دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اذ لواعتبرلتحققت وبالجملۃ ماماٰل الجواب الا فرضھا ھنالك فرضا باطلا ولا مساغ لہ وانا انبئك ان ما (۱)افادہ انما ھو تجشم مستغنی عنہ وذلك لان المعراج انما احتاج الیہ جوابا عن سؤال نصبہ بقولہ فان قیل المتوضیئ لیس علی اعضائہ نجاسۃ لا حقیقۃ ولا حکمیۃ فکیف یصیر الماء مستعملا بنیۃ القربۃ فاجاب بقولہ لما نوی القربۃ فقد ازداد [1] الخ                                 

نجاست ، خاص طور پر حکمیہ اعتبار شرعی ہے اور اعتبار صحیح اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا منشاء صحیح ہو ، اور اس کے بغیر اختراع ہے ، شریعت کی شان اس سے بڑی ہے ، اور یہ طُہر سے زائل ہوگیا تو صرف نئے حدث سے ہی یہ عود کرے گا ، بالفاظ دیگر کیا یہاں شریعت نے کوئی ایسی چیز معتبر مانی ہے جو منافی طہر ہو اور دوسرے پانی سے زائل ہوجائے ، تو نئی پاکی حاصل ہو یا معتبر نہیں مانی ہے ، دوسری تقدیر پر سوال لوٹ کرآئیگا کیونکہ کوئی حقیقی نجاست نہیں اور نہ ہی اعتباری ہے اور پہلی تقدیر پر نجاست حکمیہ کی حقیقت شرعی اعتبار کے علاوہ اور کیا ہے تو یہ کہنا بے معنی ہے کہ نجاست حکمیہ حقیقۃً نہیں حکماً پائی جاتی ہے اور مختصر عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نجاست حکمیہ صرف شرعی اعتبار سے عبارت ہے تو حکمیہ حکما شرع کا یہ اعتبار ہے کہ اس کا اعتبار کیا گیا ہے ، اور اعتبار کیا نہیں گیا کیونکہ اگر اعتبار کیا جاتا تو وہ متحقق ہوجاتی۔ خلاصہ یہ کہ جواب کامآل یہ ہے کہ حکمیہ کو وہاں اعتبار کیا جائے بفرض باطل جس کی گنجائش نہیں ، اور میں تجھ کو خبر دار کرتا ہوں کہ جس کا اِفادہ انہوں نے کیا ہے وہ محض تکلّف ہے جس کی ضرورت نہیں ، اور اسکی وجہ یہ ہے کہ معراج کو اس کی ضرورت اس لئے پڑی کہ انہیں اس سوال کا جواب دینا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ وضو کرنے والے کے اعضاء پر نہ حقیقی نجاست ہے اور نہ حکمی ہے تو پانی بہ نیت تقرب کیسے مستعمل ہوجائے گا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ جب اس نے نیت کی تو زیادتی کی الخ۔ (ت)

اقول اولا یعود السائل یمنع ازدیاد الطھارۃ وانما ازداد نظافۃ لانھا تقبل التشکیك  دون الطھارۃ ولذا قلنا بعدم تجزی الحدث والی ازدیاد النظافۃ یشیر الحدیث المشہور الوضوء علی الوضوء نور علی نور اخرجہ رزین وان قال العراق والمنذری لم نقف علیہ کما فی التیسیر ،

وثانیا : (۱)لامساغ للسؤال رأسا فان مبناہ علی حصر النجاسۃ الحکمیۃ فی الحدث ولیس کذا بل منھا المعاصی کما تقدمت النصوص علیہ والماء الاول وان کان کما یزیل الحدث یغسل من اثر المعاصی ایضا بشرط النیۃ ولکن لایجب ان یزیلھا کلًّا والا لکفی الوضوء عن التوبۃ وصار کل من توضأ مرۃ ولو بعد الف کبیرۃ کمن لاذنب لہ وھوباطل قطعا فھذہ نجاسۃ حکمیۃ باقیۃ بعد التطھیر فی عامۃ المکلفین فاین مثار السؤال بل قدمنا(۲)ان المکروھات ایضا تغیر الماء فھذا اطم واعم اما المعصومون صلوات الله تعالٰی  وسلامہ علیھم

فاقول :  لانسلم فی مائھم(۳)الاول ایضا انہ مستعمل فی حقنا بل طاھر طھور مطھرلنا فضلا عن الثانی واذا اعتقدنا الطھارۃ فی فضلاتہ صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم فما ظنک بوضوئہ فالاستدلال(۴)علی طھارۃ الماء المستعمل بان اصحابہ صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم بادروا الی وضوئہ فمسحوا بہ وجوھم                          

میں کہتا ہوں اولاً کہ سائل کہہ سکتا ہے کہ ہم طہارت کی زیادتی کو تسلیم نہیں کرتے اس میں نظافت کا اضافہ تو اس لئے ہے کہ نظافت کمی بیشی کو قبول کرتی ہے ، مگر طہارت ایسی نہیں اور اسی لئے ہم نے کہا ہے کہ حدث میں تجزّی نہیں ہے ، اور نظافت میں اضافہ کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ وضو پر وضو نور علٰی نور ہے ، اس کی تخریج رزین نے کی ہے اگرچہ عراقی اور منذری نے کہا ہے کہ ہم اس پر مطلع نہیں ہوئے ہیں کما فی التیسیر۔

ثانیًا : سوال کی گنجائش ہی نہیں ، کیونکہ اس سوال کا دارومدار اس پر ہے کہ نجاستِ حکمیہ کو حدث میں منحصر کردیا گیا ہے اور حالانکہ بات یہ نہیں ہے ، بلکہ نجاست حکمیہ میں معاصی بھی شامل ہیں ، اس پر نصوص گزر چکے ہیں ، اور پہلاپانی جس طرح حَدَث کو زائل کرتا ہے بشرطِ نیت گناہوں کو بھی دھو ڈالتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ گناہوں کو کلیۃً دھو ڈالے ورنہ تو وضو ہی کافی ہوجاتا تو بہ کی ضرورت ہی نہ ہوتی اور ہزار ہا گناہوں کے بعد ایک ہی مرتبہ وضو کرلیتا تو تمام گناہ معاف ہوجاتے ، اور وہ اس طرح ہوجاتا گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ہے ، اور یہ چیز قطعاً باطل ہے تو یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو مکلفین میں طہارت حاصل کرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے ، تو اب سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے ، بلکہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مکروہات بھی پانی کو متغیر کردیتے ہیں تو یہ بلند اور اعم ہے۔ رہے انبیاءعلیہم السلام جو معصوم ہیں تو ہم یہ تسلیم نہیں کرتے

کما فی العنایۃ [2] وغیرھا مع ضعفہ بوجوہ ذکرھا فی البحر عن العلامۃ الہندی لیس فی محلہ عندی نعم یعتبر مستعملا فی حقھم شرعا فلا یرد علی الحد نقضا کما اعتبرت فضلا تھم نواقض لعظم رفعۃ شأنھم ونزاھۃ مکانھم صلوات الله تعالٰی  وسلامہ علیھم۔

تنبیہ : (۱)اختلفوا فی الحدث الاصغر ھل یحل کالاکبر بظاھر البدن کلہ وانما جعل الشرع الوضوء رافعا لہ تخفیفا ام لاالابالاعضاء الاربعۃ ویبتنی علیہ الخلاف فیما اذا غسل المحدث نحو فخذہ فیصیر الماء مستعملا علی الاول دون الثانی وبالعدم جزم فی کثیر من المتد اولات ونص فی الخلاصۃ انہ الاصح فکان ترجیحا للقول الثانی ولذا عولنا علیہ وفی المنحۃ عن النھر وکان الراجع ھو الثانی ولذا لم یصر الماء مستعملا بخلافہ علی الاول [3]اھ والظاھر ان کان مشددۃ فیعطی تردد افی ترجیحہ۔                                              

کہ ان کا پہلا پانی ہمارے حق میں مائے مستعمل ہے ، بلکہ وہ ہمارے حق میں پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے اور جب پہلے پانی کایہ حال ہے تو دوسرے پانی کا بطریق اولیٰ یہ حال ہوگا ، اور ہم تو انبیاء علیہم السلام کے فضلات کی طہارت کے قائل ، تو وضو کے پانی کا کیا ذکر ہے۔ بعض حضرات نے حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے مستعمل پانی کی طہارت پر اس امر سے استدلال کیا ہے کہ آپ کے اصحاب نے اُس پانی کی طرف سبقت کی اور اس کو اپنے چہروں پر ملا ، جیسا کہ عنایہ وغیرہ میں ہے ، بوجوہ ضعیف ہے ، یہ وجوہ بحر میں علامہ ہندی سے نقل کی گئی ہیں ، میرے نزدیک وہ برمحل نہیں ، ہاں ان کے حق میں شرعا مستعمل ہوگا ، تو اس سے ماء مستعمل کی حد پر نقض وارد نہ ہوگا ، اسی طرح ان کے فضلات کو نواقضِ وضو میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ ان کی شان بہت عظیم ہے اور ان کا مقام بہت ستھرا ہے صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہم۔ (ت)

تنبیہ : حدثِ اصغر کی بابت اختلاف ہے کہ آیا وہ بھی تمام بدن میں حدثِ اکبر کی طرح حلول کرتا ہے ، اور شارع نے وضو کو اس کیلئے رافع تخفیفا قرار دیا ہے یا نہیں؟ ہاں اعضاء اربعہ میں ایسا ہے اور اسی پر یہ اختلاف مبنی ہے کہ بے وضو شخص نے اگر اپنی ران کے مثل کو دھویا تو پہلے قول پر پانی مستعمل ہوجائے گا دوسرے قول پر نہ ہوگا ، اور مستعمل نہ ہونے پر بہت سی متداول کتب میں اعتماد کیا گیا ہے اور خلاصہ میں تصریح کی ہے کہ یہی اصح ہے تو یہ قول ثانی کی ترجیح ہے ، اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا ہے اور منحہ میں نہر سے ہے کہ راجح دوسرا ہے اور اسی لئے پانی مستعمل نہ ہوگا ، اس کے برعکس ہے پہلی صورت میں اھ اور ظاہر یہ ہے کہ کَاَنَّ مشدّدہ ہے۔

اقول :  وقد یجوز ان یقول قائل ربما یشھد للاول اوّلا (۱) حدیث اذا تطھرا حدکم فذکر اسم الله علیہ فانہ یطھر جسدہ کلہ فان لم یذکر اسم الله تعالٰی علی طھورہ لم یطھر الامامر علیہ الماء [4] رواہ الدار قطنی والبیھقی فی سننہ والشیرازی فی الالقاب عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ قال البیھقی بعد ماساقہ بطریق یحیی بن ھاشم السمسار ثنا الاعمش عن شقیق بن سلمۃ عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی  عنہ قال سمعت رسول الله صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم یقول فذکرہ ھذا ضعیف لااعلم رواہ عن الاعمش غیر(۲) یحیی بن ھاشم وھو متروک الحدیث [5] ورواہ ابن عدی بالوضع اھ وکذبہ ابن معین وصالح جزرۃ وقال النسائی متروک وبہ اعلہ المحقق فی الفتح حین کلامہ علی وجوب التسمیۃ فی الوضوء  تبعا للبیہقی۔

اقول : (۳) بل لہ طرق ترفعہ عن الوھن فقد رواہ الدار قطنی والبیھقی ایضا عن ابن عمر وھما وابو الشیخ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی  عنھم ولفظہ عن النبی صلی الله تعالٰی 

تو اس سے اس کی ترجیح میں تردّد پیدا ہوگا ،

میں کہتا ہوں یہ بھی جائز ہے کہ کوئی کہنے والا کہے کہ پہلے قول کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جب تم میں سے کوئی پاکی حاصل کرے اور اللہ کا نام لے تو اس کا پوراجسم پاک ہوجائے گا اور اگر اللہ کا نام نہ لے تو صرف وہی عضو پاک ہوگا جس پر پانی گزرا ہو ، روایت کیا دار قطنی اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور شیرازی نے القاب میں عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بیہقی نے یہ حدیث بسند یحیی بن ہاشم السمسار ذکر کی ہے ، ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ



[1]     بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲

[2]   العنایۃ مع  فتح القدیر  باب الماء الذی یجوز بہ ومالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶

[3]   منحۃ الخالق مع البحر کتاب الطہارت ۱ / ۹۲

[4]   دار قطنی باب التسمیۃ علی الوضوء مطبع القاہرہ ۱ / ۷۳

[5]   سنن الکبریٰ للبیہقی تسمیۃ علی الوضوء  بیروت ۱ / ۴۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن