30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالاجزاء وباللون وافصح فی الغنیہ فقال المرادماخثربہ وخرج عن الرقۃ اومایستخرج منہ رطباکما یستخرج من الورد [1] اھ
اقول : فعلی الثانی یخرج من البین وعلی الاول یرجع الی الاول وھوالذی نص علیہ فی المنیہ نفسھامن بعداذقال تجوزالطھارۃ بالماء الذی اختلط بہ الزعفران بشرط ان تکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء ولم یزل عنہ اسم الماء [2] اھ۔
الثالث : یجوز عــہ مالم یصلح للصبغ والنقش فی الفتح والحلیہ صرح فی التجنیس
اعتبار سے بھی غلبہ کااحتمال ہے اور رنگ کے اعتبار سے بھی ہے ، اور غنیہ میں وضاحت ہے ، فرمایااس سے مراد وہ پانی ہے جو گاڑھا ہوگیاہو اور رقّت ختم ہوگئی ہو ، یا وہ ہے جو اس سے تر نکلتا ہو جیسا کہ گلاب سے نکلتا ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں تو دوسری صورت میں یہ اختلافی صورت سے الگ ہوجائیگا ، اور پہلی صورت میں پہلی کی طرف رجوع کرے گا یہ وہ ہے جس پر منیہ میں صراحت ہے ، انہوں نے کہا کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں زعفران ملائی گئی ہو بشرطیکہ اجزاء کے اعتبارسے پانی کو غلبہ ہو ، اور پانی کا اطلاق اس پر ہوتا ہو۔ (ت)
تیسرا مسلك : اس سے وضو جائز ہے جو رنگنے اور نقش کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ، یہ فتح اور
عــہ فی الارکان الاربعۃ للمولی بحر العلوم الکنوی لا یجوز التوضی بماءا لزعفران و العصفر و الزردج اذا کان بحیث یلون البدن او الثوب لانہ ذھب اسم الماءح حقیقۃ و اما اذا صار بلیدا فلیس ماء مطلقًا ولاماء مقیدا فلا یطلق علیہ الماء لا حقیقۃ ولا مجازا اھ۔
اقول : فیہ(۱)اوّلا ان ماصلح منہ للصبغ لم یتبدل ذاتا فی الحقیقۃ انما تغیر وصف لہ فھوماء حقیقۃ نعم لم یبق ماء
بحرالعلوم کی ارکان اربعہ میں ہے زعفران ، عصفر اور زردج کے پانی کے ساتھ وضو جائز نہیں جبکہ وہ بدن یا کپڑے کو رنگ دے کیونکہ اب حقیقۃً پانی کانام اس سے ختم ہوگیا اور جب وہ گاڑھا ہوجائے تو نہ مطلق پانی ہے اور نہ مقید پانی ہے اور اس پر نہ تو پانی کا حقیقۃً اطلاق ہوتا ہے اور نہ مجازًا اھ
میں کہتا ہوں اوّلًا اگر پانی رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پانی ذات کے اعتبار سے حقیقۃ نہیں بدلا ، صرف اس کا وصف بدلا ہے ، تو وہ حقیقۃً پانی ہے(باقی برصفحہ آئندہ)
بان من التفریع علی اعتبار الغلبۃ بالاجزاء
حلیہ میں ہے ، تجنیس میں ہے کہ تفریع باعتبار غلبہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مطلقًا الا ان یرید الحقیقۃ العرفیہ المفھومۃ عند الاطلاق۔ وثانیا : (۱)سیغصل عنہ الثخین بانہ لیس ماء مطلقًا ولا مقیدافقدافادان ھذا ماء مقید فکیف لایکون ماء حقیقۃ فان المطلق والمقید صنفان من الماء۔ وثالثا : (۲)الثخین وان لم یبق ماء اصلاعلی ماافادہ فی الفتح فلامانع من اطلاق الماء مجازاباعتبار ماکان۔ و رابعا : (۳)الحکم المنقول فی ماء الزردج ماقدمنا فی ۸۱ من ان العبرۃ بالرقۃ ولم ارماوقع ھھنا لغیرہ ویظھرلی ان لامحل لہ لانہ لیس مما یصبغ بہ کما تقدم ثمہ وکونہ مما یلون الثوب ان اصابہ لایجعلہ نوعااٰخرغیرالماء مادام رقیقااذالانواع عندنا بالاغراض الا تری ان التمروالزبیب اذاالقیافی الماء یغیران لونہ وطعمہ قبل ان یصیرانبیذاویجوز الوضوء بہ بالاجماع کمامر فی ۱۱۶ مع انھما لواصاباثوبا ابیض لوناہ وذلك لان المقصودھھنا النبیذدون الصبغ فلا یزول الاسم الا بحصول المقصود علیہ الرحمۃ۔ اربع(۱ ، ۲ ، ۳ ، ۴) معروضات علی المولی بحرالعلوم عبدالعلی الکنوی۔
صرف مطلق پانی نہیں رہا ، ہاں اگر حقیقۃ عرفیہ کاارادہ کیا جائے جو اطلاق کے وقت سمجھی جاتی ہے تو اور بات ہے۔
ثانیا : گاڑھا ہونے سے وہ نہ مطلق پانی رہا اور نہ مقید ، تو انہوں نے بتایا کہ یہ مقید پانی ہے ، اس صورت میں وہ حقیقۃً پانی کیوں نہ ہوگا کیونکہ مطلق اور مقید دونوں ہی پانی کی اقسام ہیں۔
ثالثًا : گاڑھا اگرچہ فتح کے بقول پانی نہ رہا تو باعتبار ماکان مجازًا اس پر پانی کے اطلاق میں کوئی مانع نہیں۔
رابعا : وہ حکم جو زردج کے پانی کی بابت منقول ہے جو ہم نے ۸۱ میں نقل کیا کہ اعتبار رقّت کا ہے اور میں نے دوسروں کا بیان نہیں دیکھا اور مجھے لگتا ہے کہ اس کا یہاں محل نہیں ، کیونکہ اس سے رنگا نہیں جاتا ہے جیسا کہ وہاں گزرا اور اس کے کپڑے کو رنگنے سے اگر کپڑے کو لگ جائے اس کا ایك مستقل نوع بنانا لازم نہیں آتا جب تك وہ رقیق ہے دوسری نوع نہیں بنے گا کیونکہ ہمارے نزدیك انواع اغراض سے وجود میں آتی ہیں ، مثلًا کھجور اور منقٰی جب پانی میں ڈالے جائیں تو وہ اس کے رنگ اور مزے کو بدل دیتے ہیں ، اور ابھی وہ نبیذ نہیں بنا ہوتا ہے ، اور اس سے وضو بالاجماع جائز ہوتا ہے جیسا کہ ۱۱۶ میں گزراحالانکہ اگر یہ دونوں چیزیں سفید کپڑے کو لگ جائیں تو اس کا رنگ بدل دیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مقصود نبیذ ہے نہ کہ رنگ ، تو اس کا نام اس وقت تك نہ بدلے گا جب تك مقصود حاصل نہ ہو۔ یہ چارمعروضات بحرالعلوم پر ہیں۔ (ت)
قول الجرجانی اذاطرح الزاج اوالعفص فی الماء جاز الوضوء بہ انکان لاینقش اذاکتب فان نقش لایجوز والماء ھو المغلوب [3] اھ ومثلہ فی الھندیہ عن البحر عن التجنیس من قولہ اذاطرح الی قولہ لایجوز وفی القنیہ ثم معراج الدرایہ ثم البحر ثم الدر ثم فتح ا لله المعین الزعفران اذاوقع فی الماء ان امکن الصبغ فیہ فلیس بماء مطلق [4] اھ
الرابع : یجوزمالم یغلب لونھالون الماء فی الشلبیہ عن یحیی عن الامام القاضی الاسبیجابی الماء ان اختلط بہ طاھرفان غیرلونہ فالعبرۃلللون فان کان الغالب لون الماء جازالوضوء بہ والا فلاوذلك مثل اللبن والخل والزعفران یختلط بالماء[5] اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین والبرجندی۔
اقول : قدمنا۱۱۶ اجماع اصحابنارضی ا لله تعالٰی عنھم علی جوازالوضوء بماء القی فیہ تمیرات فحلاولم یصرنبیذاومعلوم قطعاان اللون اسبق تغیرافیہ من الطعم فاستقرالاجماع علی ان تغیر اللون و
جرجانی کا قول ہے جب زاج یا عفص پانی میں ڈالا جائے تو اس سے وضو جائز ہے ، یہ اس وقت ہے کہ جب اس کے ذریعہ لکھنے سے نقش نہ آتاہو اگر نقش آئے تو جائز نہیں ، جبکہ پانی مغلوب ہو اھ ، اور اسی کی مثل ہندیہ میں بحر سے تجنیس سے ہے ، ان کے قول اذاطرح سے لایجوز تك اور قنیہ ، معراج ، بحر ، در پھر فتح اللہ المعین میں ہے کہ اگر زعفران پانی میں پڑ جائے تو اگر اس سے رنگنا ممکن ہو تو وہ مطلق پانی نہیں ہے اھ
چوتھا مسلک : وضو جائز ہے جب تك اس کا رنگ پانی کے رنگ پر غالب نہ ہو ، شلبیہ میں یحیٰی سے امام قاضی اسبیجابی سے منقول ہے کہ پانی میں اگر کوئی پاك چیز مل جائے اور اس کے رنگ کو بدل دے تو اعتبار رنگ کا ہوگا اگر پانی کا رنگ غالب ہو تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں ، مثلًا دودھ ، سرکہ اور زعفران پانی میں مل جائے اھ اسی کی مثل خزانۃ المفتین اور برجندی میں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہم نے ۱۱۶ میں اپنے اصحاب کا اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں تو نبیذ بننے سے پہلے پہلے اس میں مٹھاس آجائے اور یہ قطعی معلوم ہے کہ رنگ مزہ کے متغیر ہونے سے پہلے بدل جاتا ہے تو اجماع اس پر قائم ہے کہ
[1] غنیہ المستملی فصل احکام المیاہ مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۹
[2] منیہ المصلی فصل فی المیاہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۳
[3] فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
[4] دُرمختار کتاب الطہارت مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
[5] شلبی علی التبیین الحقائق کتاب الطہارت الامیریہ ببولاق مصر ۱ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع