دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

عــہ ای فی توجیہ کلام الامام المصنف قدس سرہ لجعل ماء الزعفران من المیاہ المطلقۃ ۱۲ منہ غفرلہ(م)

یعنی مصنف کے کلام کی توجیہ میں ، زعفران کے پانی کو مطلق پانیوں میں شمار کرنے کیلئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

ولایکون اکثر مالم یتجدد لم یتقید فان القضیۃ الاکثریۃ لایجب ان تنعکس بعکس النقیض کنفسھالجوازان تکون افراد مالم یتجددلہ اسم اقل بکثیر من افراد المقید و یکون اکثرھاداخلا فی المقید فیکون اکثر افرادالمقید متجدداواکثر افراد اللامتجدد مقیدامثلا یکون المقید من المیاہ الفًاقد تجددالاسم لثمانمائۃ منھادون مائتین ومالم یتجدد لہ الاسم من المیاہ سواء کان مطلقًا  او مقیداثلثمائۃ مائۃ منھامن الماء المطلق والباقی من المقید فیصدق ان اکثر المقید متجدد ولایصدق ان اکثر اللامتجدد لامقید بل اکثرہ مقید کماعلمت۔

فان قلت بل نقررھکذا لوکان ھذا مقید التجدد لہ اسم بالنظر الی الغالب لکن لم یتجدد لہ اسم فلیس بمقید ظناوالظن یکفی لانہ مشتبہ الحال فیحال علی الغالب والغالب فی المقید التجدد فانتفاء اللازم الاکثری یدل علی انتفاء الملزوم ظناکماان انتفاء اللازم الکلی یدل علی انتفاء الملزوم قطعا وحاصلہ                       

استلزام کی اکثریت ہے ، یعنی اکثر وہ کہ جن کا کوئی نیا نام نہیں پڑا ہے تو وہ مطلق ہے تاکہ یہ جس کا نام نیا نہیں ہے اس کو اکثر واغلب سے لاحق کیا جاسکے ، لیکن یہ اُس سے لازم نہیں آتا ہے ، بلالکہ ممکن ہے کہ جو چیزیں مقید ہیں ان میں سے اکثر کا نیا نام ہوگیا ہو اور اکثر وہ چیزیں جن کا نیا نام نہ ہو متقید نہ ہوئی ہوں ، کیونکہ جو قضیہ اکثر یہ ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اس کا عکس نقیض اس کے مساوی ہو ، اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ جن کا نام نیا نہیں ہے ان کے افراد مقید کے افراد سے بہت ہی کم ہوں اور ان کے اکثر مقید میں داخل ہوں تو مقید کے اکثر افراد نئے نام والے ہوجائیں گے اور لامتجدد کے اکثر افراد مقید ہوجائیں گے ، مثلًا وہ مقید پانی جس کے لئے ہزار نام ہو ، ان میں سے آٹھ سو افراد کا نام بدل گیا ہو ، دو سو کا نہ بدلا ہو ، اور جن پانیوں کا نام نہ بدلا ہو خواہ وہ مطلق ہوں یا مقید تین سو ہوں ، سو ان میں سے مطلق پانی کے اور باقی دو سو مقید پانی کے ہوں تو اب یہ قضیہ تو صادق ہے کہ اکثر مقید متجدد ہے اور یہ صادق نہیں کہ اکثر لامتجدد لامقید ہے ، بلالکہ اس کا اکثر مقید ہے ، جیسا کہ آپ نے جانا۔ (ت)

اگر کہا جائے کہ ہم اس کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ اگر یہ مقید ہوتا تو اس کا کوئی نیا نام ہوتا ، غالبًا ایسا ہی ہوتا ہے ، لیکن چونکہ اس کا نیا نام نہیں ہوا اس لئے وہ ظنی اعتبار سے مقید نہیں اور اس میں ظن کافی ہے کیونکہ اس کا حال مشتبہ ہے تو اس کا دارومدار غالب پر رکھا جائے گا اور غالب مقید میں تجدد ہے ، تو لازم اکثری کا انتفاء ملزوم کے انتفاء پر ظنی طور پر

التمسك بغلبۃ التجدد فی المقید من دون حاجۃ الٰی غلبۃ الاطلاق فی اللامتجدد۔

انما یظن ماھو اکثر والاکثریۃ فی استلزام وجود ا لوجودب لاتستلزم اکثریۃ استلزام انتفاء ب لانتفاءاففی مثلہ انما یظن بوجود اللازم عند تحقق الملزوم لابانتفاء الملزوم عند انتفاء اللازم۔

وثالثا : (۱)ماالفارق بین ماء الباقلاء وماء الزعفران حتی کان ھذامشتبھا فالحق بالغالب وذاك متعینافلم یلحق واما السؤال(عـہ)فلان ماء الباقلاء اسم جدید

دلالت کرتا ہے ، جیسا کہ لازم کلی کا انتفاء ملزوم کے انتفاء پر قطعًا دلالت کرتا ہے ، اور اس کا حاصل مقید میں غلبہ تجدد سے استدلال ہے ، اور لامتجدد میں غلبہ اطلاق کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں جو اکثر ہو اسی کا ظن ہوتا ہے ا کے وجود کی اکثریت کا ب کے وجود کی اکثریت کو مستلزم ہونا ا کے انتفاء کی وجہ سے ب کے انتفاء کے استلزام کی اکثریت کو مستلزم نہیں ہے تو اس جیسی صورت میں ملزوم کے وجود کے تحقق کے وقت لازم کے وجود کا ظن ہوتا ہے نہ کہ انتفاء ملزوم بوقت انتفاء لازم کے۔ (ت)

ثالثا ، یا فرق ہے باقلٰی کے پانی اور زعفران کے پانی میں ، کہ اس کو مشتبہ قرار دیا جائے ، اور غالب سے لاحق کیا جائے اور وہ متعین ہے تو لاحق نہ کیا جائے گا باقی رہا سوال تو باقلاء کا پانی نیا نام ہے ، پانی کے نام

 

عــہ ثم رأیت اجاب عنہ فی البنایۃ بان المضاف ھھناخارج من المضاف الیہ بالعلاج فلایجوز وان لم یتجدد لہ اسم اھ

اقول : (۲)تسلیمہ عدم تجدد الاسم قدعرفت مافیہ و ماقالہ مبنی علی ماذکرہ فی تعریف اضافۃ التقیید(۳) و سیاتی مافیہ ، بعونہ تعالی وعلٰی کل فقد سلم ان التعریف بتجدد الاسم غیر جامع ثم قال وقال تاج الشریعۃ الدلیل یقتضی الجواز ولکن الطبخ والخلط یثبتان نقصانا فی کونہ                                            

پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے بنایہ میں اس کا جواب دیا کہ یہاں مضاف ، مضاف الیہ سے خارج ہے علاج کی وجہ سے تو جائز نہیں اگرچہ اس کا نیا نام نہ ہو اھ

میں کہتا ہوں نام کے نیا نہ ہونے کا تسلیم کرنا ، اس پر جو اعتراض ہے وہ آپ نے جان لیا ، اور جو انہوں نے کہا ہے وہ اس چیز پر مبنی ہے جس کو انہوں نے اضافت تقیید کی تعریف میں ذکر کیا ہے ، اور یہ عنقریب آئے گا اور بہرحال یہ تعریف کہ نام نیا ہوجائے جامع نہیں اس کو انہوں نے تسلیم کیا ہے پھر کہا کہ تاج الشریعۃ نے فرمایا دلیل جواز کا تقاضا کرتی ہے(باقی برصفحہ آئندہ)

غیر اسم الماء وکون اسم الماء جزء منہ لاینافی الجدۃ الاتری انہ لایصلح ان یقال لہ ماء لکونہ ثخیناوالماء رقیق بخلاف ماء الزعفران فان المرادبہ مالم یثخن وھذابالوفاق بل مالم یصلح للصبغ وھذاعندالتحقیق کما تقدم فی ۱۲۰ھذا ماظھرلی ثم رأیت المحقق ابن امیر الحاج اشارالیہ فی الحلیۃ اذ قال ذات ماء الورد مثلا لاتعرف من مجرد قول القائل ماء حتی یضیفہ الی الورد ولھذا کانت الاضافۃ لازمۃ لکونھااضافۃ الی مالا بدمنہ وبواسطۃ ھذا اللزوم حدث لہ اسم آخرعلٰحدۃ فلا تسوغ تسمیتہ ماء علی الاطلاق الا علی سبیل المجاز اھ وا لله الموفق لارب سواہ۔ ثم اقول :  ان تحقق عــہ ان(۱)من المیاہ                   

کا غیر ہے اور پانی کا اس کے نام کا جُزئ ہونا جِدّت کے منافی نہیں ، اس لئے اس کو پانی نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ گاڑھا ہے اور پانی پتلا ہوتا ہے بخلاف زعفران کے پانی کے ، کیونکہ اس سے مراد وہ ہے جو گاڑھا نہ ہوا ہو ، اور یہ اتفاقًا ہے ، بلالکہ جب تك رنگنے کے لائق نہ ہو ، اور یہ تحقیق کی بنا پر ہے جیسا کہ پانی کی تقسیم ۱۲۰ میں گزرا یہ مجھ پر ظاہر ہوا پھر میں نے محقق ابن امیر الحاج کو دیکھا کہ انہوں نے اس کی طرف حلیہ میں اشارہ فرمایا ، وہ فرماتے ہیں گلاب کے پانی کی ذات مثلًا کسی قائل کے صرف اس قول سے معلوم نہیں ہوتی ہے کہ “ پانی “ جب تك کہ وہ اسے گلاب کی طرف مضاف نہ کرے ، اس لئے اضافت لازم ہوئی کیونکہ یہ ایسی چیز کی طرف اضافت ہے جس کی طرف اضافت ضروری ہے اور اس لزوم کے واسطہ سے اس کا الگ نام پڑگیا ، تو اس کو مطلقًا  پانی کہنا درست نہ ہوگا ، ہاں مجازًا کہا جاسکتا ہے ا ھ و الله الموفق(ت)پھر میں کہتا ہوں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بعض مقید (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

مائعا اھ۔ اقول :  ھذا یوافق ماذکر الحقیر حیث اشار الی ان المنع لاجل الثخن ۱۲ منہ غفرلہ(م)

عــہ  قالہ لانہ یتصور علی قول محمد اما علی قول ابی یوسف الصحیح علی مایاتی

لیکن پکانا اور مل جانا پانی کے مائع ہونے میں خلل پیدا کرتے ہیں اھ میں کہتا ہوں یہ اس کے مطابق ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ منع گاڑھے ہونے کی وجہ سے ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

یہ بات انہوں نے اس لئے کہی ہے کہ یہ محمد کے قول پر متصور ہے لیکن ابو یوسف کے قول پر ، جیسا کہ ہم (باقی برصفحہ آئندہ)

المقیدۃ مالا یتجددلہ اسم فی العرف لعدم تعلق الغرض بہ مثلا انمایزول عنہ اسم الماء المطلق کان ذلك نقضا علی المنع کما کان الحمیم نقضاعلی الجمع(۱)ویکون ھذا اظھر عــہ

وروداعلی الفتح اذقال فیہ فی بیان التقیید ھوبان یحدث لہ اسم علیحدۃ ولزوم التقیید یندرج فیہ وانما یکون ذلك اذا کان الماء مغلوبااذفی اطلاقہ علی المجموع حینئذ اعتبارالغالب عدماوھوعکس الثابت لغۃ وعرفا وشرعا اھ۔

اقول : (۲)انما الثابت بہ انہ کلما تجدد الاسم کان الماء مغلوبا اما فی جھت العکس فانما ثبت انہ کلما کان الماء مغلوبا لم یصح اطلاق الماء المطلق علیہ لا انہ یحدث لہ اسم برأسہ ولابد فحصر التقیید فی حدوث الاسم محل نظر وا لله تعالٰی اعلم۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن