30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وفی الخانیہ لابماء ورد وزعفران اذاذھبت رقتہ وصار ثخیناوان بقیت رقتہ ولطافتہ جاز [1] اھ
وفی جواھر الاخلاطی اذاخالط شیئ من الطاھرات ولم یطبخ کالزعفران والزردج یجوز التوضی بہ [2] اھ ای وقید بقاء الرقۃ معلوم لاحاجۃ الی ابانتہ وفی مسکین علی الکنز لایجوز بما غلب علیہ
کوئی اعتبار نہیں کہ اُس سے بچنا ممکن نہیں ، جیسا کہ زمین کے اجزاء میں ہوتا ہے ، تو غالب کا اعتبار ہوگا اور غلبہ باعتبار اجزاء ہوتا ہے نہ کہ رنگ کے بدلنے سے ، یہی صحیح ہے اھ(خانیہ میں یہ اضافہ بھی یہ ہے مگر اس کی رقت زائل نہ ہوئی)تو اس سے وضو جائز ہے اھ۔ اور فتاوٰی انقرویہ میں ہے کہ ہمارے نزدیك زعفران کے پانی سے وضو جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیك جائز نہیں اھ ، ظہیریہ ، بحر اور خانیہ میں ہے کہ جب زردج پانی میں ڈالا گیا خانیہ میں یہ اضافہ بھی ہے مگر اسکی رقت زائل نہ ہو ئی)وضو جائز ہے اھ اور خانیہ کی طرح منیہ میں ملتقط سے منقول ہے اس میں عفص کا اضافہ بھی ہے اھ غنیہ میں ہے اس کے مزے بُو اور رنگ کے بدل جانے کے باوجود وضو جائز ہے اھ اور خانیہ میں ہے نہ کہ گلاب اور زعفران کے پانی سے جبکہ اس کی رقّت ختم ہوجائے اور گاڑھا ہوجائے ، اور اگر اس کی رقّت ولطافت باقی رہے تو اُس سے وضو جائز ہے اھ جواہر اخلاطی میں ہے کہ جب کوئی پاك شیئ پانی میں مل جائے اور اس کو
عـــــہ : وفی صغیرہ القلیل من الزعفران یغیر الاوصاف الثلثۃ مع کونہ رقیقا فیجوز الوضوء و الغسل بہ ۱۲ منہ(م)
اور اس کی شرح صغیر میں ہے کہ تھوڑی زعفران پانی کے تینوں اوصاف کو بدل دے مگر پانی رقیق ہو تو اس سے وضو اور غسل جائز ہے ۱۲ منہ(ت)
غیر الماء مثل الزعفران اجزاء وھواحتراز عن الغلبۃ لونا وھو قول محمد رحمہ ا لله تعالٰی [3] اھ
وفی وجیز الکردری ماء الزردج والصابون والعصفر والسیل لورقیقایسیل علی العضو یجوز التوضی بہ [4] اھ بل فی الغرر یجوز وان غیر اوصافہ جامد کزعفران وورق فی الاصح [5] وفی نورالایضاح لایضر تغیراوصافہ کلھابجامع کزعفران [6] اھ فھذہ نصوص متظافرۃ اماما فی الخانیہ التوضو بماء الزعفران وزردج العصفر یجوز انکان رقیقاوالماء غالب فان غلبتہ الحمرۃ وصار متماسکالایجوز [7] اھ۔
فاقول : اولہ صریح فی اعتبارالرقۃ وفی اٰخرہ وان ذکرالحمرۃ فقد تدارکہ بقولہ وصار متماسکا فلم یکتف بغلبۃ اللون مالم یثخن ثم اکدہ بان قال
پکایا نہ گیا ہو جیسے زعفران اور زردج ، تو اس سے وضو جائز ہے اور رقت کے بقاء کی قید سب کو معلوم ہے لہٰذا اظہار کی طرف کوئی محتاجی نہیں اورمسکین علی الکنز میں ہے کہ جب پانی پر کسی دوسری شے کا غلبہ ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں جیسے زعفران جبکہ یہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہو ، اور اجزاء کی قید سے لون(رنگ)اس سے خارج ہوگیا اور یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اھ اور وجیز کردری میں ہے کہ زردج ، صابون ، عصفر اور سیلاب کا پانی اگر رقیق ہو اور یہ پانی عضو پر بہہ سکتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے اھ بلالکہ غرر میں ہے کہ اگرچہ کوئی جامد چیز اس کے اوصاف کو بدل دے تو بھی وضو جائز ہے جیسے زعفران اور پتّے ، اصح قول کے مطابق۔ اورنور الایضاح میں ہے کہ کسی جامد چیز کا پانی کے اوصاف کو متغیر کردینا مضر نہیں ، جیسے زعفران اھ تو یہ نصوص ایك دوسرے کی تائید کرتی ہیں ، اور جو خانیہ میں ہے کہ زعفران ، زردج ، عصفر کے پانی سے وضو جائز ہے بشرطیکہ رقیق ہو اور پانی کا غلبہ ہو پس اگر اس پر سرخی غالب ہوجائے اور گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کی ابتداء رقت کے اعتبار میں صریح ہے اور اس کے آخر میں اگرچہ سرخی کا ذکر ہے لیکن اس کا تدارك اس لفظ سے کر دیاکہ وہ گاڑھا ہوجائے ، تو جب تك گاڑھا نہ ہو رنگ کے غلبہ کا
متصلا بہ اما عند ابی یوسف رحمہ ا لله تعالٰی تعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء لامن حیث اللون ھو الصحیح [8] اھ ومثل ھذا مافی الخلاصۃ رجل توضأ بماء الزردج اوالعصفر اوالصابون انکان رقیقایستبین الماء منہ یجوزوان غلبت علیہ الحمرۃ وصار نشاستج لایجوز [9] ھ فصرح بالبناء علی الثخونۃ وبقی ذکرالحمرۃ فی الکتابین کالمستدرك عــہ۔
الثانی : لایجوزمطلقًا فی شرح الطحاوی ثم خزانۃ المفتین المقید مثل ماء الاشجاروالثمار وماء الزعفران [10] اھ وفی المنیہ لاتجوز بالماء المقید کماء الزعفران [11] اھ قال فی الحلیہ محمول علی مااذا کان الزعفران غالبا [12] اھ
اقول : ھذا مبھم یحتمل الغلبۃ اعتبار نہیں پھر اس کی تائید میں متصلًا فرمایا کہ ابو یوسف کے نزدیك اجزاء کے اعتبار سے غلبہ معتبر ہے رنگ کے اعتبار سے نہیں ، یہی صحیح ہے اھ اور اسی کی مثل خلاصہ میں ہے کہ کسی شخص نے زردج ، عصفریاصابن کے پانی سے وضو کیا ، اگر وہ رقیق ہو جس سے پانی واضح ہوتا ہو تو وضو جائز ہے اور اگر اس پر سُرخی غالب ہوگئی ہو اور نشاستہ بن گیا ہو تو وضو جائز نہیں اھ تو اس میں اس کی تصریح ہے کہ دارومدار گاڑھے پن پر ہے اوردونوں کتابوں میں سرخی کا ذکر مستدرك کی طرح ہے۔ (ت)
دُوسرا مسلک : مطلقًا جائز نہیں ، شرح طحاوی اور خزانۃ المفتین میں ہے مقید جس طرح درخت ، اور پھلوں کاپانی اور زعفران کاپانی اھ اور منیہ میں ہے کہ مقید پانی سے وضو جائز نہیں جیسے زعفران کاپانی اھ حلیہ میں کہا کہ یہ اُس صورت پر محمول ہے جبکہ زعفران غالب ہو اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ مبہم ہے اس میں اجزاء کے
عــــہ : ستأتی فائدۃ لہ اٰخرالضابطۃ السادسۃ من الفصل الثالث ولذا قال کالمستدرك ای فی النظر الظاھر ۱۲ منہ غفرلہ(م)
تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ کے آخر میں اس کے لئے ایك فائدہ بیان کیاہے اس لئے فرمایا کالمستدرك یعنی نظر ظاہر میں ۱۲ منہ (ت)
[1] فتاوٰی خانیہ المعروف قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۹
[2] جواہر الاخلاطی
[3] فتح المعین کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
[4] فتاوٰی بزازیہ علی الہندیہ نوع المستعمل والمقید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۱۰
[5] الغرر متن الدرر کتاب الطہارۃ مطبعۃ کاملیہ بیروت ۱ / ۲۱
[6] نور الایضاح کتاب الطہارت مطبعۃ علمیہ لاہور ص۳
[7] فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی مطبعۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
[8] فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ /
[9] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع