دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

لانطباقھا علی المسافۃ المتجزئۃ والثانیۃ لاجزء لھا بل تحدث بحدوث اول جزء من اجزاء الاولی وتبقی بحالھا مادام المتحرك بین الغایتین فاذ اسکن زالت دفعا فانقلت لم لایحمل کلام البحر علی ھذا کی یثبت التغایر بین الحدین کمافھم النھر والدر ویوافق لما اعترض بہ تبعا للفتح کلام العامۃ والمتون ان الحدث لایتجزی۔                                     

دونوں میں فرق یہ ہے کہ نجاست شرعی وصف ہے جو اعضاء ظاہرہ کی سطحوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے ، اور یہ حلول سریانی ہوتا ہے اور سطح ممتد اور منقسم ہے تو اس کی تقسیم کی وجہ سے نجاست بھی منقسم ہوجائے گی ، تو یہ رفعاً اور ثبوتاً تجزی کو قبول کرے گا ، رفعاً تو ظاہر ہے ، کیونکہ مثلاً اس نے ہاتھ تین بار دھویا تو اس سے نجاست زائل ہوجائے گی ، اور اسی لئے اس سے فرض تطہیر ساقط ہوگیا جبکہ باقی اعضاء میں نجاست باقی ہے اور ثبوتاً اس طرح کہ حَدَث اصغر چار اعضاء کو ناپاک کرتا ہے اور اکبر تمام بدن کو ، ہم عنقریب اس پر کلام کریں گے اِنْ شَآءَاللہ تعالٰی۔

رہا نجاست کے ساتھ مکلّف کا متلبس ہونا ، تو یہ مکلّف کا وصف ہے جو نجاست کے حلول سے پیدا ہوتا ہے ، خواہ اس کے بدن کے کسی جزء میں بھی ہو ، اور حدث اس وقت تک باقی رہے گا جب تک نجاست کسی بھی عضو میں باقی رہے ، تو اگر نجاست زیادہ ہوجائے تو حدث زیادہ نہ ہوگا ، اور نجاست اگر کم ہو تو حدث کم نہ ہوگا ، بلکہ جب بھی نجاست وجود میں آئے گی حدث وجود میں آئے گا اور جب تک باقی رہے گی خواہ کم سے کم ہو تو حدث بھی مکمل طور پر باقی رہے گا اور جب نجاست بالکلیہ زائل ہوجائے گی تو حدث بھی زائل ہوجائے گا ، ان دونوں کی نظیر حرکۃ بمعنی قطع ہے اور حرکۃ بمعنی توسط کے ہے ، تو پہلی منقسم ہے کیونکہ وہ مسافتِ منقسمہ پر منطبق ہوتی ہے اور دوسری کا کوئی جزء نہیں بلکہ پہلی حرکۃ کے پہلے جز کے پیدا ہونے پر پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح باقی رہتی ہے جب تک دونوں غایتوں کے درمیان

قلت :  یاباہ قولہ قائمۃ بالاعضاء فان التلبس الذی لاتجزی لہ انما یقوم بالمکلف نفسہ لابالاعضاء و الذی یقوم بھا یتجزی بتجزیھا کما عرفت امامخالفتہ لماذکرمن عدم التجزی فاقول : (۱)لا غروفھو القائل فی باب شروط الصلاۃ متصلا بھذا التعریف بلا فصل مانصہ والخبث عین مستقذرۃ شرعا وقدم الحدث لقوتہ لان قلیلہ مانع بخلاف قلیل الخبث [1] اھ فقد افصح بتجزی الحدث وقال متبوعہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح کلمتھم متفقۃ علی ان الخف اعتبر شرعاما نعا سرایۃ الحدث الی القدم فتبقی القدم علی طھارتھا ویحل الحدث بالخف فیزال بالمسح[2] اھ فھذا نص صریح علی تجزی الحدث واعتراف باطباق کلمتھم علیہ وھو کذلك فمن نظر کلامھم فی مسائل مسح الخفین وغیرھا ایقن بانھم جمیعا قائلون بتجزیہ وانما الذی لایتجزی ھو تلبس المکلف بالمنع الشرعی فظھر ظھور النھار ان الا یراد علی          

متحرک رہے اور جب پُر سکون ہوگا تو حرکت یک دم ختم ہوجائے گی۔ اگر تو کہے کہ بحر کے کلام کو اس پر کیوں محمول نہ کر لیاجائے تاکہ دونوں تعریفوں میں تغایر ظاہر ہوجائے جیسا کہ نہر اور دُر نے سمجھا ہے اور موافق ہوجائے اس اعتراض کے ساتھ جو انہوں نے فتح کی متابعت میں عام کتب اور متون پر کیا ہے کہ حَدَث منقسم نہیں ہوتا۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس تاویل سے ان کا قول “ قائمۃ بالاعضاء “ انکار کرتا ہے ، کیونکہ تلبس جو ایک غیر متجزی شیئ ہے ، وہ بذاتِ خود مکلّف کے ساتھ قائم ہوتا ہے نہ کہ اُس کے اعضاء کے ساتھ ، اور جو چیز اعضاء کے ساتھ قائم ہے وہ اعضاء کی تجزی کے باعث متجزی ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے پہچانا اور اس کی مخالفت عدم تجزی سے ، تو میں کہتا ہوں کہ اس پر کوئی تعجب نہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ خود ہی اس تعریف کے متصلا بعد “ باب شروط الصّلوٰۃ “ میں فرماتے ہیں “ اور خُبث وہ چیز ہے جو شرعاً گندی ہو ، اور حدث کو اس کی قوت کے باعث مقدم کیا کیونکہ اس کا قلیل بھی مانع ہے بخلاف قلیل خبث کے اھ یہاں انہوں نے بوضاحت حدث کے منقسم ہونے کا قول کیا ہے ، اور اُن کے مقتدا محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ موزہ شرعا قدم کی طرف حدث کی سرایۃ کو قدم تک روکنے والا ہے ، تو قدم بدستور پاک رہے گا اور حدث موزہ میں داخل ہوجائے گا ، لہٰذا مسح سے اس کو زائل کرد یا جائے گا اھ یہ نص صریح ہے حدث کے متجزی ہونے پر اور اس امر کا اعتراف ہے کہ فقہاء اس پر متفق ہیں ، اور بات

المتون والعامۃ وتثلیث السبب کلا کان فی غیر محلہ ولا حاجۃ الی ما(۱)تجشم  البحر جوابا عن المتون بقولہ الا ان یقال ان الحدث زال عن العضو زوالا موقوفا ثم ضعفہ بقولہ لکن المعلل بہ فی کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ اسقاط الفرض لاازالۃ الحدث [3]۔ اقول :  بل(۲)لاوجہ لہ لان الحدث بالمعنی الذی لایتجزی اعنی تلبس المکلف بالمانع الشرعی لاقیام لہ بعضو حتی یزول عنہ منجزا اوموقوفا ثم(۳)تعلیل الامام فی ھذا الکلام باسقاط الفرض لاینافی تعلیلہ فی کلام اخر برفع الحدث علی ماقررنا لك بارشاد الھدایۃ ان مؤداھما واحد وقد قال فی الخلاصۃ والتبیین والفتح وغیرھا الماء بماذایصیر مستعملا قال ابو حنیفۃ وابو یوسف اذا ازیل بہ حدث اوتقرب[4]بہ الخ وبالله التوفیق

ثم(٤)جنوح المحقق فی آخرکلامہ الذی اثرنا عنہ الی ان سقوط الفرض ھو الاصل فی الاستعمال اعتمدہ فی البحر ثم الدر واشار الی الرد علیہ                               

ایسی ہے کیونکہ جو بھی مسح علی الخفین کی بابت فقہاء کے کلام کو دیکھے گا اس کو یقین آجائے گا کہ سب فقہاء حَدَث کے متجزی ہونے کے قائل ہیں ، اور جو چیز متجزی نہیں ہوتی ہے وہ مکلّف کا منع شرعی سے متصف ہونا ہے ، تو روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ متون اور عام کتب پر اعتراض اور سبب کی تثلیث سب بے محل ہیں اور جو تکلف بحر نے متون کے جواب میں کیا ہے اس کی چنداں حاجت نہیں ، جو اب یہ ہے کہ “ مگر یہ کہ کہا جائے کہ حدث عضو سے زوالِ موقوف کے طور پر زائل ہوا ہے ، پھر خود ہی اس کو ضعیف قرار دیا اور فرمایا کہ حسن کی کتاب میں ابو حنیفہ سے اسقاط فرض کی علّت بنانا مروی ہے نہ کہ ازالہ حدث کو۔ (ت)

میں کہتا ہوں دراصل اس کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے ، کیونکہ حَدَث اُس معنی کے اعتبار سے جس میں وہ منقسم نہیں ہوتاہے یعنی مکلف کا مانع شرعی کے ساتھ متلبس ہونا ، اس کا قیام کسی عضو کے ساتھ نہیں ، تاکہ وہ اس سے فوری طور پر یا موقوفاً زائل ہوجائے ، پھر امام کا اس کلام میں اسقاط فرض کے ساتھ تعلیل کرنا ، ان کے دوسرے کلام میں رفع حدث کی علّت بتانے سے متضاد نہیں ، جیسا کہ ہم نے ہدایہ کی عبارت سے واضح کردیا ہے کہ دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے ، اور خلاصہ ، تبیین ، فتح وغیرہا میں ہے کہ پانی کا مستعمل ہونا ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک اس وقت ہوگا جب اس سے کوئی حدث زائل کیا جائے یا کوئی تقرب کیا جائے الخ وباللہ التوفیق پھرمحقق کا جوکلام ہم نےنقل کیا ہے

العلامۃ ش بان نقل اولا عن الفتح نفسہ ان المعلوم من جھۃ الشارع ان الاٰلۃ التی تسقط الفرض وتقاٰم بھا القربۃ تتدنس الخ وایضا عنہ مانصہ والذی نعقلہ ان کلا من التقرب والاسقاط مؤثر فی التغیر الا تری انہ انفرد وصف التقرب فی صدقۃ التطوع واثّر التغیر حتی حرمت علی النبی صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم فعرفنا ان کلا اثرتغیرا شرعیا اھ ثم قال بعد نقلھما مقتضاہ ان القربۃ اصل ایضا فالمؤثر فی الاستعمال[5] اصلان اھ۔

اقول : (۱)کلام المحقق من اولہ الی اخرہ طافح باثبات الاصالۃ بھذا المعنی ای مایبتنی علیہ الحکم بتدنس الماء للقربۃ والاسقاط جمیعا بل ھو الذی ثلث واقام اصولا ثلثۃ وما کان لیقرر ھذا کلہ ثم فی طی نفس الکلام یحصر الاصالۃ فی شیئ واحد وانما منشأ کلامہ انہ رحمہ الله تعالٰی  نقل عنھم ان الاستعمال عند الشیخین باحد شیئین رفع الحدث والتقرب وعند محمد بالتقرب وحدہ وحمل رفع الحدث علی المعنی الذی لایتجزی فتطرق                                  

اس میں ان کا میلان اس طرف ہے کہ پانی کے استعمال سے سقوط فرض ہی اصل ہے بحر اور دُر نے اسی پر اعتماد کیا ہے اور علامہ “ ش “ نے اس پر رد کی طرف اشارہ کیا ہے ، پہلے تو انہوں نے خود ہی فتح سے نقل کیا کہ شارع سے معلوم ہے کہ وہ آلہ جس سے فرض ساقط ہو اور قربۃ ادا ہو میلا ہوجاتا ہے الخ انہوں نے مزید فرمایا کہ جو ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ تقرب اور اسقاط فرض دونوں ہی تغیر میں مؤثر ہیں ، مثلاً وصف تقرب صدقہ تطوع میں منفرد ہے اور تغیر نے اثر کیا یہاں تک کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر حرام ہوگئی ، تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہر ایک نے شرعی تغیر کا اثر چھوڑا ہے اھ پھر دونوں کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کامقتضی یہ ہے کہ قربۃ بھی اصل ہے تو استعمال میں مؤثر دو اصلیں ہیں اھ ت

 



[1]            بحرالرائق شروط الصلوٰۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۶

[2]          فتح القدیر  مسح الخفین سکھر ۱ / ۱۲۸

[3]           بحرالرائق بحث الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲

[4]  خلاصۃ الفتاوٰی  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۷

[5]     ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶

فتح القدیر  باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن