دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

کے لائق ہو کیونکہ ماءِ مطلق ان دونوں پر نہیں بولا جاتا ہے اور اطلاق کے وقت ذہن ان دونوں کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے باوجود اس کے کہ ان عوارض والے ان کی ذات نہیں ہیں ، مگر وہ جو اطلاق کے وقت مفہوم ہو اور عوارض کا مفہوم نہ ہونا ہر عارض میں مشترك ہے ، تو فرق ہونا ضروری ہے ، مگر میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے یہ فرق بتایا ہو۔ (ت)

پھر میں علمی بے بضاعتی کے باوجود کہتا ہوں

وقصورالصناعۃ٭مستعینا بربی ثم بصاحب الشفاعۃ٭ صلی ا لله تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم توضع الاسماء بازاء الحقائق وتمایزالحقائق بتفاوت المقاصدولذاکان بعض الاوصاف تجری مجری الاجزاء کالاطراف فی الحیوان والاغصان فی الاشجار لان بفواتھافوات منافع الذات والشیئ اذا خلاعن مقصودہ بطل فیتطرق بہ التغیر الی الذوات المدلول علیھاعرفابالاسماء ومعلوم ان المرکب من الشیئ وغیرہ غیرہ غیران العرف بل والشرع واللغۃ جمیعا تلاحظ الغلبۃ فاذا کان الممازج اکثر قدرامن الشیئ کان المرکب احق باسم الممازج من اسم الشیئ وان تساویا تساقطا فلم یکن المرکب مفھومامن اطلاق اسم شیئ منھمالان وضع الاسمین بازاء کل بحیالہ لابازاء الکل مجموعانعم ان کان اقل لم یعتبرالا ان تحدث بامتزاجہ حقیقۃ عرفیۃ مرکبۃ ممتازۃ مقصودۃ لمقاصدمنحازۃ فیصیرالمرکب ذاتااخری عرفا لاختلاف المقاصد فلایبقی داخلا تحت المفھوم عرفا من الاطلاق فثبت ان  عــہ  المتفاھم                   

اسماء کی وضع حقائق کے مقابلالہ میں ہوتی ہے اور حقائق میں امتیاز مقاصد کے اعتبار سے ہوتاہے اور اس لئے بعض اوصاف اجزاء کے قائم مقام ہوتے ہیں جیسے حیوانات کے اعضاء اور درختوں کی ٹہنیاں کیونکہ ان چیزوں کے خاتمہ سے ذات کی منفعتیں بھی ختم ہوجاتی ہیں ، اور جب کسی چیز کا مقصود ہی فوت ہوجائے تو وہ چیز باطل ہوجاتی ہے اور اس طرح ذات بھی متغیر ہوجاتی ہے جس پر اسماء کے ذریعہ عرفًا دلالت کی جاتی ہے اور یہ معلوم ہے کہ جو چیز کسی چیز اور اُس کے غیر سے مرکب ہوتی ہے وہ اس کا غیر ہوتی ہے ، لیکن عرف ، شریعت اور لغۃ سب ہی میں غلبہ کا اعتبار ہوتا ہے تو جب ملنے والی چیز اصلی شَے سے مقدار میں زیادہ ہو تو مرکب پر وہ نام پڑنا چاہئے جو اس ملنے والی اکثر شَے کا ہے نہ کہ اصل شے کا اور اگر دونوں میں برابری ہو تو تساقط ہوگا تو ان میں سے جب کسی شَے کا اطلاق ہوگا تو مرکب مفہوم نہ ہوگا کیونکہ نام تو ہر ایك کے مقابل مستقلًا ہے ، مجموعہ کے مقابل نہیں ، ہاں اگر وہ کم ہو تو معتبر نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ملنے سے ایك نئی حقیقت عرفیہ وجود میں آجائے جو مرکب اور ممتاز ہو ، اور خاص مقاصد کیلئے ہو تو مرکب عرفًا ایك نئی ذات ہوگا ، اس لئے کہ مقاصد مختلف ہوگئے ، تو وہ اطلاق سے عرفًا مفہوم کے تحت داخل نہ ہوگا ، پس ثابت ہوا کہ لفظ کے اطلاق

 

عــہ  اقول وبھذا(۱)و لله الحمد ظھر

میں کہتا ہوں اس سے فقہأ کے اس قول کے معنی (باقی برصفحہ آئندہ)

من اطلاق اللفظ ھی الذات الموضوع لھامن دون نقص ولازیادۃ یغیرانھافکل عارض لایعتری بھاالمعروض تغیر فی ذاتہ وان کان ھناك نقص اوزیادۃ فی امرخارج فھو لایمنع المعروض من الدخول تحت الشیئ المطلق والامنع وبہ علم ان بطلان                         

سے وہی ذات مراد ہوتی ہے جس کے لئے لفظ وضع کیا گیا ہو ، اس میں نہ تو کوئی کمی نہ زیادتی ، جس کی وجہ سے ذات میں کوئی تغیر آتا ہو ، تو ہر وہ عارض جس کی وجہ سے ذات میں کوئی تغیر نہ ہو خواہ کسی خارجی امر میں کمی بیشی ہو تو یہ چیز معروض کے مطلق شیئ کے تحت آنے میں منحل نہ ہوگی ورنہ مانع ہوگی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

معنی قولھم المطلق ینصرف الی الفرد الکامل وقولھم المطلق ینصرف الی الادنی وتبین انہ لاخلاف بینھما فالمطلق ینصرف فی الطلب الی ادنی مایطلق علیہ سواء کان مطلوب الفعل اذیکفی لبراء ۃ الذمۃ اوالترك اذ الممنوع جنسہ فلایجوز شیئ منہ لکن ینصرف الی فرد کامل فی الذات لم یعرضہ مایجعلہ ناقصافی ذاتہ بالمعنی المذکور لعدم انفھامہ ح من المطلق فالمنصرف الیہ ادنی ماکمل فیہ الذات ھذا ھو التحقیق الانیق اماما قال الشامی ان انصراف المطلق الی الفرد الکامل یذکر فی مقام الاعتذار فمحلہ اذاحمل المطلق علی کامل فی وصف اٰخر وراء الکمال فی الذات اتقنہ فانہ علم نفیس وبا لله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ حفظہ ربہ تعالٰی۔ (م)                  

واضح ہوگئے کہ مطلق سے مراد فرد کامل ہوتا ہے ، نیز یہ کہ مطلق کو ادنٰی کی طرف پھیرا جاتا ہے اور یہ کہ دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ، کیونکہ طلب میں مطلق سے ادنٰی مراد ہوتا ہے ، عام ازیں کہ مطلوب فعل ہو کہ وہ برأت ذمہ کیلئے کافی ہوتا ہے یا ترك ہوکر ممنوع اس کی جنس ہوتی ہے تو اس میں سے کچھ بھی جائز نہیں ہوتا ہے لیکن فرد کامل فی الذات مراد ہوتا ہے ، اس میں کوئی چیز ایسی نہ ہونی چاہئے جو اس کی ذات میں مذکور معنی کے اعتبار سے موجب نقص ہو کیونکہ اس صورت میں وہ مطلق سے مفہوم نہ ہوگا ، تو جس کی طرف پھیرا جاتا ہے وہ ادنٰی ہے اس چیز کا جس میں ذات مکمل ہوئی ہو یہ تحقیق انیق ہے ، اور شامی نے جو کہا ہے کہ مطلق کا فرد کامل کی طرف پھرنا مقامِ اعتذار میں ذکر کیا جائیگا تو اس کا محل یہ ہے کہ مطلق جب کسی ایسے امر پر محمول ہو جو کسی دوسرے وصف میں کامل ہو ذات کے علاوہ۔ اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ نفیس علم ہے ۱۲ منہ غفرلہ حفظہ رب تعالٰی۔ (ت)

الحقیقۃ فی المرکب مع المساوی والغالب لغۃ وعرفاوشرعامطلقًا ومع القلیل المذکورعرفامع بقاء الحقیقۃ اللغویۃ ولذا کان المقید قسما من مطلق الماء وفی جھۃ النقص قدتبطل مطلقًا اذاکان ذلك الوصف جاریامجری الرکن فی الوضع اللغوی ایضاکالسیلان للماء وقد تبقی لغۃ وتبطل عرفااعنی عن المتفاھم العرفی عند اطلاق الاسم وذلك اذا تبدلت المقاصد العرفیۃ کالرقبۃ علی الاقطع فانھا حقیقۃ فیہ لغۃ ولایفھم منھاعرفااذاعلمت ھذا فالنقص فی الماء بزوال سیلانہ اورقتہ فالثخین لایسمی ماء فضلا عن الجمد والزیادۃ باختلاطہ باکثر منہ قدرااومساواوبمایصیر بہ مرکباممتازا منحازابالغرض کالمنقوع فیہالتمراذاصارنبیذا

والمطبوخ فیہ اللحم اذاصارمرقا والمحلول فیہ الزعفران اذاصار صبغاوالمخلوط فیہ اللبن اذاصارضیاحافعن ھذا تتشعب(۱)الفروع جمیعاعلی مذھب قاضی الشرق والغرب الصحیح المصحح کما تقدم عن الھدایۃ والخانیۃ ولاشك ان فی ھذہ الوجوہ الاربعۃ تبدل الذات حقیقۃ اوعرفاومحمد زادخامساوھومااشبہ المائع الممازج لہ بحیث یکاد یحسبہ الذی                  

کہ حقیقت کا مرکب میں باطل ہونا مساوی اور غالب کے ساتھ ہے لغۃً ، عرفًا اور شرعًا ، مطلقًا ، اور قلیل مذکور کے ساتھ عرفا مع حقیقت لغویہ کے باقی رہنے کے اس لئے مقید ، مطلق ماء کی قسم ہوتا ہے ، اور نقص کی جہت میں کبھی حقیقۃ مطلقًا  باطل ہوجاتی ہے جبکہ وصف وضع لغوی اعتبار سے بھی رکن کے قائم مقام ہو جیسے پانی کیلئے سیلان ، اور کبھی حقیقۃ لغۃً تو باقی رہتی ہے اور عرفًا باطل ہوجاتی ہے ، یعنی نام کو بولے جانے کے وقت عرف کے فہم میں نہیں آتی ، اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب مقاصد عرفیہ بدل جائیں جیسے “ رقبۃ “ اقطع پر کیونکہ یہ اس میں حقیقۃ ہے لغۃً لیکن عرفا اس سے نہیں سمجھا جاتا ہے۔ جب آپ نے یہ جان لیا تو پانی میں نقص کی صورت یہ ہوگی کہ اس کا سیلان یا اس کی رقت ختم ہوجائے تو گاڑھے کو پانی نہیں کہیں گے چہ جائیکہ جمد کو ، اور اس میں زیادتی کی صورت یہ ہوگی کہ وہ کسی ایسی چیز میں مخلوط ہوجائے جو مقدار میں اُس سے زیادہ یا اس کے برابر ہو یا اُس چیز سے جس سے مرکب ہو کر وہ ممتاز ہوجائے اور مقصد کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوجائے ، جیسے وہ پانی جس میں کھجوریں بھگوئی جائیں تو وہ نبیذ بن جائے ، اور جس میں گوشت پکایا جائے اور وہ شوربہ ہوجائے ، اور جس میں زعفران ملایا جائے اور وہ رنگ بن جائے اور جس کو دودھ میں ملایاجائے یہاں تك کہ وہ لسّی ہوجائے ، اسی اصل پر قاضی شرق وغرب کے مذہب پر تمام فروع متفرع ہوتی ہیں ، جیسا کہ ہدایہ اور خانیہ سے گزرا ، اور اس میں شک

لایعلم حالہ ذلك المائع ویظن انہ لیس بماء فمثل ھذالایدخل عندہ فی المتفاھم من مطلق الماء فمناط المنع عند ابی یوسف صیر ورتہ غیر الماء ولوظناوبالجملۃ یرتاب فی کونہ ماء وعلیہ بناء ضابطۃ الامامین الاسبیجابی وملك العلماء رحمھما ا لله تعالٰی وھی التی قابلناھا بالضابطۃ الزیلعیۃ وبینا فی القسمین الاولین مااتفقتا فیہ علی الجواز اوالمنع وفی الثالث مااختلفتا فیہ وسیاتی بیان کل ذلك ان شاء ا لله الکریم الوھاب۔

فان قلت :  علی ماقررت یلزم خروج الماء المتنجس والمستعمل من الماء المطلق فان من اعظم مقاصد الماء حصول التطھیر بہ قال ا لله تعالٰی وینزل علیکم من السماء ماء لیطھر کم بہ وقد سقط ھذا منھما فیزاد فی جانب النقص علی زوال السیلان والرقۃ زوال صفۃ الطھوریۃ اقول : (۱)الحقائق الشرعیۃ للمقاصد الشرعیۃ فبفوا تھا تفوت کالصوم والصلاۃ اما الماء

نہیں کہ ان چاروں صورتوں میں ذات حقیقۃ یاعرفًا تبدیل ہوجاتی ہے ، اور امام محمد نے ایك پانچویں صورت کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ ، وہ پانی ہے جو اس سیال شَے سے مشابہ ہو جو اس میں ملائی گئی ہے ، اور وہ ایسا ہوجائے کہ ناواقف حال اس کو وہی شیئ سمجھے پانی نہ سمجھے ، اس قسم کی چیز ان کے نزدیك مطلق ماء کے مفہوم میں داخل نہیں ، تو ابو یوسف کے نزدیك منع کا دارومدار اس پر ہے کہ وہ پانی کا غیر ہوجائے خواہ عرفًا ہی۔ اور امام محمد کے نزدیك اس پر ہے کہ اس کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن