درختوں ، پھلوں اور باقلی کا پانی اھ اور مطلق اس کے خلاف ہے ، میں کہتا ہوں یہ کچھ بھی نہیں ، اس کی موافقت اضافات میں وارد شدہ پہلے قول سے ہوتی ہے ، اس کی تردید وہاں ہوگی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

وبا لله التوفیق٭ولہ الحمدعلی اراء ۃ الطریق٭وافضل الصلاۃ واکمل السلام علی الحبیب الرفیق٭ واٰلہ وصحبہ اولی التحقیق وسائر من دانہ بالایمان والتصدیق٭ اٰمین٭ والحمد لله رب العٰلمین۔

اضافات(۱)بہت چیزوں پر پانی کا نام کسی شَے کی طرف مضاف کرکے بولا جاتا ہے اُن میں بعض تو جنسِ آب سے خارج ہیں اور اطلاق آب محض بطور تشبیہ جیسے آبِ زر آبِ کا فور اور جو حقیقۃ پانی ہیں ان میں کچھ مائے مطلق ہیں جیسے آبِ باراں آب دریا اور کچھ مائے مقید جیسے ماء العسل ماء الشعیر اول کو اضافت تعریف کہتے ہیں اور دوم کو اضافتِ تقیید۔ علماء  نے ان میں چند طرح فرق فرمایا :

اوّل جو پانی کسی شے سے بذریعہ تدبیر نکالا جائے اُس کی طرف پانی کی اضافتِ تقیید ہوگی ورنہ اضافتِ تعریف ، عنایہ وبنایہ میں ہے :

اضافتہ الی الزعفران للتعریف لاللتقیید الفرق بینھماان المضاف ان لم یکن خارجا عن المضاف الیہ بالعلاج فالاضافۃ للتعریف وانکان خارجامنہ فللتقید کماء الورد [1] اھ  اقول :  ان(۲)کان المراد حدوثہ بالتدبیر کما ھو فی ماء الوردو سائر المستقطرات ورد ماء النارجیل وماء الجبحب وماء النخل الھندی المسمی تارفانھاموجودۃ وانما التدبیر لاخراجھاکالفصد لاخراج الدم وان ارید ظھورہ بہ فان لم یرد ماء البئر لان ظھورہ من الارض بالتدبیر بحفر البئر لامن المضاف الیہ ورد ماء العسل فان الماء           

پانی کی اضافت زعفران کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے ، اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر مضاف ، مضاف الیہ سے عمل کے ذریعہ نہ نکالا گیا ہو تو اضافت تعریف کیلئے ہے اور اگر تدبیر سے خارج ہو تو تقید کیلئے ہے جیسے گلاب کا پانی اھ میں کہتا ہوں اگر ان کی مراد اس کا حدوث ہے تدبیر سے جیسے گلاب کے پانی میں یا دوسرے اُن پانیوں میں ہے جو نچوڑ کر نکالے جاتے ہیں تو ناریل کا پانی ، تربوز کا پانی ، تاڑی کا پانی ، اس کے علاوہ ہیں کہ یہ پانی سے ہی موجود ہوتے ہیں تدبیر صرف ان کے نکالنے کیلئے کی جاتی ہے جیسے خون نکالنے کیلئے فصد کھلوائی جاتی ہے ، اور اگر یہ مراد ہو کہ اس کا اس کے ذریعہ ظہور ہو ، پس اگر کنویں کے پانی سے اعتراض نہ ہو کہ اس کا ظہور بھی زمین کے کھودے

فان الماء ظاھر بنفسہ انماالتدبیر فی امتزاجہ طبخابالعسل فانارید عــہ ماء العسل من حیث ھو ماء العسل فحدوثہ بالتدبیر لامجرد ظھورہ۔

سے ہوتا ہے مضاف الیہ سے نہیں ہوتا تو شہد کے پانی کے ذریعہ اعتراض وارد ہوگا ، کیونکہ پانی بنفسہ ظاہر ہے تدبیر تو اس کو شہد میں ملا کر پکانے سے ہوتی ہے اور اگر شہد کاپانی من حیث ھو مراد ہو تو اس کا حدوث تدبیر سے ہوگا نہ کہ محض ظہور سے۔ (ت)

دوم جہاں ماہیت مضاف کامل ہو اضافت تعریف کیلئے ہے جیسے نماز فجر اور قاصر ہو تو تقیید کیلئے جیسے نمازِ جنازہ کہ رکوع وسجود وقرأت وقعود نہیں رکھتی ، کفایہ ومجمع الانہر میں ہے :

علامۃ اضافۃ التقیید قصور الماھیۃ فی المضاف کأن قصورھا قیدہ کیلا یدخل تحت المطلق مثالہ(۱)حلف لا یصلی فصلی الظھر یحنث لانھاصلاۃ مطلقۃ واضافتھا الی الظھر التعریف ولایحنث بصلاۃ الجنازۃ لانھا لیست بصلاۃ مطلقۃ واضافتھا الیھا للتقیید [2]۔            

تقیید کی اضافت کی علامت مضاف میں ماہیۃ کا ناقص ہونا ہے ، گویا اس کا ناقص ہونا اس کی قید ہے تاکہ مطلق کے تحت داخل نہ ہو ، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے حلف اٹھایا کہ وہ نماز نہ پڑھے گا پھر اس نے ظہر کی نماز پڑھی تو حانث ہوجائیگا کہ وہ مطلق نماز ہے اور اس کی اضافت ظہر کی طرف تعریف کیلئے ہے اور نماز جنازہ پڑھنے سے حانث نہ ہوگا کیونکہ وہ مطلق نماز نہیں ہے اور اس کی اضافت جنازہ کی طرف تقیید کیلئے ہے۔ (ت)

اسی طرح شلبیہ علی الزیلعی میں معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے نیز اُسی میں مشکلات امام خواہر زادہ

عــــہ :  ھذا ھو مفاد کلام الامام العینی اذجعل ماء الباقلی خارجا بالتدبیر والا فالماء لاحدث بہ ولاظھر بل کان موجودا ظاھرا من قبل انما حدث الممزوج من حیث ھو ممزوج فتعین فی کلامہ الشق الاول ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

یہ عینی کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے ، انہوں نے باقلی کے پانی کو تدبیر سے خارج ہونے والا پانی قرار دیا ہے ورنہ تو پانی میں نہ کوئی حدوث ہے اور ظہور ، بلالکہ وہ موجود وظاہر پہلے تھا البتہ ممزوج من حیث الممزوج بعد میں پیدا ہوا ، تو ان کے کلام میں شق اول متعین ہوگئی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

سے ہے :

 



[1]             العنایۃ مع الفتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضو نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۳

[2]         شلبیہ علی التبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن