دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

میں کہتا ہوں ، اس پر جو اعتراض ہے وہ معلوم ہوچکا ہے ، اور کل پانی کا نجاست کی صورت میں نکالنا برخلاف قیاس ہے تو اس پر آگے قیاس کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور غالبًا انہوں نے ان ابحاث کی طرف فلیتأمل سے اشارہ کیا ہے(ت)

ہیجدہم : (۶)سب سے زیادہ اہم اس کا علاج ہے کہ یہ پانی قابل استعمال کیونکر ہو سید طحطاوی نے تو اتنا فرمایا کہ اس میں حرج عظیم ہے سید شامی نے جو علاج بتائے دفع اثم کو کافی نہیں ہوتا ،

واشار سیدی العارف بالله عبدالغنی النابلسی قدس سرہ ، فی الحدیقۃ الی ان تفریجہ باذن الولی حیث قال فی النوع العشرین من اٰفات اللسان بعد مانقل المسألۃ عن الاشباہ وعللھا بما قدمنا مانصہ وظاھرہ الا ان یاذن الولی قال ونظیرہ عدم حل الشرب من کیزان الصبیان الاباذن الولی وکذلك فی اکل مامعھم اذا اعطوہ لاحد [1] اھ۔ فلاوجہ لصحتہ ولا باذن الولی وھذا من الثالث و وجہ ھذا السھو منہ رحمہ الله تعالٰی قول الماتن فی الطریقۃ المحمدیۃ حیث ذکر السؤال المنھی عنہ

اقول :  رحم الله سیدی ورحمنا بہ(۱)انما الولایۃ نظریۃ ولیس للولی اتلاف مالہ ولا ان یاذن بہ غیرہ(۲)کیف وقد تقرر ان التصرفات ثلاثۃ نفع محض کقبول ھبۃ فیستبدبہ الصبی العاقل ودائر بین النفع والضرر کالبیع والشراء فیحتاج الی اذن الولی وضرر محض کالطلاق والعتاق والھبۃ ثم(۳)قال(حرمۃ السؤال لاتقتصر علی المال بل تعم الاستخدام خصوصا اذا کان صبیا اومملوکا للغیر۔ (۴)اماصبی نفسہ      

عارف باللہ سید عبدالغنی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اگر ولی اجازت دے تو جائز ہے یہ بات انہوں نے آفات اللسان کی بیسویں نوع میں اس مسئلہ کو اشباہ سے نقل کرنے اور اس کو علّت بیان کرنے کے بعد کہی ہے جس کی عبارت ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ “ مگر یہ کہ ولی اجازت دے دے “ اور اس کی مثال یہ ہے کہ بچوں کے کوزوں سے پانی پینا ولی کی اجازت ہی سے جائز ہے ، اور اسی طرح دوسری کھانے والی اشیاء کا حال ہے بچّے جب وہ کسی کو دیں۔ (ت)

میں کہتا ہوں اللہ عبدالغنی پر رحم کرے اور ہم پر بھی ولی کی ولایت صرف نظری(بچہ کی بھلائی کیلئے)ہے ولی بچہ کا مال تلف نہیں کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کو دے سکتا ہے ، یہ بات طے شدہ ہے کہ تصرفات تین قسم کے ہیں نفع محض جیسے بچّہ کا ہبہ کا قبول کرنا ، عاقل بچہ بذاتِ خود ہبہ قبول کرسکتا ہے اور ایك وہ جس میں نفع کا بھی احتمال ہے اور نقصان کا بھی۔ جیسے خریدوفروخت اس میں ولی کی اجازت ضروری ہوگی اور سراسر نقصان والی بات ، جیسے طلاق ، آزاد کرنا اور ہبہ کرنا ، تو اس کی صحت کی کوئی صورت نہیں ، ولی کی اجازت سے بھی نہیں ، اور یہ تیسری قسم ہی میں شامل ہے ، اُن کو یہ سہو اس لئے لاحق ہوا کہ ماتن نے طریقہ محمدیہ میں منہی عنہ کے سوال کا ذکر کیا ہے۔ پھر یہ لفظ کہے ہیں “ حرمۃ السؤال لاتقتصر علی المال الخ سوال جو بے ضرورت شرعیہ حرام ہے یہ صرف مال

فیجوز)للاب والام والجد والجدۃ(استخدامہ ان کان)المستخدم(فقیرا)لاقدرۃ لہ علی شراء خادم اواستئجارہ(اواراد تھزیبہ وتأدیبہ [2] بخلاف عــہ  استخدام مملوکہ واجیرہ(۱) وزوجتہ فی مصالح البیت وتلمیذہ)فی تعلیم قراٰن اوعلم اوصنعۃ(باذنہ)یعنی برضاہ(ان کان بالغا اوباذن ولیہ ان کان صبیا)فان الصبی محجور علیہ من التصرف فی مالہ فی منافع نفسہ الا باذن الولی [3] اھ۔ ملتقطا ، مزیدا من شرحۃ رحمہ الله تعالٰی(۲)فالاذن الذی ذکرہ الماتن فی استخدامہ عداہ الی مالہ وشتان ماھما فان فی الاول نفعہ من تأدیبہ وتھذیبہ مع ضرر استعمالہ فکان من القسم الثانی فجاز باذن الولی بخلاف الثالث(۳)والذی افاد من حل الشرب من کوز الصبی واکل مامعہ باذن الولی۔  (ت)                                                                  

مانگنے پر ہی موقوف نہیں بلالکہ اجنبی سے کسی خدمت کا کہنا بھی حرام سوال میں داخل ہے خصوصًا دوسرے کے نابالغ بچے یا غلام سے۔ اگر کسی کا اپنا بچہ ہے تو باپ ، ماں ، دادا اوردادی کیلئے(اس سے خدمت لینا جائز ہے ، اگر)خدمت لینے والا(فقیر ہو)خادم نہ خرید سکا ہو یا کسی کو ملازم نہ رکھ سکتا ہو(یا بچہ کی تہذیب وتربیت کا ارادہ ہو مگر اس شرط میں غلام ، مزدور ، بیوی سے گھر کا کام کاج کرانا شامل نہیں کہ ان سے بغیر احتیاج کے گھر کا کام لینا جائز ہے اور شاگرد سے خدمت لینا درست ہے مثلًا طالبعلم سے قرآن سکھانے یا کوئی علم سکھانے یا کسی حرفت کے سکھانے کا کام لیا جائے(اس کی مرضی سے ، اگر وہ بالغ ہے ، ورنہ اس کے ولی کی رضا سے اگر وہ بچّہ ہے)کیونکہ بچہ اپنی منفعت کیلئے بھی اپنے مال میں ولی کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ہے اھ ملتقطًا ہے اور شرح سے اضافہ ہے تو وہ اجازت جس کا ذکر ماتن نے کیا ہے اس کے استخدام ہیں ، تو شارح نے اس کو مال تك بڑھا دیا ہے اور دونوں میں بہت فرق ہے ، کیونکہ پہلی صورت میں اس کا نفع ہے کہ اس کی تادیب وتہذیب ہے جبکہ اُس سے کام کرانے میں ضرر بھی ہے ، تو یہ دوسری قسم میں داخل ہوا ، اس لئے ولی کی اجازت سے جائز ہوگا ، جبکہ تیسرا ایسا نہیں ہے ، اور جس کا انہوں نے فائدہ دیا ہے وہ بچہ کے کُوزہ سے پانی پینے کا جواز ہے یا جو چیز بچّہ کے پاس ہے اس کے کھانے کا جواز ہے ولی کی اجازت سے۔ (ت)

 

عــہ :  ناظرًا الی قولہ اذا کان صبیا اومملوکا للغیر ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اس کے قول اذا کان صبیا او مملوکا للغیر کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ (ت)

فاقول : (۱)محلہ اذا کان الماء والطعام للولی اعطاھما الصغیر علی وجہ الاباحۃ دون الھبۃ فحینئذ یکون للولی ان یاذن لمن شاء فبقائھما علی ملکہ بخلاف مااذا کان الشی مملوکًا للصغیر فلا معنی اذًا لاذن الولی باستھلاکہ من دون عوض وقد تقدمت مسألۃ الذخیرۃ والمنیۃ ومعراج الدرایۃ فی ماء جاء بہ الصبی من الوادی لایجوز لابویہ الشرب منہ الا فقیرین [4]۔                                                                                                                                         

تو میں کہتا ہوں اگر پانی اور کھانا ولی کا ہے اور بطورِ اباحت(نہ بطور ہبہ)اس نے بچہ کو دے رکھا ہے تو ایسی صورت میں ولی کسی کو بھی اجازت دے سکتا ہے ، کیونکہ یہ دو چیزیں اب بھی ولی کی ملکیت میں باقی ہیں یہ اُس صورت سے مختلف ہے جبکہ یہ اشیاء بچہ کی ملکیت میں ہوں تو ایسی صورت میں ولی کی اجازت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ولی کی اجازت سے صغیر کے مال کو بغیر عوض ضائع کرنا لازم آئےگا اور یہ جائز نہیں اور ذخیرہ ، منیہ اور معراج الدرایہ کا مسئلہ گزر چکا ہے کہ بچّہ وادی سے جو پانی لائے اس کو والدین کے لئے پینا جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ فقیر ہوں۔ (ت)

غرض مسئلہ مشکل ہے اور اس میں ضرور حرج ہے اور حرج مدفوع بالنص ہے۔

وانا اقول : وبالله التوفیق پانی کی مِلك صبی ہوا نجس نہیں کہ اُس کے گرنے سے اور پانی ناپاك ہوجائے حرمت اس وجہ سے ہے کہ مباح ومحظور مختلط ہوگئے ہیں یہاں تك کہ اگر ممکن ہو کہ مباح استعمال کیا جائے اور اس میں کوئی حصہ محظور کا نہ آنے پائے تو بلاشبہ جواز ہوگا اور ہم نے رحب الساحہ جواب سوال سوم میں بیان کیا ہے کہ مشایخ عراق کے نزدیك حوض کبیر میں نجاست غیر مرئیہ کے موقع وقوع سے وضو جائز نہیں کہ پانی ٹھہرا ہوا ہے منتقل نہ ہوگی اور مشایخ بلخ وبخارا اور ماوراء النہر کے نزدیك سب جگہ سے جائز کہ پانی بالطبع سیال ہے ہواؤں وغیرہا کی تحریك سے اُسے ایك جگہ نہ رہنے دے گا تو جہاں کہیں وضو کیا جائے وہاں نجاست ہونے کا یقین نہیں اگرچہ خاص موقع وقوع سے ہو تو پانی کہ بالیقین طاہر تھا شك سے نجس نہ ہوگا اب یہاں اگر قول عراقیاں لیا جائے جب تو خاص اُسی جگہ کا پانی ممنوع الاستعمال ہوگا جہاں نابالغ کی مِلك کا پانی گرا ہے باقی اپنی اباحت پر باقی ہے لما علمت انہ لاتعدیۃ فیہ فکان کغیر مرئیۃ فی حوض کبیر(جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اس میں تجاوز نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسا حوضِ کبیر میں نجاست غیر مرئیہ ہو)(ت)اور اگر قول جمہور لیا جائے اور وہی صحیح ہے تو بوجہ احتمال انتقال اختلاط مِلك صبی کا یقین کسی موضع معین میں نہیں بلالکہ موضع مجہول ومبہم میں ہے اور ایسے۲ یقین پر جب اُس شے کے بقا وزوال میں شك طاری ہو یقین زائل اور حکم اصل حاصل ہوتا ہے جیسے دائین۳ چلانے میں بیل ضرور پیشاب کرتے اور اناج کا ایك حصہ یقینًا ناپاك ہوتا ہے مگر متعین نہ رہا تو بعد تقسیم یا اُس سے کُچھ ہبہ یا صدقہ کرنے سے سب پاك ہوجائےگا کہ ہر ایك کہے گا ممکن کہ ناپاك دانے دوسرے حصے میں رہے یا گئے ہوں ، یوں



[1]         حدیقہ ندیہ النواع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۹

[2]                حدیقہ ندیہ النوع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۷

[3]   حدیقہ ندیہ النوع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۸

[4]        ردالمحتار بالمعنی باب الشرب البابی مصر ۵ / ۳۱۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن