دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول : (۱)ھذا اعتراف بالمقصود فان التوکیل مطلقًا  اثبات ولایۃ للوکیل لم تکن من قبل ولایوجد ھھنا فلایصح التوکیل بہ بخلاف الشراء ولیس ان احداث الولایۃ مطلوب خصوصا فی التوکیل بما یوجب حقا علی الموکل حتی یقال لیس التوکیل باخذ المباح من ھذا الباب فلا یحتاج الی احداث الولایۃ۔

والثالث ان المقصود بالتوکیل نقل فعل الوکیل الی الموکل ولا یتحقق ھھنا فان الشرع جعل سبب ملك المباح سبق الید الیہ والسابقۃ ید الوکیل فیثبت الملك لہ ولا ینتقل الی الموکل الا بسبب جدید اشار الیہ المحقق۔                               

میں کہتا ہوں یہ مقصود کا اعتراف ہے کیونکہ توکیل مطلقًا  وکیل کے لئے ولایت کا اثبات ہے ، ایسی ولایت جو اس کو پہلے حاصل نہ تھی ، اور وہ یہاں پائی نہیں جاتی ہے ، تو اس کی توکیل صحیح نہ ہوگی ، اور شراء میں یہ چیز نہیں ہے ، اور ولایت کا ایجاد و احداث مطلوب نہیں ہے خاص طور پر اس توکیل میں ، جو موکل پر کسی حق کو واجب کرتی ہو ، اگر ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ مباح کے لینے پر وکیل بنانا اس باب سے نہیں ہے ، تو اس میں ولایت کی ایجاد کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)

سوم : توکیل سے مقصود یہ ہے کہ وکیل کے فعل کو موکل کی طرف نقل کیا جائے اور یہ چیز یہاں متحقق نہیں کیونکہ شریعت نے مباح کی ملکیت کا سبب قبضہ میں پہل کو قرار دیا ہے ، اور یہاں وکیل نے قبضہ میں پہل کی ہے ، تو مِلك اس کیلئے ثابت ہوگی اور موکل کی طرف اسی وقت منتقل ہوگی جبکہ اس کا سبب جدید ہو ، محقق نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت)

ثانیًا : یہ قیاس صحیح ہو تو صرف ظرف پر حکم نہ رہے بلالکہ والدین کی نیت سے لینا ہی اُن کے لئے مثبت مِلك ہو اگرچہ اُن کے ظرف میں نہ لے کہ مقیس علیہ اعنی اجارہ مذکورہ میں حکم یہی ہے اصل مدار(۲)نیت پر ہے جبکہ نہ اجیر کا یہ وقت بکا ہے نہ شیئ معین ہے تو وہ اپنے لئے بھی لے سکتا ہے اور اپنے مستاجر کیلئے بھی جس کیلئے لے گا اُسی کی مِلك ہوگی ، ہاں اگر لیتے وقت کسی کی نیت نہ تھی یا وہ کہے میں نے اپنے لئے نیت کی تھی اور مستاجر کہے میرے لئے کی تھی تو اُس وقت ظرف پر فیصلہ رکھیں گے اُس کے ظرف میں لی تو اُس کیلئے ہے ورنہ اپنے لئے۔

واصل ذلك الوکیل بشراء شیئ لابعینہ الحکم (۳)فیہ للاضافۃ فان لم توجد فللنیۃ فان لم توجدا وتخالفا فیھا فللنقد ای ان اضاف العقد الی مال الموکل فالشراء للموکل

اور اس کی اصل یہ مسئلہ ہے کہ کسی شخص کو غیر معین شیئ کے خریدنے کا وکیل بنایا تو اس میں حکم اضافت کا ہے ، اگر اضافت نہ پائی گئی تو نیت معتبر ہوگی ، اگر نیت بھی نہ پائی گئی یا دونو ں میں اختلاف ہوا تو حکم

وان زعم انہ اشتری لنفسہ اوالی مال نفسہ فلنفسہ اوالی مطلق مال فلایھما نوی کان لہ فان لم تحضرہ النیۃ عند الشراء اوقال نویت لی وقال الموکل اوبالعکس حکم النقد فی الثانی بالاجماع وفی الاول عند ابی یوسف خلافا لمحمد فانہ یجعل اذن للعاقد [1] وقع فی ردالمحتار عکس ھذا وھو سھو۔

اقول : (۱)وقدم قاضی خان قول ابی یوسف واخر فی الھدایۃ دلیلہ فافادا ترجیحہ وقال فی البحر تحت قول الکنز ان کان بغیر عینہ فالشراء للوکیل الا ان ینوی للموکل اویشتریہ بمالہ مانصہ ظاھر مافی الکتاب ترجیح قول محمد من انہ عند عدم النیۃ یکون للوکیل لانہ جعلہ للوکیل الا فی مسألتین [2]  اھ۔ ای النیۃ للموکل واضافۃ العقد الی مالہ اذھو المراد من الشراء بمالہ کما فی الھدایۃ فاذالم یضف ولم ینو کان للعاقد کما ھو                                               

نقد کا ہے ، یعنی اگر عقد کو موکل کے مال کی طرف مضاف کیا تو خریدنا موکل کیلئے ہوا اگرچہ اس نے یہ گمان کیا کہ اُس نے اپنے لئے خریدا ہے ، اور اگر اضافت خود اس کے مال کی طرف ہے تو خریدنا اس کیلئے ہوا ، اور اگر مطلق مال کی طرف اضافت ہے تو دونوں میں سے جس کی نیت کی اس کیلئے ہوگا ، اور اگر خریدنے کے وقت کوئی نیت ہی نہ تھی یا کہا کہ میں نے اپنے لیے نیت کی تھی اور موکل نے کہا کہ میرے لئے کی تھی یا بالعکس تو دوسرے میں بالاجماع نقد کو حَکَم بنایا جائیگا اور پہلے میں صرف ابو یوسف کے نزدیك ہوگا ، امام محمد اس کو اس صورت میں عاقد کیلئے قرار دیتے ہیں ، اور ردالمحتار میں اس کا برعکس کہا ہے اور یہ سہو ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں قاضی خان نے ابو یوسف کا قول مقدم کیا ہے اور ہدایہ میں اس کی دلیل کو موخر کیا ہے جس سے اس کی ترجیح معلوم ہوتی ہے ، اور بحر نے کنز کے اس قول کے تحت فرمایا کہ اگر غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا تو شراء وکیل کیلئے ہے ، مگر یہ کہ موکل کی نیت کرلے یا اس کو اپنے مال سے خریدے۔ ان کی عبارت یہ ہے کتاب میں جو ہے اس سے بظاہر محمد کے قول کی ترجیح معلوم ہوتی ہے ، یعنی یہ کہ نیت نہ ہونے کی صورت میں وہ شراء وکیل کیلئے ہوگی ، کیونکہ انہوں نے شراء وکیل کیلئے ہی کی ہے سوائے دو مسئلوں کے اھ۔ یعنی یہ کہ نیت

مذہب محمد رحمہ الله تعالٰی۔

اقول : (۱)لکن الامام ابا یوسف رحمہ الله تعالٰی انما حکم النقد لانہ دلیل النیۃ قال فی الھدایۃ عند ابی یوسف یحکم النقد لان مع تصادقھما یحتمل النیۃ للاٰمر وفیما قلناہ حمل حالہ علی الصلاح کما فی حالۃ التکاذب [3] قال فی العنایۃ(یحتمل)انہ کان نوی للاٰمر ونسیہ (وفیما قلنا)یعنی تحکیم النقد(حمل حالہ علی الصلاح)لانہ اذا کان النقد من مال الموکل والشراء لہ کان غصبا(کما فی حالۃ التکاذب[4] ) اھ۔  فعلم ان تحکیم النقد داخل فی اعتبار النیۃ ولایستغرب مثلہ فی ایجاز الکنز۔

موکل کیلئے ہو اور اضافت اُس کے مال کی طرف ہو ، اس لئے کہ اس کے مال سے خریدنے کا یہی مطلب ہے ، جیسا کہ ہدایہ میں ہے ، توجب اضافت نہ کی اور نیت بھی نہ کی تو عاقد کیلئے ہوگی جیسا کہ محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تعالی کا مذہب ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں ، لیکن امام ابویوسف نے نقد کو حکم بنایا کیونکہ وہ نیت کی دلیل ہے۔ ہدایہ میں فرمایا ابویوسف کے نزدیك نقد کو حکم بنایا جائیگا ، کیونکہ اگر وہ دونوں اتفاق کرلیں تو احتمال ہے کہ نیت حکم دینے والے کی ہو ، اور جو ہم نے کہا ہے اس میں اُس کے حال کو صلاح پر محمول کیا گیا ہے ، جیسے کہ دونوں ایك دوسرے کو جھٹلانے کی صورت میں ہے ، عنایہ میں فرمایا(احتمال ہے)کہ اُس نے حکم دینے والے کیلئے نیت کی ہو اور پھر بھُول گیا ہو(اور جو ہم نے کہا اُس میں)اس سے مراد نقد کو حکم بنانا ہے(اس کے حال کو صلاح پر محمول کرنا ہے)کیونکہ جب ادائیگی موکل کے مال سے ہو اور خریدنا اس کے لئے ہو تو یہ غصب ہوگا(جیسے کہ ایك دوسرے کو جھٹلانے کی صورت میں ہے)اھ۔ تو معلوم ہوا کہ نقد کو حکم بنایا نیت کے اعتبار میں داخل ہے اور کنز کے ایجاز میں ایسی بات عجیب نہیں ہے۔ (ت)

بالجملہ قول سوم خلاف اصول ومخالف منقول ہے اور قول اول میں حرج بشدت اور دوم کہ نص محررالمذہب سے ماثور مؤید بعرف وکتاب وسنت لہٰذا فقیر اُسی کے اختیار میں اپنے رب عزوجل سے استخارہ کرتا ہے وباللہ التوفیق تو ثابت ہوا کہ احکام مذکورہ صور استیلاء میں نسبت ابوت وبنوت سے کوئی تغیر نہیں آتا جب یہ اصل بعونہ تعالٰی ممہد ہولی واضح ہوا کہ نابالغ۲ کا بھرا ہوا پانی ایك نہیں بہت سے پانی ہیں جن کا سلسلہ شمار یوں ہے۔
(
۳۲)وہ پانی کہ نابالغ نے آب مملوك مباح سے لیا۔

(۳۳)وہ کہ مملوك غیر مباح سے بے اجازت لیا۔

(۳۴)وہ کہ اس سے باجازت لیا مگر مالك نے اسے ہبہ نہ کیا صرف بطورِ اباحت دیا۔

 



[1]   عنایۃ مع فتح القدیر وکا لۃ بالشراء سکھر ۷ / ۴۵

[2]   بحرالرائق وکا لۃ بالبیع والشراء سعید کمپنی کراچی ۷ / ۱۶۰

[3]   الہدایۃ وکا لۃ بالبیع والشراء مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۱۸۳

[4]   عنایۃ مع الفتح القدیر وکا لۃ بالبیع والشراء نوریہ رضویہ سکھر ۷ / ۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن