30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳۵)نابالغ خدمتگار نے آقا کے لئے نوکری کے وقت میں بھرا۔
(۳۶)خاص پانی ہی بھرنے پر اُس کا اجیر بتعین وقت تھا اُسی وقت میں بھرا۔
(۳۷)مستاجر نے پانی خاص معین کردیا تھا مثلًا اس حوض یا تالاب کا کل پانی۔
اقول : اور یہ تعین نہ ہوگا کہ اس حوض یا کنویں سے دس مشکیں کہ دس مشك باقی سے جدا نہیں جس کی تعیین ہوسکے۔
(۳۸)اس نے باذن ولی یہ مزدوری کی اور کہتا ہے کہ یہ پانی مستاجر کیلئے بھرا۔
(۳۹)اسی صورت میں اگرچہ زبان سے نہ کہا مگر اُس کے برتن میں بھرا۔
(۴۰)نابالغ کسی کا مملوك ہے ان نو صورتوں میں وہ نابالغ اُس پانی کا مالك ہی نہ ہوا پہلی تین صورتوں میں مالك آب کا ہے پھر ۳۵ سے ۳۹ تك پانچ صورتوں میں مستاجر کا۔ اخیر میں اگر باذنِ مولٰی کسی کے لئے اجارہ پر بھرا اور وہی صورتیں ملك مستاجرکی پائی گئیں تو پانی مستاجر کاورنہ بہرحال اس کے مولٰی کا یہاں تك کہ خاص اپنے لئے جو بھرا ہو وہ بھی مولٰی ہی کی مِلك ہوگا۔ یہ پانی جس جس کی مِلك ہو اُسے تو جائز ہی ہیں اُس کی اجازت سے ہر شخص کو جائز ہیں جبکہ وہ عاقل بالغ مختار اجازت ہو بلالکہ بحال۱ انبساط اجازت لینے کی بھی حاجت نہیں مثلًا کسی کے نابالغ نوکر اجیر یا غلام نے پانی بھرا اس کے بھائی یا دوست جو اس کے ایسے مال میں تصرف کرتے اور وہ پسند رکھتا ہے اُس سے بے پُوچھے بھی نابالغ مذکور کا بھرا ہوا پانی اُس سے لے کر اپنے صرف میں لاسکتے بلکہ غلام سے مطلقًا اور اُس کے نوکر سے وقت نوکری میں بھرواسکتے ہیں کہ بہرحال اُس دوست کی مِلك میں تصرف ہے نہ نابالغ کی۔
(۴۱)نابالغ۲ حُر کو مالك آب نے پانی تملیکًا دیا۔
(۴۲ حُر غیر اجیر نے آب مباح غیر مملوك سے اپنے لئے بھرا۔
(۴۳)دوسرے کیلئے بطور خود۔
(۴۴)اُس کی فرمائش سے بلا معاوضہ۔
(۵۴)اجیر کے آقا کے کہنے سے بھرا اگر اس کے یہاں کسی اور خاص کام کیلئے نوکر تھا جس میں پانی بھرنا داخل تھا۔
(۴۶)داخل تھا جیسے خدمت گاری مگر نوکری کے وقتِ مقرر سے باہر بھروایا۔
(۴۷)خاص پانی ہی بھرنے پر اسے اجیر کیا نہ وقت مقررہ ہوا نہ پانی معین نہ یہ مقرر کہ اُس کے لئے بھرا نہ اُس
کا برتن تھا جس میں بھرا۔
(۴۸)وقت مقرر ہوا اور اُس سے باہر یہ کام لیا ان آٹھ صورتوں میں وہ پانی اُس نابالغ کی مِلك ہے اور اُس میں غیر والدین کو تصرف مطلقًا حرام حقیقی بھائی اُس پانی سے نہ پی سکتا ہے نہ وضو کرسکتا ہے ہاں طہارت ہوجائے گی اور ناجائز تصرف کا گناہ اور اُتنے پانی کا اس پر تاوان رہے گا مگر یہ کہ اس کے ولی سے یا بچّہ ماذون۱ ہو جس کے ولی نے اسے خرید فروخت کا اذن دیا ہے تو خود اس سے پُورے داموں خریدلے ورنہ۲ مفت یا غبن فاحش کے ساتھ نابالغ کی مِلك دوسرے کو نہ خود وہ دے سکتا ہے نہ اُس کا ولی۔ رہے والدین وہ بحالت حاجت مطلقًا اور بے حاجت حسبِ روایت امام محمد اُن کو جائز ہے کہ اُس سے بھروائیں اور اپنے صرف میں لائیں باقی صورتوں میں اُن کو بھی رواہ نہیں مگر وہی بعد شرا۔
تنبیہ ۱ : یہاں۳ سے اُستاد سبق لیں معلموں کی عادت ہے کہ بچّے جو اُن کے پاس پڑھنے یا کام سیکھنے آتے ہیں اُن سے خدمت لیتے ہیں یہ بات باپ دادا یا وصی کی اجازت سے جائز ہے جہاں تك معروف ہے اور اس سے بچّے کے ضرر کا اندیشہ نہیں مگر نہ اُن سے پانی بھروا کر استعمال کرسکتے ہیں نہ اُن کا بھرا ہوا پانی لے سکتے ہیں۔
اقول : وعرفھم الحادث علی خلاف الشرع لا یعبؤبہ فانہ لم یکن فیمن مضی من اھل الخیر ومر الامام الکسائی رحمہ الله تعالٰی علی سکۃ عطشان فاستسقی من بعض بیوتھا ثم تذکر انہ اقرأ بعض اھلھا فمرولم یشرب۔
اقول : اور ان کی نئی اصطلاح جو شریعت کے برخلاف ہے ، اس کا کوئی اعتبار نہیں یہ اصطلاح سلف صالحین کے زمانہ میں نہ تھی۔ ایك مرتبہ امام کسائی کا گزر ایك گلی سے ہوا آپ پیاسے تھے تو ایك گھر سے پانی طلب کیا ، پھر انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اس گھر کے کچھ لوگوں کو پڑھایا ہے ، چنانچہ آپ نے پانی واپس کردیا اور پیاسے ہی وہاں سے گزر گئے۔ (ت)
تنبیہ۲ : کنویں کا پانی جب تك کنویں سے باہر نہ نکال لیا جائے کسی کی مِلك نہیں ہوتا فان سببہ الملك الاحراز ولا احراز الابعد التنحیۃ عن رأس البئر [1](سبب مِلك احراز ہے اور احراز پانی کو کنویں کی منڈیر سے الگ کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ ت)تو استاد۱ جسے بچّے سے خدمت لینے کا اختیار ہے یہ کرسکتا ہے کہ پانی بچّے سے بھروائے یہاں تك کہ ڈول کنویں کے لب تك آئے اُس کے بعد خود اسے نکال لے کہ یہ پانی بچّے کی مِلك نہ ہوگا بلالکہ خود اُس کی۔
فی الھندیۃ عن القنیۃ والساقین
ہندیہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ جو شخص
من البئر لایملك بنفس ملأ الدلو حتی ینحیہ عن رأس البئر [2] اھ۔
وفی ردالمحتار لواحرزہ فی جرۃ اوجب اوحوض مسجد من نحاس اوصفر اوجص وانقطع جریان الماء فانہ یملکہ وانما عبربالاحراز لا الاخذ اشارۃ الی انہ لوملأ الدلو من البئر ولم یبعدہ عن رأسھا لم یملك عند الشیخین رضی الله تعالٰی عنھما اذ الاحراز جعل الشیئ فی موضع حصین [3] اھ۔
اقول : فاذالم یملکہ کان باقیا علی اباحتہ فالذی نحاہ ھو الذی احرز المباح فیملکہ اھ۔
کنویں سے پانی بھرتا ہے وہ محض ڈول کے بھرنے سے پانی کا مالك نہیں ہوجائےگا ، اُس وقت مالك ہوگا جب اُس پانی کو کنویں کی منڈیر سے الگ کرکے رکھ دے اھ۔
اور ردالمحتار میں ہے اگر کسی نے ٹھلیا ، مٹکے یا مسجد کے حوض میں پانی جمع کیا ، یہ حوض تانے ، پیتل یا گچ کا ہو ، اور اس طرح پانی کا بہنا بند ہوگیا ہو تو وہ اس کا مالك ہوجائےگا ، انہوں نے اس کو اِحراز سے تعبیر کیا ، اخذ سے نہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر ڈول کنویں سے بھرا مگر وہاں سے ہٹایا نہیں تو شیخین کے نزدیك وہ اس کا مالك نہ ہوگا کیونکہ “ اِحراز “ کے معنی کسی چیز کو محفوظ جگہ پر رکھنے کے ہیں اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں جب یہ شخص اس طرح اس کا مالك نہ ہوا تو پانی اپنی اباحت پر ہی باقی رہا ، تو جس نے اس کو کنویں سے ایك طرف ہٹا کے رکھا اس نے اس اس کو محفوظ کیا تو وہی اس کا مالك ہوا۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع