30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو میں کہتا ہوں اس کے مزے کا عمل تیز تر ہوتا ہے تو جب تك مزہ نہ بدلے بُو نہیں بدل سکتی ہے۔ (ت)
(۲۸۱)سپید انگور کا سرکہ ملنے سے اگر پانی کا مزہ بدل گیا سرکہ کا مزہ اس پر غالب ہوگیا۔ لمامرو یتأتی فیہ الخلاف کما یاتی(اس کا حکم گزرا اور اس میں اختلاف آتا ہے۔ ت)
(۲۸۲)رنگت دار سرکہ جب پانی میں مل کر رنگ اور بُو(اس لئے کہ عام سرکوں کی بُو قوی تر ہوتی ہے ۱۲ منہ)دونوں بدل دے۔
لحصول اللون علی المنقول ووصفین علی الضابطۃ۔
منقول کے مطابق رنگ والا ہے اور ضابطہ کے مطابق دو وصفوں والا ہے۔ (ت)
(۲۸۳)ایسے سرکہ کا مزہ اقوی ہو تو جب اُس سے مزہ کے ساتھ رنگت بھی بدل جائے۔
(۲۸۴)جس سرکہ کا رنگ قوی ترہو جب رنگ کے ساتھ ایك وصف اور بدل دے والوجہ قد علم(اس کی وجہ معلوم ہے۔ ت)
(۲۸۵)دودھ جب اس کا رنگ اور مزہ دونوں پانی پر غالب آجائیں۔
لان العبرۃ فی المنقول باللون وعند الزیلعی وکثیر من اتباعہ باحد وصفین اللون
اس لئے کہ اعتبار منقول میں رنگ ہی کاہے اور زیلعی کے نزدیك(نیز ان کے اکثر متبعین کے نزدیک)
والطعم وعند المحقق علی الاطلاق وصاحب الدرر بھما معا فاذا تغیراحصل الوفاق علی سلب الاطلاق۔
دو اوصاف میں سے ایك کا اعتبار ہے(یعنی رنگ یا مزہ) ، اور محقق علی الاطلاق اور صاحبِ درر کے نزدیك دونوں کا ایك ساتھ اعتبار ہے ، اب جبکہ دونوں وصف ہی بدل جائیں تو پانی کا اطلاق نہ ہونے پر اتفاق ہوجائے گا۔ (ت)
یہ ایك عــہ۱ سوبائیس وہ ہیں جن سے وضو بالاتفاق عــہ۲ ناجائز ہے یعنی نہ ہوسکتا ہے نہ اُس سے نماز جائز ہو و الله تعالٰی اعلم وصلی الله تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد وآلہٖ وصحبہ وبارك وسلم۔
قسم سوم جن سے صحتِ وضو میں حکم منقول ومقتضائے ضابطہ امام زیلعی کاخلاف ہے صنف اول خشك اشیا
(۲۸۶ ، ۲۸۷)چھوہارے کے سوا کشمش انجیر وغیرہ کوئی میوہ بالاجماع الاماعن الامام الاوزاعی ان ثبت عنہ(مگر وہ جو امام اوزاعی سے مروی ہے اگر ان سے ثابت ہو۔ ت)اور مذہب صحیح معتمد مفتی بہ مرجوع الیہ میں چھوہارے بھی جبکہ تادیر تر کرنے سے پانی میں اُس میوہ کی کیفیت اس قدر آجائے کہ اب اُسے پانی نہ کہیں نبیذ کہیں اس سے وضو نہیں ہوسکتااگرچہ رقیق ہو ، بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
قیاس ماذکرنا انہ لایجوز الوضوء بنبیذ التمرلتغیرطعم الماء وصیرورتہ مغلوبابطعم التمرو بالقیاس اخذابویوسف وقال لایجوز التوضوء بہ الا ان ابا حنیفۃ رضی ا لله تعالٰی عنہ ترك القیاس بالنص فجوزالتوضوء بہ وروی نوح فی الجامع المروزی عن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالٰی عنہ انہ رجع عن ذلك وقال لایتوضوء بہ
جن چیزوں سے ہم نےوضوکے جائز نہ ہونے کاقول کیاہے وہ نبیذ تمر پر قیاس کی گئی ہیں ، کیونکہ پانی کا مزہ بدل گیا ہے اور وہ کھجور کے مزہ سے مغلوب ہوگیا ہے قیاس پر ابویوسف نے عمل کیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ اُس سےوضو جائز نہیں ، اور امام ابو حنیفہ نے نص کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیااور اُس سےوضوکو جائز قرار دیا ، اور نوح نے جامع مروزی میں ابو حنیفہ سے روایت کی کہ آپ نے اس سے رجوع
عـــــہ۱ : ۱۶۰ کے بعد ۱۲۵ ہوئے مگر ان میں تین نمبر ۲۲۱ ، ۲۵۲ ، ۲۵۷ جائزات کے تھے لہٰذا ایك سو بائیس۱۲۲ رہے ۱۲(م)
عـــــہ۲ : یعنی ضابطہ زیلعی اور اُن احکام کے اتفاق سے جو قول امام محمد پر مبنی ہیں جیسا کہ تنبیہ ضروری میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ(م)
وھو الذی استقر علیہ قولہ کذا قال نوح وبہ اخذ ابو یوسف [1]۔
کرلیا اور فرمایا کہ اس سے وضو نہ کیا جائے اور ان کے اس قول پر اتفاق ہوا ، یہی نوح کا قول ہے اور یہی ابو یوسف نے لیا ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
وجب تصحیح الروایۃ الموافقۃ لقول ابی یوسف لان اٰیۃ التیمم ناسخۃ لہ لتاخرھااذھی مدنیۃ وعلی ھذامشی جماعۃ من المتأخرین [2]۔
اس روایت کی تصحیح جو ابو یوسف کے قول سے مطابقت رکھتی ہے لازم ہے ، کیونکہ آیۃ تیمم اس کو منسوخ کرنے والی ہے وہ مدنی ہونے کی وجہ سے متاخر ہے ، اور متاخرین کی ایك جماعت اسی طرف گئی ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
ذکر نوح الجامع والحسن بن زیاد ان اباحنیفۃ رضی ا لله تعالٰی عنہ رجع الی انہ یتیمم ولا یتوضوء کما ھو مختار ابی یوسف وقول اکثر العلماء منھم مالك والشافعی واحمدقال قاضی خان وھو الصحیح [3] اھ
نوح اور حسن بن زیاد نے ذکر کیا کہ ابو حنیفہ نے اس سے رجوع کرلیااور فرمایا بجائےوضوکے تیمم کرنا چاہئے ، یہی ابویوسف کا مختارہے اور اکثر علماء مثلًا شافعی ، مالك اور احمد کا قول ہے اور قاضی خان نے کہا یہی صحیح ہے اھ۔ (ت)
غنیہ میں شرح جامع صغیر قاضی خان سے ہے :
روای اسد بن عمر ونوح بن ابی مریم والحسن عن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ انہ رجع الی قول ابی یوسف والصحیح قول ابی حنیفۃ الاٰخر [4] اھ اقول فھذان متابعان قویان لنوح الجامع فزال ماکان
روایت کیا اسد بن عمرو اور نوح بن ابی مریم اور حسن نے ابو حنیفہ سے کہ انہوں نے ابویوسف کے قول کی طرف رجوع کرلیااور صحیح ابوحنیفہ کا دوسرا قول ہے اھ میں کہتا ہوں یہ دومضبوط تائیدیں نوح کے حق میں ہیں ، اس سے ملك العلماء کی برآت کا خطرہ زائل ہوگیا ، ملك العلماء
یخشی من تبری ملك العلماء اذقال کذا قال نوح۔
نے فرمایا کذا قال نوح۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
لایتوضوء بہ ھی الروایۃ المرجوع الیھاعن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ وعلیھاالفتوی لان الحدیث وان صح لکن اٰیۃ التیمم ناسخۃ لہ اذ مفھومھانقل الحکم عند عدم الماء المطلق الی التیمم ونبیذ التمر لیس ماء مطلقًا [5]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع