دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے سنا ، پھر پوری حدیث ذکر کی ، یہ ضعیف ہے ، میں نہیں جانتا کہ اس کو اعمش سے یحیی بن ہاشم کے غیر نے روایت کیا ، اور وہ متروک الحدیث ہے ، اور اس کو ابن عدی نے وضاع قرار دیا اھ ابن معین اور صالح نے اس کی تکذیب کی اور نسائی نے اس کو متروک کہا اور یہی علّت محقق نے فتح میں بیان کی ، یہ اُس موقعہ پر ہے جہاں انہوں نے وضو میں بسم اللہ کے وجوب کا ذکر کیا بیہقی کی متابعت میں۔ ت)میں کہتا ہوں اس حدیث کے بعض طرق ایسے ہیں جو اس کی کمزوری کو رفع کرتے ہیں ، دار قطنی اور بیہقی نے بھی اس کو ابن عمر سے روایت کیا ، اور انہی دونوں نے اور ابو الشیخ نے ابو ھریرہ سے روایت

علیہ وسلم من توضأ وذکر اسم الله علی وضوئہ تطھر جسدہ کلہ ومن توضأ ولم یذکر اسم الله علی وضوئہ لم یتطھر الاموضع الوضوء [1] ورواہ عبدالرزاق فی مصنّفہ عن الحسن الضبی الکوفی مرسلا ینمیہ الی النبی صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم من ذکر الله عندالوضوء طھر جسدہ کلہ فان لم یذکر اسم الله لم یطھر منہ الامااصاب الماء [2] واخرج ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن ابی بکر الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ انہ قال اذا توضأ العبد فذکر اسم الله تعالٰی  طھر جسدہ کلہ وان لم یذکر لم یطھر الاما اصابہ بہ الماء [3] وروی سعید بن منصور فی سننہ عن مکحول قال اذا تطھر الرجل وذکراسم الله طھر جسدہ کلہ واذالم یذکر اسم الله حین یتوضأ لم یطھر منہ الامکان الوضوء [4] ومع ھذہ الطرق یستحیل الحکم بالسقوط بل ربما یرتقی عن الضعف لاجرم ان صرح      فی المرقاۃ لحدیث الدار قطنی ان سندہ حسن وثانیا نقل العلامۃ الزیلعی المحدث جمال الدین عبدالله تلمیذ الامام

کیا ، ان کے لفظ یہ ہیں کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جس نے بسم اللہ کرکے وضو کیا تو اس کا سارا جسم پاک ہوگا اور جس نے وضو کے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو صرف وضو کی جگہ ہی پاک ہوگی اس کو عبدالرزاق نے اپنی مصنَّف میں حسن الضبی کوفی سے مرسلاً روایت کیا ، اور وہ اس کو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی طرف منسوب کرتے ہیں ، فرماتے ہیں جس نے وضو کے وقت اللہ کا ذکر کیا اس کا تمام جسم پاک ہوجائے گا اور اگر اللہ کا ذکر نہ کیا تو صرف وہی حصہ پاک ہوگا جس پر پانی گزرا ہوگا ، اور ابو بکر سے ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنَّف میں روایت کی کہ بندہ جب وضو کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور اگر اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو صرف وہی حصہ پاک ہوتا ہے جس  پر پانی پہنچا ہو ۔ سعید بن منصور نے اپنی سنن میں مکحول سے روایت کی کہ جب کوئی شخص پاکی حاصل کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور جب بوقت وضو اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو صرف وضو کی جگہ پاک ہوتی ہے ، بلکہ ان سے حدیث مرتبہ ضعف سے بلالند ہوجاتی ہے

الزیلعی الفقیہ فخرالدین عثمٰن شارح الکنز فی نصب الرایۃ تحت حدیث لاوضوء لمن لم یسم الله تعالٰی  عن الامام ابن الجوزی ابی الفرج الحنبلی انہ قال محتجا علینا فی ایجابھم التسمیۃ للوضوء ان المحدث(ای بالحدث الاصغر اذفیہ الکلام و(۱)یکون ھو المراد عند الاطلاق کما فی الحلیۃ)(۲)لایجوز لہ مس المصحف بصدرہ [5] اھ واقرہ علیہ۔

قلت :  ویؤیدہ مافی الفتح ثم البحر وحاشیۃ الشلبی علی التبیین(۳)قال لی بعض الاخوان ھل یجوز مس المصحف بمندیل ھولا بسہ علی عنقہ قلت لااعلم فیہ منقولا والذی یظھر انہ ان کان بطرفہ وھو یتحرك بحرکۃ ینبغی ان لایجوز وان کان لایتحرك بحرکتہ ینبغی ان یجوز لاعتبارھم ایاہ فی الاول تابعا لہ کبدنہ دون الثانی [6] اھ فان المراد المحدث بالحدث الاصغر اذ قد نقل قبلہ باسطرعن الفتاوی لایجوز للجنب والحائض ان یمسا المصحف بکمھا اوببعض ثیابھما لان الثیاب بمنزلۃ بدنھما[7] اھ فقولہ

ان تمام طُرُق کی موجودگی میں سقوط کا قول کرنا محال ہے ب اور مرقاۃ میں دارقطنی کی روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ ثانیا علامہ زیلعی محدّث جمال الدین عبداللہ شاگرد امام زیلعی فقیہ فخرالدین عثمان شارح کنز نصب الرایہ میں “ لاوضوء لمن لم یسم الله (اس کا وضو نہیں جو اللہ کا نام نہ لے)کی حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ امام ابن جوزی ابو الفرج الحنبلی نے ہم پر حجت قائم کرنے کیلئے وہ بسم اللہ کو وضو میں واجب قرار دیتے ہیں فرمایا کہ مُحدِث(جس کو حدثِ اصغر لاحق ہوا کیونکہ کلام اُسی میں ہے اور عندالاطلاق وہی مراد ہوتاہے ، کما فی الحلیہ)اس کو مصحف کا چھونا اپنے سینہ سے جائز نہیں اھ اور اس کو انہوں نے برقرار رکھا۔ ت)میں کہتا ہوں اس کی تائید فتح میں ، پھر بحر میں اور تبیین پر شبلی کے حاشیہ میں ہے مجھ سے بعض دوستوں نے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص گلے میں رومال ڈالے ہو تو وہ اس رومال سے مصحف کو چھو سکتا ہے؟ میں نے کہا میں اس سلسلہ میں کوئی نقل تو نہیں پاتا ہوں لیکن اگر صورت یہ ہو کہ اس کے ایک کنارے سے مصحف کو پکڑے اور اس کے حرکت دینے سے دوسرا کنارہ حرکت کرے تو جائز نہ ہونا چاہئے اور اگر حرکت نہ کرے تو مس کرنا جائز ہونا چاہئے ، کیونکہ پہلی صورت میں وہ اس کو اس کا تابع قرار دیتے ہیں جیسا کہ اس کا بدن ہے دوسری صورت میں تابع نہیں کہتے اھ کیونکہ محدث سے مراد حدث اصغر والا شخص ہے ، کیونکہ اس سے

بعض ثیابھما کان یشمل مندیلا ھولابسہ فلم یقول لااعلم فیہ المنقول افینسی مانقلہ اٰنفا وھو بمرأی منہ۔

اقول : (۱) لکنی رایت فی التبیین قال بعد قولہ منع الحدث مس القران ومنع من القرأۃ والمس الجنابۃ والنفاس کالحیض مانصہ ولا یجوز لھم مس المصحف بالثیاب التی یلبسونھا لانھا بمنزلۃ البدن ولھذا لوحلف لایجلس علی الارض فجلس علیھا وثیابہ حائلۃ بینہ وبینھا وھو لابسھا یحنث (۲)ولو قام فی الصلاۃ علی النجاسۃ وفی رجلیہ نعلان اوجوربان لاتصح صلاتہ بخلاف المنفصل عنہ [8] اھ فھذا ظاھر فی رجوع الضمیر الی المحدث ومن معہ جمیعا فھذا النقل ولله الحمد وبالجملۃ المقصود انہ اذا منع مسہ بما علی عنقہ وصدرہ فکیف بھما فدل علی حلول الحدث جمیع البدن ثم رأیت المسألۃ منصوصا علیھا فی الھندیۃ عن الزاھدی حیث قال اختلفوا فی مس المصحف بما عدا اعضاء الطھارۃ وبما غسل من الاعضاء قبل اکمال الوضوء  والمنع اصح  اھ [9]      

کچھ ہی پہلے فتاوٰی سے منقول ہوا کہ جنب اور حائض کو جائز نہیں کہ وہ دونوں مصحف کو اپنی آستین سے یا کپڑے کے کسی حصّہ سے چھوئیں کیونکہ کپڑے منزلہ ان کے بدن کے ہیں اھ تو “ بعض کپڑوں “ میں وہ رومال بھی آجاتا ہے جس کو وہ پہنے ہوئے ہو تو پھر وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں اس میں کوئی نقل نہیں جانتا کیا وہ دیکھتے بھالتے اُس نقل کو بھول گئے جو خود ہی انہوں نے پیش کی ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں میں نے تبیین میں دیکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں حدث کی وجہ سے قرآن کو ہاتھ لگانا منع کیا ہے ، اور جنابت اور نفاس نے حیض کی طرح ، پڑھنے اور ہاتھ لگانے دونوں کو منع کیا ہے ، ان کی عبارت یہ ہے کہ اُن کیلئے اُن کپڑوں کے ساتھ جو وہ پہنے ہوئے ہیں قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں کیونکہ وہ کپڑے بمنزلہ بدن کے ہیں ، اور اس لئے اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ زمین پر نہیں بیٹھے گا اب وہ اس طرح بیٹھا کہ اس کے اور زمین کے درمیان پہنے ہوئے کپڑے حائل ہوں تو وہ قسم میں حانث ہوجائے گا اور اگر کوئی شخص بحالتِ نماز نجاست پر کھڑا ہوا اور اس کے دونوں پیروں میں جوتے یا جرابیں ہیں تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی ، اگر یہ چیزیں جُدا ہیں تو ہو جائے گی اھ تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضمیر مُحدِث کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی طرف بھی جو مُحدِث کے ساتھ ہو ، یہ صریح نقل ہے والحمدلله ، اور خلاصہ یہ کہ جب قرآن کو اس کپڑے کے ساتھ چُھونا جائز نہیں جو اس کی گردن اور سینے پر ہے تو خود گردن اور سینے سے مس کرنا کیسے جائز ہوگا! پس معلوم ہوا

وثالثا :  تقرر(۱)عند العرفاء ان لا حدث صغیر اولا کبیرا الا ماتولد من اکل حتی القھقھۃ فی الصّلاۃ فان تلك الغفلۃ الشدیدۃ فی عین الحضرۃ لاتکون الا من شبع ای شبع اذ الجائع ربما لایکشر لہ سن فضلا عن القھقھۃ خلفۃ عن کونہا فی الصلاۃ ولا شك  ان نفع الاکل یعم البدن وکذا نفع الخارج والراحۃ الحاصلۃ بہ فدخول الطعام یولد الغفلۃ وخروج المؤذی یحققہا وبالغفلۃ موت القلب والقلب رئیس فانہ المضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ والماء ینعش ویذھب الغفلۃ کما ھو مشاھد فی المغشی علیہ۔

 



[1]   سنن الکبریٰ للبیہقی باب التسمیۃ علی الوضوء  مطبع بیروت  ۱ / ۴۵

[2]   کنزالعمال آداب الوضوء مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۹۴

[3]   مصنّف ابن ابی شیبۃ فی التسمیۃ فی الوضوء  ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳

[4]   کنزالعمال  آداب الوضوء موسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۴۵۷

[5]   نصب الرایۃ کتاب الطہارۃ اسلامیہ ریاض ۱ / ۷

[6]          بحرالرائق  باب الحیض سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۱

[7]   شلبی علی التبیین باب الحیض بولاق مصر ۱ / ۵۸

[8]   تبیین الحقائق باب الحیض بولاق مصر ۱ / ۵۷

[9]             فتاوی ہندیۃ باب فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضہ نورانی کتب خانہ پشاور  ۱ / ۳۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن