30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عذب فرات وھذا ملح اجاج ھذا ینبت ویروی وھذا لایفعل شیا منہ وقد یمکن(۲)عقد الملح بماء البحر بالطبخ ولا یخرجہ ھذا عن المائیۃ فکذا لواجتزأ بعض المیاہ لشدۃ حدتہ عن الطبخ بحرارۃ الشمس لم یکن فیہ اختلاف الماھیۃ فھزا ربمایقضی لما فی الدر والدرر بالترجیح٭ لکن لمااختلفواولم یتبین الامر قدمت الحاظر علی المبیح٭ولکن العجب من العلامۃالشرنبلالی علل فی المراقی المنع من ذائب الملح بمامرانہ یذوب شتاء ویجمد صیفا ثم قال وقبل انعقادہ ملحا طھور [1] اھ وا لله تعالٰی اعلم۔
میرے نزدیك اگر وہ حقیقۃً پانی ہی تھاجیسا کہ ظاہر ہے تو اس سے وضو کے جواز میں کوئی شك نہ ہونا چاہئے کیونکہ پانی تو پانی ہی ہے خواہ سخت میٹھا ہو یا سخت کڑوا ہو ، خانیہ میں ہے اگر سیلاب کے پانی سےوضوکیاتوجائز ہے خواہ اس میں مٹی ملی ہُوئی ہو جبکہ پانی غالب رقیق ہو ، میٹھا ہویا نمکین ہو اھ اور یہ بات کہ وہ گرمیوں میں جم جاتا ہے اور سردیوں میں پگھل جاتا ہے اس کو پانی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بنادیتا ہے کیونکہ جاڑوں میں جمنا گرمیوں میں پگھلنا نہ تو پانی کی ماہیت کے اورکان سے ہے اور نہ شرائط سے ہے اور یہ اوصاف ہیں جو قسموں کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں ، کوئی سخت میٹھا ، کوئی سخت نمکین ، کوئی اُگانے والااور سیراب کرنے والا ہوتا ہے اورکچھ بے فائدہ ہوتا ہے اور کبھی سمندری پانی کو ابال کر نمك بنا لیا جاتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پانی نہیں تھا ، اسی طرح اگر کوئی پانی آفتاب کی گرمی سے گرم ہونے کی وجہ سے متجزی ہوگیا تویہ اس کی ماہیت کو تبدیل نہیں کرتا ، اس سے اس چیز کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے جو در اوردرر میں ہے لیکن فقہاء کے اختلاف کی وجہ سے میں نے منع کرنے والی دلیل کو مباح کرنے والی دلیل پر ترجیح دی ہے ، مگر علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مراقی الفلاح میں منع کی علت پگھلے ہوئے نمك میں یہ بتائی کہ وہ سردی میں پگھلتا اور گرمیوں میں جمتا ہے اور نمك بننے سے قبل وہ پاك ہوتا ہے و الله تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱۹۱)نوشادر کا پانی کہ اس کے بہنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۱۹۲)آبِ کافور کہ اس کے پگھلنے سے حاصل ہو ریاحی کا فور جسے یہاں بھیم سینی کہتے ہیں دھوپ کی گرمی سے پگھل جاتا ہے۔
(۱۹۳)آبِ کافور کہ درخت کا فور کاٹتے وقت اس سے ٹپکتا ہے۔
(۱۹۴)آبِ نفط بالکسر ایك روغنی رطوبت تیز رائحہ ہے کہ بعض زمینوں سے اُبلتی ہے۔
(۱۹۵)مٹی کا تیل مثل آبِ نفط ہے۔ بزازیہ میں ہے : ماء الملح لایجوزالوضوء بہ وکذا ماء النفط [2] (نمك کے پانی سے وضو جائز نہیں ، اور ایسے ہی ماء النفط(ایك معدنی تیل)سے۔ ت)
(۱۹۶)زِفت بالکسر درخت صنوبر نر کامد جو پھل نہیں دیتا۔
(۱۹۷)راتیانج درخت صنوبر مادہ کامدجس میں پھل آتا ہے۔
(۱۹۸)قطران ایك قسم کا درخت سروکامد۔
(۱۹۹)قیر ایك سیاہ رطوبت کہ بعض زمینوں یا گرم چشموں سے ابلتی ہے۔
(۲۰۰)قفر الیہود ایك بودار رطوبت بنفشی رنگ کہ مثل قیر بعض دریاؤں سے نکلتی ہے۔
(۲۰۱)عنبر کہ یہ بھی ایك قول میں ایك معدنی رطوبت ہے بعدکو حرارت آفتاب وغیرہ سے منجمد ہوجاتی ہے۔
(۲۰۲)مومیائی
(۲۰۳)سلاجیت یہ دونوں پتھر کے مدہیں اورابتدا میں سیال ہوتے ہیں وکل ذلك فی معنی ماء النفط(یہ سب ماء النفط(ایك معدنی تیل)کے معنی میں ہیں۔ ت)
(۲۰۴)نیم وغیرہ درختوں کامد
(۲۰۵)موسم بہار میں انگور کی بیل سے خود بخودپانی ٹپکتا ہے اس میں اختلاف ہے اورراجح یہی ہے کہ اُس سےوضوجائز نہیں۔
فی الھدایۃ(لایجوزبما اعتصر من الشجر والثمر) لانہ لیس بماء مطلق والحکم عند فقدہ منقول الی التیمم اما الماء الذی
ہدایہ میں ہے(وضو اس پانی سے جائز نہیں جو درخت اور پھل سے نچوڑا گیا ہو)کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں رہا ، اورجب مطلق پانی نہ ہو تو پھر حکم تیمم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے
یقطع من الکرم فیجوز التوضی بہ لانہ ماء یخرج من غیر علاج ذکرہ فی جوامع ابی یوسف رحمہ ا لله تعالٰی وفی الکتاب اشارۃ الیہ حیث شرط الاعتصار [3] اھ واقرہ فی العنایۃوالفتح وغیرھما وتبعہ صاحب المجمع فی شرحہ وفی التبیین ان کان یخرج من غیرعلاج لم یکمل امتزاجہ فجاز الوضوء بہ کالماء الذی یقطر من الکرم [4] اھ وتبعہ المحقق فی الفتح وقال صدرالشریعۃ وتبعہ ابن کمال باشا فی ایضاحہ اماما یقطر من شجر فیجوز بہ الوضوء [5] اھ وھو اختیار الامام الاسبیجابی کما یاتی فی سادس ضوابط الفصل الثالث وادخلہ العلامۃالتمرتاشی فی متنہ فقال لا بعصیرنبات بخلاف مایقطر من الکرم بنفسہ [6] اھ
واغرب المدقق العلائی فی شرحہ فزادبعدقولہ من الکرم اوالفواکہ ولم ارہ لغیرہ والجمھور علی المنع ونصوا عـــہ
بہرحال وہ پانی جو انگور کی بیل سے ٹپکتاہے اس سے وضو جائز ہے کہ وہ بغیر عمل کے نکلا ہے اس کو جوامع ابی یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں ذکر کیا اور کتاب میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ ا س میں نچوڑ کی شرط ہے اھ اور اس کو عنایہ اور فتح وغیرہ میں برقرار رکھااورصاحب المجمع نے اس کی شرح میں اس کی متابعت کی اور تبیین میں ہے کہ بغیر عمل کے اگر عرق نکل آئے تو اس کا امتزاج پورا نہ ہوگااور اس سے وضو جائز ہے جیسے انگور کی بیل سے ٹپکنے والا پانی اھ محقق نے فتح میں اس کی پیروی کی اورصدرالشریعۃ نے فرمایا ابن کمال پاشا نے اپنی ایضاح میں اس کی پیروی کی فرمایا جو پانی درخت سے ٹپکتا ہے اس سے وضو جائز ہے اھ اور وہ امام اسبیجابی کامختار ہے جیساکہ تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں آئیگااورعلامہ تمرتاشی نے اس کو متن میں داخل کیااور فرمایاگھاس کے عرق سے جائز نہیں بخلاف اس پانی کے جو انگور کی بیل سے خود بخود ٹپکتا ہے اھ(ت)
اور مدقق علائی نے اپنی شرح میں بڑی عجیب بات کہی یعنی یہ کہ من الکرم کے بعد انہوں نے “ اوالفواکہ “ کااضافہ کیا ، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کے کلام میں
عــــہ : وقدمر تأییدہ فی ۱۸۰ فتذکر ۱۲ منہ غفرلہ(م)
[1] مراقی الفلاح مع الطحطاوی ، کتاب الطہارت نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳
[2] فتاوٰی بزازیۃ مع العالمگیری نوع فی المستعمل والمطلق والمقیدنورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
[3] ہدایۃ باب الماء الذی یجوبہ ومالایجوز مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۶
[4] تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبع الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۰
[5] شرح الوقایۃ مالایجوزبہ الوضوء المکتبۃ الرشیدیۃ دہلی ۱ / ۸۴
[6] درمختار باب المیاہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع