30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : (۱)فاذن مافی جامع الصغار عن فتاوٰی رشید الدین من باب دعوی الاب والوصی لولم تکن الام محتاجۃ الی مالہ ولکن خلطت مالھا بمال الولد واشترت الطعام واکلت مع الصغر ان اکلت مازاد علی حصتھا لایجوز لانھا اکلت مال الیتیم [1] اھ۔ معناہ الزیادۃ(۲)المتبینۃ ففی جامع الرموز عن الباب المذکور من الفتاوی المذبورۃ قبیل ھذا صبی یحصل المال ویدفع الی امہ والام تنفق علی الصبی وتأکل معہ قلیلا نحو لقمۃ اولقمتین من غیر زیادۃ لایکرہ [2] ۔
برابر کا رکھیں ، پھر اس میں کوئی کراہت نہیں کہ ان میں سے کوئی زائد کھالے کیونکہ یہ چیز جب بچوں کے مال میں جائز ہے توبڑوں کے اموال میں بطور اولٰی جائز ہے ، یہ ان کے الفاظ ہیں ان کو بخوبی یاد رکھیں ، یہ مفید بھی ہیں اور ہمارے عہد کے بہت سے متعصبین پر حجت بھی ہیں اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، تو جامع الصغار میں فتاوٰی رشید الدین سے(دعوی الاب والوصی میں)جو منقول ہے اگر ماں بچہ کے مال کی محتاج نہ ہو ، لیکن اس نے بچہ کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانا خریدا اور بچّہ کے ساتھ کھایا تو اگر اپنے حصہ سے زیادہ کھایا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے یتیم کا مال کھایا اھ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اتنی زیادتی جو بالکل واضح اور ظاہر ہو ، اسی فتاوی کے مذکور باب سے جامع الرموز میں منقول ہے ، اس سے کچھ ہی پہلے ، کہ ایك بچہ ہے جو مال لاتا ہے اور مال کو دیتا رہتا ہے اور ماں اس پر خرچ کرتی رہتی ہے اور لقمہ دو لقمہ خود بھی اس کے ساتھ کھاتی رہتی ہے زیادہ نہیں ، تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن عباس سے ہے :
قال کنت العب مع الصبیان فجاء رسول الله صلی الله علیہ وسلم فتواریت خلف
فرمایا میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اتنے میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو میں
باب فجاء فحطأنی حطأۃ عــہ وقال اذھب ادع لی معویۃ [3] ۔
ایك دروازہ کے پیچھے چھُپ گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے(پیار سے)تھپکی دی اور کہا کہ معٰویہ کو بلا لاؤ۔ (ت)
امام ۱ نووی شرح میں فرماتے ہیں :
فیہ جواز ارسال صبی غیرہ ممن یدل علیہ فی مثل ھذا ولا یقال ھذا تصرف فی منفعۃ الصبی لان ھذا قدر یسیر ورد الشرع بالمسامحۃ فیہ للحاجۃ واطرد بہ العرف وعمل المسلمین [4] ۔
اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کے بچہ کو اس جیسے کام کیلئے بھی بھیجا جا سکتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہ ہوگا کہ بچہ کی منفعت میں تصرف کیا کیونکہ یہ معمولی چیز ہے اور شریعت نے ضرورتًا اس قسم کی چیزوں کی اجازت دی ہے اور عام طور پر مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔ (ت)
عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ ، نے حدیقہ ندیہ میں اسے مقرر رکھا۔ سوم میں امر ابوین کو اجارہ پر قیاس کیا۔
اقول اولا : یہ صحت تو کیل کو چاہتا ہے اور اعیان(۲)مباحہ میں تو کیل خلاف نصوص ہے وعللوہ بوجوہ(اور انہوں نے اس کی کئی علتیں بیان کی ہیں)
الاول : ان صحۃ التوکیل تعتمد صحۃ امر الموکل بما وکل بہ وصحۃ الامر تعتمد الولایۃ ولا ولایۃ للموکل علی المباح ونقض بالتوکیل بالشراء فان الموکل لاولایۃ لہ علی المشری۔ والثانی ان التوکیل احداث ولایۃ للوکیل ولا یصح ھنا لانہ یملك اخذ المباح بدون تملیکہ ونقض بالتوکیل
اول : توکیل کی صحت کا دارومدار اس پر ہے کہ جو کام موکل نے وکیل کو سپرد کیا ہے وہ درست ہے اور اس کام کی صحت کا مدار ولایت پر ہے اور مُباح کام پر موکل کو کوئی ولایت نہیں ہے اور اس پر توکیل بالشراء سے اعتراض وارد ہے ، کیونکہ موکل کو خریدی جانے والی چیز پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے۔ دوم : توکیل کے معنی وکیل کیلئے ولایت
عــہ : حطأنی بحاء ثم طاء مھملتین وبعدھما ھمزۃ وھو الضرب بالید مبسوطۃ بین الکتفین اھ حدیقہ ندیہ۔
حطاء نی حاء پھر طاء دونوں بغیر نکتہ کے اور ان کے بعد ہمزہ ہے ، معنٰی ہے دو کندھوں کے درمیان ہاتھ سے تھپکی دینا اھ حدیقہ ندیہ۔ (ت)
بشراء شیئ لابعینہ فان الوکیل یملکہ قبل التوکیل وبعدہ واجاب فی العنایۃ ان معناہ یملکہ بدون امرالموکل بلا عقد وصورۃ النقض لیست کذلك فانہ لایملکہ الا بالشراء [5] اھ۔
اقول : (۱)رحمك الله تعالٰی لیس المراد ملك العین بل ولایۃ ذلك الفعل کالاخذ ثمہ والشراء ھھنا وھو لایملکہ بالعقد بل العقد ناشیئ عن ملکہ ثم رأیت سعدی افندی اومأ الیہ اذقال فیہ تأمل فان الموکل بہ ھو الشراء فالوکیل یملکہ فلا یندفع النقض [6] اھ۔ والصواب فی الجواب انہ لم یکن لہ من قبل ولایۃ ان یشغل ذمۃ الموکل بالثمن وردہ المحقق فی الفتح بان حاصل ھذا ان التوکیل بما یوجب حقا علی الموکل یتوقف علی اثباتہ الولایۃ علیہ فی ذلك والکلام فی التوکیل بخلافہ [7] اھ ای باخذ المباح فانہ لایثبت فیہ حق علی الموکل۔
کا ایجاد کرنا ہے اور وہ یہاں درست نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی تملیك کے بغیر ہی مباح کو لے سکتا ہے اور اس پر یہ نقض ہے کہ کسی کو غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا ، کیونکہ وکیل تو توکیل سے پہلے اور اس کے بعد بھی اس کا مالك ہے۔ اورعنایہ میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا مالك ہے موکل کے حکم کے بغیر ، اور بغیر عقد کے۔ اور نقض کی صورت یہ نہیں ہے ، کیونکہ وہ خریدے بغیر اس کا مالك نہیں ہے اھ۔ (ت)میں کہتا ہوں
اس سے مراد ملك عین نہیں ہے ب ملك عین نہیں ہے بلکہ اُس کام کے کرنے کا اختیار ہے جیسے وہاں لینا اور یہاں خریدنا ، اور وہ عقد کی وجہ سے اس کا مالك نہیں ، بلالکہ عقد تو خود اس کی مِلك سے پیدا ہوتا ہے پھر میں نے دیکھا کہ سعدی افندی نے اسکی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں اس میں تامل ہے ، کیونکہ جس چیز کا وکیل بنایا ہے وہ “ شرا “ ہے تو وکیل اس کا مالك ہے ، تو نقض مرتفع نہ ہوگا اھ۔ تو اس کا صحیح جواب یہ ہوگا کہ موکل کو پہلے یہ ولایت حاصل نہ تھی کہ وہ موکل کے ذمہ کو ثمن کے ساتھ مشغول رکھے ، اور محقق نے اس کا فتح میں رد کیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایسی چیز کی توکیل جو موکل پر حق ثابت کرے اس امر پر موقوف ہے کہ وہ اس پر ولایت کو ثابت کرے اور گفتگو توکیل میں اس کے برخلاف ہے اھ۔ یعنی مباح کے لینے میں ، کیونکہ اس میں موکل پر حق ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)
[1] جامع الصغار مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
[2] جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
[3] صحیح للمسلم باب من لعنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۲۵
[4] شرح للنووی باب من لعنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۲۵
[5] عنایۃ مع الفتح القدیر الشرکۃ الفاسدۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۰۹
[6] حاشیۃ چلپی الشرکۃ الفاسدۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۰۹
[7] فتح القدیر الشرکۃ الفاسدۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع