دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

نہم : اگر وہ پانی کہ صبی کی ملك سے اُس میں مخلوط ہوا باقی نہ رہے تو اب سب کو مباح ہوجائےگا کہ مانع زائل ہوگیا۔

دہم : مسئلہ۳ سابقہ یعنی نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں جو ایك صورتِ جواز اُس سے اگر ماذون ہو ورنہ اُس کے دل سے خرید لینے کی تھی یہاں جاری نہیں ہوسکتی کہ مِلك صبی کا پانی جب اُس آبِ مباح میں مل گیا قابلِ بیع نہ رہا کہ مقدور التسلیم نہیں۔

یاز دہم : آبِ مباح کی ضرورت بھی اُس حالت میں ہے کہ بچّہ کا اُس میں سے بھر کر اُس میں ڈال دینا لیں کہ مباح پر ملك یوں ہی ہوگی ورنہ۴  مِلك نابالغ کا پانی اگر کسی کے مملوك پانی میں مل جائے گا تو اُس کا استعمال بھی حرام ہوجائےگا حتی کہ اُس مالك آب کو۔

دواز دہم : ایك یا دونوں طرف کچھ پانی کی خصوصیت نہیں بلالکہ کسی کے۵  مملوك پانی میں بچے کی مِلك کا عرق یا دودھ یا کسی کے مملوك عرق یا دُودھ میں بچّے کی ملك کا پانی یا چاول میں چاول گیہوں میں گیہوں مل جائیں جب بھی یہی حکم ہے کہ اس میں تصرف خود مالك کو بھی حرام ہوگیا تو مسئلہ کی تصویر(۱)یوں ہونی چاہئے کہ اگر کسی شے مباح یا مملوك میں کسی غیر مکلف کی مِلك اس طرح خلط ہوجائے کہ تمیز ناممکن ہو اگرچہ یونہی کہ مثلًا مباح غیر مملوك پانی سے صبی یا معتوہ حر غیر اجیر نے بھرا اور اگر وہ کنواں ہے تو اُس سے بھر کر باہر نکال لیا اور اگر اجیر ہے تو نہ وقت معین نہ وہ مباح معین نہ یہ مستاجر کیلئے لینے کا مقر نہ اُس کے ظرف میں لیا پھر ان صورتوں میں اُس کا کوئی حصّہ اُس میں کسی نے ڈال دیا یا پڑ گیا تو جب تك اُس غیر مکلّف کی مِلك اُس مباح یا مملوك میں باقی ہے اور وہ غیر مکلف ہے اور مِلك اُس سے منتقل نہ ہوگئی اُس وقت اُس غیر مکلّف یا بحال حاجت خواہ ایك روایت پر پانی میں مطلقًا  اُس کے ماں باپ کے سوا کسی کواُس میں تصرف حلال نہیں۔

سیزدہم : حدیث العبد والامۃ ردہ ش بان العبد لایملك وان ملك فیکون لمالکہ لانہ مالك اکسابہ [1] اھ۔

اقول : (۲)ماکانوا لیذھلوا عن مثل ھذا وانما القصد ابانۃ الفرق بین الحر العاقل البالغ وبین الصبی والمعتوہ والرقیق فان الاول اذا ملأ ملك فاذا صب اباح وھؤلاء لایملکون الاباحۃ فلا یحل بصبھم ولیس المراد تأبید التحریم بل الٰی ان تلحق الاجازۃ ممن ھی لہ ففی الصبی اوالمعتوہ حتی یبلغ اویعقل فیجیز وفی(۳)الرقیق حتی یجیز المالك المکلف الحاضر حالا اوماٰلا اویبلغ الغائب اویبلغ الصبی اویفیق المعتوہ فیجیزوا۔                          

سیزدہم : غلام اور باندی کے مسئلہ کو “ ش “ نے یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ غلام پانی کا مالك نہیں بنے گا اور اگر مالك ہوگا بھی تو وہ پانی اُس کے مالك کی ملکیت میں آجائے گا کیونکہ اس کی تمام کمائی کا مالك اُس کا مالك ہی ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں فقہاء سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ اتنی معمولی سی بات اُن کے ذہن میں نہ آئی ہو ، دراصل ان کا مقصود آزاد عاقل بالغ اور بچہ ، بیوقوف اور غلام کے درمیان فرق کو ظاہر کرنا ہے ، کیونکہ آزاد شخص جب پانی بھرے گا تو مالك ہوجائےگا اور جب بہائے گا تو مباح کردے گا ، اور یہ لوگ اباحت کا حق نہیں رکھتے ہیں ، لہٰذا پانی ان کے انڈیل دینے سے مباح نہ ہوگا اور مراد یہ نہیں کہ حرمت ہمیشہ رہے گی ، بلکہ یہ اس وقت تك ہے جب تك کہ اس کا مالك اجازت نہ دے دے ، چنانچہ بچہ اور بیوقوف کی صورت میں بلوغ یا عقل کی درستی کے بعد اجازت دینے سے اس کا پینا حلال ہوجائےگا اور غلام کی صورت میں اس کے آقا کی اجازت سے جو مکلف حاضر ہو

چاردہم :  عدش من اشکالاتہ انہ لویبین متی یحل الشرب منہ [2] اھ۔ (۱)واشرت الی جوابہ بقولی مابقی فیہ ذلك الماء لان المنع لاجلہ فاذا ذھب ذھب۔

پانزدہم :  قال وھی ثم فرق بین الحوض الجاری اومافی حکمہ وبین غیرہ [3] اھ۔

اقول : (۲)تعبیرھم بالحوض(۳)ظاھر فی رکودہ فان الجاری یسمی نھرا لاحوضا(۴)والاطلاق یشمل الصغیر والکبیر وھو الوجہ فان الماء الجاری یذھب ذلك الماء یقینا فیزول السبب ولا کذلك الراکد۔

شانزدہم :  قال وینبغی ان یعتبر غلبۃ الظن بانہ لم یبق مما اریق فیہ شیئ منہ بسبب الجریان  اوالنزح و الا یلزم ھجر الحوض وعدم الانتفاع بہ اصلا [4] اھ۔

                                                فی الحال یا فی المآل ، یا غائب پہنچ جائے یا بچہ بالغ ہوجائے یا بیوقوف عاقل ہوجائے ، اور وہ اجازت دے دیں۔ (ت)

چہاردہم : “ ش “ نے اس پر یہ اشکال محسوس کیا ہے کہ انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس کا پینا کب حلال ہوگا اھ۔ میں نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تك اس میں یہ پانی باقی ہے کیونکہ حرمت اسی کی وجہ سے ہے جب یہ ختم ہوجائےگا تو حرمت بھی ختم ہوجائے گی۔ (ت)

پندرھواں ، کیا حوض جاری اور جو اس کے حکم میں ہے اس میں اور دوسرے پانیوں میں اس سلسلہ میں فرق ہے؟(ت)

میں کہتا ہوں فقہاء کا حوض سے تعبیر کرنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ اُن کی مراد ٹھہرا ہوا پانی ہے کیونکہ جاری پانی کو نہر کہا جاتا ہے  حوض نہیں کہتے ہیں اور اطلاق چھوٹے بڑے دونوں کو شامل ہے اور یہی معقول وجہ ہے کیونکہ جاری پانی اِس پانی کو جو پھینکا گیا ہے بہا لے جائےگا ، تو سببِ حُرمت زائل ہوجائےگا اور ٹھہرے ہوئے پانی کی یہ صورت نہیں۔ (ت)

سولھواں : فرمایا غلبہ ظن کا اعتبار بھی کیا جانا چاہئے یعنی یہ کہ پانی کے جاری رہنے یا اُس میں سے پانی کے نکالے جانے کے باعث جو پانی کہ اس میں ڈالا گیا تھا اُس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا ، ورنہ تو پھر حوض کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیر باد کہنا پڑےگا۔ (ت)

اقول : (۱)لاینبغی الشك فی الجواز بعد النزح لما سیاتی انما الشأن فی جواز النزح(۲)وکیف یحل مع ان فیہ اضاعۃ ملك الصبی ان صب فی الارض اولانتفاع بہ ان سقی بہ نحو زرع اوبستان وکذلك الاجراء وان ابیح ذلك الاٰن فلم لایباح الشرب والاستعمال من رأس اذلیس فیہ فوق ھذا باس نعم(۳)ان جری بمطر اوسیل فذك حل من دون اثم۔

ہفدہم :  قال ویمکن ان یعتبر بالنجاسۃ فیحل الشرب من نحو البئر بالنزح ومن غیرھا بالجریان بحیث لوکان نجاسۃ لحکم بطھارتھا فلیتامل [5] اھ۔

اقول : (۴)عرفت مافیہ(۵)والنزح فی النجاسۃ معدول بہ عن سنن القیاس فکیف یعتبر بہ وکأنہ رحمہ الله تعالٰی الٰی ھذہ الابحاث اشار بقولہ فلیتأمل۔              

میں کہتا ہوں ، جب اس حوض کا پانی نکل جائے تو پھر جواز میں کوئی شك نہیں لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ آیا اُس تمام پانی کا نکال دینا جائز ہے؟ اس میں اشکال یہ ہے کہ نکال کر اگریوں ہی بہا دیا جائے تو بچہ کا مال ضائع ہوجائےگا اور کسی باغ یا کھیت وغیرہ کو لگا دیا جائے تو اُس سے نفع حاصل کرنا لازم آئےگا ، اسی طرح جاری کرکے بہا دینا بھی درست نہیں اور اگر اس سے یہ تمام کام کرنا جائز ہیں تو شروع ہی سے اس کا پینا اور اس کو استعمال کرنا کیوں جائز نہیں ، اُس میں اس سے زیادہ کیا حرج تھا؟ ہاں یہ صورت ہوسکتی ہے کہ بارش یا سیلاب کی وجہ سے حوض کا پانی بہہ نکلا تو وہ بلاحرج حلال ہوجائےگا۔ (ت)

سترھواں : فرمایا یہ ممکن ہے کہ نجاست کا اعتبار کیا جائے ، تو کنویں سے پانی نکال کر پینا جائز ہوگا ، اور کنویں کے علاوہ دوسری چیزوں سے اُس پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے پینا جائز ہوجائےگا ، گویا اگر اس میں نجاست بھی ہوتی تو اس کی طہارت کا حکم دیا جاتا ، فلیتامل اھ۔ (ت)

 



[1]        ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲

[2]   ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲

[3]   ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲

[4]   ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲

[5]           ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن