30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : ولعل الحامل للبحرعلیہ کہ طہور ہو تو مستعمل پانی سے جائز نہیں اھ ملتقطا ، تو یہ اس میں صراحت ہے کہ مطلق پانی کی شرط نے ان دونوں کو خارج نہیں کیا ، تاکہ دو دوسری شرطوں کی حاجت پڑے ، اوریہی گفتگو منیہ میں ہے وہ فرماتے ہیں ماءِ مطلق طاہر کے ساتھ طہارت جائز ہے اھ تو عموم مطلق نے طاہر اور غیر طاہر کا افادہ کیا اور حلیہ میں اس پر یہ استدراك کیا ہے ، فرمایا بہتر یہ تھا کہ طہور کہتے بجائے طاہر کے ، کیونکہ طہارت صرف طاہر پانی سے نہیں ہوتی ہے اھ تو انہوں نے اس کے مستعمل کو عام ہونے کا افادہ کیا اور غنیہ میں اس کی تصریح کی فرمایا ناپاك پانی کو مطلق پانی کہا جاتا ہے پھر ان کو اس سے احتراز کی حاجت ہوئی تو فرمایا طاہر ہو اور اگر مجاورۃ سے اس میں تقیید ہوجاتی تو اطلاق کے بعد طاہر کے ذکر کی ضرورت نہ ہوتی اھ اور بنایہ میں اسی طرف اشارہ کیا ، فرمایا اس سے وضو جائز ہے جب تك اس میں صفت اطلاق باقی ہو اور اس میں نجاست نہ ملی ہو اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں غالبًا بحر کو یہ کہنے کی ضرورت اس لئے
قول بعضھم تجوزالطھ ارۃ بالماء المطلق ارسلہ ارسالا فلوشملھمااوھم جوازالطھارۃ بھماولیس بشیئ فان امثال القیود تطوی عادۃ للعلم بھا فی محلہ الاتری ان الاکثرین لم یقیدوابالاطلاق ایضاانماقالوا تجوز بماء السماء والاودیۃ الخ
پڑی کہ بعض فقہأ نے فرمایا مطلق پانی سے طہارۃ جائز ہے ، اس کو انہوں نے مطلق رکھا ، تو اگر یہ ان دونوں کو شامل ہوتاتو ان دونوں سے طہارت کے جواز کا وہم ہوتا ، اور یہ کچھ نہیں ، کیونکہ قیود کی مثالیں عام طورپر ذکر نہیں کی جاتی ہیں کہ ان کا علم ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اکثر فقہاء نے اس کواطلاق کی قید سے بھی مقید نہیں کیا ہے پس فرمایا ہے طہارت جائز ہے آسمان کے پانی سے وادیوں کے پانی سے الخ۔ (ت)
دوازدھم : حلیہ وبحر کی قیدوں سے آزاد مطلق صرف وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن جاتا ہے ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں :
الماء المطلق ھو الذی تتسارع افہام الناس الیہ عند اطلاق اسم الماء کماء الانھار والعیون و الاٰبار والسماء والغدران والحیاض والبحار۔
مطلق پانی وہ ہے کہ جب پانی کا نام لیا جائے تو ذہن اس کی طرف منتقل ہوجائیں ، جیسے نہروں ، چشموں ، کنوؤں ، بادلوں ، تالابوں ، حوضوں اور دریاؤں کا پانی۔ (ت)
پھر فرمایا :
واما المقید فھو مالا تتسارع الیہ الافہام عند اطلاق اسم الماء وھو الماء الذی یستخرج من الاشیاء بالعلاج کماء الاشجار والثمار وماء الورد ونحو ذلك [1] اھ۔
اقول : والحصرالمستفادمن قولہ ھو الماء الذی یستخرج غیر مراد قطعاوانماالمعنی کالماء الذی فلیتنبہ۔
بہرحال مقید پانی وہ ہے کہ جب پانی کا نام لیا جائے تو ذہن اس کی طرف سبقت نہ کرے ، اور یہ وہ پانی ہے جو کسی عمل کے ذریعہ چیزوں سے نکالا جائے جیسے درختوں ، پھلوں اور گلاب وغیرہ کا پانی اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ حصر جو ان کے کلام “ یہ وہ پانی ہے جو نکالا جائے “ میں ہے ، مراد نہیں ہے قطعًا ، اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ مثل اُس پانی کے ، تو متنبہ رہناچاہئے۔ (ت)
درمختار میں ہے : (یرفع الحدث بماء مطلق)ھومایتبادرعند الاطلاق [2] (حدث کو رفع کیا جائے مطلق پانی سے ، یہ وہ ہے جو اطلاق کے وقت متبادر ہو۔ ت)بحر سے گزرا : لانعنی بالمطلق الا مایتبادر عنداطلاق اسم الماء [3] (ہم مطلق سے وہی مراد لیتے ہیں جو ماء کااطلاق کرتے وقت متبادر ہوتا ہے۔ ت)کافی وبنایہ ومجمع الانہر میں ہے : المرادبہ ھھنامایسبق الی الافھام بمطلق قولناالماء [4] (اس سے مراد یہاں وہ ہے جو ہمارے قول پانی کے اطلاق سے فوری سمجھا جائے۔ ت)عنایہ وبنایہ میں ہے :
لایجوز بما اعتصر لانہ لیس بماء مطلق لانہ عند اطلاق الماء لاینطلق علیہ وتحقیق ذلك انالوفرضنا فی بیت انسان ماء بئراوبحراوعین وماء اعتصر من شجر اوثمر فقیل لہ ھات ماء لایسبق الی ذھن المخاطب الا الاول ولا نعنی بالمطلق والمقید الاھذا [5]۔
جو پانی نچوڑا جائے اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں کیونکہ جب ماء کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ اگر ہم فرض کریں کہ کسی شخص کے گھر میں پانی کا کنواں ہے یا دریا چشمہ ہے اور وہ پانی بھی ہے جو درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہے ، پھر ہم اس سے پانی مانگیں تو مخاطب کا ذہن پہلے پانی ہی کی طرف منتقل ہوگا ، اور مطلق ومقید سے یہی مراد ہے۔ (ت)
اقول : یہی اصح واحسن تعریفات ہے کماقال فی الحلیۃ لولا مازاد(جیسا کہ حلیہ میں کہا ہے اگروہ نہ ہوتا تو زیادتی نہ ہوتی۔ ت)مگر محتاج توضیح وتنقیح ہے
واقول : (۱)وبا لله التوفیق العوارض لاھی تفھم عندالاطلاق٭ولاھی مطلقًا تسلب الاطلاق٭فان الذات ھی المفھومۃ من الاطلاق کمااذاقلت انسان لایتسارع الفھم منہ الی الرومی والزنجی اوالعالم والجاھل اوالطویل والقصیر اوالحسین
اقول : وب اللہ التوفیق عوارض نہ تو عندالاطلاق مفہوم ہوتے ہیں اور نہ مطلقًا سلب ہوتے ہیں ، کیونکہ عندالاطلاق ذات ہی مفہوم ہوتی ہے ، جیسے آپ انسان کا لفظ بولتے ہیں تو ذہن رومی ، حبشی ، عالم ، جاہل ، لمبے ، چھوٹے ، حسین ، بدشکل وغیرہ کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے ، مگر اس سے یہ بھی
والدمیم وامثال ذلك من العوارض ولا یلزم منہ خروج ھؤلاء عن الانسان المطلق فان ذاتھم لیست الامافھم من لفظ الانسان ولم یعرضھم مایقعدھم عن الدخول فیماتتسارع الیہ الافھام بسماع لفظ الانسان ولوان العوارض مطلقًا تمنع الدخول لعدم انفھامھامن المطلق لما دخل تحتہ شیئ من افرادہ لان لکل فرد تشخصالایسبق الیہ الذھن عند ذکر اسم المطلق فکان ھذا یقتضی التسویۃ بین مطلق الماء والماء المطلق لکن ثمہ عوارض تمنع ذویھاعن الدخول تحت الشیئ المطلق ویقال فیھاان اسم المطلق لم یتناولھالکونھا ممالا تتسارع الیہ الافھام کمقطوع الیدین والرجلین فی الرقبۃ فان المفھوم الذات الکاملۃ ونبیذ التمر وماء العصفر الصالح الصبغ فان اسم الماء المطلق لایطلق علیھماولایسبق الافھام عند اطلاقہ الیھمامع ان اصحاب تلك العوارض ایضا لیست ذاتھاالامافھم من الاطلاق وعدم انفہام العوارض مشترك فی کل عارض فلابد من الفرق ولم ارمن حام حول ھذا۔
فاقول : علی مابی من قلۃ البضاعۃ٭ لازم نہیں آتا کہ یہ لوگ مطلق انسان کے زمرے سے خارج ہیں ، کیونکہ ان کی ذات وہی ہے جو لفظ انسان سے مفہوم ہے اور ان کو کوئی ایسا مانع درپیش نہیں کہ یہ لوگ اس مفہوم میں داخل نہ ہوں جو لفظ انسان سنتے ہیں ذہن میں آجاتا ہے ، اور اگر عوارض مطلقًا دخول سے مانع ہوتے ، کیونکہ یہ مطلق سے سمجھے نہیں جاتے ہیں تو مطلق کے تحت اس کے افراد میں سے کوئی شیئ داخل نہ ہوتی کیونکہ ہر ایك فرد کیلئے تشخص ہے جس کی طرف مطلق نام کے ذکر کرنے سے ذہن منتقل نہیں ہوتا ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مطلقِ ماء اور ماء مطلق کے درمیان مساواۃ ہے لیکن وہاں ایسے عوارض موجود ہیں جو ان کے ذدات کو مطلق شی کے تحت داخل ہونے سے مانع ہیں ، اور ان میں کہا جاتا ہے کہ مطلق اسم اُن کو شامل نہیں ہے کیونکہ ذہن ان کی طرف تیزی سے منتقل نہیں ہوتا ہے جیسے کہ رقبۃ میں مقطوع الیدین والرجلین ، کیونکہ مفہوم ذات کاملہ ہے اور نبیذ تمر اور عُصفر کا پانی جو رنگائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع