دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

ملتقط۶ پھر اشباہ۷  کی تعبیر اور احسن ہے جس سے اس عادت کا فاشیہ ہونا روشن ہے۔

حیث قالا اذا(۱)اھدی للصبی شیئ وعلم انہ لہ فلیس للوالدین الا کل منہ لغیر حاجۃ [1] اھ۔
اقول
:  بنی المنع علی علم انہ للصغیر فافاد الاباحۃ اذالم یعلم شیئ ردا الی العادۃ الفاشیۃ۔

انہوں نے فرمایا کہ جب بچہ کو کوئی چیز ہدیہ کی گئی ہو اور معلوم ہو کہ وہ صرف بچے کیلئے ہے تو والدین اس میں سے بلا حاجت نہیں کھا سکتے اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں والدین کیلئے اس کا استعمال جائز نہ ہونا اس شرط سے مشروط ہے کہ اُسے علم ہو کہ یہ بچّہ کا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ جب علم نہ ہو تو مباح ہے عرف کا لحاظ رکھتے ہوئے کہا گیا ہے۔ (ت)

امام ظہیرالدین نے اُن عبارات مطلقہ کی دلیل بیان فرما کر اس امر کا تصفیہ فرمادیا ، ظہیریہ۸پھر عٰلمگیریہ۹  میں ہے :

اھدی للصغیر الفواکہ یحل لوالدیہ اکلھا لان الاھداء الیھما وذکر الصبی لاستصغار الھدیۃ [2] اھ۔

 اقول : ومن ھھنا ظھر ان ماتقدم عن جامع الصغار عن الظھیریۃ اذا اھدی الصغیر شیا من الماکولات ان لم یکن عن نقلہ بالمعنی لان المسألۃ فی سائر الکتب فیما وھب شیئ للصغیر وقد نقل عن الظھیریۃ نفسھا فی الغمز بلفظ اذا اھدی للصغیر شیئ کما سمعت فلیس مرادہ الا اھداؤہ مما اھدی الیہ لاان یبتدی الصبی فیھدی من ملکہ شیا 

بچہ کو پھل ہدیہ کیے گئے تو اس کے والدین کو اُن کا کھانا جائز ہے کیونکہ ہدیہ دراصل والدین کو ہی تھا بچہ کے ہاتھ میں اس لئے دیا گیا کہ ہدیہ کو معمولی سمجھا گیا۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ جو عبارت جامع صغیر سے ظہیریہ سے گزری کہ جب بچہ کھانے پینے کی کوئی چیز ہدیہ کرے ، اگر یہ اس کی نقل بالمعنی نہیں ہے کیونکہ تمام کتب میں یہ مسئلہ اس طرح مذکور ہے کہ کوئی چیز بچہ کو ہبہ کی گئی اور خود ظہیریہ میں غمز سے ان الفاظ میں منقول ہے کہ جب بچہ کو کوئی چیز ہبہ کی گئی جیسا کہ تم نے سنا ، تو ان کی مراد یہ ہے کہ بچّہ اس چیز سے ہدیہ کرے جو اس کو ہدیہ کی گئی ہو ، یہ نہیں کہ بچہ ابتداء کرے اور اپنی مِلك سے کچھ ہدیہ کرے ، اور اس کی دلیل

والدلیل علیہ قولہ وشبہ ذلك بضیافۃ المأذون فالمأذون(۱)لایضیف من مال نفسہ بل مولاہ ومولاہ انما اذن فی التجارۃ لکن العوائد قضت ان امثال الضیافات لابدمنھا فی التجارات فکان اذنہ فی التجارۃ اذنا فیھا کذلك الصبی لاھدی من مال نفسہ بل مال المہدی والمُھدی انما سمی الصبی لکن فشت العوائد ان امثال الھدایا لایمنع عنھا ابواہ فکان اھداؤہ الیہ اھداء الیھما۔

اقول  :  والوجہ فیہ ان المأکولات مما یتسارع الیھا الفساد فیکون اذنا من المھدی لھما فی التناول دلالۃ وذلك بان یقع الملك لھما بخلاف مایدخر فظھر اصابۃ البحر والدر فی قولھما افادان غیر المأکول لایباح لھما الا لحاجۃ [3] (۲)واندفع ماوقع للعلامۃ ش حیث قال بعد نقل مامر عنہ عن التتارخانیۃ عن فتاوی سمرقند قلت : وبہ یحصل التوفیق ویظھر ذلك بالقرائن وعلیہ فلا فرق بین المأکول وغیرہ بل غیرہ اظھر [4]  اھ                                  

ان کا یہ قول ہے کہ اور یہ مشابہ ماذون کو ضیافت کے ہے کہ ماذون اپنے مال سے ضیافت نہیں کرتا ہے بلکہ اپنے مولٰی کے مال سے کرتا ہے اور اس کے مولٰی نے اس کو تجارت کی اجازت دی ہے ، لیکن عرف میں یہ عادت ہے کہ تجارت میں اس قسم کی ضافتیں ہوتی ہی رہتی ہیں ، تو تجارت کی اجازت دینا ضیافت کی اجازت کے مترادف ہے ، اسی طرح بچہ اپنے مال سے ہدیہ نہیں دیتا ہے بلالکہ ہدیہ دینے والے کے مال سے ہی ہدیہ دیتا ہے اور ہدیہ دینے والے نے بچہ کا نام لیا مگر عام طور پر عادت یہ ہے کہ اس قسم کے ہدایا سے ماں باپ کو منع نہیں کیا جاتا ہے تو بچوں کو ہدیہ دینا ماں باپ کو ہدیہ دینا سمجھا جاتا ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں کھانے پینے کی چیزیں عام طور پر جلدی گل سڑ جاتی ہیں تو ہدیہ دینے والے کی طرف سے والدین کو اشارۃً کھانے کی اجازت سمجھی جائے گی ، اور اس طرح مِلك والدین کے لئے ثابت ہوگی اور جو اشیاء جلد خراب ہونے والی نہیں ہیں ان کا یہ حکم نہیں ہے ، تو بحر اور دُر کے قول کی صحت ظاہر ہوگئی ، ان کا قول ہے کہ جو چیزیں کھانے پینے کی نہیں ان کا استعمال والدین کے لئے جائز نہیں ، ہاں حاجت کے وقت جائز ہے ، اور علامہ “ ش “ کا اعتراض ختم ہوا انہوں نے تو وہ عبارت نقل کی جو تتارخانیہ ، فتاوی سمرقند سے گزری ، پھر فرمایا میں کہتا ہوں

ای فان ارادۃالولد بھبۃ المأکول اظھر واکثر فاذا ساغ الاکل ثمہ عند عدم دلیل یقتضی باختصاص الھدیۃ بالولد فھذا اولی وقد عرفت الجواب وبالله التوفیق۔

اس سے موافقت ظاہر ہوگئی اور یہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے ، اور اس لحاظ سے اس میں ماکول اور غیر ماکول کا کوئی فرق نہیں بلالکہ اس کا غیر اظہر ہے اھ۔ یعنی ماکول کے ہبہ سے بچہ کا ارادہ اظہر ہے اور اکثر ہے تو جب وہاں کھانا جائز ہوا کسی ایسی دلیل کے نہ ہونے کے وقت جو ہدیہ کے بچہ کے ساتھ مختص ہونے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ اولٰی ہے اور آپ کو اس کا جواب مل چکا ہے وبالله التوفیق۔ (ت)

بالجملہ یہ روایات غیر مِلك صبی میں ہیں اور یہاں کلام مِلِك صبی میں کہ مباح پانی بلاشبہ بھرنے والے کی مِلك ہوگا جبکہ بروجہ اجارہ نہ ہو اور صبی کی مِلك والدین کو بے احتیاج حلال نہیں مقتضائے نظر فقہی تو یہ ہے۔

اقول : وبالله التوفیق مگر شك نہیں کہ عرف وعادت اس کے خلاف ہے اور وہ بھی دلائل شرعیہ سے ہے تو مناسب کہ اسے قلیل عفو قرار دیں جس پر قرآن وحدیث سے دلیل ہے قال الله عزوجل :

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰىؕ-قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌؕ-وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ-[5]

اور وہ آپ سے یتیموں کی بابت پُوچھتے ہیں فرمادیجئے ان کی اصلاح بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ اپنا مال ملا کر کھاؤ وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ مفسد کو مصلح سے جانتا ہے۔ (ت)

اس آیت میں احد التفسیرین پر یتیم کے ساتھ جواز مخالطت مال ہے اور ظاہر کہ بحال مخالطت کامل امتیاز قریب محال ہے۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے :

وفی الزاھدی قال ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما المخالطۃ ان تأکل من ثمرہ ولبنہ و قصعتہ وھو یاکل من ثمرتك ولبنك وقصعتك (۱)والاٰیۃ تدل علی جواز المخالطۃ فی السفر والحضر یجعلون النفقۃ علی السواء ثم لایکرہ ان یاکل احدھما اکثر لانہ لما جاز     

اور زاہدی میں ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ مخالطت یہ ہے کہ تم اس کے پھل اس کا دودھ اور اس کے پیالہ میں کھاؤ اور وہ بھی اسی طرح تمہارے ساتھ تمہارے پھل کھائے اور تمہارا دودھ پئے اور تمہارے پیالے میں کھائے اور یہ آیت مخالطت کے جواز پر دلالت کرتی ہے خواہ سفر میں ہو یا حضر میں ہو جبکہ نفقہ کو

فی اموال الصغار فجوازہ فی اموال الکبار اولی ھذا لفظہ فاحفظہ فانہ نافع وحجۃ علی کثیر من المتعصبین فی زماننا [6] اھ۔

 



[1]   الاشباہ والنظائر احکام الصبیان ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۴۵

[2]   فتاوٰی ہندیۃ الباب الثالث من الہبۃ پشاور ۴ / ۳۸۱

[3]   الدرالمختار کتاب الہبۃ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۰

[4]   ردالمحتار کتاب الہبۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۷۲

[5]   القرآن ۲ / ۲۲۰

[6]   تفسیراتِ احمدیۃ بیان اصلاح کریمی کتب خانہ بمبئی ص۱۰۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن