30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پالتو گدھے کے جھُوٹے کی طہوریت مشکوك ہے طہارت مشکوك نہیں اصح قول کے مطابق۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الاصح قالہ قاضیخان ومقابلالہ القول بنجاستہ لانہ ینجس فمہ بشم البول قال فی البدائع وھو غیر سدید لانہ امر موھوم لایغلب وجودہ فلا یؤثر فی ازالۃ الثابت بحر [1] اھ
اقول : (۱)ان کان المناط الندرۃ یظھر تنجیس سؤر التیس فان شمہ بول العنز انکان نادرا فانہ یتکرر منہ کل یوم مرارا انہ یدلی ذکرہ والمذی والبول نابعان فیمصہ بل الوجہ عندی و الله تعالٰی اعلم ان(۲)الجفاف سبب الطھارۃ فی ابدان الحیوانات کما فی الارض وقد حققناہ بتوفیق ا لله تعالٰی فی باب الانجاس من فتاوٰنا وا لله تعالٰی اعلم۔
اس کا قول “ فی الاصح “ یہ قاضی خان کا قول ہے اور اس کے مقابل اس کی نجاست کا قول ہے اس لئے کہ اس کا منہ پیشاب کو سُونگھنے کی وجہ سے نجس ہوجاتا ہے ، بدائع میں فرمایا یہ درست نہیں کیونکہ یہ بات محض وہم ہے ، عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے تو جو ثابت ہے اس کے ازالہ میں موثر نہ ہوگا بحر اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اگر مناط(علت)نادر ہونا ہے تو بکرے کے جھُوٹے کا نجس ہونا بھی ظاہر ہوگا ، کیونکہ وہ بکری کے پیشاب کو تو کم ہی سُونگھتا ہے مگر یہ عمل دن میں کئی بار اس سے سرزد ہوتا ہے کہ وہ اپنا ذکر لٹکاتا ہے اور مذی اور پیشاب دونوں اس سے نکلتے ہیں ، تو وہ بکرا اس ذکر کو چوستا ہے بلالکہ اس کی وجہ میرے نزدیك(و الله اعلم)یہ ہے کہ خشك ہونا حیوانات کے بدن میں سبب طہارت ہے جیسا کہ زمین کا حال ہے اور ہم نے بتوفیق اللہ اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی کے باب الانجاس میں کی ہے و الله تعالٰی اعلم۔ (ت)
اقول : ہاں۳ اگر دیکھیں کہ بیل وغیرہ نے مادہ کا پیشاب سُونگھا یا بکرے نے اپنا آلہ تناسل نکال کر چُوسا اور اُس وقت مذی اور بول نکل رہے تھے اور قبل اس کے کہ اس کا منہ پاك ہوجائے پانی میں ڈال دیا تو اب بیشك پانی ناپاك ہوجائےگا ، اوراگرچاربرتنوں۱ میں منہ ڈالا تو پہلے تین ناپاك ہیں چوتھا پاك وقابلِ وضو۔ اسے نمبر۲۲ کے ساتھ لکھناتھامگر ارادہ الٰہیہ یونہی واقع ہوا ولہ الحمد علی ماصنع ، وعلی مااعطی وعلی مامنع ، وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی الشفیع المشفع ، واٰلہ وصحبہ وابنہ وجزبہ اجمع۔
(۹۲)پانی میں کولتارپڑ گیاجس سے اس میں سخت بدبُو آگئی مگر گاڑھا نہ ہوگیا اس سے وضو جائز ہے۔ فتاوٰی زینیہ میں ہے :
سئل عن الماء المتغیر ریحہ بالقطران ھل یجوز الوضوء منہ ام لااجاب نعم یجوز [2] اھ والقطران بالفتح وبالکسرکظربان عصارۃ الابھل والارز [3] قاموس والارز ثمرالصنوبرقالہ ابو حنیفۃ [4] تاج العروس ومثلہ فی بلادنا ماذکرت۔
سوال کیا گیا کہ وہ پانی جس کی بُو کولتار کی وجہ سے متغیر ہوگئی ہو ، کیا اس سے وضو جائز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہاں ، اور قطران بالفتح اور بالکسر ظربان کی طرح ابھل اور ارز کا نچوڑ ہے قاموس ، اور ارز صنوبر کے درخت کا پھل ہوتا ہے ، یہ ابو حنیفہ کا قول ہے تاج العروس۔ اس قسم کا ہمارے ملك میں ہوتا ہے جیسامیں نے ذکر کیا۔ (ت)
اقول : مگر بوجہ۲ خبث رائحہ مکروہ ہونا چاہئے خصوصًا اگر اس کی بدبُو نماز میں باقی رہی کہ باعث کراہت تحریمی ہوگی۔
(۹۳)پانی میں روٹی بھگوئی اس کے تو اجزاء جلد منتشر ہوجاتے ہیں مگر جب تك پانی کو ستّو کی طرح گاڑھانہ کردیں رقیق وسیال رہے قابلِ وضو ہے اگرچہ رنگ ، مزہ ، بُو سب بدل جائیں ، خانیہ میں ہے :
لوبل الخبز بالماء وبقی رقیقا جازبہ الوضوء [5]۔
اگر روٹی کو پانی میں بھگویا اور وہ پانی پتلا رہا تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
(۹۴)یونہی جس میں آم بھگوئے۔
(۹۵)اقول اسی طرح گوشت کا دھوون اگرچہ پانی میں ایك گونہ سُرخی آجائے کہ صحیح۲ مذہب میں گوشت کا خون بھی پاك ہے نہ کہ وہ سُرخی کہ بعض جگہ اُس کی سطح پر ہوتی اور پانی میں دُھل جاتی ہے۔
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے :
الدم الخارج من اللحم المھزول عند القطع ان منہ فطاھر وکذادم مطلق اللحم[6]۔
دبلے گوشت سے نکلنے والا خون کاٹتے وقت ، اگر اس سے نکلے تو پاك ہے اور اسی طرح مطلق گوشت کے خُون کا حکم ہے۔ (ت)
(۹۶)صابون
(۹۷)اُشنان کہ ایك گھاس ہے اُسے حُرض بھی کہتے ہیں۔
(۹۸)ریحان جسے آس بھی کہتے ہیں۔
(۹۹)بابونہ
(۱۰۰)خطمی
(۱۰۱)بیری کے پتّے کہ یہ چیزیں میل کاٹنے اور زیادتِ نظافت کو آب غسل میں شامل کی جاتی ہیں اس سے غسل و وضو جائز ہے اگرچہ اوصاف میں تغیر آجائے جب تك رقّت باقی رہے مختصر امام ابو الحسن میں ہے :
یجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ اللبن او الزعفران اوالصابون اوالاشُنان [7]۔
اُس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاك چیز مل کر اُس کے کسی وصف کو بدل دے جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں دودھ ، زعفران ، صابون یا اُشنان ملی ہو۔ (ت)
اس پر جوہرہ نیرہ میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع