دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

پانی ایسے ہیں جن کیلئے کوئی نیا نام عرف میں مقرر نہیں ہوا ہے ، کیونکہ اس سے کوئی غرض متعلق نہیں ، مثال کے طور پر ، اس سے مطلق پانی کا نام زائل ہوگا تو یہ نقض ہوگا منع پر ، جیسا کہ حمیم نقض ہوگا جمع پر اور یہ فتح پر ورود زیادہ ظاہر ہوگا کیونکہ انہوں نے بیانِ تقیید میں فرمایا ، تقیید یہ ہے کہ اس کا نیانام پڑ جائے ، اور لزوم تقیید اسی میں شامل ہے ، اور یہ اس وقت ہوگاجبکہ پانی مغلوب ہو کیونکہ اس کے مجموعہ پر اطلاق ہونے میں اس وقت غالب کا اعتبار ہوگا عدمی طور پر اور یہ لغت سے ثابت شدہ کا اور عرف وشرع سے ثابت شدہ کا برعکس ہے اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی اس کا نیا نام ہوگا تو پانی مغلوب ہوگا ، اور اس کے عکس میں یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ جب بھی پانی مغلوب ہوگا تو اس پر مطلق پانی کا اطلاق صحیح نہ ہوگا یہ نہیں کہ اُس کے لئے کوئی نیا نام وضع کرلیا جائے گا ، اور یہ ضروری ہے ، تو تقیید کو نئے نام پڑ جانے میں منحصر کردینا محلِ نظر ہے و الله تعالٰی اعلم۔ (ت) (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

من العبد الضعیف تحقیقہ ان شاء ا لله تعالٰی بعد تمام سردالتعریفات فلا یتقید الا اذا صلح المقصود اٰخر فح یسمی باسم مایقصد بہ ذلك المقصود تأمل ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) عــــہ فان حصر التقیید فی حدوث الاسم فی الفتح منطوق وعن الھدایۃ مفھوم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)                                   

تحقیق سے پیش کرینگے ، تو یہ مقید نہ ہوگا مگر جبکہ مقصود آخر کیلئے صالح ہو ، تو اس وقت اس کا نام وہی ہوگا جو اُس کا مقصود ہے ، غور کرو ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

فتح میں تقیید کا نام کے نئے ہونے میں منحصر ہونا منطوق ہے ، اور ہدایہ سے مفہوم ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

ششم مطلق عــہ وہ ہے جسے دیکھنے والا دیکھ کر پانی کہے خزانۃ المفتین میں شرح طحاوی سے ہے :

المطلق مااذانظرالناظر الیہ سماہ ماء علی الاطلاق [1] اھ اقول : (۱)رب ماء لایدرك البصر تقییدہ ولااطلاقہ کالمخلوط بمائع موافق فی اللون یتوقف الامر فیہ علی غلبۃ الطعم او الاجزاء(۲)وماالقی فیہ تمراوزبیب یتوقف علی صیرورتہ نبیذ اولا یضر مجرد اللون وما خلط بعصفراوزعفران یتوقف علی صلوحہ للصبغ وشیئ من ذلك لایدرك بالبصر فلایصح جمعاولا منعا۔                                                                                                                                     

مطلق وہ ہے کہ جب دیکھنے والا اس کو دیکھے تو اس کو مطلق پانی کا نام دے اھ میں کہتا ہوں بہت سے پانی ایسے ہیں کہ نگاہ سے نہ تو ان کا مقید ہونا معلوم ہوتا ہے اور نہ مطلق ہونا جیسے وہ پانی جو کسی سیال میں مخلوط ہو اور دونوں ہم رنگ ہوں ، اس میں دارومدار مزے اور اجزاء کے غلبہ پر ہوگا ، اور جس میں کھجور اور منقٰی ڈالا جائے اس میں دارومدار اسی کے نبیذ ہونے پر ہوگا ، محض رنگ مضر نہیں ، اور جو عُصفر اور زعفران میں ملایا جائے تو اس میں یہ دیکھا جائیگا کہ آیا اس سے کوئی دوسری چیز رنگی جاسکتی ہے یا نہیں ، اور ان میں سے کوئی چیز آنکھ سے معلوم نہیں ہوسکتی ، تو یہ جمع ومنع کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ (ت)

ہفتم مطلق وہ ہے جسے بے کسی قید کے بڑھائے پانی کہہ سکیں فتح القدیر میں ہے :

الخلاف فی ماء خالطہ زعفران ونحوہ مبنی علی انہ تقیید بذلك اولا فقال الشافعی وغیرہ تقید لانہ یقال ماء الزعفران ونحن لاننکرانہ یقال ذلك ولکن لایمتنع مع ذلك مادام المخالط مغلوبا ان یقول القائل فیہ ھذا ماء من غیر زیادۃ [2]  اھ۔                                                   

جس پانی میں زعفران یا اسی کے مثل کوئی چیز مل جائے اس میں اختلاف اس امر پر مبنی ہے کہ وہ اس کے ساتھ مقید ہوا یا نہیں ، امام شافعی وغیرہ فرماتے ہیں مقید ہوگیا ، کیونکہ اس کو زعفران کا پانی کہا جاتا ہے اور ہم اس کے منکر نہیں کہ اس کو ماء زعفران کہا جاتا ہے ، لیکن جب تك مخلوط پانی ہونے والی چیز پانی سے مغلوب ہو یہی کہا جائیگا کہ یہ پانی ہے ، اس میں کچھ اضافہ نہیں اھ(ت)

 

عــــہ :   ویشیر الیہ قول البنایۃ فی ماتغیربالطبخ لان الناظر لونطر الیہ لایسمیہ ماء مطلقًا  اھ ۱۲ منہ غفرلہ(م)

بنایہ کا قول اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کے بارہ میں جو پکانے سے متغیر ہوجائے کیونکہ اگر دیکھنے والا اس کی طرف دیکھے تو اسے مطلق پانی نہیں کہے گا اھ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

اقول :  لاشك ان الماء المقید قسم من الماء وحمل المقسم علی القسم لایمتنع ابدا واین عدم التقیید من التقیید بعدم التقیید والکلام فی ھذالا ذاك والجواب انہ ماء لغۃ لاعرفالصحۃ النفی تقول لیس ماء بل صبغ والکلام فی العرف۔                                             

میں کہتا ہوں مقید پانی ، پانی ہی کی ایك قسم ہے اور مقسم کو قسم پر حمل کرنا ہرگز ممنوع نہیں اور عدم تقیید کو تقیید بعدم التقیید سے کیا نسبت؟ اور گفتگو اس میں ہے نہ کہ اُس میں۔ اور جواب یہ ہے کہ وہ لغہً پانی ہے نہ کہ عرفًا ، کیونکہ نفی صحیح ہے ، آپ کہہ سکتے ہیں یہ پانی نہیں ہے بلالکہ رنگ ہے اور کلام کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے۔ (ت)

ہشتم مطلق وہ ہے جس سے پانی کی نفی نہ ہوسکے یعنی نہ کہہ سکیں کہ یہ پانی نہیں۔

اقول :  وھذا معنی سابقہ غیران صحۃ الاطلاق وامتناع النفی قدیتفارقان فیما کان ذاجہتین یصح فیہ الحمل من وجہ والسلب من وجہ اٰخر۔

میں کہتا ہوں یہ گزشتہ معنی ہیں ، البتہ صحتِ اطلاق اور امتناع نفی ، جب دو جہت والے ہوں تو کبھی ایك دوسرے سے جُدا ہوتے ہیں من وجہ حمل اور من وجہ سلب صحیح ہوتا ہے۔ (ت)

تبیین الحقائق میں ہے :

اضافۃ الی الزعفران للتعریف بخلاف ماء البطیخ ولھذاینفی اسم الماء عنہ ولایجوزنفیہ عن الاول [3] اھ۔ اقول :  ان ارید نفی الماء المطلق داراومطلق الماء فلایجوز نفی المقسم عن القسم قط والماء الذی یخرج من البطیخ لیس من جنس الماء فالحق انہ لیس ماء مقیدابل خارج من مطلقہ کالادھان والجواب الجواب۔          

پانی کی اضافت زعفران کی طرف تعریف کیلئے ہے بخلاف “ ماء البطیخ “ کے اس لئے اس سے پانی کے نام کی نفی کی جاتی ہے اور پہلے سے اس کی نفی جائز نہیں ہے اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں اگر ماءِ مطلق کی نفی کا ارادہ کیا جائے تو دور لازم آئے گا یا مطلقِ ماء کی نفی کی جائے تو مقسم کی نفی قسم سے قطعًا جائز نہیں اور وہ پانی جو بطیخ سے نکلتا ہے جنس ماء سے نہیں ہے تو حق یہ ہے کہ وہ مقید پانی نہیں ہے بلالکہ مطلقِ ماء سے خارج ہے جیسے تیل والجواب الجواب۔ (ت)

نہم : مطلق وہ جس سے پانی کا نام زائل نہ ہو ،

وھو معنی سابقہ واشیرالیہ فی کثیر من الکتب ففی التبیین زوال اسم الماء عنہ ھو المعتبر فی الباب [4] اھ وفی الھدایۃ والکافی الا ان یغلب ذلك علی الماء فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ [5]  اھ افی المنیۃ عن شرح القدوری للاقطع اذا اختلط الطاھر بالماء ولم یزل اسم الماء عنہ فھو طاھر وطھور [6] اھ۔

 



[1]   خزانۃ المفتین

[2]   فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز بہ مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۳

[3]   تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ مطبع الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۱

[4]   تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبعۃ الامیریہ مصر  ۱ / ۱۹

[5]               ہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ مطبعہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸

[6]   منیۃ المصلی فی المیاہ مطبعہ یوسفی لکھنؤ ص

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن