30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وانا اقول : وبا لله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق فعل الناروالعیاذ با لله تعالٰی منھا تفریق الاتصالات فاذاطبخ شیئ تنزیل النارصلابتہ وتفتح منافذہ فیداخلہ الماء وتخرج اجزاؤہ اللطاف فی الماء فتورثہ ثخونۃ اذا کان الماء علی ماھو المعتاد فی طبخ الاشیاء وان لم تظھر اذاکثر الماء جدافان الکلام فی الطبخ المعھود ولا یجعل فیہ من الماء الاقدر معلوم موافق لحصول الامتزاج وھذاماافادالزیلعی واتباعہ ان بالطبخ یحصل کمال الامتزاج نعم الحرارۃ توجب اللطافۃ فمادام حارا لایظھر ذلك التغیرعلی ماھوعلیہ وبہ ظھر سرما قالوا اذاصاربحیث اذبرد ثخن وھذاھو الفارق بین النیئ و المطبوخ فان النیئ لیس فیہ مایمنع ظھورالثخانۃ فاحیل فیہ علی نفس ذھاب الرقۃ بخلاف
خزانہ اور فتاوٰی قاضی خان سے ہوتی ہے کہ اگر اس میں باقلٰی پکایا گیا اور اس کی بُو پانی میں آگئی تو اس سے وضو جائز نہیں ، اور فتاوٰی ظہیریہ میں ہے کہ اذاطبخ الحمص اوالباقلی الخ جو فتح سے نقل ہوا۔ (ت)
میں کہتا ہوں وب اللہ التوفیق آگ کا کام متصل کو منفصل کرناہے جب کوئی چیز آگ پر پکائی جاتی ہے تو آگ اس کی سختی کو زائل کردیتی ہے اور اُس کے سوراخوں کو کھول دیتی ہے جس کی وجہ سے اس میں پانی داخل ہوجاتاہے اور اس کے لطیف اجزاء پانی میں آجاتے ہیں ، اس طرح پانی گاڑھا ہوجاتا ہے جبکہ پانی عادت کے مطابق پکایا جائے اور جب پانی بہت زیادہ ہوتاہے تو یہ گاڑھا پن ظاہر نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ گفتگو متعارف پکانے میں ہے اوراس میں ایك معین مقدار کے پانی کی آمیزش کی جاتی ہے تاکہ امتزاج حاصل ہوجائے ، زیلعی وغیرہ میں یہی ہے کہ پکانے سے کمال امتزاج حاصل ہوتا ہے ، ہاں حرارت لطافت کا موجب ہوتی ہے تو جب تك وہ گرم رہتا ہے تو یہ تغیر ظاہر نہیں ہونے پاتا ہے ، اسی سے یہ راز سربستہ بھی منکشف ہوگیاکہ فقہاء فرماتے ہیں جب پانی ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہوجائے ، اور یہی چیز مابہ الامتیاز ہے کچّے اور پختہ میں ، کیونکہ کچّے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے
المطبوخ مالم یبردفیحال فیہ علی النظر فان ظھرانہ یثخن اذابردلم یجزالوضوء بہ والاجاز والمرجع فی ھذاھوحصول النضج والادراك فان عند ذلك یحصل کمال الامتزاج وھو یوجب فی المعتاد ثخونۃ الماء فبھذاالتقریر و لله الحمد انحلت الاشکالات عن اٰخرھا۔
فالاول : قد ظھر الفرق بین النیئ والمطبوخ۔
والثانی : الطبخ فی کلام الینابیع الاغلاء فی الماء علی النار وان لم ینضج علی سبیل عموم المجاز لابل بیان لحکم یعم المعتاد وغیرہ کمن وضع کفامن حمص فی قدر قربۃ من الماء فانہ لایثخن حین یبرد وان نضج الحمص وادرك وھذا ھو منشؤ التقییدبغالبافی کلام الغنیۃ ونظر الشرنبلالی الی المعتاد المعھود فاطلق القول انہ اذبرد ثخن وبا لله التوفیق۔
والثالث فیہ اشیاء۔
فاقول : اولا(۱)تبین ان فرض عدم التغیر اصلا مع حصول الطبخ فرض مالاوقوع لہ۔
وثانیا : (۲)قد علمت ان مافی الخانیۃ
جو گاڑھے پن کو ظاہر ہونے سے روکتی ہو تو اس میں دارومدار صرف رقّت کے ختم ہونے پر ہے برخلاف پکے ہوئے کے جو ٹھنڈا نہ ہواہو تو اس کا دارومدار اس پر ہے کہ دیکھا جائے اگر یہ ظاہر ہو کہ ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہوجائیگا تو اس سے وضو جائز نہیں ورنہ جائز ہوگا ، اور دارومدار اس میں پکنا ہے کیونکہ اسی وقت کمال امتزاج پایا جاتا ہے اور یہی چیز عام طور پر پانی کے گاڑھا ہونے کا موجب ہوتی ہے ، اس تقریر سے تمام اشکالات رفع ہوگئے۔
اول : کچے اور پکے کا فرق ظاہر ہوا۔
دوم : ینابیع کی عبارت میں طبخ سے مراد شیئ کو جوش دینا ہے پانی میں آگ پر خواہ پکا ہوانہ ہو ، یہ بطور عموم مجاز کے ہے ، نہیں بلالکہ یہ ایسے حکم کا بیان ہے جو معتاد وغیر معتاد دونوں کو عام ہے ، مثلًا کسی نے ایك مُٹھی چنے ایك ہانڈی بھر پانی میں ڈال دیئے تو یہ ٹھنڈاہونے پر گاڑھانہ ہوگا خواہ چنے کتنے ہی پك جائیں ، اور غنیہ کی عبارت میں غالبًا کی قید کا یہی مفاد ہے اور شرنبلالی کی نظر معہود پر گئی تو انہوں نے مطلق قول رکھاکہ جب ٹھنڈا ہوگا تو گاڑھا ہوجائے گا وباللہ التوفیق۔
سوم : اس میں چند اور قابل ذکر باتیں ہیں :
میں کہتا ہوں اول : پکنے کے باوجودیہ مفروضہ قائم کرناکہ تغیر نہیں ہوا ہے باوجود حصول طبخ کے ایك ایسی چیز کا فرض کرنا ہے جو واقع نہیں ہوئی ہے۔
دوم : خانیہ میں جو ناطفی سے منقول ہے یہ
عن الناطفی لایخالف ماقدمہ لاجرم ان عزا العلامۃ القوام الکاکی شارح الھدایۃ ثم ابن الشلبی محشی الزیلعی ماعن الناطفی الی قاضی خان ایضافقالا اذا طبخ ولم یثخن بعد ورقۃ الماء فیہ باقیۃ جازالوضوء بہ ذکرہ الناطفی وفی فتاوٰی قاضی خان[1] اھ والیہ یشیرکلام الحلیۃ اذجعل کلام الناطفی مفاد مافی قاضی خان حیث قال تحت قول الماتن لاتجوزبماء الباقلاء ما نصہ سیذکر عن الجامع الکبیر تقیید عدم الجواز بماء الباقلا بما اذا کان مطبوخاوھو بحال اذا برد ثخن وزالت عنہ رقۃ الماء فیحمل ھذا الاطلاق وان وقع مثلہ لغیرالمصنف علی ذلك دفعا للتناقض ومن ثمہ لما ذکر القدوری فی غدادما لا یجوزالطھارۃ بہ ماء الباقلا قال فی الھدایۃ المراد ماتغیر بالطبخ و احسن منہ حملہ علی مااذا کان مسلوبا منہ اسم الماء مطبوخا اولا کما یفیدہ مافی الخانیۃ فذکر کلامہ المارفی النیئ والمطبوخ تماما[2] وفیہ حدیث الریح فلوحسبہ مخالفالقول الناطفی لکان قولہ مرجوحالانہ انما یقدم الاظھرالاشھر فلم یکن یحسن نسبۃ مازیفہ الیہ ومن
گزشتہ قول کے منافی نہیں ، اسی لئے علامہ کاکی شارح ہدایہ اور ابن شلبی محشی زیلعی نے ناطفی کے قول کو قاضی خان کی طرف بھی منسوب کیا ہے ، ان دونوں حضرات نے فرمایا جب پکایا گیااور گاڑھا نہ ہوا اور پانی کی رقت اس میں باقی رہی تو اس سے وضو جائز ہے ، اس کو ناطفی نے ذکر کیا ہے ، اور یہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے اھ اس طرف حلیہ میں اشارہ ہے کیونکہ انہوں نے ناطفی کے کلام کوقاضی خان کی گفتگو کا ماحصل قرار دیا ہے ، وہ ماتن کے قول لاتجوز بماء الباقلی کے تحت فرماتے ہیں کہ عنقریب جامع کبیر سے باقلی کے پانی کے ساتھ عدم جواز کے مقید کرنے کی وجہ بیان کرینگے کہ وہ ایسا پکا ہوا ہو کہ جب ٹھنڈا ہو تو گاڑھا ہوجائے اور اس کی رقت زائل ہوجائے تو یہ اطلاق(اگرچہ مصنّف کے علاوہ دوسرے حضرات نے بھی ایسا ہی کیا ہے)اس پر محمول کیاجائے گاکہ تناقض مرتفع ہوجائے ، اس لئے جب قدوری نے اُن اشیاء کا ذکر کیا جن سےوضوجائز نہیںہے تو باقلی کے پانی کو ذکر کیا ، ہدایہ میں فرمایا اس سے مراد وہ پانی ہے جو پکائے جانے سے بدل گیاہو اور اس کا حمل اس پر زیادہ اچھا ہوگا جبکہ اس پر پانی کا اطلاق ختم ہوگیا ہو خواہ وہ پکا ہوا ہو یا نہ ہو ، جیسا کہ خانیہ سے پتاچلتا ہے ، پھر انہوں نے اپنا گزشتہ کلام ذکر کیا جو کچے اور پختہ سے متعلق ہے ، اسی میں بُو کابھی تذکرہ ہے تواگر وہ اس کو ناطفی کے قول کے
الدلیل علیہ ان الامام قاضی خان نفسہ صرح بھذا الذی قالہ الامام الناطفی وجزم بہ فی عامۃ المعتمدات فی شرحہ للجامع الصغیر کما عزاہ لہ فی الغنیۃ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع