30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الطعم بجامد لایضر مالم یزل الاسم فیجب حمل ھذاالرابع وکذاالثانی علی الثالث ثم قد انعقد الاجماع والاطباق٭من جمیع الخداق٭ بغیرخلف وشقاق٭ان زول الاسم یسلب الاطلاق٭ کیف وانما عین الشرع للوضوء الماء٭ وھذا اذا زال الاسم لیس بماء٭ فھذا الشرط ملحوظ ابدابلا امتراء٭ وانکان یطوی ذکرہ٭ للعلم بالعلم بہ اذشاع امرہ٭ فیجب حمل عــہ الاول ایضًا
رنگ اورمزے کاکسی جامد سے بدلنا اس وقت تك مضر نہیں جب تك کہ نام نہ بدل جائے تو اس چوتھے اور دوسرے کاتیسرے پر حمل کرنا لازم ہے۔ پھر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جب نام زائل ہوجائے تو اطلاق باقی نہیں رہتا کیونکہ شریعت نے وضو کیلئے پانی کو متعین کر رکھا ہے اور جب نام زائل ہوگیا تو پانی نہ رہا یہ شرط اگرچہ مذکور نہ ہو معتبر رہے گی ، تو پہلے کو بھی تیسرے پر حمل کرنا لازم ہے ، اس طر ح
عــــــہ : (۱)ولکن العجب من العلامۃ الخادمی اذرد الثالث بالاول حیث قال عند قول الغررالماریجوزوان غیر اوصافہ جامدکزعفران فی الاصح مانصہ قیل عن البحران امکن الصبغ بہ لم یجز کنبیذ التمر لکن الظاھر انہ علی الروایہ المشار الی نفیھابقولہ فی الاصح اذھذا القول اشارۃ الی نفی ماعن الفقیہ احمد بن ابرھیم انہ لوظھرلون المخالط فی الکف لایجوز اھ فقدعلمت انہ لامساس لہ بنفی الثالث بل یجب ردہ الی ھذا نعم نفی قول الفقیہ صحیح وجیہ لان ظھور لون الاوراق فی الکف فی ماء الحوض لایزیل عنہ اسم الماء بخلاف الزعفران اذاجعلہ صالحاللصبغ ثم(۲)من العجب کلام الفقیہ انما کان فی الاوراق
لیکن علامہ خادمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے پہلے سے تیسرے کا رد کیا ہے۔ جہاں انہوں نے غرر کے گزشتہ قول “ وان غیر اوصافہ جامد الخ “ کے تحت فرمایا کہ بحر سے منقول ہے اگر وہ رنگنے کے قابل ہو تو جائز نہیں ، جیسے نبیذ تمر سے ، لیکن ظاہر میں روایت مشار پر اس کی نفی ہے اس کے قول فی الاصح سے ، کیونکہ یہ قول اشارہ ہے اس کی نفی پر جو فقیہ احمد بن ابراہیم سے منقول ہے کہ اگر ملنے والی چیز کا رنگ ہتھیلی میں ظاہر ہو تو اس پانی سے وضو جائز نہیں اھ آپ جانتے ہیں کہ تیسرے کی نفی سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلالکہ اس کی طرف اس کا رَد واجب ہے۔ ہاں فقیہ کے قول کی نفی درست ہے ، کیونکہ حوض سے پانی لینے میں ہتھیلی پر پتّوں کے رنگ کے ظہور سے پانی کا نام زائل نہیں ہوتا۔ زعفران کا حکم اس کے برخلاف ہے جبکہ وہ پانی کو رنگنے کے قابل کردے۔ پھر تعجب ہے کہ فقیہ کا(باقی برصفحہ آیندہ)
علی الثالث فیزول الشقاق٭ ویحصل الوفاق٭ والله تعالٰی اعلم۔
یہ مسئلہ متفقہ ہوجائے گا۔ وا لله تعالٰی اعلم ۔ (ت)
(۱۲۳)اقول : یونہی رنگت کی پُڑیاں کہ اب چلی ہیں اورہماری تحقیق میں ان کی طہارت پر فتوٰی ہے جب پانی میں اتنی خفیف ملیں کہ رنگنے کے قابل نہ ہوجائے اگرچہ رنگت بدل جائے۔
(۱۲۴)یونہی روشنائی جبکہ اس کے ملنے سے پانی لکھنے کے لائق نہ ہوجائے اقول یعنی اُس سے حرف کا نقش نہ بنے جو بعد خشکی پڑھنے میں آئے اگرچہ پھیکا ہو۔
صنف دوم بہتی چیزیں۔
(۱۲۵ و ۱۲۶)جس پانی میں زعفران حل کیا ہواپانی یاشہاب اتنا کم پڑے کہ ان پانیوں کی رنگت اُس سادہ پانی پر غالب نہ آئے اُس سے وضو بالاتفاق جائز ہے۔
قال الامام ملك العلماء فی البدائع الماء المطلق اذاخالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلك ینظر انکان یخالف لونہ لون الماء کاللبن
ملك العلماء نے بدائع میں فرمایا “ مطلق پانی میں جب کوئی سیال پاك چیز مل جائے جیسے دودھ ، سرکہ ، منقٰی کا عرق وغیرہ تو یہ دیکھا جائیگا کہ اس کا رنگ پانی کے رنگ سے مختلف ہے یا نہیں ، مثلًا دودھ ،
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وبدلہ الفاضل الناقل بالمخالط فعم الزعفران وا لله المستعان ثم(۱)العجب کل العجب ان الفاضل نفسہ زاد بعد قول الغرر ان بقی رقتہ لفظۃ واسمہ ایضا اھ فقدکان یعلم ان الرقۃ لاتنفع اذازال الاسم فکیف یجعل القول الثالث مبنیاعلی الروایہ المنفیہ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
کلام تو پتّوں سے متعلق تھا اور فاضل ناقل نے اسے مخالط سے بدل دیاہے تو اس نے زعفران کو شامل کرلیا ہے و الله المستعان ، پھر بڑا تعجب ہے کہ خود فاضل نے غرر کے قول “ وان بقی رقتہ “ کے بعد ایك لفظ “ واسمہ ایضا اھ “ کا اضافہ کیا ہے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ پانی کے نام کے زوال کے بعد رقت کا کوئی فائدہ نہیں تو قولِ ثالث کو روایت منفیہ پر مبنی کس طرح کیا جائے گا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
وماء العصفر والزعفران تعتبر الغلبۃ فی اللون [1] اھ وفی الحلیہ نقل فخر الدین الزیلعی عن الاسبیجابی ونجم الدینعــہالزاھدی عن زادالفقھاء قالوا انکان المخالط شیالونہ یخالف لون الماء مثل اللبن والخل وماء الزعفران انکانت الغلبۃ للون الماء یجوز التوضی بہ وانکان مغلوبالایجوز [2] اھ
اقول : ولا شك ان ھذا الماء یخالف الماء المطلق فی الاوصاف الثلثۃ فعلی ضابطۃ الامام الزیلعی یعتبر تغیر وصفین فکان یحتمل ان تقتضی الضابطۃ خلاف ھذاالحکم المنقول فیمااذا غلب علی المطلق طعمہ وریحہ دون لونہ لکنہ غیر معقول لان اللون اقوی اوصافہ واسرع اثرا فان تغیر شیئ من اوصاف الماء تغبرلونہ قبلہ وان لم یتغیر شیئ فلم یحصل فی جانب الجواز خلاف۔
عُصفریا زعفران کا پانی ، اگر ایساہے تو پانی میں رنگت کے غلبہ کااعتبارہوگااھ اورحلیہ میں ہے فخرالدین زیلعی نے اسبیجابی سے اور نجم الدین زاہدی نے زاد الفقہاء سے نقل کیا ، ان حضرات نے فرمایا کہ اگر ملنے والی اشیاء کا رنگ پانی کے رنگ سے مختلف ہو جیسے دودھ ، سرکہ اور زعفران کا پانی ، اور ایسی صورت میں غلبہ پانی کے رنگ کو ہو تو وضو جائز ہے اور اگر پانی کا رنگ مغلوب ہو تو وضو جائز نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس میں شك نہیں کہ یہ پانی مطلق پانی سے تینوں اوصاف میں مختلف ہوگا تو امام زیلعی کے ضابطہ کے مطابق اس میں دو۲ و صفوں کے تغیر کا اعتبار ہوگا ، اس میں یہ احتمال تھا کہ اس ضابطہ کی رُو سے مذکور حکم کے برخلاف حکم اس صورت میں ہوتاجبکہ مطلق پانی پر مزہ اور بُو کا غلبہ ہواہو نہ کہ رنگ کا۔ مگر یہ بات معقول نہیں ہے کیونکہ رنگ پانی کے اوصاف میں قوی تر اور زُود اثر ہے تو اگر پانی کے اوصاف میں سے کوئی وصف بدلتا تو سب سے پہلے تو رنگ ہی بدلتا ، اور رنگ نہیں بدلا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی وصف نہیں بدلا ، تو جواز کی صورت میں کوئی اختلاف نہ رہا۔ (ت)
(۱۲۷)یوں ہی پُڑیا حل کیا ہوا پانی پانی میں ملنے سے اس کی رنگت غالب نہ آئے تو وضو روا ہے۔
اقول : لانہ انکان ذاریح فکماء الزعفران والعصفر اولا فذو وصفین
میں کہتا ہوں اس لئے اگر وہ چیز خوشبودار ہو تو جیسے زعفران اور عُصفر کا پانی ہے یا نہ ہو تو دو وصف
عــہ بالرفع عطفا علی فخرالدین ۱۲ منہ غفرلہ(م)
رفع کے ساتھ کیونکہ اس کا فخرالدین پر عطف ہے(ت)
ولا یتغیرالطعم مالم یتغیر اللون فلا یحصل الخلاف۔
والی ہوگی ، اور مزہ اس وقت نہ بدلے گا جب تك رنگ نہ بدلے تو اختلاف نہ ہوا۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع