30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اچھا ہے کیونکہ عبارت کی توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ “ اشربہ “ سے وہ مراد ہیں جو ان دونوں سے بنائے جائیں اھ اور آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کی تاویل قابلِ ذکر بھی نہیں چہ جائیکہ مولی خسرو کے کلام کو اس پر محمول کیا جائے ، پھر توجیہ کو امکان سے تعبیر کرنا ، و الله المستعان ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
کہ وہ طبیعت آب کے خلاف ہے پانی سردی سے جمتا ہے اور وہ گرمی میں جمتا جاڑے میں پگھلتا ہے۔ تبیین الحقائق وبحرالرائق وبزازیہ میں ہے :
لایجوز بماء الملح وھو یجمد فی الصیف ویذوب فی الشتاء عکس الماء [1]۔
نمك کے پانی سے وضو جائز نہیں ، نمك گرمی میں جم جاتا ہے اور سردی میں پگھلتا ہے پانی کے برعکس۔
غرر وتنویر ودرر ودر میں ہے :
والنظم للدرر(یجوز ان)ای الوضوء والغسل بماء ینعقد بہ الملح)کذا فی عیون المذاھب(لابماء الملح)الحاصل بذوبان الملح کذا فی الخلاصۃ ولعل الفرق ان الاول باق علی طبیعتہ الاصلیہ والثانی انقلب عــہ الی طبیعۃ
عبارت درر کی ہے وضو اور غسل جائز ہے(اس پانی سے جس سے نمك بنا ہے)یہی عیون المذاہب میں ہے(نہ کہ نمك کے پانی سے)جو نمك سے پگھل کر حاصل ہوتا ہے ، خلاصہ میں یہی ہے اور غالبًا فرق یہ ہے کہ اوّل اپنی اصل طبیعت پر واقع ہے اور دوسرا دوسری
عــہ قال الخادمی اورد الجمد والبخار اھ اقول توھم (۱)الانقلاب فی الجمد انما یتأتی ممن یزعم ان السمن فی الشتاء لایبقی سمنابل ینقلب ماھیہ اکری قال واجیب المراد الطبیعۃ غیر الملائمۃ للمائیہ اھ اقول ومراد الایرادان الماء یجمد ویصیربخارا فلا یتوضو بہ ثم اذا ذاب ذاك وتقاطر ھذا جاز لعود ھما الی المائیہ کما کاناعلیھا فلو ان الماء الذی سینعقد ملحا کان باقیا علی طبیعۃ الاصلیہ کما قلتم انما لایجوز الوضوء بہ حین یصیر ملحا فاذا ذاب فقد عاد الی طبیعۃ الاولی فما وجہ الفرق بین
خادمی نے کہا کہ جمد اور بخار سے اعتراض کیا گیاہے اھ میں کہتا ہوں جمد میں انقلاب کا وہم یہ وہی کہہ سکتا ہے جس کو یہ گمان ہو کہ گھی سردیوں میں گھی نہیں رہتا ہے بلالکہ اس کی ماہیت بدل جاتی ہے فرمایا ، جواب دیا گیا ہے کہ مراد وہ طبیعت ہے جو پانی کے مناسب نہ ہو اھ میں کہتا ہوں کہ اعتراض یہ ہے کہ پانی جم کر بخار بنتا ہے تو اس سے وضو نہیں کیا جاتا ہے ، پھر جب یہ پگھلتاہے اور ٹپکتا ہے تو وضو جائز ہوتاہے کیونکہ یہ دونوں پانی بن جاتے ہیں ، تو جو پانی جم کر نمك ہوجاتا ہے اگر بقول آپ کے اپنی اصلی طبیعت پر باقی ہوتو اس سے نمك ہونے کی حالت میں وضو جائز نہ ہوگا ، اور جب وہ پگھلے گا تو اپنی پہلی طبیعت کی طرف واپس آجائے گا تو جو (باقی برصفحہ آئندہ)
اخری [2] اھ واعترضہ محشیہ العلامۃ
طبیعت کی طرف منتقل ہوگیا اھ اس پر اس کے محشی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ماسینعقدوماکان انعقد فان ضر تخلل الانقلاب الی طبیعۃ اخری فلیضر فی الجمد الذائب والسحاب الصائب وحاصل الجواب ان المضر تخلل طبیعۃ لاتناسب طبیعۃ الماء وذلك فی الملح بخلاف الجمد والبخار اھ۔ اقول : (۱)ویکدرہ ان لیس بین ماء ملح سینعقد ملحاوبین الملح الا السیلان والجمود وبھذا لقدر لایحصل تباین الطبیعتین وعدم التناسب بینھماکیف وھو حین ھو علی شرف الانعقاد فیہ کل ما فی الملح غیر انہ لم یجمد وسیجمد کالسمن والعسل فی الصیف والشتاء فکیف یقال ان الطبیعۃ الملحیہ لاتناسب طبیعۃ ذالك الماء فانقلت المراد بطبیعۃ الماء ھی الرقۃ ولا شك ان الجمود یباینھا اقول : فیعودالایراد بالجمد فان التباین بین الرقۃ والجمود لذاتیھما لالمایعرضانہ من ماء اوملح فعلیك بالتثبت وا لله تعالٰی اعلم ثم رأیت الجواب المذکور فی الخادمی للدانی افندی قال بعدہ وھی طبیعۃ الملحیہ فیکون ماؤہ
منعقد ہوگا اور جو منعقد ہوچکا ہے اس میں فرق کی کیا وجہ ہے تو اگر پانی کا دوسری طبیعت کی طرف انقلاب خلل پیدا کرتا ہے تو یہ چیز اس جمد میں بھی مضر ہونی چاہئے جو پگھل گیا ہے اور اسی طرح بہنے والے بادل میں اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ مضر ایسی طبیعت کا خلل انداز ہوناجو پانی کی طبیعت سے مناسب نہ ہو ، اور یہ چیز نمك میں ہے بخلاف جمد اور بخار کے۔ میں کہتا ہوں اس کو یہ چیز مکدر کرتی ہے کہ جو نمکین پانی نمك بننے والا ہے اور جو بالفعل نمك ہے اس میں سوائے سیلان اور جمد کے کیا فرق ہے اور دونوں عدمِ مناسبت بھی نہ ہوگی ، پھر جب وہ جمنے کے قریب ہوتا ہے تو اس میں وہ تمام خصوصیات ہوتی ہیں جو نمك میں ہوتی ہیں صرف اتنا ہے کہ وہ ابھی جما نہیں ہے اب جم جائیگا جیسے گھی اور شہد گرمی اور جاڑے میں ، تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ نمك کی طبیعت اس پانی کے مناسب نہیں ، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پانی کی طبیعت سے مراد رقّت ہے اور کچھ شك نہیں کہ جمود اس کے مخالف ہے۔ میں کہتا ہوں پھر وہی اعتراض ہوگا کہ جمد میں تباین رقّت اور جمود کا ذاتی ہے عارضی نہیں کہ پانی یا نمك کی وجہ سے ہو ، تو غور کرنا لازم ہے ، و الله تعالٰی اعلم۔ پھر میں نے مذکور جواب دانی آفندی کی خادمی(باقی برصفحہ آیندہ)
نوح افندی کمافی ش بان عبارۃ الخلاصۃ ولوتوضو بماء الملح لایجوز ثم نقل عن البزازیہ و الزیلعی ماقدمناقال واقرہ صاحب البحر والعلامۃالمقدسی ومقتضاہ انہ لایجوز بماء الملح مطلقًا ای سواء انعقد ملحا ثم ذاب اولا وھو الصواب عندی [3] اھ ملخصا۔
علامہ نوح آفندی نے اعتراض کیا ہے ، جیساکہ “ ش “ میں ہے کہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر کسی نے نمك کے پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں۔ پھر بزازیہ اور زیلعی سے انہوں نے وہی نقل کیا جو ہم نے بیان کیا اور فرمایا اس کو صاحب بحر اور علامہ مقدسی نے برقرار رکھا اس کا مفہوم وہی ہے کہ نمك کے پانی سے مطلقًا وضو جائز نہیں ہے خواہ نمك بن کر پھر پگھلا ہو یا نہ اور میرے نزدیك یہی صواب ہے اھ ملخصا۔ (ت)
اقول : نمك اقسام ہے ایك وہ رطوبت کہ پہاڑ یا غار سے جوش کر کے نکلتی اور جم جاتی ہے جیسے نمك لاہوری واندرانی اور سانبھریہ ابتداء جب تك بستہ نہ ہوئی تھی یقینا اُسی کی مانند ہے جب بستہ ہو کر پگھل جائے کہ وہ پانی کی نوع ہی سے نہیں ، دوم دریائے نمك کامنجمد حصہ یہ بعض تیز وتندو حار وحاد چشموں کا پانی ہے کہ جب حرارتِ آفتاب اس میں عمل کرتی ہے کناروں کناروں سے جم جاتا ہے بیچ میں بہتا پانی رہتا ہے اس میں جو چیز پڑے ایك مدت کے بعد نمك ہوجاتی ہے اختلاف اسی پانی میں ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بعد الذوبان کماء الذھب والفضۃ بخلاف الجمد اذا انقلب ماء فانہ ملائم یطبع الماء اھ نقلہ السید الازھری اقول والرد علی ھذااظھر فانہ لاینقلب بعد الذوبان الا الی ماکان علیہ وقد کان عندکم علی طبیعتہ الاصلیہ فکذالك بعد الزوبان ۱۲ منہ غفرلہ(م)
میں دیکھا اس کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ نمك کی طبیعت ہے تو اس کا پانی پگھلنے کے بعد سونے چاندی کے پانی کی طرح ہوگا بخلاف جمد کے جب وہ پانی ہوجائے کیونکہ یہ پانی کی طبیعت کے مناسب ہے اھ اس کو سید ازہری نے نقل کیا۔ میں کہتا ہوں اس پر رد اظہر ہے کیونکہ وہ پگھلنے کے بعد پہلی ہی حالت کی طرف لَوٹے گا اور تمہارے نزدیك وہ اصل طبیعت پر تھا تو اسی طرح پگھلنے کے بعد ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
والذی یظھر لی انہ ان(۱)کان ماء حقیقۃکما ھو الظاھر فلا ینبغی الریب فی جواز الوضوء بہ لان الماء ماء سواء کان عذبا فراتا اوملحا اجاجا وقد قال فی الخانیۃ لوتوضأ بماء السیل یجوز وان خالطہ التراب اذا کان الماء غالبا رقیقا فراتا کان اواجاجا [4] اھ(۱)وکونہ یجمد صیفاویذوب شتاء لا یجعلہ نوعااٰخر غیر الماء فلیس من ارکان ماھیۃ الماء ولا من شرائطھا الجمودشتاء و الذوبان صیفاوانماھذہ اوصاف تختلف باختلاف الاصناف ھذا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع