دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

(۱۲۸)آبِ تربوز جسے تربوز کا شربت کہتے ہیں جس میٹھے پانی میں اتناملے کہ اس کا مزہ پانی پر غالب نہ ہوجائے اس سے بالاتفاق وضو ہوسکتا ہے۔ تبیین الحقائق وفتح القدیر وحلیہ وغنیہ ودرر وبحر وغیرہا میں ہے :

ماء البطیخ تعتبرالغلبۃ فیہ بالطعم [1] اھ اقول ویظھر لی تقییدہ بالماء العذب کما فعلت فان الماء الملح ربماتبلغ ملوحتہ بحیث لوخلط بہ ماء الحبحب اکثر من نصفہ لم یغلب علی طعمہ بل کانت حلاوۃ ھذا ھی المغلوبۃ فاعتبار الطعم ھھنا تضییق یؤدی الی توسیع خارج عن القوانین بمرۃ فلیتنبہ۔

اقول :  وھو وانکان ذاالاوصاف الثلثۃ۔ کما سیاتی لکن طعمہ اقوی فاذالم یتغیر لم یتغیر شیئ فلا یحصل الخلاف فی جانب الجواز وا لله تعالٰی اعلم۔

آبِ خربوزہ میں مزہ کے غلبہ کا اعتبار ہوگااھ اقول اور اس کو میٹھے پانی سے مقید کرنا ضروری ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے کیونکہ کھارے پانی کی نمکینی بعض اوقات اس درجہ زیادہ ہوتی ہے کہ اگر اس میں تربوز کا پانی آدھے سے بھی زیادہ ملا دیا جائے تو اس کا مزہ نہیں بدلتا ہے ، بلکہ اس کی مٹھاس مغلوب ہوجاتی ہے ، تو یہاں مزہ کا اعتبار کرنا بڑی تنگی ہے ، اس سے معاملہ بہت پھیل جائے گاجو شرعی قوانین کے بالکل مخالف ہے فلیتنبہ۔ (ت)

میں کہتا ہوں وہ پانی اگر تین اوصاف والا ہو(جیسا کہ آئے گا)لیکن اس کا مزہ قوی تر ہو ، تو جب مزہ نہ بدلا توکوئی وصف نہیں بدلے گا تو جواز کی جانب میں کوئی خلاف نہ ہوگا ، و الله تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۱۲۹)یوں ہی سپید انگور کاشیرہ اگر شیریں پانی میں ملے مزہ کااعتبارہے اگر اُس کامزہ غالب نہ ہوا قابلِ وضو ہے ، بدائع میں ہے :

انکان لایخالف الماء فی اللون ویخالفہ فی الطعم کعصیر العنب الابیض وخلہ تعتبر الغلبۃ فی الطعم [2]  اھ اقول وقیدتہ بالعذب لما علمت وحصول الوفاق لما سمعت۔

اگر وہ پانی کے رنگ میں مخالف نہ ہو مگر مزہ میں مخالف ہو جیسے شیرہ انگور سفید اور سفید انگور کا سرکہ تو مزہ میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اھ میں کہتا ہوں میں نے میٹھے کی قید اس لئے لگائی کہ آپ جان چکے ہیں اور اتفاق کا حاصل ہوجانا بھی آپ کو معلوم ہے۔ (ت)

(۱۳۰)سپید انگور کا سرکہ اگراُس کا مزہ اور بُو پانی پر کچھ غالب نہ آئے اُس سے وضو بالاتفاق جائز ہے ،

اقول لانہ ذووصفین وریحہ اقوی فان تغیر ریح الماء دون طعمہ لم یجز علی قضیہ الضابطۃ خلافا للحکم المنقول المار اٰنفا عن البدائع فلم یحصل الوفاق فی جانب الجواز الا اذالم یتغیر شیئ۔

میں کہتا ہوں اس لئے کہ اس میں دو وصف ہیں ، اور اس کی بُو قوی تر ہے تو اگر پانی کی بُو بدل گئی مزہ نہ بدلا تو ضابطہ کی رُو سے وضو جائز نہ ہوگا لیکن بدائع کے حوالے سے جو حکم ابھی گزراہے یہ اُس کے برخلاف ہے توجوازکی جانب میں اتفاق حاصل نہ ہوا ، یہ صرف اس صورت میں ہوگاجبکہ کوئی وصف نہ بدلے۔ (ت)

(۱۳۱)اور سرکے کہ رنگت بھی رکھتے ہیں اگرپانی میں اتنے ملیں کہ اُن کاکوئی وصف پانی پر غالب نہ آئے یاصرف بُو غالب آئے اُس سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔

اقول :  وذلك لانھاذوات الثلاث ومعلوم ان ریح الخل اقوی شیئ فلا یقع ان یتغیرطعم الماء وحدہ اولونہ فقط اوھمامعالاریحہ بل امالا یتغیر(۱)شیئ او(۲)یتغیرالکل او(۳)الریح وحدہ او(۴)مع اللون او(۵)مع الطعم والعبرۃ فی الضابطۃ للغلبۃ بوصفین والمنقول الغلبۃ باللون وحدہ کمامر عن حلیہ عن الزیلعی عن الاسبیجابی وعن النجم الزاھدی عن زاد الفقھاء وتقدم عن الامام ملك العلماء فیتفق المنقول والضابطۃ فی الصورۃ الاولی والثالثۃ علی الجواز وفی الثانیہ والرابعۃ علی المنع وفی الخامسۃ تتفرد الضابطۃ بالمنع۔             

میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تین وصف والے ہیں اوریہ معلوم ہے کہ سر کہ کی بُو قوی تر شیئ ہے تو یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ صرف پانی کا مزہ بدلے یا رنگ بدلے یادونوں بدل جائیں اور بُو نہ بدلے ، بلالکہ یا تو کچھ نہیں بدلے گا یا سب کچھ بدل جائے گایاصرف بُو بدلے گی یا رنگ کے ساتھ یا مزہ کے ساتھ اور ضابطہ میں اعتبار غلبہ کو ہے دو وصفوں کے ساتھ ، اور جو منقول ہے وہ صرف رنگ کا غلبہ ہے جیسا کہ حلیہ سے زیلعی سے اسبیجابی سے اور نجم زاہدی سے زاد الفقہا سے گزرا ، اور امام ملك العلماء سے بھی یہی منقول ہواہے اس لئے نقل اور ضابطہ میں اتفاق ہوگیا ، پہلی صورت اور تیسری میں اتفاق جواز پر ہے اور دوسری اورچوتھی میں عدمِ جواز پر اور پانچویں صورت میں ضابطہ کی رُو سے عدمِ جواز ہے۔ (ت)

(۱۳۲) اقول : اگر کوئی ذی لون سرکہ ایساہو کہ اُس کامزہ اس کے سب اوصاف سے اقوی ہو کہ اس کا قلیل سب سے پہلے پانی کے مزے کو بدلے اُس سے زاید ملے تو بُویا رنگ میں تغیر آئے اس صورت میں

اگر پانی کا کوئی وصف نہ بدلے یا صرف مزہ متغیر ہو تو اس سے وضو بالاتفاق جائز ہے لعدم غلبۃ اللون فی المنقول ولا تغیروصفین فی الضابطۃ (کیونکہ رنگ کا غلبہ نہیں ہے منقول میں اور دو وصفوں کا تغیر نہیں ہے ضابطہ میں۔ ت)

(۱۳۳)اقول اور اگر بالفرض اس کی رنگت سب سے قوی تر اور پہلے اثر کرنے والی ہو تو اس کے ملنے سے وضو بالاتفاق اُسی وقت جائز ہوگاکہ اس کے کسی وصف میں تغیر نہ آئے لان ای وصف منہ تغیر تغیرلونہ وبہ العبرۃ فی المنقول(کیونکہ اس کا جو وصف بھی بدلے گا اس کا رنگ بھی بدل جائے گا اور منقول میں اسی کا اعتبار ہے۔ ت)

(۱۳۴) دُودھ سے اگر پانی کا رنگ نہ بدلادُودھ کا رنگ اس پر غالب نہ ہوگیااس سے وضو بالاتفاق روا ہے۔

اقول : یہ ہے وہ حکم متفق علیہ کہ فقیر نے کلمات کثیرہ مختلفہ سے حاصل کیا وذلك لان الاقوال جاء ت ھھنا علی خمسۃ وجوہ (یہاں پانچ اقوال ہیں) (ا) یجوز مطلقًا  ،                    (ا) مطلق جواز ہے ،

اقول :  ای مالم یغلب علی الماء اجزاء فانہ معلوم الاستثناء اجماعا۔ (ب)یجوز ان غیر احد اوصافہ وستعرف ان العلماء اختلفوا فی اخذ احد ھذا فی مرتبۃ لابشرط شیئ فیشمل مااذاغیر غیر واحد ولو الکل وحینئذ یرجع الی القول الاول اوفی مرتبۃ بشرط لاشیئ فیتقید بما اذا اقتصر التغیر علی وصف واحد ولولونا۔

(ج)یجوز ان لم یغیر اللون۔

(ع)ان لم یغیر اللون ولا الطعم۔

(ھ)ان لم یغیرھما معا ففی عمدۃ ۱ القاری شرح صحیح البخاری للامام          

میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تك پانی پر اس کے اجزاء کا غلبہ نہ ہو ، کیونکہ یہ اجماعی طور پر معلوم الاستثناء ہے۔

(ب)جائز ہے اگر اس کے اوصاف میں سے کسی ایك کو بدلا ہو ، اور یہ عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ علماء نے اس کو لابشرط شیئ کے مرتبہ میں قبول کرنے سے اختلاف کیاہے تو یہ اس صورت پر بھی صادق آئے گا جب پانی کا ایك سے زاید وصف بدل گیاہو خواہ سب اوصاف ہی بدل گئے ہوں اوراس وقت پہلے قول کی طرف رجوع کرنا ہوگا یا یہ بشرط لاشیئ کے مرتبہ میں ہو تو یہ صرف اسی صورت میں منحصر رہیگا جبکہ تغیر ایك ہی وصف میں ہو خواہ رنگ ہی بدلا ہو۔

(ج)جائز ہے اگر رنگ کو نہ بدلا ہو۔

البدرمحمود التوضو بماء خالطہ لبن یجوز عندناخلافا للشافعی [3]  اھ وفی متن الھدایہ تجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کالماء الذی اختلط بہ اللبن [4]  اھ واقرہ فی العنایہ وغیرھاوسمعت۳ نصوص الحلیہ عمن ذکروا والبدائع ان العبرۃ باللون وقال۴ فی التبیین المخالط ان کان مخالفاللماء فی وصف واحدا ووصفین تعتبر الغلبۃ من ذلك الوجہ کاللبن مثلا یخالفہ فی اللون والطعم فان کان لون اللبن اوطعمہ ھوالغالب



[1]   بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰

[2]            بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵

[3]                  $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن