دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

بھی نہیں کی ، تو یہ جمہور کے قول سے متعارض نہ ہوگا ، جمہور نے تصریح کی ہے کہ یہی اصحّ ہے ، اور امام نسفی نے مستصفٰی میں اپنے شیخ شمس الائمہ کردری سے نقل کیا کہ یہی صحیح روایت ہے ، جیسا کہ عنقریب ۹۷ میں آئےگا اور جس سے انہوں نے استدلال کیا ہے تو وہ مصادرہ علی المطلوب ہے اور محقق نے اس کی تردید فتح میں کردری ہے کہ موسم خزاں میں پتّے حوضوں میں گِرتے ہیں اب وہاں سے دو دوست گزرتے ہیں ایك دُوسرے سے کہتا ہے کہ آؤ یہاں پانی موجود ہے اسے پیتے ہیں اور اس سے وضو کرتے ہیں تو وہ اس پر پانی کا اطلاق کرتا ہے حالانکہ اُس کے اوصاف متغیر ہوچکے ہیں تو معلوم ہوا کہ عام محاورہ میں اس سے پانی کا نام سلب نہیں ہوتا ہے اھ۔ محقق نے حلیہ میں فرمایا اساتذہ کا جو اس پانی سے وضوکرلینا مذکور ہے تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اس پانی کے اوصاف میں زیادہ تغیر واقع نہ ہوا ہوگا اتنا کہ اُس سے مطلق پانی کا نام ہی مسلوب ہوجائے کیونکہ اوصافِ ثلٰثہ کا ہر تغیر پانی کو مقیدنہیں بناتا ہے بلکہ اُن کے حال سے یہی ظاہر ہے ، کیونکہ یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ مقید پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔ (ت)

میں کہتا ہوں اگر ان کی مراد یہ ہے کہ پانی کے

 

عــہ کذا ھو فی نسختی الحلیۃ باثبات التاء فی الثلٰثۃ ۱۲ منہ غفرلہ

میرے پاس موجود حلیہ کے نسخہ میں اسی طرح ثلٰثۃ میں تاء کو ثابت رکھا گیا ہے۔ (ت)

بوقوع الاوراق یجعل الماء مقیدا مع بقاء رقتہ فغیر مسلم ولا واقع فبوقوع الاوراق مع بقاء الرقۃ لایزول اسم الماء ابدا وان تغیرت الاوصاف مھما تغیرت وان اراد بالتغیر الکثیر زوال الرقۃ فلا حاجۃ الی الترجی بل ھو المراد قطعا قال فی العنایۃ بعد نقل النھایۃ وکذا اشار فی شرح الطحاوی الیہ لکن شرطہ انیکون باقیا علی رقتہ اما اذا غلب علیہ غیرہ وصاربہ ثخینا فلایجوز[1] اھ۔ ثم قال فی الحلیۃ کما ان الظاھر ان محل جواب المیدانی المذکور مابلغ بہ بماوقع فیہ من الاوراق الی حد التقیید فان تغیر لون الماء بکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ یوجب تغییر الطعم بل والرائحۃ ایضا انکانت الاوراق ذات رائحۃ [2] اھ۔

اقول : (۱)فکان ماذا فقد ذکرتم ان لیس کل تغیر فی الصفات الثلاث جمیعا یوجب جعل الماء مقیدا ولا تقید ھھنا الازوال الرقۃ والامام المیدانی انما بنی الجواب علی ظھور لون الاوراق فی الکف وبھذا                   

اوصاف میں پتّوں کے وقوع سے زیادہ تغیر پیدا ہونے سے پانی مقید ہوجاتا ہے باوجودیکہ اُس کی رقت باقی رہتی ہے ، تو یہ بات نہ تو مسلّم ہے اور نہ ایسا واقع ہے ، کیونکہ پتّوں کے گرنے سے جبکہ رقت باقی ہو ہمیشہ پانی کانام تبدیل نہیں ہوتا ہے اگرچہ اوصاف تبدیل ہوتے رہیں ، اور اگر ان کی مراد کثرتِ تغیر سے یہ ہے کہ رقّت زائل ہوجائے ، تو ترجی(لفظ لعل)کی حاجت نہیں ، بلالکہ قطعیت کے ساتھ یہی کہنا ہوگا ، عنایۃ میں نہایۃ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا۔ طحطاوی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے ، لیکن یہ شرط یہ ہے کہ اس کی رقّت باقی ہو ، اور اگر پانی پر کوئی دوسری چیز غالب ہوگئی اور اُس کی وجہ سے وہ گاڑھا ہوگیا تو اُس سے وضو جائز نہیں اھ۔ پھر حلیہ میں فرمایا جیسا کہ یہ ظاہر ہے کہ میدانی کا مذکور جواب پتّوں کی اُس مقدار سے متعلق ہے جس کی وجہ سے پانی مقید ہوجائے ، کیونکہ پتّوں کی کثرت کے باعث جب پانی کا رنگ تبدیل ہوتا ہے تو ساتھ ہی مزہ بلالکہ بُو بھی تبدیل ہوجاتی ہے بشرطیکہ پتّوں میں کوئی خاص بُو موجود ہو۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس سے کیا ثابت ہوا؟ آپ نے خود بھی ذکر کیا ہے کہ اوصاف ثلٰثہ کا ہر تغیر پانی کو مقید نہیں بنادیتا ہے ، اور یہاں کوئی تقید زوالِ رقّت کے سوا نہیں ہے اور میدانی کے جواب کی بنیاد یہ ہے کہ پتّوں کا رنگ چُلّو میں ظاہر ہوجائے ، اور

القدر جعلہ مقیدا وبہ صرح صدرالشریعۃ ومعلوم انہ لایستلزم الثخانۃ فانی ینفع التاویل ،  وعلی ا لله ثم علی رسولہ التعویل ، جل جلالہ وعلیہ الصلاۃ والسلام بالتعجیل۔

اس مقدار سے انہوں نے پانی کو مقید بنادیا ، اور اسی کی تصریح صدر الشریعۃ نے کی ہے اور یہ معلوم ہے کہ اس سے اس کا گاڑھا ہونا لازم نہیں ، تو تاویل کا کچھ فائدہ نہیں....(ت)

(۸۰ ، ۸۱)شنجرف یا کسم زردی کاٹنے کے لئے پانی میں بھگودیتے ہیں جب زردی کٹ آئی پانی پھینك دیتے ہیں یہ پانی اگرچہ اس کی رنگت وغیرہ بدل گئی قابلِ وضو ہے جبکہ گاڑھا نہ ہوگیا ہو ،

خانیہ میں ہے :

التوضئ بزردج العصفر یجوز ان کان رقیقا والماء غالب [3] اھ۔

اقول :  والحاصل واحد فکانہ اضیف الیہ بالعطف علیہ تعلیلالہ۔

پیلے رنگ کے زردج کے پانی سے وضو جائز ہے اگر پتلا ہو اور پانی غالب ہو اھ(ت)

میں کہتا ہوں حاصل ایك ہی ہے ، تو غالبًا یہ چیز بطور عطف اس کے ساتھ اس کی تعلیل کیلئے ملائی گئی ہے۔ (ت)

بزازیہ میں ہے :

ماء الزردج والصابون والعصفر لو رقیقا یسیل علی العضو یجوز [4]۔

زردج ، صابون اور عُصفر کا پانی اگر اتنا پتلا ہو کہ عضو پر بہہ سکے تو اُس سے وضو جائز ہے۔ (ت)

ہدایہ میں ہے :

وھو الصحیح کذا اختارہ الناطفی والامام السرخسی رحمھما ا لله تعالٰی [5]۔

اور یہی صحیح ہے ، اسی کو ناطفی اور امام سرخسی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے پسند کیا ہے۔ (ت)

مغربِ میں ہے :

ماء الزردج ھو ماء یخرج من العصفر المنقوع فیطرح ولا یصبغ بہ [6]۔

زردج کا پانی وہ ہے جو نچوڑے ہوئے عصفر سے نکلتا ہے پھر اس کو پھینك دیتے ہیں اور یہ رنگنے کے کام نہیں آتا ہے۔ (ت)

اسی طرح جوہرہ وغنیہ وحلیہ وعنایہ میں ہے۔

 



[1]   عنایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۶۳

[2]   حلیہ

[3]   قاضی خان  فیما لایجوزبہ التوضئ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹

[4]   فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الماء المقید وغیرہ پشاور ۴ / ۱۰

[5]   الہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸

[6]   جوہرۃ نیرۃ کتاب الطہارۃ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن