30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عن ابی یوسف رحمہ ا لله تعالی اذا طبخ الاٰس اوالبا بونج فی الماء فان غلب علی الماء حتی یقال ماء البابونج والاٰس لایجوز التوضی بہ انتھی وعزی الی الاجناس بمانصہ قال محمد رحمہ ا لله تعالٰی فی الماء الذی یطبخ فیہ الریحان اوالاشنان اذالم یتغیر لونہ حتی یحمربالاشنان اویسودبالریحان وکان الغالب علیہ الماء فلاباس بالوضوء بہ فمحمد یراعی لون الماء وابو یوسف غلبۃ الاجزاء ثم فی التتمۃ والذخیرۃ والحاصل من مذھب ابی یوسف ان کل ماء خلط بشیئ یناسب الماء فیما یقصد من استعمال الماء وھو التطھیرفالتوضی بہ جائزبشرط ان لایغلب ذلك المخلوط علی الماء حتی لاتزول بہ الصفۃ الاصلیہ وھی الرقۃ وذلك مثل الصابون اوالاشنان وانکان ذلك المخلوط لایناسب الماء فیما یقصد من استعمال الماء ففی بعض الروایات اشترط لمنع جواز التوضی غلبۃ ذلك الشیئ الماء وفی بعض الروایات لم یشترط ومحمد اعتبر فی جنس ھذہ المسألۃ غلبۃ المخلوط الماء لمنع جواز التوضی ولکن فی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث اللون وفی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث الاجزاء بحیث تسلب صفۃ الرقۃ من الماء ویبدلھا بضدھا
منقول ہے جب آس یا بابونہ کو پانی میں ابالا جائے اور وہ پانی پر غالب آجائے یہاں تك کہ بابونہ یا آس(ایك درخت جو ریحان کے نام سے مشہور ہے)کا پانی کہلانے لگے تو اس سے وضو جائز نہیں انتہٰی ، اور اجناس کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ امام محمد نے اُس پانی کی بابت فرمایا جس میں ریحان(پھول)یا اُشنان کو جوش دیا گیا ہو اور اس کا رنگ تبدیل نہ ہوا ہو ، یعنی نہ تو اُشنان کی وجہ سے سرخ ہواہو اور نہ ریحان کی وجہ سے سیاہ ہوا ہو ، اور اس پر پانی ہی کا غلبہ ہو تو اس سے وضو کرنے میں حرج نہیں ، تو امام محمد پانی کے رنگ کا اعتبار کرتے ہیں اور ابویوسف غلبہ اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں ، پھر تتمہ اور ذخیرہ میں ہے کہ ابو یوسف کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو پانی سے مناسبت رکھتی ہو اور پانی کے استعمال سے جو مقصود ہے اس کے مطابق ہو اگر وہ پانی میں مل جائے تو وہ مطہر ہے اس سے وضو جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ مخلوط شَے پانی پر غالب نہ ہو تاکہ پانی کی صفت اصلیہ یعنی رقّت زائل نہ ہو۔ اس کی مثال صابون اور اُشنان ہے اور اگر یہ مخلوط پانی سے مناسبت نہ رکھتی ہو اور پانی کے استعمال سے جو مقصود ہے اس سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو بعض روایات کے مطابق اس سے وضو کا عدمِ جواز اس شرط کے ساتھ مشروط ہوگاکہ یہ شیئ پانی پر غالب آجائے اور بعض روایات میں کوئی شرط نہیں ، اور امام محمد اس طرح کے مسئلہ میں پانی پر مخلوط شیئ کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے وضو جائز قرار نہیں دیتے
وھی الثخونۃ انتھی [1]۔
لیکن بعض روایات میں اس طرف اشارہ ہے کہ غلبہ سے مراد رنگ میں غلبہ ہے اور بعض میں اشارہ غلبہ من حیث الاجزاء مراد ہے کہ پانی کی صفت رقّت سلب ہوجائے اور اس کے بدلے میں گاڑھا پن اس میں پیدا ہوجائے انتہٰی۔ (ت)
نیز حلیہ میں ایك کلام بدائع نقل کرکے فرمایا :
ذکرفیھاوفی التحفۃ ومحیط رضی الدین وفتاوٰی قاضی خان وغیرھااذا کان المخالط مما یطبخ الماء بہ اویخلط الزیادۃ التطھیرلایمنع التوضی بہ ولو تغیر لون الماء وطعمہ وذلك کالصابون والاشنان والسدر الا اذا صار غلیظابحیث لا یجری علی العضو فانہ حینئذ لایجوز لانہ زال عنہ اسم الماء [2] اھ۔
اقول : واضفت الخطمی اخذا مما قالوہ فی الجنائز (۱)یغسل رأسہ ولحیتہ بالخطمی ان وجد والا فبالصابون ونحوہ [3] تنویروفی التبیین اغتسل صلی الله تعالی علیہ وسلم وغسل رأسہ بالخطمی وھو جنب واکتفی بہ ولم یصب علیہ الماء [4] ۔
اس میں اور تحفہ اور محیط رضی الدین اور فتاوی قاضیخان وغیرہ میں ذکر کیا کہ پانی میں مخلوط شیئ اگر اس قسم کی ہے کہ اس کو پانی میں پکانے یا خلط کرنے سے مقصود تطہیر میں زیادتی ہوتی ہے تو اس سے وضو جائز ہے اگرچہ پانی کا رنگ اور مزہ تبدیل ہوگیاہو ، جیسے صابن ، اشنان اور بیری(کے پتّے) ، ہاں اگر پانی اتنا گاڑھا ہوگیا کہ اس کا سیلان ختم ہوگیا اور وہ عضو پر بہنے کے لائق بھی نہ رہا ، تو اس صورت میں اس سے وضو جائز نہیں ، کیونکہ اب اس سے پانی کا نام ہی سلب ہوگیا ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں میں نے مذکورہ اشیاء میں خطمی کا اضافہ کیا ہے ، یہ فقہاء کے اُن اقوال کی روشنی میں ہے جو انہوں نے جنائز میں ذکر کئے ہیں فرماتے ہیں میت کے سراور داڑھی کو خطمی سے دھویا جائے اگر میسر ہو ، ورنہ صابن وغیرہ سے دھوئیں اور یہ تنویر میں ہے ، اورتبیین میں ہے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غسل فرمایا اور جنابت کی حالت میں اپنے سر کو خطمی سے دھویا اور اسی پر اکتفاء کیا اور اسی پر مزید پانی نہ بہایا۔ (ت)
(۱۰۸ ، ۱۰۹)اقول : دوا یا غذا پانی میں پکانے کو ڈالی اور آنچ کی مگر وہ شے ابھی کچی ہے اور پانی گاڑھا نہ ہوگیا تو اس سے وضو جائز ہے ،
لانہ لم یوجد الطبخ ولا زوال الطبع فلا الاسم قال ش عن(۱)القاموس الطبخ ھو الانضاج استواءعــہ۱اھ [5] وقال فی الغنیہ القاعدۃ فی المخالطۃ بالطبخ ان ینضج المطبوخ فی الماء [6]۔
کیونکہ اس میں نہ تو پکانا پایاگیاہے اور نہ ہی طبیعۃ ماء زائل ہوئی تو اسم بھی زائل نہ ہوا ، “ ش “ نے قاموس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا طبخ کے معنی استواء پکانے کے ہیں اھ اور غنیہ میں فرمایا مخالطۃ بالطبخ میں قاعدہ یہ ہے کہ مطبوخ پانی میں پك جائے۔ (ت)
(۱۱۰) اقول : یونہی چائے دم کرنے کو گرم پانی میں ڈالی یا جوش ہی میں شریك کی اور جلد نکال لی کہ اثر نہ کرنے پائی اس قابل نہ ہوا کہ اُسے چائے کہہ سکیں اگرچہ ہلکی سے ہلکی ، تو اُس سے بھی وضو میں حرج نہیں لبقاء الاسم والطبع وایضا عدم الانضاج والطبخ(کیونکہ پانی کا نام اور طبیعت باقی ہے اور پکنا پکانا بھی نہیں پایا گیا۔ (ت)یہاں پانی کی رنگت پر نظر ہوگی اور صورت سابقہ میں اُس کی رقّت اور شے جوشاندہ کی حالت پر۔
(۱۱۱ تا ۱۱۴)عرق گاؤ زبان یا اُترے ہوئے گلاب کیوڑا بیدمشك جن میں خوشبو نہ رہی اور اتنے ہلکے ہیں کہ کوئی مزہ بھی محسوس نہیں ہوتا پانی میں کسی قدر مل جائیں جب تك پانی سے مقدار میں کم ہوں گی مثلًا لبالب گھڑے میں وہی گھڑا گلے تك بھرا تو اُس سے وضو ہوسکتا ہے۔ بحرالرائق میں ہے :
ان کان مائعا موافقا للماء فی الاوصاف الثلثۃ کالماء الذی یؤخذ بالتقطیر من لسان الثور وماء الورد الذی انقطعت عــہ۲ رائحتہ
اگر کوئی مائع پانی کے ساتھ اوصاف ثلٰثہ میں مطابقت رکھتا ہے اور رقیق ہے جیسے وہ پانی جو عمل تقطیر کے ذریعہ گاؤ زبان سے حاصل کیا جائے اور گلاب کا
عــہ۱ سیاتی مافیہ فی الفصل الثالث بیان الطبخ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عــہ۲ و زدت انقطاع الطعم لما ستعلم ان شاء ا لله تعالی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
اس میں ایك اعتراض ہے جو فصل ثالث میں طبخ کے بیان میں آئے گا۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع