30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیونکہ اب اس سے پانی کا نام ختم ہوگیا ہے۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
وان صارثخینا مثل السویق لا ۲[1]۔
اور اگر ستوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے تو جائز نہیں۔ (ت)
المقابلات عــــــہ
(۲۲۳)اہلے میں اگر اس قدر مٹی کُوڑے وغیرہ کا خلط ہے کہ پانی کیچڑ کی طرح گاڑھا ہوگیا تو اُس سے وضو جائز نہیں ، خانیہ میں ہے :
توضأ بماء السیل یجوز وانکان ثخینا کالطین لا [2]۔
اگر کسی نے سیلاب کے پانی سےوضوکیا تو جائز ہے اور اگر کیچڑ کی طرح گاڑھا ہو تو جائز نہیں۔ (ت)
اجناس امام ناطفی پھر منیہ میں ہے :
التوضی بماء السیل ان لم تکن رقۃ الماء غالبۃ لایجوز [3] ۔
اگر پانی کی رقت غالب نہ ہو تو سیلاب کے پانی سےوضوجائز نہیں ہے۔ (ت)
اقول : علمائے کرام پر اللہ عزوجل کی رحمتیں احتیاط کے لئے ایسی نادر صورتیں بھی ذکرفرماتے ہیں ورنہ سیلاب کا ایسا ہونا بہت بعیدہے وہ اس سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ جب اس قدر آبِ کثیر وغزیر اتنے اختلاط تراب سے ناقابلِ وضو ہوگیا تو برساتی ندیوں یا گھڑے لوٹے کے پانی کیا ذکر؟
(۲۲۴ تا ۲۵۱)کاہی آٹاپتّے پھل بیلیں شنجرف یاکسم کی زردیاں کَچ چونا ریشم کے کیڑے مینڈك وغیرہ غیر دموی جانور کے اجزا چنے باقلا وغیرہ ناج کے ریزے کو لتارروٹی کے ذرّے صابون اُشنان ریحان بابونہ خطمی برگ کنار کچے خواہ یہ چھ نظافت کیلئے پانی میں پکائے ہوئے غرض کوئی چیز حتی کہ برف جو اصل پانی ہے اگر پانی ہے اگر پانی میں مل کر اُس رقت زائل کردے اُس سے وضو ناجائز ہوگا۔
عـــــہ : یعنی وہ پانی جن کی صورت جواز جائزات میں گزری یہ صورتیں ان کے مقابل ہیں ۱۲(م)
اقول : وھذا ھو محمل مافی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین لایجوز الوضوء بماء الباقلی وماء الصابون وماء الاشنان [4] اھ کما ان الاول محمل اطلاق القدوری وغیرہ الجواز فی الصابون والاشنان غیرانہ حمل قریب لان المعھودھو خلطھما قلیلا بحیث لایذھب الرقۃ (۱)وانما البعد فی(۱)ما فی شرح المجمع۔
میں کہتا ہوں خزانۃ المفتین میں جو شرح مجمع البحرین سے ہے اس کا محمل یہی ہے ، اس کی عبارت یہ ہے کہ باقلی اور صابون اور اُشنان کے پانی سےوضوجائز نہیں ہے اھ جیسا کہ اوّل قدوری وغیرہ کے اطلاق کا محمل ہے ان کے اطلاق سے اشنان اور صابون کے پانی سے جواز معلوم ہوتا ہے ، یہ حمل قریبی ہے کیونکہ عام طور پر یہ دونوں چیزیں کم مقدار میں ملائی جاتی ہیں کہ اس سے پانی کی رقت ختم نہیں ہوتی ہے ، اور شرح مجمع میں جو ہے وہ بعید ہے۔ (ت)
ان پر اکثر نصوص ان کے مقابلات میں اپنے اپنے محل پر مذکور ہُوئے اور خانیہ میں فرمایا :
لووقع الثلج فی الماء وصار ثخینا غلیظا لایجوز بہ التوضوء لانہ بمنزلۃ الجمد وان لم یصر ثخینا جاز[5]۔
اگر برف پانی میں گر گئی اور پانی گاڑھا ہوگیا تو اس سےوضوجائز نہیں کیونکہ یہ بمنزلہ جمد کے ہے اور اگر گاڑھا نہ ہو تو جائز ہے۔ (ت
یہ برف کا نص ہے کہ اگر پانی کو گاڑھا کردے اس سے وضو ناجائز ہوگا جب تك پگھل کر پانی کی رقت عود نہ کرے اور گاڑھا نہ کرے تو جائز یہ نمبر(۲۵۲)ہوا کہ جائزات میں اضافہ ہوگا۔
(۲۵۳ ، ۲۵۴)جس پانی میں کوئی دوا یا غذا پکا کر تیار کی متون میں ہے لابما تغیر بالطبخ(نہ اس پانی سے جو پکانے سے متغیر ہوجائے۔ ت)
(۲۵۵ و ۲۵۶)یوں ہی چائے یا کافی جن کے پکانے سے پانی کی رقت میں فرق آئے اگرچہ ان سے سیلان نہیں جاتا رقّت وسیلان کا فرق ضوابط میں مذکور ہوگا اِن شاء الله قہوہ میں گاڑھا پن ضرور مشہود ہوا ہے اور اگر اُسے بھی پانی میں اثر کرنے سے پہلے نکال لیا تو جواز رہے گا لعدم الطبخ وبقاء الطبع کما فی ۱۱۰ یہ(۲۵۷)بھی جائزات میں زائد کیا جائے۔
(۲۵۸ تا ۲۶۲)عرق گاؤ زبان گلاب کیوڑا بید مشك خوشبو ہوں یا اترے ہوئے یوں ہی ہر عرق اوصاف میں پانی کے خلاف ہو یا موافق غرض جو بہتی چیز پانی کی نوع سے نہیں جب پانی کی مقدار سے زیادہ اُس میں مل جائے بالاجماع اُس سے وضو نہ ہوسکے گا۔
فان استویا فی الاجزاء لم یذکر ھذا فی ظاھر الروایۃ وقالوا حکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا [6] وقال فی الغنیۃ وکذا ان کانت مساویۃ احتیاطا حتی یضم الیہ التیمم عند المساواۃ [7] ۔
اقول : لم یسندہ لاحد ولم ارہ لغیرہ وفیہ نبوء عن القواعد فما(۱)اجتمع حاظر ومبیح الاغلب الحاظر ولا حکم للمغلوب وایضا اذا استویا(۲)فقد تعارضا واذا تعارضا تساقطا وایضا لیس(۳) تسمیتہ ماء باولی من تسمیۃ غیرہ فکیف ینطلق علیہ اسم الماء المطلق وما لیس بماء مطلق لایصح الوضوء بہ اصلا والاشتغال بما لایصح یکرہ تحریما کما فی الدر عن القنیۃ بل ھو اضاعۃ المال فیحرم تأمل وراجع وکانہ فھم من قولھم احتیاطا ان لھم شکا فی کونہ ماء فاحترزوا عنہ للاحتیاط فان لم یکن ماء لم یجز الوضوء بہ وانکان ماء لم یجز التیمم مع وجودہ
اگر دونوں اجزاء میں برابر ہوں تو یہ چیز ظاہر روایت میں نہیں ہے ، فقہاء نے فرمایا اس کا حکم احتیاطًا مغلوب پانی کا سا ہے۔ غنیہ میں کہا اور اسی طرح ہے جب وہ مساوی ہوں احتیاطًا حتی کہ جب دونوں برابر ہوں تو وضو کے ساتھ تیمم بھی کرلیا جائے اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کو انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا اور ان کے علاوہ کسی نے اس کو ذکر نہیں کیا ، اور یہ قواعد سے دُوری ہے ، جس چیز میں بھی حرام کرنیوالی اور مباح کرنیوالی دلیل جمع ہوجائے تو حرام کرنے والی غالب رہے گی اور مغلوب کا کوئی حکم نہ ہوگا اور جب دونوں برابر ہوں تو تعارض ہوگا اور تساقط ہوجائیگا ، پھر اس کا پانی کہا جانا کسی دوسرے نام سے اولٰی نہیں ہے تو اس پر مطلق پانی کا نام کیسے بولا جائیگا اور جو مطلق پانی نہ ہو اس سےوضوبالکل جائز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع