30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وثالثا العجب(۱)انہ رحمہ ا لله تعالٰی یحتج بعبارۃ الخانیۃ وقد شرط وجود الرائحۃ ثم یقول سواء تغیر شیئ من اوصافہ اولا [1]
ورابعا : (۲)انکرالعطف علی بکثرۃ الاوراق ولیس ثمہ مایصلح لعطفہ الاھو فان عبارۃ المختصر یتوضوء بماء السماء العین والبحر وان غیر طاھر احداوصافہ اوانتن بالمکث لابما تغیر بکثرۃ الاوراق اوبالطبخ [2] فان لم یعطف علی بکثرۃ یعطف علی بما تغیرای لایتوضوء بالطبخ وھو کلام مغسول
وخامسا : (۳)تأویلہ بان المراد تغیر طبعہ اووصفہ بل اطلاقہ لایتمشی فی عبارۃ النقایۃ والاصلاح تغیر بالطبخ معہ وھو مما لایقصد بہ النظافۃ اذیفید علی ھذا جواز الوضوء بما تغیر من الاطلاق بالطبخ مع المنظف ولیس مرادقطعافانماالامرانہ لماتغیر بالطبخ صار مقیداتغیر بالطبخ۔
مخالف سمجھتے تو ان کا قول مرجوح ہوتا ، کیونکہ وہ اظہرواشہر کو مقدم کرتے ہیں ، تو جس قول کو انہوں نے ناپسندیدہ قرار دیا اسی کی نسبت ان کی طرف اچھی نہیں ، اس کی دلیل یہ ہے کہ خود قاضی خان نے اس چیز کی تصریح کی ہے جو امام ناطفی نے ذکر کیاہے اور اسی پر انہوں نے اپنی عام معتمدات میں جامع صغیر کی شرح میں جزم کیا ہے اورغنیہ میں اس کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔
سوم : تعجب اس پرہے کہ وہ خانیہ کی عبارت سے استدلال کر رہے ہیں اور انہوں نے بُو کی شرط لگائی ہے پھر فرمایا عام ازیں کہ اس کے اوصاف میں سے کچھ بدلا ہوا ہو یا نہ بدلا ہوا ہو۔
چہارم : بکثرۃ الاوراق پر عطف کاانکار کیا ے حالانکہ وہاں صرف اسی پر عطف ممکن ہے کیونکہ مختصر کی عبارت یہ ہے یتوضوء بماء السماء الخ تو اگر بکثرۃ پر عطف نہ کیا جائے تو بما تغیر پر کرنا ہوگا ، اور یہ غلط ہے۔
پنجم : اس کی یہ تاویل کرنا کہ مراد اس کی طبیعت یا وصف کا بدلنا نہیں ہے ، بلالکہ ان کی عبارت کا اطلاق اصلاح ونقایہ کی عبارت میں نہیں چل سکتا ہے کہ تغیر بالطبخ معہ ہے ، اور یہ وہ چیز ہے جس سے نظافت مقصود نہ ہو ، اس لئے کہ اس بناء پر اُس چیز سے جس سے تغیر واقع ہو وضو جائز ہوگا ، یعنی جب کہ نظافت والی چیز کے ساتھ پکانے کو مطلق رکھا جائے ،
اقول : (۱)ووقع فی تعبیر ش تغییر لمفاد البحر فان قولہ فی المختار کما فی البحر یوقع من لایراجع البحرفی توھم انہ تصحیح منقول فی البحر عن اھلہ فانہ رحمہ ا لله تعالٰی لم یکن من اصحابہ کما اعترف بہ ش فی عقود رسم المفتی وبیناہ فی رسالتنا ھبۃ الجیر فی عمق ماء کثیرولیس کذلك وانما قال لخلافہ من قبل نفسہ لیس ھو المختار۔
والرابع : (۲) لماکان زوال الطبع بالطبخ ربمالا یظھرالا اذابردصح التقسیم فیحال فی النیئ علی عین الثخونۃ وفی المطبوخ علی دلیلھاوکأنہ الی ھذایشیرالبرجندی بتعقیبہ بکلام الظھیریۃ فاستقران شاء ا لله تعالٰی ولہ الحمد عرش التحقیق ٭بحسن التوفیق٭علی التطبیق والتوفیق٭ وبا لله سبحنہ وتعالی التوفیق۔
حالانکہ یہ قطعًا مراد نہیں ہے ، کیونکہ جب پکانے سے متغیر ہوگیا تو مقید ہوگیا یہ نہیں کہ جب مقید ہوگیا توپکانے سے متغیر ہوگیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں “ ش “ کی عبارت میں تبدیلی بحر کے مفاد کیلئے ہے کیونکہ ان کا قول فی المختار کما فی البحر ایك ایسے شخص کو جس نے بحر نہ دیکھی ہو اس وہم میں مبتلا کرسکتا ہے کہ یہ بحر کے منقول کی تصحیح ہے جو انہوں نے کسی سے نقل کیا ہے ، کیونکہ وہ اس کے اصحاب سے نہیں جیسا کہ اس کا اعتراف “ ش “ نے عقود رسم المفتی میں کیا ہے اور ہم نے اس کو “ ھبۃ الجیر فی عمق ماء کثیر “ میں ذکر کیا ہے جبکہ امر واقعہ یہ نہیں ہے ، یہ بات انہوں نے اس لئے کہی ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کے مخالف ہیں ، وہ مختار نہیں سمجھتے(ت)
چہارم : پکنے کی وجہ سے طبیعت کا زائل ہونا کبھی ظاہر نہیں ہوتا ہے ، ہاں جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو تقسیم صحیح ہے ، تو کچے کا دارومدار گاڑھے پن پر ہوگا اور پکے ہوئے میں اس کی دلیل پر ہوگا اور غالبًا برجندی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ اس کے بعد ظہیریہ کے کلام کو لائے ہیں ، یہ اس کی مکمل تحقیق ہے۔ (ت)
(۲۱۸)پانی میں میوے جوش دے کر اُن کا عرق نچوڑا یہ عرق اگرچہ پانی سے مخلوط ہوگا کہ حرارت نار کے سبب میوے پانی کا تشرب کریں گے خصوصًا جبکہ کُوٹ کر ڈالے اس سےوضوجائز نہیں۔ فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے :
لایجوز التوضوء بماء الفواکہ وتفسیرہ ان یدق التفاح اوالسفرجل دقانا عما ثم
پھلوں کے پانی سے وضو جائز نہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ سیب یا امرود کو باریك باریك کُوٹ لیا جائے اور
یعصرہ فیستخرج منہ الماء وقال بعضھم تفسیرہ ان یدق التفاح اوالسفرجل ویطبخ بالماء ثم یعصر فیستخرج منہ الماء وفی الوجھین لایجوز بہ التوضوء لانہ لیس بماء مطلق [3]۔
پھر ان کو نچوڑ کر اُن سے پانی نکالا جائے ، بعض نے اس کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ سیب یا امرود کو باریك کرکے پانی کے ساتھ پکایا جائے پھر نچوڑا جائے اور پانی نکالا جائے اور دونوں صورتوں میں اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ یہ مطلق پانی نہیں ہے۔ (ت)
(۲۱۹)یہ پانی جس میں میوے جوش دے اس کا حکم ذکر نہ فرمایا۔
واقول : وبہ استعین اگر میوے خفیف جوش دے جس میں قدرے نرم ہو کر نچوڑنے میں اچھی طرح آئیں اور نکال لئے کہ پانی میں اُن کے اجزائے لطیفہ قدر تغیر نہ ملنے پائے تو اُس پانی سے وضو جائز ہونا چاہئے اور اب یہ پانی نمبر ۱۰۸ ، ۱۰۹ میں داخل ہوگا اور اگر میوے اس میں پك گئے کہ اُسے متغیر کردیا تو اُن کے نکال لینے کے بعد بھی اس پانی سے وضو ناجائز ہے یہ ۲۱۹ نمبر ہوگا۔
(۲۲۰)سر پر مہندی یا کوئی خضاب یا ضماد لگا ہوا ہے اور مسح کرتے میں ہاتھ اس پر گزرتا ہوا پہنچا یوں کہ یا تو وہ ضماد(۱)وخضاب رقیق بے جرم مثل روغن ہے تو اُسی کی جگہ مسح کیا وہ جرم دار ہے تو اس کے باہر چہارم سر کی قدر مسح کیا مگر ہاتھ اس پر ہوتا گزرا اگر اس گزرنے میں ہاتھ کی تری میں اُس خضاب وضماد کے اجزاء ایسے مل گئے کہ اب وہ تری پانی نہ کہلائے گی تو مسح جائز نہ ہوگا ورنہ جائز۔
یہ نمبر(۲۲۱)ہوا جس کا جائزات میں اضافہ ہونا چاہئے ، وجیز امام کردری فصل مسح میں ہے :
مسحت علی الخضاب ان اختلطت البلۃ بالخضاب حتی خرجت عن کونھا ماء مطلقًا لم یجز [4] اھ اقول : ولا بدمن تقیید مفھومہ بما ذکرت فاعرف۔
خضاب پر مسح کیا اگر تری خضاب سے مل گئی یہاں تك کہ ماءِ مطلق ہونے سے خارج ہوگئی تو اُس سے مسح جائز نہیں اھ میں کہتا ہوں اس کے مفہوم کو مقید کرنا ضروری ہے اس قید کے ساتھ جو میں نے ذکر کی ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ (ت)
(۲۲۲)پانی میں سَتُّو گھُلے ہوں کہ وہ رقیق نہ رہے اُس سے وضو ناجائز ہے ، ہدایہ وکافی میں ہے :
الا ان یغلب علی الماء فیصیر کالسویق
مگر یہ کہ وہ پانی پر غالب ہو کہ پانی مثل ستوؤں کے ہوجائے ،
لزوال اسم الماء عنہ [5]۔
[1] بحرالرائق بحث الماء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
[2] کنز الدقائق بحث الماء ایجوکیشنل پریس کراچی ۱ / ۱۱
[3] فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
[4] فتاوٰی بزازیۃ مع العالمگیری الرابع فی المسح ، نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۵
[5] ہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ مطبع عربیہ کرا چی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع