30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رجل(۲)وھب للصغیر شیاا من المأکول یباح للوالدین ان یاکلا منہ کذاروی عن محمد رحمہالله تعالٰی[1]۔
اگر کسی شخص نے بچے کو کھانے کی چیز ہبہ کی تو اس کے والدین کیلئے وہ چیز بھی کھانا جائز ہے محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے یہی مروی ہے۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
وھب للصغیر من المأکول شیا یباح للوالدین ان یاکلاہ [2]۔
اگر کسی شخص نے بچے کو کھانے کی چیز ہبہ کی تو اس کے والدین کو اس چیز کا کھانا صحیح ہے۔ (ت)
فتاوٰی سراجیہ میں ہے :
اذا وھب الصبی شیئا من الماکول قال محمد رحمہ الله تعالٰی مباح لوالدیہ ان یاکلا منہ وقال اکثر مشایخ
اگر کسی نے بچہ کو کھانے کی کوئی چیز ہبہ کی تو محمد نے فرمایا اس کے والدین کیلئے اس میں سے کھانا مباح ہے۔ اوربخارٰی کے اکثر مشائخ نے فرمایا
بخارٰی لایحل [3] اھ اقول : (۱)وتفرد بتعبیر قال محمد فان عبارۃ العامۃ روی عندہ والله تعالٰی اعلم۔
والدین کو کھانا حلال نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں “ قال محمد “ کی عبارت تنہا انہو ں نے ہی استعمال کی ہے کیونکہ عام کتب کی عبارت یہ ہے کہ ان سے مروی ہے واللہ تعالٰی اعلم(ت)
فتاوٰی(۵)ظہیریہ پھر غمز(۶)العیون میں ہے :
اذا اھدی للصغیر شیئ من المأکولات روی عن محمد انہ یباح لوالدیہ وشبہ ذلك بالضیافۃ واکثر مشایخ بخارٰی علی انہ لایباح بغیر حاجۃ [4] ۔
جب بچہ کو کسی نے کھانے کی چیزیں ہدیہ میں دیں ، تو محمد سے مروی ہے کہ اس کے والدین کو ان کا کھانا مباح ہے اور یہ ضیافت کی طرح ہے اور بخارٰی کے اکثر مشایخ کا کہنا ہے کہ بغیر حاجت جائز نہیں۔ (ت)
بحرالرائق(۷)میں ہے :
یباح للوالدین ان یاکلا من المأکول الموھوب للصغیر کذا فی الخلاصۃ فافاد ان غیر المأکول لایباح لھما الا عند الاحتیاج کما لایخفی [5]۔
والدین کو بچّہ کی موہوبہ چیز کا کھانا مباح ہے کذا فی الخلاصہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ماکول کو استعمال میں لانا مباح نہیں ، ہاں ضرورۃً جائز ہے کمالایخفی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
وفیھا ای فی السراجیۃ یباح لوالدیہ ان یاکلا ممن مأکول وھب لہ وقیل لاانتھی۔ فافاد ان غیر الماکول لایباح لھما الا لحاجۃ [6] اھ اقول : وکانہ اخذہ من ان العمل
سراجیہ میں ہے بچہ کے والدین کو مباح ہے کہ بچہ کو ہدیہ کی گئی چیز سے کھائیں اور ایك قول ہے کہ جائز نہیں انتہی ، اس سے معلوم ہوا کہ غیر ماکول سے بلاحاجۃ استفادہ جائز نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں شاید انہوں نے یہ فتوٰی اس اصول سے
بقول اصحاب الامام اذا لم یوجد عنہ قول ولا یوازیہ قول المشایخ وان کثروا کماذکرنا نصوصہ فی رسالتنا اجلی الا علام بان الفتوی مطلقًا علی قول الامام لاسیما وقد عبرہ بقال محمد والا فلیس فی السراجیۃ قیل کما اسمعناك نصھا۔
اخذ کیا ہے کہ امام کے اصحاب کے قول پر اس وقت عمل ہوگا جب امام سے کوئی قول نہ پایا جائے اور امام کے قول کے ہمسر مشائخ کے اقوال نہیں ہوسکتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں اس کے نصوص ہم نے اپنے رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقًا علی قول الامام میں ذکرکئے ہیں خاص طور پر انہوں نے اس کو “ قال محمد “ سے تعبیر کیا ہے ورنہ سراجیہ میں قلیل نہیں ہے جیسا کہ ہم نے اس کی نص ذکر کی ہے۔ (ت)
تاتارخانیہ۹ پھر ردالمحتار۱۰ میں ہے :
روی عن محمد نصا انہ یباح وفی الذخیرۃ واکثر مشائخ بخارٰی علی انہ لایباح [7]
محمد سے مروی ہے بطور نص کہ یہ مباح ہے اور ذخیرۃ میں ہے کہ اکثر مشائخ بخارٰی اس پر ہیں کہ مباح نہیں۔ (ت)
اسی طرح جواہر۱۱ اخلاطی وہندیہ۱۲ میں ہے جامع۱۳ الصغار کی عبارت اوپر گزری۔
اقول : مگر نظردقیق حاکم ہے کہ دونوں روایتیں اگرچہ امام محرر المذہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تعالٰی سے ہیں لیکن اس روایت اور ان عبارات کو اس روایت سے علاقہ نہیں یہاں وہ شے مِلك صبی نہیں بلکہ دوسرے نے صبی کے نام ہدیہ بھیجی ہے اور عادت فاشیہ جاری ہے کہ کھانے پینے کی تھوڑی چیز بچّوں ہی کے نام کرکے بھیجتے ہیں اور مقصود ماں باپ کو دینا ہوتا ہے اور یہ تو قطعًا نہیں ہوتا کہ ماں باپ پر حرام سمجھتے ہوں اس عرف کا انتشار تام وعام دیکھ کر مطلق حکم فرمایا یا کہیں تفصیل وتوضیح فرمادی۔ فتاوٰی۱ سمرقند پھر تاتاخانیہ۲ پھر شامیہ۳ نیز کتاب۴ التجنیس والمزید پھر جامع۵ الصغار میں ہے :
اذ اھدی الفواکہ الی الصبی الصغیر یحل للاب والام الاکل اذا ارید بذلك برالاب والامام لکن اھدی الی الصغیر استصغار اللھدیۃ [8]۔
جب چھوٹے بچے کو کسی نے میوہ جات ہدیہ کئے تو اس کے ماں باپ کو اس میں سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس ہدیہ کا مقصد ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوك ہو اور بچہ کو محض اس لئے ہدیہ کیا گیا ہو کہ ہدیہ کو چھوٹا سمجھا گیا ہو۔ (ت)
[1] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الہبۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۴۰۰
[2] فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ کتاب الہبۃ پشاور ۶ / ۲۳۷
[3] فتاوٰی سراجیۃ مسائل متفرقۃ من ہبۃ لکھنؤ ص۹۶
[4] جامع الصغار مع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۶
[5] بحرالرائق کتاب الھبۃ سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۸۸
[6] الدرالمختار کتاب الھبۃ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۰
[7] ردالمحتار کتاب الہبۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۷۲
[8] جامع الصغار مع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع