دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

فان قلت من این قولك انکان رقیقا قلت لاطلاقھم ویقطع الوھم انھم صرحوا ان نبیذ التمر المختلف فی جواز الوضوء بہ ماکان رقیقا اما الغلیظ فلا ثم قالوا ولایجوز بما سواہ من الانبذۃ لان نبیذ التمرخص بالاثر فوضح قطعا ان المراد نفی التوضی بالرقیق منھا اما الغلیظ فمعلوم الانتفاء ولا تخالف فیہ بین نبیذ التمر وسائر الانبذۃ۔       

اگر یہ سوال ہو کہ وان کان رقیقا تم نے کہاں سے لیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فقہاءء کے اطلاقات سے مفہوم ہے ، اور وہم اس طرح دُور ہوجاتا ہے کہ فقہاءء نے تصریح کی ہے کہ وہ نبیذ جس سے وضو کے ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے رقیق ہے اور گاڑھے میں کوئی اختلاف نہیں ، پھر فرمایا اس نبیذ کے علاوہ باقی نبیذوں سے جائز نہیں کیونکہ نبیذ تمر نص سے مخصوص ہے ، اس سے قطعی طور پر واضح ہوا کہ رقیق نبیذ سے وضو کی نفی مراد ہے کیونکہ گاڑھے میں تو اختلاف پہلے ہی نہیں تھا تو گاڑھے نبیذ میں نبیذ تمر اور باقی نبیذیں برابر ہیں۔ (ت)

بالجملہ نبیذتمر سے مطلقًا  وضو صحیح نہ ہونا مذہب صحیح معتمد مفتٰی بہ ہے اور باقی نبیذوں سے نہ ہونے پر تو اجماع ہے مگر ضابطہ زیلعیہ کا اقتضا یہ ہے کہ جب تك رقت باقی ہے صحیح ہو لیکن یہ  ہرگز صحیح نہیں کہ اسے نبیذ کہیں گے نہ کہ پانی تو نام آب باقی نہ رہنے کے سبب آب مطلق نہ رہا اور وضو آبِ مطلق ہی سے جائز ہے وبس۔

وبیان ذلك انھا من الجامدات اوضابطۃ التقیید عندہ فی الجامد زوال الرقۃ فحسب قال رحمہ ا لله تعالی المخالط انکان جامدا فمادام یجری علی الاعضاء فالماء ھو الغالب [1] اھ وتبعہ فی الحلیۃ والدرر فاقتصرا علی ذکر الجریان۔

اقول : (۱)وکان البعد فیہ اکثر لان الجریان علی الاعضاء ھو السیلان والرقۃ اخص منہ کما سیاتی فکان یقتضی جواز الوضوء                    

اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ جامدات سے ہے اور ان کے نزدیك جامد میں تقیید کا ضابطہ یہ ہے کہ رقّت زائل ہوجائے ، انہوں نے فرمایا اگر ملنے والی چیز جامد ہو تو جب تك وہ اعضاء پر بہہ سکے تو پانی ہی غالب ہوگا اھ اور حلیہ اور درر میں اس کی متابعت کی اور دونوں نے جاری ہونے کے ذکر پر اکتفاءکیا۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس میں بعُد زائد تھا کہ جاری ہونا اعضاء پر سیلان ہے اور رقّت سیلان سے اخص ہے کما سیاتی تو اس کا مفہوم یہ نکلا کہ اگرچہ

وان زالت الرقۃ مع بقاء السیلان لکن الامام الزیلعی وبالنقل عنہ الحلبی تدارکاہ بقولھما بعدہ فیحمل قول من قال ان کان رقیقا یجوز الوضوء بہ والا فلا علی مااذا کان المخالط لہ جامدا [2] اھ ویقرب منہ قول المحقق فی الفتح والبحر فی البحر وغیرھما فان کان جامدا فبانتفاء رقۃ الماء وجریانہ علی الاعضاء [3] اھ

 فجمعوا بینھما فابتنی الحکم علی انتفائھما معا وعاد المحذور الا ان یقال ان الواو بمعنی اووحینئذ یکون ذکر الجریان والسیلان بعد الرقۃ مستدرکا غیر انہ قد شاع وذاع والخطب سھل فالاحسن عبارۃ الغنیۃ المعتبر فی صیرورۃ الماء مقیدا بمخالطۃ الجامد زوال رقتۃ [4] اھ والبحر من بعد اذقال فان کان المخالط جامدا فغلبۃ الاجزاء فیہ بثخونتہ [5] اھ

وانت تعلم ان المدار الباب علی زوال الاسم کما اعترف بہ الامام الضابط بقولہ زوال اسم الماء عنہ ھو المعتبر فی الباب اھ وبخلط الجامد ربما یزول رقّت زائل ہوجائے اور سیلان باقی رہے تووضوجائز ہے ، مگر امام زیلعی اور ان کی متابعت میں حلبی نے اس شبہ کا تدارك کرتے ہوئے فرمایا ، تو جن حضرات نے فرمایا کہ اس سےوضوجائز ہے اگر رقیق ہو ورنہ نہیں اس کو اس صورت پر محمول کیا جائیگا کہ جب اس میں ملنے والی چیز جامد ہو اھ اور اسی کے قریب قریب محقق کا قول فتح میں اور صاحب بحر کا بحر وغیرہما میں ہے کہ اگر وہ شیئ جامد ہے تو وضو اس وقت جائز نہ ہوگا جب پانی کی رقّت ختم ہوجائے اور وہ اعضاء پر جاری نہ ہوسکے اھ تو فقہاء نے دونوں باتوں کو جمع کردیا اور حکم دونوں کے معًا انتفاء پر ہوا ، اور جو محذور تھا وہ لوٹ آیا ، ہاں ایك صورت یہ ہے کہ واؤ بمعنی اَو ہو اور اس صورت میں جریان اور سیلان کا ذکر رقۃ کے بعد اضافی ہوگا ، لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے تو غنیہ کی عبارت بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی جامد چیز کے ملنے سے پانی کے مقید ہونے میں معتبر اس کی رقت کا زائل ہونا ہے اھ اور بحر نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر ملنے والی چیز جامد ہو تو اس میں اجزاء کے غلبے کا پتا اس کے گاڑھا پڑ جانے سے ہوگا اھ(ت)

آپ کو معلوم ہے کہ اس سلسلہ میں مدار نام کے زائل ہونے پر ہے جیسا کہ امام نے اعتراف کیا ہے انہوں نے ضابطہ یہ بیان کیا کہ اس بات میں نام کا زائل ہونا ہی بہتر ہے اھ اور جب کوئی جامد شیئ پانی میں ملتی ہے

الاسم قبل زوال الرقۃ کماء الزعفران الصالح للصبغ والنبیذ وقد صرحوا ان الاختلاف انما کان فی نبیذ التمر الرقیق قال فی الھدایۃ النبیذ المختلف فیہ ان یکون حلوا رقیقا یسیل علی الاعضاء کالماء [6] اھ زاد فی الکافی فان کان غلیظا کالدبس لم یجز الوضوء بہ [7] اھ۔ وفی البدائع وان کان غلیظا کالرب لایجوزالتوضوء بہ بلاخلاف وکذاان کان رقیقا لکنہ غلا و اشتدوقذف بالزبد لانہ صارمسکراو المسکرحرام فلایجوزالتوضوء بہ ولان النبیذ الذی توضأبہ رسول ا لله صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم کان رقیقاحلوافلا یلحق بہ الغلیظ المر[8] وھکذا فی الحلیۃ والغنیۃ والبحر والدروعامۃ الکتب عــہ  بل فی العنایۃ النبیذ                                 

تو رقۃ کے زائل ہونے سے قبل ہی نام زائل ہوجاتاہے ، جیسے زعفران کا پانی جس سے کوئی چیز رنگی جاسکتی ہو ، اور نبیذ ، اورفقہاءء نے تصریح کی ہے کہ اختلاف رقیق نبیذ میں ہے۔ ہدایہ میں ہے اختلاف اس میں ہے کہ نبیذ میٹھااورپتلاہو اور اعضاء پر پانی کی طرح بہتا ہو اھ کافی میں یہ اضافہ کیا کہ اگر وہ شیرہ کی طرح گاڑھا ہو تو اس سے وضو جائز نہیں اھ

اور بدائع میں ہے کہ اگر نبیذ شیرہ کی طرح گاڑھاہو تو بلااختلاف اس سے وضو جائز نہیں ہے اوراسی طرح اگر رقیق ہے مگر اس میں اتنا جوش آگیا ہو کہ جھاگ دے گیاہوکیونکہ اب یہ مُسکرہوگیا اور مسکر حرام ہے لہٰذا اس سےوضوجائز نہیں ، نیز یہ کہ جس نبیذسے رسول  اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وضو فرمایاتھاوہ رقیق اور میٹھا تھا لہٰذا کڑوا اور گاڑھا نبیذ اس کے حکم میں نہیں

 

عـــــہ :   فی مسکین علی الکنزالنبیذالمختلف فیہ ان یکون حلوارقیقا یسیل علی الاعضاء کالماء اھ قال السید ابو السعود ای والغلبۃ للماء لیوافق ماتقدم عن خزانۃ الاکمل فان لم یحل فلا خلاف فی جواز الوضوء بہ نھر اھ اقول(۱)سبحٰن ا لله اذا کان الغلبۃ للماء     

مسکین علی الکنزمیں ہے کہ وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے رقیق اور میٹھاہے جو پانی کی طرح اعضاء پر بہتا ہو اھ ابو السعودنے فرمایا یعنی غلبہ پانی کاہو تاکہ خزانہ اکمل سے جو منقول ہوااس کے موافق ہوجائے ، کیونکہ اگر میٹھا نہ ہو تو اس سےوضوکے جواز میں کوئی خلاف نہیں ، نہر اھ میں کہتا ہوں سبحان  الله جب پانی کاغلب (باقی بر صفحہ آیندہ)

المختلف فیہ ذکرمحمد فی النوادرھوان تلقی تمیرات فی ماء حتی صارالماء حلوارقیقا  اھ [9]۔

 



[1]                تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۲۰

[2]   تبین الحقائق  کتاب الطھارۃ  مطبعۃالامیریہ مصر ۱ / ۲۰

[3]   بحر الرئق کتاب الطھارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹

[4]   غنیۃ المستملی فصل فی احکام المیاہ  سہیل اکیڈمی لاہور  ص۹۱

[5]   بحر الرئق کتاب الطھارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹

[6]   ہدایۃ  الماء الذی یجوزبہ الوضوء مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۲ 

[7]                 کافی

[8]   بدائع الصنائع مطلب الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷

[9]               عنایۃ مع الفتح مطلب الماء المقید نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن