دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اگر مطلق پانی کیچڑ یا مٹی سے تبدیل ہوگیا تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)

محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :

لاباس بالوضوء بماء السیل مختلطا بالطین ان کانت رقۃ الماء غالبۃ فان کان الطین غالبا فلا [1]۔

سیلاب کا پانی جس میں کیچڑ کی آمیزش ہو اُس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ اس میں پانی کی رقت غالب ہو اور اگر کیچڑ غالب ہو تو جائز نہیں۔ (ت)

جوہرہ نیرہ میں ہے :

خصہ بالذکر لانہ یاتی بغثاء واشجار واوراق [2]۔

بطور خاص اس کو ذکر کیا کیونکہ سیلاب کے پانی میں میل کچیل ، درخت اور پتّے وغیرہ بھی بہہ کر آتے ہیں۔ (ت)

وجیز کردری میں ہے :

ماء السیل لورقیقا لیسیل علی العضو یجوز التوضی بہ [3]۔

سیلاب کا پانی اگر اتنا رقیق ہو کہ اعضاء پر بہتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)

منیہ میں ہے :

یجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ الزعفران بشرط ان

اس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو اور اس کے اوصاف میں سے کسی ایك وصف کو بدل دیا ہو جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی

یکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء ولم یزل عنہ اسم الماء وان یکون رقیقا بعد فحکمہ حکم الماء المطلق [4]۔

جس میں زعفران مل گئی ہو ، بشرطیکہ اجزا کے اعتبار سے غلبہ پانی کو ہی ہو اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوا ہو اور یہ کہ رقیق ہو ، تو اس کا حکم مطلق پانی کا ہے۔ (ت)

حلیہ میں ہے :

المد السیل وانما خصہ بالذکر لانہ یجیئ بغثاء ونحوہ الا ان قولہ غیر احد اوصافہ وقد سبقہ الی ھذہ العبارۃ القدوری فی مختصرہ یفید ان الجواز مقید بما اذاغیر وصفا واحدا لاغیر وحینئذ لایحتاج الی ان یقول بشرط ان یکون الغلبۃ للماء من حیث الا جزاء ولم یزل عنہ اسم الماء وان یکون رقیقا بعدمع ان قولہ بشرط ان تکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء مغن عن الثانی کما ھو ظاہر لان المخالط المذکور اذا لم یغیر سوی وصف واحد لایکون بحیث یغلب الماء من حیث الاجزاء لیقع الاحتراز عنہ ویجعل شرطا [5] اھ

اقول :  اولًا(۱)سیاتی الکلام ان شاء الله تعالی علی مقتضی التعبیر باحد وحسبك ان الزعفران یغیر اوصاف الماء الثلثۃ وکذا السیل ربما یتغیرلہ وصفان                                             

المد “ سیلاب کو کہتے ہیں اور اس کو بطور خاص ذکر کرنا اس لئے ہے کیونکہ سیلاب کا پانی کوڑا کرکٹ بھی ساتھ لاتا ہے مگر یہ کہ ان کا قول “ اس کے اوصاف میں سے کسی ایك کو بدل دیا “ اور ان سے پہلے قدوری بھی اپنی مختصر میں یہ عبارت لاچکے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے جواز اس صورت سے مقید ہے کہ جب صرف ایك وصف بدل جائے اس وقت یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ “ شرط یہ ہے کہ غلبہ پانی کو ہو اجزاء کے اعتبار سے “ اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہو ، اور یہ کہ رقیق ہو ، باوجودیکہ ان کا قول بشرطیکہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے پانی کو ہو ، یہ دوسرے سے بے نیاز کرنے والا ہے ، جیسا کہ ظاہر ہے ، اس لئے کہ ملنے والی مذکورہ شے پانی کا اگر صرف ایك ہی وصف بدلے تو وہ پانی کے اجزاء پر غالب نہ ہوگی تاکہ اس سے احتراز ہو اور اس کو شرط کیا جائے اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں اوّل “ احد “ سے تعبیر کرنے پر کلام آگے آئے گا ، اور پھر یہ دلیل کافی ہے کہ زعفران جو پانی کے تینوں اوصاف تبدیل کردیتی ہے ، اور اسی طرح سیلاب کہ اس سے کبھی دو وصف بدل جاتے ہیں

بل الکل وثانیا : (۱)الماء قد یخالطہ شیئ لایخالفہ الا فی وصف واحد فلا یغیر الا ایاہ وان زاد علی الماء اجزاء والوضوء بہ باطل وفاقا فلیس فی التعبیر باحد غنی عن شرط غلبۃ الماء من حیث الاجزاء کما ذھب الیہ وھلہ رحمہ الله تعالی وثالثا قد(۲)لایغلب الشیئ علی الماء اجزاء ویزیل اسمہ عنہ کما یاتی فی الزعفرانی والزاج والعفص والنبیذ فلا یغنی الشرط الاول عن الثانی ورابعا لایخفی ان(۳)الثانی مغن عن الثالث لان بزوال الرقۃ لایسمی ماء قال فی الفتح ماخالط جامدا فسلب رقتہ لیس بماء مقید بل لیس بماء اصلا کما یشیر الیہ قول المصنف فی المختلط بالاشنان الا ان یغلب فیصیرکالسویق لزوال اسم الماء عنہ [6] اھ فالعجب تعرضہ بحکم الاغناء حیث لم یکن وترکہ حیث کان ثم راجعت الغنیۃ فرأیتہ عکس فاصاب وافادان الثالث تفسیر قال واشتراط عدم زوال اسم الماء یغنی عن اشتراط الرقۃ فان الغلیظ قدزال عنہ اسم الماء بل زوال الرقۃ یصلح ان یکون تفسیر الزوال اسم الماء[7]۔                                              

اور کبھی تمام اوصاف بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔

دوم : پانی میں کبھی ایسی چیز مل جاتی ہے جو صرف ایك وصف میں اُس کے مخالف ہوتی ہے اور اسی ایك وصف کو بدلتی ہے خواہ اجزاء کے اعتبار سے وہ پانی سے زائد ہی ہو ، ایسے پانی سے بالاتفاق وضو باطل ہے ، لہٰذا “ ایك وصف بدلنے “ کا ذکر اس قید سے بے نیاز نہیں کرتا ہے کہ پانی کا اجزاء کے اعتبار سے غلبہ ہو ، جیسا کہ وہلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس کو ذکر کیا۔

سوم : بعض چیزیں اجزاء کے اعتبار سے پانی پر غالب نہیں آتیں اور اس سے پانی کا نام سلب ہوجاتا ہے جیسے زعفران ، پھٹکڑی ، مازو اور نبیذ میں ہوتا ہے تو پہلی شرط دوسری سے بے نیاز نہیں کرے گی۔

چہارم : مخفی نہ رہے کہ دوسرا تیسرے سے بے نیاز کرنے والا ہے کیونکہ جب رقّت زائل ہوگئی تو اب اس کو پانی نہیں کہاجائے گا ، فتح میں فرمایا پانی کسی جامد سے ملا اور اس کی رقت ختم ہوگئی تو یہ مقید پانی نہیں بلالکہ سرے سے پانی ہی نہیں جیسے کہ مصنف نے مختلط بالاشنان میں اشارہ کیا ہے ، مگر یہ کہ اتنا غالب ہوجائے کہ ستوؤں کی مثل بن جائے کہ اب اس پر پانی کا نام نہیں بولا جائےگا اھ تو تعجب اس پر ہے کہ جہاں اِغناء نہ تھا وہاں وہ اِغناء کا ذکر کر



[1]   فتح القدیر باب الماء الذی یجوز الخ سکھر ۱ / ۶۵

[2]   جوہرۃ نیرۃکتاب الطہارۃ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴

[3]   فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ نوع المستعمل الخ پشاور ۴ / ۱۰

[4]   منیۃ المصلی فصل فی المیاہ مکتبہ قادریہ ، لاہور ص۶۳

[5]   حلیہ

[6]   فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۶۵

[7]   غنیۃ المستملی المیاہ سہیل اکیڈمی ، لاہور ص۹۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن