30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کہتا ہوں جب یہ چیز ایسی مخفی ہے کہ صرف واقف حال ہی جان سکتا ہے یا خارج سے اطلاع پر معمول ہوسکتی ہے تو یہ ظاہر ہوا کہ پانی اُن دونوں میں اپنے اطلاق پر باقی ہے اس کو کوئی ایسی چیز عارض نہ ہوئی جو اُس کو پانی ہونے سے خارج کردے ورنہ ہر صاحبِ نظر کو ظاہر ہوجاتا ، کیونکہ پانی کے بارے میں جاننے کیلئے انسان کو باہر سے جاننے کی ضرورت نہیں ، تو یہ کیسے مقید ہوگا؟ خلاصہ یہ کہ یہ ایسی چیز ہے جس میں بحر متفرد ہیں میں نے اور کسی کے کلام میں اس کو
عــہ۱ ای المذکور اوکل منھما ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عــہ۲ ثم رأیت السید الشریف العلامۃ رحمہ ا لله تعالی سبقہ الیہ فی التعریفات کما سیاتی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)۔
عــہ۳ وکذا تلمیذہ شیخ الاسلام الغزی فی المنح واقرہ علیہ ط فصار واسبعۃ
یعنی مذکور یا ان دونوں میں سے ہر ایك ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
پھر میں نے دیکھا کہ سید شریف نے التعریفات میں بھی یہی لکھا ہے ، جیسا کہ آئے گا ، ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
اور اسی طرح اُن کے شاگرد شیخ الاسلام غَزّی نے منح میں ذکر کیا اور اس کو ط نے برقرار رکھا تو یہ سات (باقی برصفحہ آیندہ)
والخادمی وذلك حین قول الدرر زوال اطلاقہ اما بکمال الامتزاج اوبغلبۃ الممتزج
نہیں دیکھا اور انکی متابعت ش نے کی اسی طرح درر کے محشی عبدالحلیم اور خادمی نے کی ، صاحبِ درر فرماتے ہیں اس کے اطلاق کا زوال
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
السید والبحر والغزی وعبدالحلیم والخادمی و ط و ش رحمۃ ا لله تعالٰی علیھم وعلینااجمعین قال علامۃ ط علی قولالدرھومایتبادرعندالاطلاق ای یبدر للذھن فھمہ بمجرد سماعہ مطلقًا وھو بمعنی قول المنح ھو الباقی علی اوصاف خلقتہ ولم یخالطہ نجاسۃ ولم یغلب علیہ شیئ اھ ولفظ السید فی التعریفات ھو الماء الذی بقی علی اصل خلقتہ ولم تخالطہ نجاسۃ ولم یغلب علیہ شیئ طاھر اھ۔
اقول : وھواحسن ممافی المنح بوجھین احدھما(۱)انہ قیدالشیئ بالطاھرفلم یصرقولہ لم تخالطہ نجاسۃ مستدرکابخلاف عبارۃ المنح فان ماخالطہ نجاسۃ فقدغلبہ شیئ والاٰخر انہ(۲)اتی بالاصل مکان الاوصاف فلا یردعلیہ(۳)الجمد بخلاف المنح فان الماء بانجمادہ لایتغیر اللون ولا طعم ولا رائحۃ وھی المتبادرۃ من ذکرالاوصاف والمعتبر فی التعریف ھو المتبادروظاھرانہ لم یخالطہ نجس ولا
ہوگئے ، سید ، بحر ، غزی ، عبدالحلیم ، خادمی ، ط اور ش رحمہم اللہ تعالٰی علیہم وعلینا اجمعین ، علّامہ 'ط' نے در کے قول پر فرمایا ، وہ عندالاطلاق متبادر ہوتا ہے ، یعنی ذہن کی طرف فہم سبقت کرتا ہے محض سننے سے مطلقًا ، اور یہ منح کے قول “ وہی باقی ہے اپنے خلقی اوصاف پر اور اس میں کوئی نجاست نہیں ملی ہے اور اس پر کوئی شے غالب نہیں ہوئی ہے اھ کے مطابق ہے ، اور سید کے لفظ التعریفات میں یہ ہیں یہ وہی پانی ہے جو اپنی اصلی خلقت پر باقی ہے اور اس کو کوئی نجاست نہیں ملی ہے اور اس پر کوئی پاك شے غالب نہیں ہوئی ہے اھ
میں کہتا ہوں یہ منح کی عبارت سے دو طرح اچھاہے ایك تو یہ کہ انہوں نے شیئ کو طاہر سے مقید کیا تو ان کا قول “ نہیں ملی اس سے نجاست “ زائد نہ ہوگابخلاف عبارت منح کے ، کیونکہ جس میں نجاست ملی توبلاشبہ اس پر کوئی چیز غالب ہوگئی ، اور دوسرے یہ کہ وہ اصل کو لائے بجائے اوصاف کے تو ان پر جمد کے ذریعہ اعتراض وارد نہ ہوگا بخلاف منح کے کہ پانی منجمد ہونے کے باعث نہ تو رنگ کو بدلتا ہے اور نہ مزے اور بو کو اور اوصاف کے ذکر سے متبادر یہی ہے اور تعریف میں متبادر ہی معتبر ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی نجس (باقی اگلے صفحہ پر)
قالا علیہ اورد علی الحصر الماء المستعمل واجاب الاول بان کلام المصنف فی زوالہ باختلاط المحسوس[1] اھ۔
اقول : کیف(۱)وقد ذکرالمستقطرمن النبات والثانی بان المقسم الماء الطاھروالمستعمل کالنجس فلاغبار [2] اھ۔
اقول : (۲)قدعلمت ان کلام الائمۃ یؤذن بدخول المتنجس فی المطلق فضلا عن المستعمل وکذلك کلام اھل الضابطۃ قبل البحرحیث لم یزیلو الاطلاق الا بالامرین ثم رأیت فی کلام ملك العلماء مایدل علیہ صریحا اذقال قدس سرہ اما شرائط ارکان الوضوء فمنھا ان یکون الوضوء بالماء ومنھا انیکون بالماء المطلق ومنھا ان یکون الماء
یا تو کمالِ امتزاج سے ہوگا یا ممتزج کے غلبہ سے ہوگا ، اس پر ان دونوں نے اعتراض کیا ہے کہ حصر اعتراض مستعمل پانی سے کیا گیا ہے ، اور پہلے نے جواب دیا کہ مصنف کا کلام اُس کے زوال میں ہے کسی محسوس چیز کے اختلاط کی وجہ سے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ کیسے ، حالانکہ انہوں نے گھاس سے ٹپکائے جانے والے کا ذکر کیا ہے اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ مقسم پاك پانی ہے اور مستعمل نجس کی طرح ہے تو اس پر کوئی غبار نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں کہ ائمہ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناپاك مطلق میں داخل ہے چہ جائیکہ مستعمل ، اور اسی طرح اہلِ ضابطہ کا کلام بحر سے پہلے ، کیونکہ ان کے نزدیك اطلاق زوال صرف دو امروں سے ہے پھر میں نے ملك العلماء کے کلام میں اس کی صراحت پائی ، وہ فرماتے ہیں بہرحال ارکانِ شرائطِ وضو ، ان میں سے ایك تو یہ ہے کہ وضو پانی سے ہو اور یہ کہ ماء مطلق سے ہو اور پانی پاك ہو تو نجس پانی سے جائز نہیں ، ایك یہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
غلبہ شیئ الا ان یعمم الاوصاف الرقۃ والسیلان ولوان السیداسقط قولہ لم تخالطہ نجاسۃ لم یخالطہ نکارۃ وکان من احسن التعریفات الا مافی معنی الغلبۃ من الخفاء کما لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اس سے ملا نہیں اور کوئی شیئ اس پر غالب نہ ہُوئی ، ہاں اگر اوصاف کو عام کر لیا جائے اور رقۃ وسیلان کو اس میں شامل کرلیا جائے ، اور اگر سید اپنا قول لم تخالطہ نجاسۃ ساقط کردیتے توان پر کوئی اعتراض نہ ہوتا ، اور یہ بہترین تعریف ہوتی ، ہاں صرف غلبہ کے معنی میں کچھ پوشیدگی ہے ، کما لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
طاھرافلایجوز بالماء النجس ومنھا ان یکون طھورا فلایجوز بالماء المستعمل [3] اھ ملتقطا فھو صریح فی ان اشتراط اطلاق الماء لم یخرجھما حتی احتیج الی شرطین اٰخرین وکذلك کلام المنیۃ اذیقول تجوزالطھارۃ بماء مطلق طاھر[4] اھ فافادعموم المطلق للطاھر وغیرہ واستدرك علیہ فی الحلیۃ بقولہ کان الاولی ان یقول طھورمکان طاھرلان الطھارۃ لاتجوز بماء طاھر فقط [5] اھ فافاد عمومہ المستعمل وقد صرح بہ فی الغنیۃ فقال یسمی المتنجس ماء مطلقًا فاحتاج الی الاحترازعنہ بقولہ طاھرولوکانت المجاورۃ تکسبہ تقییدالماء احتیج بعد ذکر الاطلاق الٰی ذکر الطاھرا [6] اھ والیہ اشار فی البنایۃ اذقال التوضی بہ جائز مادامت صفۃ الاطلاق باقیۃ ولم تخالطہ نجاسۃ [7] اھ
[1] حاشیۃ الدرر علی الغرر لعبد الحلیم بحث الماء مکتبہ عثمانیہ بیروت ۱ / ۱۸
[2] الحاشیۃ علی الدرر شرح الغرر لابی سعید الخادمی بحث الما مکتبہ عثمانیہ بیروت ص۲۱
[3] بدائع الصنائع ارکان الوضوء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
[4] منیۃ المصلی فصل فی المیاہ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۶۱
[5] حلیہ
[6] غنیۃ المستملی فصل فی بیان احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع