30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور میں نے انقطاعِ طعم کا اضافہ کیا ہے اس کی وجہ ان شاء اللہ تعالٰی آپ جان لیں گے۔ (ت)
اذا اختلط بالمطلق فالعبرۃ للاجزاء فان کان الماء المطلق اکثر جاز الوضوء بالکل وان کان مغلوبالایجوز وان استویا لم یذکر فی ظاھر الروایہ وفی البدائع قالواحکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا [1] اھ وعبارۃ الدرر والمستخرج من النبات بالتقطیر تعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء [2] اھ
اقول : (۱)واطلاقہ ینافی ضابطتہ التی تبع فیھا الامام الزیلعی فان من المستقطر مایخالف الماء فی وصف اووصفین اوالثلثۃ کما لایخفی۔ پانی جس کی خوشبُو جاتی رہی ہو جب وہ مطلق پانی کے ساتھ ملایا جائے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا تو اگر مطلق پانی زیادہ ہو تو سب سے وضو جائز ہے اور اگر مغلوب ہو تو جائز نہیں اور اگر دونوں برابر ہوں تو ظاہر روایت میں اس کا حکم مذکور نہیں اور بدائع میں ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ اس کا حکم بھی احتیاطًا وہی ہے جو مغلوب پانی کا ہے اھ اور درر میں ہے کہ جڑی بُوٹیوں کا پانی جو تقطیر سے نکالا جائے اس میں اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان کا اس کو مطلق رکھنا ان کے اس ضابطہ کے منافی ہے جس میں انہوں نے امام زیلعی کی متابعت کی ہے ، کیونکہ عمل تقطیر سے جو پانی حاصل ہوتا ہے وہ عام پانی سے ایك وصف یا دو یا تین میں مختلف ہوتا ہے کما لایخفی۔ (ت)
(۱۱۵)یونہی ہر عرق کہ پانی سے رنگ ومزہ وبُو کسی میں ممتاز نہ ہو جیسے عطاروں کے یہاں کے اکثر عرق۔
ثم اقول : کمی بیشی میں اعتبار مقدار کاہے اور ان میں بہت چیزیں پانی سے ہلکی ہوتی ہیں تو اگر وزن میں کمی لی جائے بارہا مقدار میں بیشی ہوجائے گی لہٰذا ہم نے لبالب گھڑے اور گلے تك بھرے سے تمثیل دی۔
وبہ(۲)ظھر مافی عبارۃ المنحۃ حیث فسر العبرۃ للاجزاء بقولہ ای القدر والوزن [3]اھ وفی عبارۃ ابی السعود اذقال الغلبۃ من حیث الوزن [4] وقد نص(۳) محمد ان الماء کیلی
اور اسی سے وہ ظاہر ہوا جو منحہ کی عبارت میں ہے ، جہاں انہوں نے اجزاء کی تعبیر مقدار اور وزن سے کی ہے ، اور جو ابو السعود کی عبارت میں ہے اس لئے کہ غلبہ وزن کے اعتبار سے ہے اور امام محمد نے
واجمع ائمتنا انہ لیس وزنیا وقال العینی ثم ابن الشلبی لوکان الماء رطلین والمستعمل رطلا فحکمہ حکم المطلق وبالعکس کالمقید [5] اھ ولکن(۱)العجب من العلامۃ الشرنبلالی قال فی نور الایضاح وشرحہ الغلبۃ فی مائع لاوصف لہ یخالف الماء تکون بالوزن فان اختلط رطلان من المستعمل اوماء الورد الذی انقطعت رائحتہ برطل من الماء المطلق لایجوز بہ الوضوء وبعکسہ جاز اھ فذکر الوزن وعاد الی الکیل [6]۔ تصریح کی ہے کہ پانی کیلی چیز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ پانی وزنی چیز نہیں ، اور عینی نیز ابن الشلبی نے فرمایاکہ اگر پانی دو رطل ہے اور مستعمل ایك رطل ہے تو اس کا حکم مطلق پانی کا ہے اور اگر بالعکس ہو تو اس کا حکم مقید کا سا ہے اھ لیکن علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے انہوں نے نورالایضاح اور اس کی شرح میں فرمایا کہ سیال چیز جس کا کوئی وصف ایسا نہ ہو جو پانی کے مخالف ہو ، تو غلبہ وزن کے اعتبار سے ہوگا تو اگر دو رطل مستعمل پانی یا گلاب کا پانی جس کی خوشبو ختم ہوچکی ہو ایك رطل مطلق پانی میں ملے گا تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو وضو جائز ہے اھ تو ذکر وزن کا کیا اور لوٹ کر کیل کی طرف آئے۔ (ت)
نوع آخر اس نوع میں وہ اشیاء مذکورہوں گی جن کی بعض صورتوں میں حکم منقول عــہ کتب کچھ ہے اور
عــــہ : تنبیہ ضروری : واضح ہو کہ مائے مقید میں ہمارے ائمہ مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے منقول صرف دو۲ قول ہیں :
اول : قولِ امام ابو یوسف جنہوں نے تبدلِ اوصاف آب کا اعتبار ہی نہ فرمایا صرف غلبہ اجزاء اُن معانی پر کہ فصل ثالث میں بیان ہوں گے معتبر رکھا اور یہی صحیح ومعتمد ومختار جمہور ہے۔
دوم : قولِ امام محمد جس میں تبدل اوصاف پر بھی لحاظ فرمایایہاں ہم کو ضابطہ امام زیلعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پر کلام کرنامنظور ہے انہوں نے بھی لحاظِ اوصاف کیاہے تو قول امام ابی یوسف کا خلاف تو ابتدا ہی سے ہُوا قولِ امام محمد پر جو احکام کتب میں منقول ہیں اُن سے ضابطہ زیلعیہ کا موازنہ کرناہے کہ اتنی جگہ اس کے موافق پڑااور ان ان مواضع میں اس کے بھی خلاف رہا تو اقوالِ ائمہ مذہب سے یکسر خارج ہُواان مباحث میں اتفاق اختلاف سے یہی مراد ہے کہ مذہب امام محمد پر احکام منقولہ اور مقتضائے زیلعیہ کا توافق یا تخالف ورنہ اصل(باقی برصفحہ آیندہ)
ضابطہ امام زیلعی جس کا بیان بعونہٖ تعالٰی فصل چہارم میں آتا ہے اس کا مقتضٰی کچھ۔ ان اشیاء کی جس صورت میں حکم منقول مقتضائے ضابطہ جواز پر متفق ہیں وہ اس قسم اول میں مذکور ہوگی اور جس میں عدم جواز پر متفق ہیں وہ قسم دوم میں اور جہاں دونوں مختلف ہیں وہ صورتیں قسم سوم کیلئے ہیں۔ یہ اشیاء دو صنف ہیں : صنف اوّل خشك چیزیں۔
(۱۱۶)پانی میں چھوہارے ڈالے اور ابھی تھوڑی دیر گزری کہ نبیذ نہ ہوگیا اگرچہ خفیف سی شیرینی اس میں آگئی اس سے بالاتفاق وضو جائز ہے کتاب المفید والمزید پھر عینی شرح صحیح بخاری وتبیین وحلیہ عـــــہ وہندیہ وغیرہا میں ہے :
الماء الذی القی فیہ تمیرات فصار حلوا ولم یزل عنہ اسم الماء وھو رقیق یجوز بہ الوضوء بلاخلاف بین اصحابنا [7] اھ
اقول : امامافی البدائع لابد من معرفۃ نبیذ التمر الذی فیہ الخلاف وھو ان یلقی شیئ من التمر فی الماء فتخرج حلاوتہ الی الماء وھکذا ذکر ابن مسعود رضی ا لله تعالٰی عنہ فی تفسیر نبیذ التمر الذی توضأ بہ
وہ پانی جو کھجوروں کے ڈالے جانے کی وجہ سے میٹھا ہوگیا مگر اس کو پانی ہی کہا جاتا ہو اور اس کی رقّت بھی زائل نہ ہوئی تو اُس سے وضو کے جواز میں ہمارے اصحاب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں بدائع میں ہے کہ وہ نبیذ تمر جس میں اختلاف ہے اس کی معرفۃ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کچھ کھجو ریں پانی میں ڈال دی جائیں تو ان کی مٹھاس پانی میں آجائے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبیذ تمر کی یہی تفسیر منقول ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)مذہب صحیح معتمد کہ مذہب امام ابو یوسف ہے وہ تو صور عدم جواز میں ان کے اتفاق سے بھی بعض جگہ خلاف پڑے گا جسے ہم آخر میں ذکر کریں گے ان شاء الله تعالٰی نیز ان نقول کے لانے میں بڑا فائدہ مذہب امام محمد پر اطلاع ہے کہ وہ بھی بجائے خود ایك باقوت قول ہے تو بنظرِ احتیاط اُس کا لحاظ مناسب وب الله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ وحفظہ ربہ عزوجل(م)
عــہ عزاہ للحلیہ فی الھندیہ ولم ارہ فیھا لافی التیمم ولا فی المیاہ فلعلہ ساقط من نسختی وا لله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
ہندیہ میں حلیہ کی طرف نسبت کی ہے اور مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی نہ باب التیمم میں نہ باب المیاہ میں شاید یہ میرے نسخہ سے ساقط ہو و الله تعالٰی اعلم۔ (ت)
رسول ا لله صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم لیلۃ الجن فقال تمیرات القیتھا فی الماء [8] اھ فیحمل علی ما حلا و خرج عن الاطلاق کیف وفی صدر الحدیث عند ابن ابی شیبۃ ان النبی صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم قال لہ ھل معك من وضوء قال قلت لاقال فما فی اداوتك قلت نبیذ تمر قال تمرۃ حلوۃ وماء طیب [9] فلولا انہ خرج من الاطلاق لما قال لا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع