دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

ان ا لله تعالی ذکر الماء فی الاٰیۃ مطلقًا  والمطلق مایتعرض للذات دون الصفات ومطلق الاسم ینطلق علی ھذہ المیاہ [1]  اھ ای ماء السماء والاودیۃ والعیون والاٰبار ذکرہ مستدلا علی جواز التوضی بھا بقولہ تعالٰی وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ۔ اقول :  (۱)ھذا ھو المطلق الاصولی ولیس مراداھٰنا قطعا فانہ مقسم المقیدات وھذا قسیمھا وھوینطلق علی جمیع المقیدات فیلزم جوازالتوضی بھابل المطلق ھھنا مقید بقید الاطلاق فی مرتبۃ بشرط لاشیئ ای مالم یعرض لہ مایسلب عنہ اسم الماء                                 

 اللہ تعالٰی نے آیہ مبارکہ میں پانی کو مطلق ذکر کیا ہے ، اور مطلق وہ ہے جس میں صرف ذات کا ذکر ہو صفات کا نہ ہو ، اور پانی کا مطلق نام انہی پانیوں پر بولاجاتاہے اھ یعنی آسمان ، وادیوں ، چشموں اور کنوؤں کے پانیوں پر ، اس کاذکروضو کے جواز کے سلسلہ میں کیا ہے فرمانِ الٰہی ہے

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ۔ (ت)میں کہتا ہوں یہ اصولی مطلق ہے اور وہ یہاں قطعًا مراد نہیں کیونکہ وہ مقیدات کا مقسم ہے اور یہ اُن کا قسیم ہے اور یہ تمام مقیدات پر جاری ہے تو ان تمام سے وضو کاجوازلازم آتا ہے بلالکہ مطلق یہاں بقید اطلاق مقید ہے اور بشرط لاشیئ کے مرتبہ میں ہے ، یعنی اس کو جب تك ایسی چیز لاحق نہ ہو جو اس سے

المرسل ولاشك ان ھذا متعرض لوصف زائد علی نفس الذات فالمطلق ھھنا قسم من المقید وقسیم لسائرالمقیدات وقد تنبہ لھذاالسیدالعلامۃ الشامی فنبہ علیہ بقولہ واعلم ان الماء المطلق اخص من مطلق ماء لاخذ الاطلاق فیہ قیداولذا صح اخراج المقید بہ واما مطق ماء فمعناہ ای ماء کان فیدخل فیہ المقید المذکور ولایصح ارادتہ ھھنا [2] اھ ووقع فی البحربعدماعرف المطلق بما یاتی والمطلق فی الاصول ھوالمتعرض للذات دون الصفات لابالنفی ولا بالاثبات کماء السماء والعین والبحر [3] اھ فقدکان یفھم بالمقابلۃ انہ لیس مراداھھنا لکن(۱)جعل المیاہ المطلقۃ مثالا صرف الکلام الی الایہام فالاحسن مافی الکافی عــہ  والبنایۃ            

مطلق پانی کا نام سلب کرلے ، اور اس میں شك نہیں کہ یہ نفس ذات پر ایك زائد وصف کی طرف اشارہ ہے ، تو مطلق یہاں مقید کی قسم ہے اور باقی مقیدات کا قسیم ہے علامہ شامی نے اس کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا “ جاننا چاہئے کہ ماءِ مطلق مطلق ماء سے اخص ہے کیونکہ اس میں اطلاق کی قید ہے ، اس لئے مقید کا اس سے خارج کرنا درست ہے ، اور مطلقِ ماء کے معنی ہیں کوئی بھی پانی ہو تو اس میں مذکور مقید بھی داخل ہوگا ، اور یہاں اس کا ارادہ صحیح نہیں ہے اھ بحر میں مطلق کی تعریف کے بعد ہے “ مطلق اصول میں معترض ذات کو بیان کرتا ہے نہ کہ صفات کو ، نہ نفی سے نہ اثبات سے ، جیسے آسمان ، چشمہ اور دریان کا پانی اھ مقابلالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہاں مراد نہیں ہے لیکن مطلق پانیوں کی اس کی مثال بنانا کلام میں ایہام پیدا کرنا ہے تو احسن وہی ہے جو کافی ، بنایہ اور مجمع الانہر میں ہے ، اِن

عــہ وفی غایۃ البیان المراد ھنامایفھم بمجرداطلاق اسم الماء والافالمیاہ المذکورۃ لیست بمطلقۃ لتقییدھابصفۃ وفی اصطلاح اھل الاصول ھو المتعرض للذات دون الصفۃ اھ اقول :  لاوجود للمطلق فی الاعیان الا فی ضمن للمقید فلاتخصیص للمیاہ والمذکورۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)                                            

اور غایۃ البیان میں ہے کہ مراد یہاں پر وہ ہے جو محض ماء کے نام کے اطلاق سے سمجھا جاتاہے ورنہ مذکورہ پانی مطلق پانی نہیں کیونکہ یہ پانی کسی صفت سے مقید ہیں ، اور اصولیین کے نزدیك مطلق وہ ہے جو صرف ذات کو بتائے نہ کہ صفت کو اھ میں کہتا ہوں مطلق کا وجود اعیان میں نہیں مقید کے ضمن ہی میں ہوتاہے ، تو مذکورہ پانیوں میں تخصیص نہیں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

ومجمع الانھر اذاذکروا المطلق الاصولی ثم قالوا وارید ھھنا مایسبق الی الافہام [4] الخ

سب نے اصولی مطلق کا ذکر کیا ہے ، پھر فرمایا ہے ، یہاں وہی مراد جو ذہنوں کی طرف سبقت کرتا ہے الخ(ت)

دوم مطلق : وہ کہ اپنی تعریف ذات میں دوسری شَے کا محتاج نہ ہو اور مقید وہ کہ جس کی ذات بے ذکر قید نہ پہچانی جائے۔

ذکرہ فی مجمع الانھرعلی جہۃ التمریض فقال ویقال المطلق مالایحتاج فی تعریف ذاتہ الی شیئ اٰخروالمقید مالایتعرف ذاتہ الابالید [5] اھ

اقول :  وھوبظاھرہ افسدمن الاول فان شیااماقط لایحتاج فی تعریف ذاتہ الٰی شیئ اٰخرو لکن المقصودانہ الباقی علی طبیعۃ الماء وصرافۃ المائیۃ لم یداخلہ مایخرجہ عن طبعہ اویجعلہ فی العرف مرکبامع غیرہ فیصیرذاتااخری غیر ذات الماء لایطلق علیہ محض اسم الماء ولاتعرف ذاتہ باطلاقہ واوضح منہ قول الغنیۃ ھومایسمی فی العرف ماء من غیر احتیاج الٰی تقیید فی تعریف ذاتہ [6] اھ وھوماخوذ عن الامام حافظ الدین فی المستصفی کما سیاتی ان شاء ا لله تعالٰی۔

اس کو مجمع الانہر میں ناپسندیدہ قول کے طور پر بیان کیا ہے فرمایااور کہاجاتاہے کہ مطلق وہ ہے جو اپنی ذات کی تعریف میں کسی دوسری چیز کا محتاج نہیں ہوتا ہے اور مقید وہ ہے جس کی ذات قید کے بغیر نہیں جانی جاتی ہے اھ(ت)

میں کہتا ہوں ، یہ بظاہر پہلے سے بھی زیادہ غلط ہے کیونکہ کوئی چیز بھی اپنی ذات کی تعریف میں کسی دوسری چیز کی محتاج نہیں ہوتی ہے ، لیکن مقصود یہ ہے کہ وہی پانی کی طبیعت پرباقی ہے ، اور پانی کی طبیعت میں کوئی ایسی چیز داخل نہیں ہوئی جو اس کو اس کی طبیعت سے خارج کردے یا عرف میں اس کے غیر کے ساتھ مرکب کردے تو وہ پانی کے علاوہ دوسری چیز بن جائے جس پر محض پانی کے نام کا اطلاق نہ ہو ، اور اس کے اطلاق سے اس کی ذات نہ پہچانی جائے اور اس سے زیادہ واضح غنیہ کی عبارت ہے کہ وہ ، وہ ہے جو عرف میں پانی کہلاتا ہے ، اس کی ذات کی تعریف میں کسی تقیید کی حاجت نہ ہو اھ یہ تعریف امام حافظ الدین نے مستصفیٰ میں کی ہے ، جیسا آئیگا اِن شاء  الله تعالٰی۔ (ت)

سوم : مطلق وہ کہ اپنی پیدائشی اوصاف پر باقی ہو ، خزانۃ المفتین میں شرح طحاوی سے ہے :

ھو الباقی علی اوصاف خلقتہ[7] اقول :  ان ارید(۱)بالاوصاف الاوصاف الثلثۃ خاصۃ اومع الرقۃ والسیلان انتقض بمنقوع الحمص والباقلا وماخلط بصابون واشنان ولو طبخ بھما اوبسدرمادام باقیاعلی رقتہ وکذاماالقی فیہ تمیرات فحلاولم یصر نبیذ التغیر اوصافھاکلا اوبعضامع جوازالوضوء بھااتفاقا(۲)وکذا

بماخلط بمائع موافق فی الاوصاف اکثر منہ اومساویا مع امتناع الوضوء بہ وفاقا فانتقض طرادوعکساوان ارید الاعم اتسع الخرق فانتقض بنحو الحمیم ایضا۔                                                                                                                                                                                                                                                                                

یہ وہ ہے جو اپنے پیدائشی اوصاف پر باقی ہے ، میں کہتا ہوں اگر اوصاف سے محض اوصاف ثلثۃ مراد ہیں ، یامع رقت وسیلان کے ، تو اس پر چنوں اور باقلٰی کے پانی سے اعتراض ہے ، اور اس پانی سے اعتراض ہے جس میں صابون اور اُشنان ملایا گیا ہو ، اگرچہ ان دونوں کے ساتھ پکایا گیا ہو ، یا جھربیری کے ساتھ پکایا گیا ہو جب تك اس میں رقّت باقی ہو ، اور اسی طرح وہ پانی جس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں اور میٹھا ہوگیاہواور نبیذ نہ بناہو کیونکہ اس کے اوصاف میں کُلی یا جزوی تغیر پیدا ہوگیا ہے حالانکہ اس کے ساتھ وضو اتفاقًا جائز ہے اور اسی طرح وہ پانی جو کسی مائع(سیال)سے مل گیاہو جو پانی کے اکثر اوصاف میں اس کے مشابہ ہو یا مساوی ہو حالانکہ اس سے وضو اتفاقًا ناجائز ہے یہ طرداوعکسًا منتقض ہوگیا ، اور اگر عام کا ارادہ کیا ہو تو نقض وسیع ہوجائیگا تو گرم پانی کی مثل سے بھی نقض وارد ہوگا۔ (ت)

 



[1]              العنایۃ مع فتح القدیر باب الما الذی یجوزبہ الوضو مالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۰

[2]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۲

[3]   بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶

[4]   مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مطبعہ عامرہ مصر ۱ / ۲۷

[5]   مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مطبعہ عامرہ مصر ۱ / ۲۷

[6]   غنیۃ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۸

[7]   طحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ بیروت  ۱ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن