30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی(۱)چادر پر ناپاکی کی یقین ہے اور جگہ معلوم نہیں یا یاد نہ رہی اور تحری کسی طرف نہیں پڑی کہیں سے پاك کر لی جائے پاك ہوجائے گی کہ اب اس متیقن مبہم کی بقا میں شك ہوگیا اور سب(۲)سے زائد وہ مسئلہ ہے کہ محررِ مذہب امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سیر کبیر میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ایك قلعہ فتح کیا اتنا معلوم ہے کہ اس میں ایك ذمی ہے مگر اُسے پہچانتے نہیں اُن کفار کا قتل حرام ہے ہاں اگر اُن میں سے بعض نکل جائیں یا کوئی قتل کردے تو اب باقیوں کا قتل جائز ہوگیا کہ وہ یقین مجہول اس شك سے زائل ہوگیا۔
وقد حققہ العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ فافاد واجاد٭ علیہ رحمۃ الجواد٭ فراجعہ فانہ من اھم مایستفاد٭ ویکفینا منہ ھنا قولہ تنجس طرف من الثوب فنسیہ فغسل طرفا منہ بتحر او بلا تحر طھر لان بغسل بعضہ مع ان الاصل طھارۃ الثوب وقع الشك فی قیام النجاسۃ لاحتمال کون المغسول محلھا فلا یقضی بالنجاسۃ بالشك کذا اوردہ الاسبیجابی فی شرح الجامع الکبیر قال وسمعت الشیخ الامام تاج الدین احمد بن عبدالعزیز بقولہ ویقیسہ علی مسألۃ فی السیر الکبیر ھی اذا فتحنا حصنا وفیھم ذمی لایعرف لایجوز قتلھم لقیام المانع بیقین فلوقتل البعض اواخرج حل قتل الباقی للشك فی قیام المحرم کذا [1] ھنا۔
اس کی تحقیق ابراہیم حلبی نے غنیہ میں بہت اعلٰی اور مفید طریق پر کی ہے جس کو دیکھنا ہو وہاں ملاحظہ کرے ، یہاں اس کی صرف یہ عبارت نقل کرنا کافی ہوگی “ اگر کپڑے کا ایك کنارہ ناپاك ہوگیا مگر بھُول گیا کہ کون سا کنارہ ہے تو تحرّی کرکے یا بلاتحرّی ایك کنارہ دھولیا تو کپڑا پاك ہوجائے گا “ کیونکہ کپڑے میں اصل طہارت ہے اور جب ایك کنارہ دھولیا تو اب نجاست کے ہونے میں شك ہوگیا ، کیونکہ جو حصہ دھویا گیا ہے اس میں امکان ہے کہ وہی ہو جو نجس تھا ، تو شك کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائےگا ، اسبیجابی نے شرح جامع کبیر میں ایسا ہی لکھا ہے ، فرمایا کہ میں نے اپنے شیخ تاج الدین احمد بن عبدالعزیز کو فرماتے ہوئے سناوہ اس کو سَیر کبیر کے اس مسئلہ پر قیاس کرتے تھے کہ اگر ہم نے ایك قلعہ فتح کیا اور اس میں ایك ذمی ہے مگر معلوم نہیں کہ کون ہے ، تو اس قلعہ کے لوگوں کا قتل جائز نہیں ، کیونکہ یقین کرنے کا مانع موجود ہے ، اور اگر بعض کو قتل کردیا گیا یا نکال دیا گیا تو باقی کو قتل کرنا جائز ہے کیونکہ مُحَرِّم کی موجودگی میں شك ہے۔ (ت)
جب یہ قاعدہ نفیسہ معلوم ہولیا یہاں بھی اُس کا اجرا کریں جتنا(۱)پانی اُس نابالغ نے ڈالا ہے اسی قدر یا اُس سے زائد اُس حوض یا کنویں سے عــہ۱ نکال کر اُس نابالغ عــہ۲ کو دے دیں یہ دینا یقینا جائز ہوگا کہ اگر اِس میں مِلك صبی ہے تو صبی ہی کے پاس جات ہے بخلاف بہا دینے یا ڈول کھینچ کر پھینك دینے کے کہ وہ مِلك صبی کا ضائع کرنا ہے اور یہ جائز نہیں اب کہ اُس قدر یا زائد پانی اُس صبی کو پہنچ گیا اُس کے ڈالے ہوئے پانی کا باقی رہنا مشکوك ہوگیا تو وہ یقین کہ موضع مجہول کیلئے تھا زائل ہوگیا اور حوض وچاہ کا باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا۔
ثم اقول : اس پر واضح دلیل مثلیات۲ مشترکہ مثلًا گیہوں وغیرہ میں وارث کبیر کا اپنا حصہ وارث نابالغ کے حصے سے جدا کرلینے کا جواز ہے اور اس کی یہ تقسیم جائز ومقبول رہے گی اگر نابالغ کا حصہ اُس کیلئے سلامت رہے تلف نہ ہوجائے جامع الفصولین میں فتاوٰی اور جامع الصغار میں ذخیرہ سے ہے :
کیلی او وزنی بین حاضر وغائب اوبین بالغ وصبی اخذ الحاضر اوالبالغ نصیبہ فانما تنفذ قسمتہ بلاخصم لوسلم نصیب الغائب والصبی حتی لوھلك مابقی قبل ان یصل الی الغائب اوالصبی ھلك علیھما [2] ۔
کوئی مکیل یا موزوں شے حاضر وغائب کے درمیان یا بالغ اور بچّہ کے درمیان مشترك ہے تو حاضر یا بالغ نے اپنا حصّہ لے لیا اور اس کی تقسیم بلا خصم نافذ ہوجائے گی بشرطیکہ غائب اور بچہ کا حصہ باقی رہا اور اگر غائب اور بچہ تك پہنچنے سے قبل ہی وہ حصہ ہلاك ہوگیا تو ان کا حصہ ہی ہلاك ہوگا۔ (ت)
عــہ۱ : اگر کہیے مائے مباح سے جو لے گا مالك ہوگا تو یہ پانی کہ کوئی شخص کنویں یا مباح حوض سے بھر کر نابالغ کو دے گا اپنی ملك دے گا اور ایك شے پر دو مِلکیں جمع نہیں ہوسکتیں تو یہ پانی مِلك صبی نہ تھا پھر اس کے نکلنے سے مِلك صبی کا نکل جانا کیونکر محتمل ہوا۔
اقول : جبکہ اس پانی میں مِلك صبی مخلوط ہے تو اب مائے مباح نہیں مائے محظور ہے بھرنے والا اس کا مالك نہ ہوگا جو بھرا محتمل ہے کہ وہی مائے مملوك صبی ہو یا مائے مباح کا حصہ اول پر بھرنے والا اُس کا مالك نہیں ہوسکتا ہے اور دوم ہے تو ہوگا اور مِلك شك واحتمال سے ثابت نہیں ہوسکتی لہٰذا وہ احتمال قائم رہا کہ یہ وہی پانی ہے جو ملك صبی تھا ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ : اقول : بلالکہ اگر خود نابالغ نے دوبارہ اُتنا یا اُس سے زائد پانی اُس میں سے بھر لیا تو اب بھی رفع مانع ہوجانا چاہئے کہ اگرچہ نابالغ کیلئے پانی ممنوع نہیں جیسا کہ تنبیہ پنجم میں گزرا اور وہ جو دوبارہ بھرے گا ضرور اس کا مالك ہوگا مگر یہ اُس احتمال کا مانع نہیں کہ اس بار وہی پانی آیا جو اس نے پہلے ڈال دیا تھا اور یہی احتمال رفع منع کو بس ہے والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
ظاہر ہے کہ یہاں بھی مِلك صبی ایسی ہی مختلط تھی کہ جُدا کرنا ممکن نہ تھا اور بالغ کو اس میں تصرف ناروا تھا بقدر حصہ صبی اُس میں سے الگ کردینا حصہ صبی کا جدا ہوجانا اور بالغ کے لئے جواز تصرف کا سبب ہوا۔
اقول : (۱)ولاشك ان الماء مثلی بمعنی ان اجزاء ہ لاتتفاوت وبہ جزم کثیرون کما فی الخیریۃ من احیاء الموات فی الولوالجیۃ وکثیر من الکتب لوصب ماء رجل کان فی الحب یقال لہ املأ الماء فان صاحب الحب مالك للماء وھو من ذوات الامثال فیضمن مثلہ [3] اھ وان کان قیمیا لانہ لایکال ولایوزن کما فی الخیریۃ من البیوع عن جامع الفصولین عن فوائد صاحب المحیط وفتاوٰی رشید الدین الماء قیمی عند ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالٰی عنہما وفیہ عن مختلفات القاضی ابی القاسم العامری عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ الماء لایکال ولا یوزن قال الطحاوی معناہ لایباع بعضہ ببعض وعن محمد رحمہ الله تعالٰی الماء مکیل [4] اھ وبالجملۃ لاشك انہ یقبل الافراز کالحب بل ابلغ فربما تتفاوت قلیلا حبات طعام واحد بخلاف قطرات ماء واحد۔
اقول : اور اس میں شك نہیں کہ پانی مثلی ہے یعنی اس لئے کہ اُس کے اجزاء میں تفاوت نہیں ، اور بہت سے مشائخ نے اسی پر جزم کیا ہے ، جیسا کہ خیریہ(احیاء الموات)اور ولوالجیہ میں ہے اور بہت سی کتب میں ہے ، اگر کسی شخص نے مٹکے کا پانی گرا دیا تو اس سے کہا جائے گا کہ مٹکا بھرے کیونکہ مٹکے کا مالك پانی کا بھی مالك تھا ، اور پانی مثلی اشیاء میں سے ہے تو وہ اس کے مثل کا ضامن ہوگا اھ اگرچہ وہ قیمت والی چیز ہے ، اس لئے کہ وہ نہ مکیل ہے اور نہ ہی موزون ہے جیسا کہ خیریہ کی بیوع میں جامع الفصولین سے ، فوائد صاحب المحیط سے اور فتاوٰی رشید الدین میں ہے کہ پانی ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیك قیمت والی چیز ہے اور اس میں مختلفات ابی القاسم العامری سے ابو یوسف سے ابو حنیفہ سے ہے کہ پانی نہ کیلی ہے نہ وزنی ہے۔ طحاوی نے فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ پانی کا بعض ، بعض سے بیچا نہیں جاتا ہے اور محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت ہے کہ پانی کیلی ہے اھ خلاصہ یہ کہ پانی کو الگ کیا جاسکتا ہے جیسے مٹکے میں ، بلکہ زیادہ ہے کیونکہ بسا اوقات کھانے کی ایك ہی چیز کے دانوں میں فرق ہوتا ہے لیکن پانی کے قطرات میں نہیں ہوتا۔ (ت)
ثم اقول : یہ طریقہ اثم سے بچنے کو ہے اور اگر بغیر اس کے کوئی شخص نادانستہ یا دیدہ ودانستہ براہِ جہالت خواہ بے پرواہی احکامِ شریعت اُس میں سے اُتنا پانی یا اُس سے زاید بھر کر لے گیا تو اگرچہ وہ گنہگار ہو باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا کہ اُتنا نکل جانے سے حوض وچاہ میں اُس کی بقا پر یقین نہ رہا کما قال محمد لایجوز قتلھم فلوقتل البعض حل قتل الباقی [5](جیسا کہ امام محمد فرماتے ہیں ان کا قتل جائز نہیں اگر بعض قتل ہوجائیں تو باقی کا قتل جائز ہوگا۔ ت)
تنبیہ اقول : یہیں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جریان۱ نہ ضرور نہ کافی اگر صبی۲ کا پانی اتنا قلیل تھا کہ چھلکنے میں نکل سکتا ہے تو جریان کی حاجت نہیں۔ اور اگر اتنا کثیر تھا کہ جتنے خروج پر جریان صادق آتا ہے اس میں نہ نکلے گا تو یہ جریان کافی نہیں جب تك اُس قدر نکل نہ جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع