30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرکہ کے وصفوں میں سے دو کے ظہور سے غلبہ پایا جائیگا کیونکہ اس کے تین اوصاف ہیں مزہ ، رنگ اور بُو ، کوئی سے دو وصف ان میں سے غالب ہوجائیں تو اس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے اور اگر ایك وصف متغیر ہوتا ہے تو کم ہونے کی وجہ سے مضر نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فالغلبۃ بتغیر اکثرھا وھو الوصفان فلا یضر ظھوروصف واحد فی الماء من اوصاف الخل [1] اج
اقول : وقدکان ملك العلماء قدس سرہ احال الامراولا علی زوال الاسم تو اعتبار اکثریت کے تغیر کا ہے اور یہ دو وصف ہیں تو سرکہ کے صرف ایك وصف کا پانی میں ظاہر ہونا کچھ مضر نہ ہوگا۔ (ت)
میں کہتاہوں ملك العلماء نے پہلے تو مدار نام کے زائل ہونے پر رکھا تھا ، اور یہی صحیح بھی تھا ، وہ فرماتے ہیں
وھی الجادۃ الواضحۃ حیث قال الماء المطلق اذا خالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلك علی وجہ زال عنہ اسم الماء بان صار مغلوبا بہ فھو بمعنی الماء المقید [2] اھ لکن ثم عاد عــہ الی اعتبار اللون فی مثلہ فقال متصلا بہ ثم ینظر ان کان یخالف لونہ لون الماء یعتبر الغلبۃ فی اللون [3]۔
مطلق پانی میں جب کوئی سیال شَے مل جائے جیسے دودھ ، سرکہ ، منقی کاپانی وغیرہ ، اور اس سے پانی کا نام زائل ہوجائے کہ پانی مغلوب ہو تو اب یہ پانی مقید ہے اھ لیکن پھر وہ اس جیسی صورت میں رنگ کے اعتبار کا ذکر کرتے ہیں چنانچہ اسی کے متصل فرماتے ہیں ، پھر دیکھا جائیگا کہ اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہے تو رنگ میں غلبہ معتبر ہوگا۔
(۳۰۵)جس سرکہ کا مزہ رنگ وبُو سے اقوی ہو جب اس کے مزہ وبُوپانی پر غالب آئیں اور رنگ نہ بدلے بحکم مذکور ائمہ قابلِ وضو ہے اور ضابطہ مخالف۔
(۳۰۶)جس سرکہ کا رنگ غالب تر ہو جب اُس سے صرف رنگ بدلے تو اس کا عکس ہے یعنی بحکم ائمہ اُس سے وضو ناجائز اور ضابطہ مقتضی جواز۔
(۳۰۷)دُودھ سے جب پانی کا صرف رنگ بدلے بحکم ائمہ مذکورین قابلِ وضو نہیں اور عجب کہ امام زیلعی نے بھی اُن کی موافقت کی حالانکہ اُن کا ضابطہ مقتضی جواز ہے لانہ ذوالثلٰثۃ ولونہ اقوی فلایکفی وصف واحد(کیونکہ یہ تین وصفوں والا ہے اور اس کے اوصاف میں رنگ قوی تر ہے تو ایك وصف پر اکتفاء نہ کیا جائیگا۔ ت)ہاں امام ابن الہام ودُر وقدوری وہدایہ وعنایہ وعمدۃ القاری جانب جواز ہیں کما تقدم کل ذلك ۱۳۴ وا لله تعالٰی اعلم(اس کی پُوری بحث ۱۳۴ میں گزر چکی ہے و الله تعالٰی اعلم۔ ت)
تکمیل جزئیات نامحصور ہیں بہتی ہوئی چیز کہ پانی سے کسی وصف میں مخالف ہے اس کے بارے میں اس اختلاف واتفاق کا ضابطہ ملاحظہ چند امور سے واضح :
(۱)اگر کوئی وصف نہ بدلے پانی بالاجماع قابلِ وضو ہے۔
عــــہ : سیاتی بحمدا لله تعالٰی تحقیق السر فی ذلك فی سادس ضوابط الفصل الثالث ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اس کی حکمت تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں آئے گی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
(۲)مخالفت اگر صرف رنگ یا مزہ میں ہے اور وہ بدل جائے بالاتفاق قابلِ وضو نہیں۔
تنبیہ : بدلنے سے کیا مراد ہے اس کی تحقیق اِن شاء الله العزیز فصل سوم میں آئے گی۔
(۳)اگر دو وصف میں مخالفت ہے اور دونوں بدل جائیں بالاتفاق عدمِ جواز ہے۔
(۴)اگر صرف رنگ ومزہ یا رنگ وبُو میں تخالف ہے اور رنگ بدلے توبالاتفاق ناقابل ہے اور دوسرا بدلے تو بحکم منقول جوازاور بروئے ضابطہ ناجائز۔
(۵)اگر صرف مزہ وبُو میں اختلاف ہے اور مزہ بدلے تو بالاتفاق اور بُو بدلے تو صرف بروئے ضابطہ عدم جواز ہے منقول جواز۔
(۶)اگر تینوں وصف مختلف ہیں اور سب بدل جائیں بالاتفاق ناجائز۔
(۷)اگر اس صورت میں صرف مزہ یا بُو بدلے بالاتفاق جواز ہے اور فقط رنگ بدلے تو بحکم منقول ناجائز اور حکم ضابطہ جواز۔
(۸)اسی صورت میں اگر رنگ ومزہ یا رنگ وبُو بدلیں بالاتفاق ناجائز اور مزہ وبُو بدلیں تو ضابطہ پر ناجائز اور منقول جواز۔
(۹)تخالف وتبدل دونوں کی جمیع صور کااحاطہ توان آٹھ میں ہوگیا ، رہا یہ کہ تبدل کی کون سی صورت کہاں ممکن ہے اُس کا بیان یہ کہ جو ایك ہی وصف میں مخالف ہے ظاہر ہے کہ وہ تو اُسی کو بدل سکتا ہے اور اگر دو میں تخالف ہے تو تین صورتیں ہیں اوّل اقوی ہوگا یادوم یا دونوں مساوی ، یعنی بدلیں تو دونوں ایك ہی ساتھ بدلیں اُن میں آگا پیچھا نہیں اگر ایك قوی ہے تو ایك کے تغیر میں اُسی کا تغیر ہوگا صرف دوسرے کو متغیر فرض نہیں کرسکتے ہاں دونوں کا بدلنا تینوں صورتوں میں ہوسکتا ہے۔
(۱۰)اگر تینوں وصف مختلف ہیں تو اس میں سات احتمال ہیں : اوّل اقوی ہو یادوم یاسوم یااول ودوم یا اول وسوم یادوم وسوم یاسب مساوی جن میں ایك اقوی ہو تنہا ایك کے تبدل میں وہی مفروض ہوسکتا ہے اور دو کے تبدل میں ایك وہ ہونا ضرور۔ اُس کے بغیر باقی دونوں کا تنہا یا معًا تغیر فرض نہیں کرسکتے اور دو اقوی ہیں تو اُسی میں نہ ایك کا تبدل ہوسکتا ہے نہ ایسے دو کا جن میں ایك وہ تیسرا ہو ، ہاں تینوں بدل سکتے ہیں اورجہاں تینوں مساوی ہیں وہاں یہی صورت فرض ہوسکتی ہے کہ سب بدل جائیں یا کوئی نہ بدلے وا لله تعالٰی اعلم وصلی ا لله تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد الکریم الاکرم وعلٰی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم آمین والحمد لله رب العٰلمین۔
فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
یہاں عبارات علما مختلف آئیں ،
اما لفظا اومعنی ایضا فمنھا صحیح وخلافہ و الصحیح منھا حسن واحسن فنذکرھا ومالھا وعلیھا لیتبین المنتجب من المجتنب ، فیراعی معیارا فی کل مطلب ، وا لله الموفق ماغیرہ رب۔
یا تو لفظًا یا معنیً بھی ، ان میں سے کچھ صحیح ہیں اور کچھ اس کے برخلاف صحیح میں سے کچھ حسن اور کچھ احسن ہیں ، تو اب ہم انہیں اور ان پر جو ابحاث ہیں انہیں ذکر کرتے ہیں تاکہ صحیح اور غلط ظاہر ہوتا کہ ہر بحث میں معیار کی رعایت کی جاسکے(ت)
اوّل مطلق وہ کہ شے کی نفس ذات پر دلالت کرے کسی صفت سے غرض نہ رکھ نہ نفیا نہ اثباتًا قالہ فی الکفایۃ(یہ تعریف کفایہ میں ہے۔ ت)اور مقید وہ کہ ذات کے ساتھ کسی صفت پر بھی دال ہو ، عنایہ میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع