30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی تائید گزر چکی ہے ملاحظہ ہو ۱۸۰۔ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
انہ الاوجہ الاظھرالاحوط ففی الکافی۱ ثم ابن الشلبی۲ علی الزیلعی والانقرویۃ۳ لایتوضوء بماء یسیل من الکرم لکمال الامتزاج ذکرہ فی المحیط۴ وقیل یجوز لانہ خرج من غیر علاج [1] اھ وفی الخانیۃ۵ لابالماء الذی یسیل من الکرم فی الربیع وکذا ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی [2] اھ وفی الحلیۃ۷ والظاھر انہ اوجہ اھ ثم اعاد فقال الظاھرانہ الاوجہ [3] اھ وفی الغنیۃ۸ ھوالاحوط [4] اھ وفی غنیۃ۹ ذوی الاحکام ھوالاظھر کما فی البرھان۱۰ [5] وفی نور الایضاح۱۱ لا یجوز بماء شجر وثمر ولوخرج بنفسہ من غیرعصر فی الاظھر [6] اھ وفی مراقی الفلاح۱۲ احترز بہ عما قیل انہ یجوز بمایقطربنفسہ لانہ لیس لخروجہ بلا عصر تاثیر فی نفی القیدوصحۃ نفی الاسم عنہ [7] اھ وفی الدر۱۳ ھوالاظھر کما فی الشرنبلالیۃ عن البرھان واعتمدہ القھستانی)۱۴ فقال والاعتصار یعم الحقیقی والحکمی
یہ نہ دیکھا ، اور جمہور کے نزدیك ممنوع ہے اور صراحت کی ہے کہ یہی اوجہ ، اظہر اور احوط ہے ، کافی ، ابن شلبی علی الزیلعی اور انقرویہ میں ہے کہ اس پانی سےوضونہ کرے جو انگور کی بیل سے بہتا ہے کیونکہ اس میں کمال امتزاج پایا جاتا ہے ، اس کو محیط میں ذکر کیا ہے اور ایك قول یہ ہے کہ جائز ہے کیونکہ بغیر عمل کے نکلا ہے خانیہ میں ہے کہ اس پانی سے جائز نہیں جو موسم ربیع میں انگور کی بیل سے نکلتا ہے ، اسی طرح اس کو ذکر کیا ہے شمس الائمہ حلوانی نے اھ اور حلیہ میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہی اوجہ ہے اھ پھر اعادہ کیا اور فرمایا ظاہر یہی ہے کہ یہ اوجہ ہے اھ اور غنیہ میں ہے کہ یہ احوط ہے اھ اور غنیہ ذوی الاحکام میں ہے یہی اظہر ہے جیسا کہ برہان میں ہے اورنور الایضاح میں ہے وضو جائز نہیں درخت یا پھل کے پانی سے خواہ بلا نچوڑے ازخود نکل آئے ، اظہر یہی ہے اور مراقی الفلاح میں ہے اس سے اس قول سے احتراز کیا کہ وضو اس پانی سے جائز ہے جو بلانچوڑے خود نکل آئے ، کیونکہ اس کے بلانچوڑے نکلنے میں نفی قید میں کوئی تاثیر نہیں ہے اسی طرح اس سے
کماء الکرم وکذا ماء الدابوغۃ عــہ والبطیخ بلا استخراج [8] اھ واقرہ۱۵ ط وفی الھندیۃ ولا بماء یسیل من الکرم کذا فی الکافی والمحیط وفتاوٰی قاضی خان وھو الاوجہ ھکذا فی البحر۱۷ وھوالاحوط کذا فی شرح منیۃ المصلی لابرھیم الحلبی [9] اھ وفی البحرالرائق والنھر ۱۸الفائق المسرح بہ فی کثیر من الکتب انہ لایجوز الوضوء بہ واقتصر علیہ قاضی خان فی الفتاوٰی وصاحب المحیط وصدربہ فی الکافی وذکرالجواز بصیغۃ قیل وفی شرح منیۃ المصلی الاوجہ عدم الجواز فکان ھوالاولی لما انہ کمل امتزاجہ کما صرح بہ فی الکافی فما وقع
اس نام کے سلب کرنے میں کوئی تاثیر نہیں ہے اھ اور در میں اسی کو اظہر کہا جیساکہ شرنبلالیہ میں برہان سے ہے اور اسی پر قہستانی نے اعتماد کیا اور کہا نچوڑنا حقیقی اور حکمی دونوں کو عام ہے جیسے انگور کا پانی اسی طرح تربوز کا پانی ، اور خربوزے کا پانی بلا نکالے ہوئے اھ اور اس کو 'ط'نے برقرار رکھااور ہندیہ میں ہے نہ اس پانی سے جو انگور کی بیل سے نکلتا ہے اسی طرح کافی ، محیط میں ہے اورفتاوٰی قاضی خان میں ہے یہی اوجہ ہے یہی بحر میں ہے اور یہی احوط ہے اسی طرح شرح منیۃ المصلی میں ہے جو ابراہیم حلبی کی ہے اھ اور بحر اور نہر میں ہے کہ بہت سی کتب میں صراحت ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں ، اور اس پر قاضیخان نے فتاوٰی میں اکتفاء
عــــہ : الدا بوغۃ والدابوقۃ والحبحب ھوالبطیخ الاخضرکما فی ش عن بعض المحشین عن کتب الطب وذکر فی التحفۃ والمخزن دابوقۃ بالقاف وزعماانہ من اسمائہ بالعربی وذکرامنھااللاغ و البطیخ الھندی والبطیخ الشامی والبطیخ الفلسطینی وبالفارسیۃ ھندوانہ وبالھندیۃ تربوز ولم یذکر ادا بوغہ بالغین ۱۲ منہ۔ (م)
دابوغہ ، دابوقہ اورحبحب تربوز کو کہتے ہیں جیسا کہ شامی میں ہے کہ بعض حاشیہ نگاروں نے کتبِ طب سے اس کی یہی تشریح نقل کی ہے اور تحفہ اور مخزن میں دابوقہ “ ق “ سے ہے ، ان کاخیال ہے کہ یہ اس کا عربی نام ہے ان دونوں کتب میں لاغ اور بطیخ ہندی ، بطیخ شامی اور بطیخ فلسطینی کاذکر ہے فارسی میں ہندوانہ اور ہندی میں تربوز کہتے ہیں ان دونوں کتابوں میں دابوغہ “ غ “ کے ساتھ کا ذکر نہیں ۱۲ منہ(ت)
فی شرح الزیلعی انہ لم یکمل امتزاجہ ففیہ نظر [10] اھ وفی ش۱۹ عن الرملی۲۰ علی المنح من راجع کتب المذھب وجداکثرھا علی عدم الجواز فیکون المعمول علیہ فما فی ھذا المتن(یرید التنویر)مرجوع بالنسبۃ الیہ [11] اھ۔
کیا ، اسی طرح صاحبِ محیط نے اس پر اکتفاء کیا اور اس کو ابتداء میں ذکر کیا کافی میں اورجواز کا ذکر بصیغہ قیل کیا اور شرح منیۃ المصلی میں ہے کہ اوجہ عدمِ جواز ہے تو یہی اولٰی ہے کیونکہ اس کا امتزاج مکمل ہو گیا ہے جیسا کہ کافی میں مصرّح ہے تو شرح زیلعی میں اس کے امتزاج کو مکمل نہ بتاناقابلِ اعتراض ہے اھ اور 'ش' میں رملی علی المنح سے منقول ہے کہ جس نے کُتبِ مذہب کو دیکھا ہے اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر میں عدم جواز ہے تو اسی پر اعتماد ہوگا ، تو جو اس متن(تنویر)میں ہے وہ اس کی نسبت مرجوع ہے اھ۔ (ت)
(۲۰۶)تاڑی(۲۰۷)سیندھی
اقول : حتی علی قول من یجوز بقاطر الکرم فانہ عــہ ماء کان تشربہ فاذاارتوی ردہ
میں کہتا ہوں یہاں تك کہ جو حضرات انگور کی بیل سے ٹپکنے والے پانی سے وضو کے جواز کے قائل ہیں تو وہ یہی
عــہ ھذا ھو صریح مفادکلام الزیلعی ومن تبعہ لکن فی الارکان الاربعۃ لبحرالعلوم مانصہ اختلفوا فی ماء سال من الکرم ونحوہ بنفسہ ففی الھدایۃ یجوز بہ التوضی وفی الکافی وفتاوی قاضی خان لایجوز لانہ لیس ماء انماھو شبیہ بالماء ویطلق علیہ الماء مجازا اھ اقول لیس التعلیل فی الکافی ولا فی الخانیۃ بل لم ارہ لاحد قبلہ بل(۱)زعم
یہ صریح مفہوم ہے زیلعی کے کلام کااور اس کے متبعین کے کلام کا ، لیکن بحر العلوم کی ارکانِ اربعہ میں ہے اُس پانی میں اختلاف ہے جو انگور کی بیل سے ٹپکتا ہے ، ہدایہ میں ہے اس سے وضو جائز ہے ، کافی اور فتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ وضو جائز نہیں کیونکہ وہ پانی نہیں ہے پانی کے مشابہ ہے اور اس پر پانی کا اطلاق مجاز ہے اھ
میں کہتا ہوں کہ تعلیل نہ کافی میں ہے اور نہ خانیہ میں ہے بلالکہ میں نے اُن سے پہلے کسی کے کلام (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع