30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فیہ لم یجز الوضوء بہ و الاجاز [1] اھ وھکذا عبربہ تبعالہ فی الحلیہ و البحر وغیرھما بلفظۃ اوللتردیدواتی بہ فی الغنیہ قاطعا لوھم خطأالکتابۃ فقال وان خالف الماء فی وصفین کاللبن یخالفہ فی اللون والطعم فالمعتبر ظھور غلبۃ احد الوصفین [2] بل افصح بہ کذلك الزیلعی (ع)اگر نہ رنگ بدلا ہو اور نہ مزہ۔
(ھ)اگر رنگ اور مزہ دونوں کو اکٹھا نہ بدلاہو ، امام بدر محمودکی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے کہ ہمارے نزدیك اُس پانی سے وضو جائز ہے جس میں دودھ مل گیا ہو اس میں شافعی کا اختلاف ہے اھ اور متن ہدایہ میں ہے اُس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو اور اُس نے پانی کے کسی ایك وصف کو بدل دیا ہو جیسے وہ پانی جس میں دودھ مل گیا ہو اھ اور اس کو عنایہ وغیرہ میں برقرار رکھا ، حلیہ اور بدائع کی تصریحات گزر چکی ہیں کہ اعتبار رنگ کا ہے ، اور تبیین میں ہے کہ ملنے والی چیز اگر پانی سے ایك یا دو اوصاف میں مختلف ہو تو اسی وجہ سے غلبہ کااعتبار ہوگا ، مثلًا دُودھ پانی سے رنگ اور مزہ میں مختلف ہے تو اگر دودھ کا رنگ یامزہ اس میں غالب ہو تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا ، ورنہ جائز ہوگا اھ(ت)اور اسی طرح انہوں نے اس کی تعبیر کی ان کی اتباع کرتے ہوئے حلیہ اور بحر وغیرہ میں اوکے کلمہ کے ساتھ جو تردید کے لئے ہوتاہے اور غنیہ میں اس کو اس انداز سے ذکر کیا کہ کتابت کی غلطی کا وہم نہ رہے چنانچہ فرمایا اور اگر وہ چیز پانی سے دو وصفوں میں مخالف ہو جیسے دودھ کہ پانی سے رنگ اور مزہ میں مختلف
فی اٰخر الکلام لکن۵ المحقق فی الفتح مع نقلہ عن التبیین عبربالواوفقال اوفی بعضھا فبغلبۃ مابہ الخلاف کاللبن یخالف فی الطعم واللون فان غلب لونہ وطعمہ منع والاجاز [3] وکذلك فی الدرر واعترضہ الشرنبلالی فقال یجب ان یقال لونہ اوطعمہ باولابالواو کما قال الزیلعی المقتحم لھذا الضابط [4] اھ واجاب العلامۃ عبد الحلیم بانہ فی اللبن صفتان یغایر بھما الماء المطلق احدھما اقوی من الاخری لماان تغیر اللون یحصل فیہ بالقلیل فکان الغلبۃ ان توجد الاخری وذا کالبدیھی ومن ذلك لم یقل اوطعمہ باوکمافی عبارۃ الزیلعی ردا علیہ [5] اھ
اقول : اولًا(۱)ان ارادالقلیل بالنسبۃ الی الماء فنعم ولکن لانظرھھناالی الاجزاء باجماع اھل الضابطۃ التی صاحب الدررھھنابصددبیانھا
وانماالعبرۃ بھافیمایوافق الماء فی الاوصاف وقد(۲)مشی
ہوتا ہے تو اعتبار ایك وصف کے غلبہ کے ظہور کا ہوگا ، بلالکہ اسی طرح اس کی وضاحت زیلعی نے کلام کے آخر میں کر دی ، لیکن محقق نے فتح القدیر میں تبیین سے نقل کرتے ہوئے واؤ سے تعبیر کیا اور کہا یا بعض میں اختلاف ہو تواس صورت میں اس چیزکے غلبے کااعتبار ہوگا جس کی وجہ سے اختلاف ہے جیسے دودھ کہ پانی سے مزہ اور رنگ میں مخالف ہوتاہے تو اگر اس کا رنگ اور مزہ غالب ہوجائے تو اس سے طہارت نہیں ہوسکتی ہے ورنہ جائز ہے ، اس طرح درر میں ہے ، اس پر شرنبلالی نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ لونہ اوطعمہ کہنا چاہئے اَو کے ساتھ ، واؤ کا استعمال نہ کرنا چاہئے ، جیسا کہ زیلعی نے کہا جو اس ضابطہ کے تکلف میں پڑنے والے ہیں ، علامہ عبدالحلیم نے جواب دیا کہ دودھ میں دو صفات ہیں جن کی وجہ سے وہ مطلق پانی سے ممتازہوتا ہے ، ایك صفت دوسری سے قوی تر ہے ، کیونکہ اس میں رنگ کا تغیر تھوڑی سی مقدار سے ہی حاصل ہوجاتاہے تو غلبہ یہ ہوگا کہ دوسری صفت پائی جائے اوریہ بدیہی کی طرح ہے اور اس لئے “ اوطعمہ “ نہ کہا “ اَو “ کے ساتھ ، جیسے کہ زیلعی میں ہے تاکہ اس پر رَد ہوجائے اھ۔ (ت)میں کہتا ہوں اول اگر تو وہ اسکو بہ نسبت پانی کے قلیل کہتے ہیں ، تودرست ہے ، لیکن اہل ضابطہ کے اجماع سے یہاں اجزاء پر نظر نہیں کی جاتی ہے ، اس ضابطہ سے مراد وہ ضابطہ ہے جس کو صاحبِ درریہاں بیان کر رہے ہیں ان اجزاء کا اعتبار اُن اوصاف میں ہے جو پانی
علیہ الدرر ھھنافجعلہ حکم مالایخالف الماء فی صفۃ وجعل اللبن قسیمہ لاسھیمہ وان اراد القلیل فی نفسہ فھو ھھناالمغلوب المستھلك الذی لایظھرلہ اثر بین واللبن اذااحال الماء الی لونہ کیف یعد قلیلا۔
وثانیًا : ھذا(۱)ھو قضیہ القیاس فی الضابط لان ماخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ اعتبر فیہ الغلبۃ بوصفین لان للاکثر حکم الکل وما خالف فی وصف واحد اعتبر فیہ الغلبۃ بہ بقی ماخالف فی وصفین فان غلب بھما معا فلا کلام وان غلب باحدھما کان الغلبۃ بالنصب والنصف احق ان یلحق بالکل من ان یطرح بالکلیہ ھذا ولکن الحق عندی فی اللبن علی الضابط المذکور ان تعتبر فیہ الغلبۃ بوصفین اثنین لابوصف واحد(۲)لان اللبن مما یخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ جمیعا ولخفاء رائحتہ غالبا ولواغلی لظھرت ذھب الوھم الی انہ لایخالف الا فی وصفین وقد قال العلامۃ الرملی فی حاشیہ البحر ثم الشامی فی المنحۃ وردالمحتار المشاھد فی اللبن مخالفتہ للماء فی الرائحۃ ایضا [6] اھ
کے موافق ہوں اوصاف میں ، اور درر نے یہاں ان کو بیان کیا ہے ، تو انہوں نے اس کو اس چیز کا حکم قرار دیاجو پانی کے مخالف نہ ہو کسی صفت میں اور دودھ کو اس کا قسیم قرار دیا نہ کہ اس کا سہیم ، اور اگر فی نفسہ کم کا ارادہ کیا تو وہ یہاں نہ ہونے کے برابر ہے جس کاکوئی واضح اثرظاہر نہیں ہوتا ہے جس کا کوئی واضح اثر ظاہر نہیں ہوتا ہے ، اور جب پانی دودھ کا رنگ اختیار کرے تو دودھ کو کس طرح کم کہا جاسکتا ہے؟(ت)
اور دوم یہ ہے کہ یہ ضابطہ میں قیاس کا تقاضا ہے ، کیونکہ جو چیز پانی کے اوصافِ ثلثہ میں پانی سے مختلف ہے اس میں معتبر دو صفوں کا غلبہ ہے ، کیونکہ اکثر کیلئے کل کا حکم ہے اور جو چیز پانی سے ایك وصف میں مختلف ہو اس میں ایك وصف کا غلبہ معتبر ہوگا ، اب صرف وہ چیز رہ گئی جو دو صفوں میں پانی کے مخالف ہو اگر دونوں وصفوں میں پانی کے مخالف ہو اگر دونوں وصفوں میں اکٹھا غلبہ ہوجائے تب تو بات واضح ہے اور ایك میں غلبہ ہو تو غلبہ آدھے سے ہوگا اور نصف اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو کل سے ملایا جائے نہ یہ کہ اس کو بالکلیہ ساقط کیا جائے ، اس کو یاد رکھئے۔ لیکن میرے نزدیك حق ، اس ضابطہ کے مطابق یہ ہے کہ اس میں دو وصفوں کے غلبہ کا اعتبار کیا جائے نہ کہ ایك وصف کا ، کیونکہ دُودھ پانی سے تینوں وصفوں میں مخالف ہوتا ہے ، چونکہ اس کی بُو بہت ہلکی ہوتی ہے ابالنے پر ظاہر ہوتی ہے اس لئے یہ وہم ہوتا ہے کہ وہ صرف دو وصفوں میں مخالف ہوتا ہے ، علامہ رملی نے بحر کے حاشیہ میں فرمایا ، شامی
اقول : غیران اقوی اوصاف اللبن لونہ ثم طعمہ ثم ریحہ ولا یتغیر بہ فی الماء وصف لاحق الا وقد سبقہ سابقہ فاذا تغیر شیئ منھا فقد تغیر اللون واذا لم یتغیر اللون لم یتغیر شیئ منھا فاتفقت الاقوال علی جواز الوضوء بماء خالطہ لبن لم یتغیر لونہ وبہ ظھر ان تردیر(۱)الامام الزیلعی مستغنی عنہ فان تغیر الطعم مستلزم تغیر اللون فکان ینبغی الاقتصار علی اللون کما فعل المتقدمون وقد نقلہ الزیلعی عن الاسبیجابی کما علمت وا لله تعالٰی اعلم۔
نے منحۃ میں اور ردالمحتار میں فرمایا کہ دُودھ پانی سے بُو میں بھی مخالف ہے اھ(ت)
[1] تبیین الحقائق کتاب الطہارت الامیریہ مصر ۱ / ۲۰
[2] غنیۃ المستملی فصل فی بیان احکام الماء مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ۹۱
[3] فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مالایجوز بہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
[4] حاشیہ علی الدرر للشرنبلالی ابحاث الماء المطبعۃ الکاملیہ بیروت ۱ / ۲۳
[5] حاشیہ علی الدرر للمولی عبدالحلیم بحث الماء ۱ / ۱۸
[6] منحۃ الخالق علی البحر کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع