دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

تنبیہ ۳ : بہشتیوں(۱)کے بچّے اکثر کنویں پر پانی بھرتے ہیں لوگوں کی عادت ہے کہ ان سے وضو یا پینے کو لے لیتے ہیں یہ حرام ہے اور عوام کو اس میں ابتلائے عام ہے ولا حول ولا قوۃ ا لّا بالله العلی العظیم۔

اقول : مگر یہاں۲  ایك دقیقہ ہے یہ بچّے داموں پر پانی بھرتے ہیں اور کہیں مشکیں مقرر ہوتی ہیں کہیں گھر کے برتن معین یہ شخص جس نے نابالغ بہشتی سے پانی لیا اگر وہ ۱  اس کے یہاں نہیں بھرتا تو اسے مطلقًا  جائز نہیں اور اگر بھرتا ہے مگر یہ۲ مشك جسے وہ بھررہا تھا اور اُس کے ڈول سے پانی اس نے لیا دوسرے کے یہاں لے جائے گا تو ناجائز ہے اور اگر ۳  اسی کے یہاں لے جانے کو ہے مگر قرار داد برتنوں کا بھرنا ہے اور وہ پورے بھر دئے جائیں گے تو ناجائز ہے کہ یہ پانی اُس سے زائد ہے یوں۴ ہی اگر مشکوں کا قرار داد ہے اور یہ مشك بھی اُس سے پُوری لی تو ناجائز ہے ہاں۵  اگر یہ مشك اتنی خالی لی تو ایسا ہوا کہ اتنا پانی گھر پر نہ پہنچوایا یہیں لے لیا یا ۶ برتنوں کا قرارداد ہے اور اتنا خالی رکھنے کو کہہ دیا یا۷  جس دوسرے کے یہاں یہ مشك لے جاتا ہے اُس سے

اس قدر پانی کی اجازت لے لی اور اُس نے مشك یا برتن اتنے خالی رکھوائے تو جائز ہونا چاہئے کہ اگرچہ پانی۱ ابھی سقا ہی کی مِلك تھا جب برتنوں میں ڈالے گا اُس وقت اس کی بیع ہوگی اور جس کے یہاں بھرا گیا اُس کی مِلك ہوگا یہ اس لئے کہ بہشتی اجیر مشترك ہیں نہ اُن کا وقت معین ہوتا ہے نہ اتنا پانی قابل تعین ہے اور اپنے ڈول سے بھرتے ہیں اور جب تك مشك کہیں ڈال نہ دیں پانی اپنا ہی جانتے ہیں اُس میں جو چاہیں تصرف کرتے ہیں لہٰذا اُس وقت تك پانی انہی کا ہوتا ہے مگر مقصود اس مول لینے والا کا قبضہ ہے اور اس کی اجازت سے جو تصرف ہو وہ اسی کا قبضہ ہے اگر دس مشکیں اس کے یہاں ٹھہری ہوئی ہیں اور وہ کہے کہ اُن میں سے دو کا چھڑکاؤ یہیں سڑك پر کر دو ضرور بیع صحیح ہوجائیگی اسی طرح اگر اس میں سے ایك لوٹا یا جس قدر چاہا زید کو دلوایا ، ھذا ماظھرلی والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

تنبیہ ۴ : معتوہ۲  بوہرا جس کی عقل ٹھیك نہ ہو تدبیر مختل ہو کبھی عاقلوں کی سی بات کرے کبھی پاگلوں کی مگر مجنون کی طرح لوگوں کو محض بے وجہ مارتا گالیاں دیتا اینٹیں پھینکتا نہ ہو وہ تمام احکام میں صبی عاقل کی مثل ہے تو یہ سب احکام بھی اُس میں یوں ہی جاری ہوں گے۔

اقول : مگر غنی ماں۳ باپ کا اُس کے بھرے ہوئے سے انتفاع امام محمد سے دربارہئ صبی مروی اور اُس کا مبنی عرف وعادت اور معتوہ میں اس کی عادت ثابت نہیں اور منع میں بوجہ ندرتِ عتہ لزوم حرج نہیں تو یہاں ظاہرًا قول اول ہی مختار ہونا چاہئے والله سبحانہ  وتعالٰی اعلم۔

فائدہ : یہاں تك وہ پانی تھے جن میں اُن کا غیر نہ مِلا آگے خلط غیر کی صورتیں ہیں۔

(۴۹ تا ۶۵)کتب کثیرہ معتمدہ میں تصریح ہے کہ اگر نابالغ۴نے حوض میں سے ایك کوزہ بھرا اور اس میں سے کُچھ پانی پھر اُس حوض میں ڈال دیا اب اُس کا استعمال کرنا کسی کو حلال نہ رہا۔

فی ش۱عن ط۲ عن الحموی۳ عن الدرایۃ۴ عن الذخیرۃ۵ والمنیۃ۶ وفی غمزالعیون۷ عن شرح المجمع۸ لابن الملك عن الذخیرۃ وفی الاشباہ۹ من احکام الصبیان وفی الحدیقۃ الندیۃ۱۰ عن الاشباہ فی النوع العشرین من افات اللسان وفی غیرھا من الکتب الحسان عبد اوصبی اوامۃ ملأ الکوز من ماء الحوض واراق                              

ش میں ط سے حموی سے درایہ سے ذخیرہ سے اور منیہ سے ہے اور غمز العیون میں شرح مجمع سے یہ ابن ملك کی کتاب ہے ذخیرہ سے ہے ، اور اشباہ میں احکام الصبیان میں اور حدیقہ ندیہ میں اشباہ آفات اللسان کی بیسویں نوع میں اور دوسری کتب میں ہے کسی غلام بچّے یا باندی نے حوض کے پانی س لوٹا بھرا پھر اس میں سے کچھ اُسی کے اندر انڈیل دیا تو اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ اِس حوض سے

بعضہ فیہ لایحل لاحدان یشر من ذلك الحوض لان الماء الذی فی الکوز یصیر ملکا للاٰخر فاذا اختلط بالماء المباح ولا یمکن التمییز لایحل شربہ [1]۔

پانی پئے کیونکہ حوض کا پانی لینے والے کی ملك ہوجاتا ہے تو جب یہ ملك مباح سے مل گیا اور اس میں تمییز ممکن نہیں تو اس کا پینا حلال نہ ہوگا عــہ۔ (ت)

علامہ طحطاوی وعلامہ شامی نے اسے نقل کرکے فرمایا اس حکم میں حرج عظیم ہے۔

اقول : یہاں بہت استثنا وتنبیہات ہیں : اول : مراد(۱)آب مباح غیر مملوك ہے تو حکم نہ ہر حوض کو شامل نہ حوض سے خاص بلالکہ کنوؤں کو بالعموم حاوی ہے کہ کُنواں اگرچہ مملوك ہو اس کا پانی مملوك نہیں کما تقدم تحقیقہ(جیسا کہ اس کی تحقیق گزر چکی ہے۔ ت)اور وہ حوض جس کا پانی مملوك ہے اُس کا مالك اگر عاقل بالغ ہے تو بچّہ ہزار باراس میں سے پانی بھر کر اس میں پلٹ دے کچھ حرج نہ آئے گا کہ مال جس کا(۲)تناول اس کے مالك نے مباح کیا ہو بعد اخذ تصرف بھی ملك مالك سے خارج نہیں ہوتا یہاں تك کہ دعوت کا کھانا کھاتے وقت بھی میزبان ہی کی مِلك پر کھایا جاتاہے تو بچہ اس پانی کا مالك ہی نہ ہوگا اصل پانی کی ملك پر رہے گااور ڈال دینے سے اُسی کی ملك میں جائےگا۔ دوم : ہماری تحقیقاتِ بالا سے واضح ہوا کہ ہر مباح بھی مطلقًا  آخذ کی ملك نہیں ہوجاتا تو پانی کو مباح ومملوك کو شامل لے کر وہی سترہ۱۷ صورتیں یہاں بھی پیدا ہوں گی جو نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں گزریں نو۹ صورتوں میں وہ پانی اُس بھرنے والے کی مِلك نہ ہوگا بلالکہ ا صل مالك آب یا مستاجر یا مولٰی کی مِلك ہوگا وہ اگر عاقل یا

عــــــہ : حکم کی شدت نے اس مسئلہ کو مشکل بنا دیا ہے کیونکہ عوام وخواص کے ابتلاء کی وجہ سے یہ حکم بموجب حرج اور تنگی ہے جبکہ ابتلاء عوام داعی یسر و آسانی ہے اللہ تعالٰی بے حساب رحمتیں نازل فرمائے فقہاءِ کرام پر جنہوں نے اللہ تعالٰی کی مخلوق پر شفقت فرمائی اور ایسے پیچیدہ اور مشکل مسائل کو حل فرمایا جس سے عوام الناس کیلئے آسانی اور سہولت کی راہ ہموار ہوئی چنانچہ امام احمد رضا بریلوی(مصنف)نے اس مسئلہ کی شدّت کو محسوس فرمایا اور انہوں نے فقہاء احناف کے اقوال کی روشنی میں اس کا حل صفحہ ۵۳۷ پر خود بیان فرمایا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے مسئلہ مذکورہ اگرچہ جنابت وطہارت کا نہیں بلالکہ اسکا تعلق حظرو اباحت سے ہے ، تاہم پاك پانی میں نجس پانی کے اختلاط کے مسئلہ میں فقہاءِ احناف کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس کو حل کیا جاسکتا ہے عراقی فقہاء نے پاك پانی میں نجس پانی گرنے سے متعلق فرمایا کہ بڑے حوض کے کثیر پانی میں جس جگہ نجس پانی گرا ہو اس جگہ کو چھوڑ کر باقی حوض سے وضو جائز ہے کیونکہ باقی جگہوں تك نجاست کا پہنچنا مشکوك ہے لہٰذا شك کی بنا پر باقی پانی کی طہارت زائل نہ ہوگی جبکہ جمہور فقہاء نے ایسی صورت میں تمام حوض حتّی کہ جس جگہ نجاست گری ہے اس جگہ پر بھی وضو کو جائز فرمایا کیونکہ پانی طبعی طور پر سیال ہے اور ہواؤں وغیرہ کی تحریك کی وجہ سے پانی ایك جگہ ساکن نہیں رہتا لہٰذا حوض کے باقی حصّوں میں نجاست پہنچنے نہ پہنچنے کے احتمال کی وجہ سے باقی بلالکہ تمام پانی کو بالیقین نجس نہیں کہہ سکتے لہٰذا نجاست کا یقین زائل ہوجانے پر پانی کا اصل حکم یعنی طہارت باقی رہے گا اس طرح حوض کے ہر حصہ کے پانی کو پاك قرار دیا جائیگا ، عراقی یا جمہور فقہاء کرام کے ضابطہ پر نابالغ بچّے کی ملکیت پانی کو قیاس کرتے ہوئے مذکورہ مشکل مسئلہ کا حل واضح ہوجاتا ہے ، عراقی ضابطہ کے پیش نظر جہاں نابالغ بچّے کا پانی گرا اُس جگہ کو چھوڑ کر باقی تمام پانی کا استعمال مباح ہوگا جبکہ جمہور فقہاء کے ضابطہ کے تحت نابالغ کے پانی گرنے کی جگہ سمیت تمام پانی مباح ہوگا مصنّف کی اصل عبارت میں تفصیل موجود ہے۔ عبدالستار سعیدی

بالغ نہیں تو البتہ یہی دقّت عود کرے گی ورنہ اُس عاقل بالغ کی اجازت پر توقف رہے گا۔

سوم : صبی کی خصوصیت نہیں معتوہ بھی اسی کے حکم میں ہے کما تقدم۔

چہارم : جس طرح کلامِ علما ء میں پینے کا ذکر مثال ہے مراد کسی قسم کا استعمال ہے اسی طرح کچھ یہی شرط نہیں کہ حوض یا کنویں سے پانی لے کر ہی ان میں ڈالے یا جس حوض یا چاہ سے لیا اس میں واپس دے یا وہ نابالغ ہی اپنے ہاتھ سے ڈالے بلالکہ مقصود اُسی قدر ہے کہ مال مباح میں نابالغ کی مِلك کا اس طرح مل جانا کہ جُدا نہ ہوسکے تو اگر صبی۱  کی مِلك کا پانی اُس کے گھر سے لا کر کسی شخص اگرچہ خواہ اُس کے ولی نے کسی کنویں یا مباح حوض میں ڈال دیا اس کا استعمال تابقائے آب مذکور ناجائز ہوگیا۔

پنجم : ظاہر ہے کہ یہ عدم جواز اوروں کے حق میں بوجہ اختلاط ملك صبی ہے خود صبی استعمال کرسکتا ہے کہ وہ نہیں مگر اسکی ملك یا مباح۔

ششم : اُس کے۲  ماں باپ بھی بشرطِ حاجت بالاتفاق اور بلاحاجت روایت امام محمد پر استعمال کرسکتے ہیں تو لایحل لاحد(کسی کیلئے جائز نہیں۔ ت)عام مخصوص ہے۔

 ہفتم : اگر وہ کنواں یا حوض ترك کردیں اور صبی بلوغ کو پہنچے اور اُس وقت اس پانی کو مباح کردے تو اب کوئی مانع نہیں۔

ہشتم : اگر وہ صبی انتقال کرجائے اس کے سب ورثہ عاقل بالغ ہوں تو اب ان کی اجازت پر دقّت نہ رہے گی اور اگر ایك ہی وارث ہے تو اسے خود حلال خالص ہے کسی کی اجازت کی بھی حاجت نہیں۔

 



[1]           ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن