30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے صاف کئے ہوئے پانی کو مقید قرار دیتے ہیں وہ بھی اسی کے قائل ہیں ، کیونکہ صرف دھونے سے پانی میں وہ اثر پیدا نہیں ہوتا ہے جو صاف کرنے سے ہوتا ہے ، اور جو تغیر پانی میں پیدا ہوتا ہے وہ دانہ کے باعث نہیں ہے بلالکہ اس کے اوپر غبار کی وجہ سے ہے و الله تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۸۸)جس پانی میں چنے بھگوئے کتنی ہی دیر بھیگے رہیں تحقیق یہ ہے کہ اُس سے وضو جائز ہے مگر یہ کہ ناج کے اجزا اُس میں مل کر اُسے گاڑھا کردیں کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی نہ رہے۔
(۸۹)یوں ہی جس میں باقلا عــــہ بھگوئیں یونہی ہرناج۔ مختصر امام ابو الحسن قدوری میں تھا :
لا(ای یجوز الوضوء)بماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کماء الباقلا والمرق [1]۔
نہیں(یعنی وضو جائز نہیں)اُس پانی سے جس پر اُس کے غیر کا غلبہ ہوگیا ہو ، اور اس وجہ سے پانی کو اس کی طبیعت سے خارج کردیا ہو ، جیسے باقلی کا پانی اور شوربہ۔ (ت)
اس پر ہدایہ میں فرمایا :
المراد بماء الباقلاء وغیرہ ماتغیر باطبخ فان تغیر بدون الطبخ یجوز التوضی بہ [2] اھ۔ واقرہ علیہ فی الفتح والعنایۃ وتبعہ فی الجوھرۃ فقال قولہ وماء الباقلاء المراد المطبوخ بحیث اذا برد ثخن وان لم یطبخ فھو من قبیل وتجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر [3] اھ
باقلاء کے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو پکائے جانے کی وجہ سے متغیر ہوگیا ہو اور اگر بلا پکائے متغیر ہوگیا ہو تو اُس سے وضو جائز ہوگا اھ۔ اور اس کو اس پر برقرار رکھا فتح اور عنایہ میں اور جوہرہ میں اس کی متابعت کی اور فرمایا : ان کا قول “ اور باقلی کا پانی “ اس سے مراد پکا ہُوا پانی ہے جو ٹھنڈا کئے جانے پر گاڑھا ہو جاتا ہے ، اور اگر اس کو پکایا نہ گیا ہو تو یہ اس پا نی کی طرح ہے جس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
عــہ : یہ بھی ایك معروف غلہ ہے اگرچہ یہاں اس کا رواج نہیں اس کی پھلیاں پکاتے ہیں سالن کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ (م)
اقول : رحم ا لله الشیخ الامام ورحمنا بہ کلام عــہ ابی الحسن فیما اذا اخرجہ عن طبع الماء بان اختلطت فیہ اجزاؤہ فثخن ولم یبق رقیقا وحینئذ لایجوز التوضی بہ وان لم یطبخ وقد قال فی الوقایۃ لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء اوبالطبخ کماء الباقلی والمرق فقال الامام الشارح المراد بہ ان یخرجہ عن طبع الماء وھو الرقۃ والسیلان وماء الباقلی نظیر ماغلب علیہ غیرہ اجزاء والمرق نظیر ماغلب علیہ بالطبخ [4] اھ۔
وفی الاصلاح والایضاح لابماء زال طبعہ وھو الرقۃ والسیلان بغلبۃ غیرہ اجزاء کماء الباقلا [5] اھ۔ نعم الظاھر ممامر عن الذخیرۃ والتتمۃ عن المیدانی وتبعہ صدر الشریعۃ من قیاس ماتلون بوقوع الاوراق علی ماء الباقلی ان المراد مانقع فیہ فغیرہ وصفا لاذاتا وھو خلاف المعتمد۔ ففی الخانیۃ یجوز التوضؤ بما القی فیہ حمص اوباقلاء لیبتل وتغیر لونہ وطعمہ
میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی شیخ الامام پر اور ہم پر رحم فرمائے ، ابو الحسن کی گفتگو اس صورت سے متعلق ہے جب کہ پانی کو اس کی طبیعت سے نکال دے مثلًا یہ کہ اس میں اس کے اجزاء مل جائیں اور وہ گاڑھا ہوجائے اور اس کی رقّت باقی نہ رہے تو ایسی صُورت میں اس سے وضوء جائز نہ ہوگا خواہ پکایا نہ گیا ہو ، اور وقایہ میں فرمایا “ نہ کہ اُس پانی سے جو دُوسری شئے کے غلبہ کی وجہ سے اپنی طبیعت سے خارج ہوگیا ہو یا پکائے جانے کی وجہ سے طبیعت ماء سے خارج ہوگیا ہو ، جیسے باقلی(لوبیا)کا پانی یا شوربہ۔ امام شارح نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو پانی کی طبیعت رقت اور سیلان ہے اور باقلی(لوبیا)کا پانی اُس پانی کی نظیر ہے جس پر دوسرے اجزاء غالب آگئے ہوں ، اور شوربہ اُس پانی کی مثال ہے جس کو پکایا گیا ہو تو اس پر دوسری شیئ غالب آجائے اھ۔ اور اصلاح اور ایضاح میں ہے کہ نہ اُس پانی سے کہ جس کی طبیعت زائل ہوگئی ہو یعنی رقّت اور سیلان ، اور یہ دوسری
عــہ : الحمد لله فتح المولی سبحنہ وتعالٰی بما یصحح الکلام ویوضع المرام ویزیل الاوھام کما یاتیك فی سادس ضوابط الفصل الثالث ان شاء ا لله تعالٰی ۱۲ منہ غفرلہ وحفظہ ربہ
اللہ تعالٰی کے لئے حمد ہے اللہ پاك نے وہ کھول دیا ہے جس کے ذریعے کلام صحیح ہوتا ہے ، مقصود واضح ہوتا ہے اور وہم ختم ہوتے ہیں جیسا کہ فصلِ ثالث کے چھٹے ضابطہ میں آئے گا۔ (ت)
ولکن لم تذھب رقتہ [6] اھ۔
وفی الفتح فی الینابیع لونقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز التوضی بہ [7] اھ۔ ومثلہ عنھا فی فتاوی الغزی ومثلہ فی المنیۃ وعزاہ فی الحلیۃ للملتقط وتجنیس الملتقط والظھیریۃ۔
اشیاء کے اجزاء کے غلبہ کی وجہ سے ہوا ہو جیسے باقلی(لوبیا)کا پانی اھ۔ ہاں ذخیرہ اور تتمہ کی گزشتہ عبارت جو میدانی سے منقول ہے اور جس کی متابعت صدرالشریعۃ نے کی ہے ، جس پانی میں پتّے گرے ہوں اور اس کا رنگ بدل گیا ہو اس کو باقلی کے پانی پر قیاس کیا ، اور کہا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں کسی چیز کو صاف کیا گیا ہو ، جس سے پانی کا وصف بدل گیا ہو نہ کہ ذات بدلی ہو ، اور یہ معتمد کے خلاف ہے۔ خانیہ میں ہے کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں چنے ڈال دئے گئے ہوں یا باقلی(لوبیا)ڈال دیا ہو تاکہ تر ہوجائے اور اس سے اس کا رنگ اور مزا بدل گیا ہو لیکن اس کی رقت ختم نہ ہوئی ہو اھ۔ اور فتح میں ہے ینابیع میں ہے کہ اگر چنوں اور باقلی کو پانی میں صاف کیا جس سے پانی کا رنگ ، مزا اور بُو بدل گئی تو اُس سے وضو جائز ہے اور اسی کی مثل اس سے فتاوٰی غزی میں ہے اور اسی کی مثل منیہ میں ہے اور حلیہ میں اس کو ملتقط اور تجنیس ملتقط اور ظہیریہ کی طرف منسوب کیا۔ (ت)
فائدہ : اقول : یہاں سے ظاہر ہوا کہ گھوڑے کے دانے سے جو پانی تو بڑے میں بچ رہے قابلِ وضو ہے جبکہ رقیق سائل ہو اور اسے بے وضو ہاتھ نہ لگا ہو کہ مذہب۱ صحیح میں گھوڑے کا جھوٹا قابلِ وضو ہے۔ درمختار میں ہے :
وسؤر ماکول لحم ومنہ الفرس فی الاصح طاھر طھور بلاکراھۃ [8]۔
وہ جانور جن کا گوشت حلال ہے ان کا جھوٹا پاك ہے اور اس سے بلاکراہت طہارت حاصل ہوتی ہے اور گھوڑا بھی انہی میں سے ہے اصح قول کے مطابق۔ (ت)
(۹۰)یہ ہوا اور ۔ (۹۱)گائے بھینس۲ بکری وغیرہ حلال جانوروں کا جھُوٹا جبکہ اُس وقت اُن کے منہ کی نجاست نہ معلوم ہو اگرچہ نر ہو اور بعض۳نے کہا نر کا جھوٹا ناپاك ہے کہ اُس کی عادت ہوتی ہے کہ جب مادہ پیشاب کرے اپنا منہ وہاں لگا کر سُونگھتا ہے نیز زمین پر اگر اس کا پیشاب پڑا پائے تو اُسے مگر صحیح طہارت ہے۔
درمختار میں ہے :
سؤر حمار اھلی ولو ذکرا فی الاصح مشکوك فی طھوریتہ لاطھارتہ [9]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع