30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : (۳)الجواب صحیح نظیف ماکان یستاھل التزییف بل(۴)کان واضحا من قبل فلم یکن للسؤال محل(۵)بل السؤال ساقط من رأسہ فھم لاینکرون جواز الاستخدام للاب لکن ذلك حیث یصح ویتحقق فان الشیئ انما یجوز بعد مایصح والباطل لاوجود لہ وقد علمت انہ فی الاعیان المباحۃ باطل وبہ انکشف ایھا مان واقعا فی کلامہ فی کتاب الشرکۃ حیث کان فی التنویر(۶)والدر لاتصح شرکۃ فی احتطاب
اور “ ش “ نے اس کو دلیل کے ذریعہ کمزوردکھانے کی کوشش کی اور فرمایا کہ باپ کو تو ویسے بھی حق ہے کہ بلامعاوضہ بیٹے سے کام لے۔ جامع الفصولین میں فرمایا کہ باپ اپنے چھوٹے بیٹے کو استاد کی خدمت کیلئے متعین کرسکتا ہے تاکہ استاد اس کو صنعت وحرفت سکھائے ، اور باپ دادا اور وصی بچّے سے کام لے سکتے ہیں تاکہ ا س کو ادب وتہذیب سکھائیں اور اس کو کام کرنے کی عادت ہو اھ۔ فرمایا مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پانی کا مالك نہیں ہوگا ، خواہ اس نے اپنے باپ کے حکم سے پانی لیا ہو واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، جواب بالکل درست ہے اس کو ضعیف قرار دینا درست نہ ہوگا ، لکہ پہلے سے واضح تھا ، تو سوال کی گنجائش ہی نہ تھی ، بلالکہ سوال کی بنیاد ہی ساقط ہے ، کیونکہ مشائخ اس امر کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ باپ بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے لیکن یہ صرف اُسی صورت میں ہے جبکہ متحقق ہو اور صحیح ہو ، کیونکہ شے اسی وقت جائز ہوتی ہے جبکہ صحیح ہو اور باطل کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور آپ جان چکے ہیں کہ یہ اعیان مباحہ میں باطل ہے ، ان کی کتاب کی کتاب الشرکۃ میں دو وہم تھے وہ بھی اس
واحتشاش واصطیاد واستقاء وسائر مباحات لتضمنھا اوکالۃ والتوکیل فی اخذ المباح لایصح وما حصلہ احدھما فلہ وما حصلاہ معافلھما نصفین ان لم یعلم مالکل وما حصلہ احدھما باعانۃ صاحبہ فلہ ولصاحبہ اجر مثلہ [1] اھ۔
فکتب رحمہ الله تعالٰی علی قولہ وما حصلاہ فلھما یؤخذ من ھذا ماافتی بہ فی الخیریۃ(۱)لواجتمع اخوۃ یعملون فی ترکۃ ابیھم ونَمَا المَالُ فھو بینھم سویۃ ولو اختلفوا فی العمل والرای اھ۔ قال ثم ھذا فی غیر الابن مع ابیہ لما فی القنیۃ(۲)الاب وابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لھما شیئ فالکسب کلہ للاب انکان الابن فی عیالہ لکونہ معینالہ [2] اھ۔
اقول : (۳)فایرادہ ھذا الفرع فی ھذا المبحث ربما یوھم ان لواجتمع رجل وابنہ فی عیالہ فی تحصیل مباح کان کلہ للاب ویجعل الابن معینالہ(۴)ولیس کذلك فان الشرع المطھر جعل فی المباح
بگفتگو سے ختم ہوگئی ، دُر اور تنویر میں ہے لکڑیاں اکٹھی کرنے ، گھاس جمع کرنے ، شکار کرنے اور پانی بھرنے میں شرکت جائز نہیں ، اور یہی حال دوسری مباحات کا ہے کیونکہ یہ وکالت کو متضمن ہے اور مباح کے لینے میں تو کیل جائز نہیں ، دو میں سے کسی ایك نے جو حاصل کیا وہ اسی کا ہوگا اور جو دونوں نے مل کر حاصل کیا ہو تو وہ آدھا آدھا ہے ، اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کتنا لیا تھا اور جو کچھ ایك نے اپنے ساتھی کی مدد سے لیا وہ اُسی ایك کا ہوگا اور ساتھی کو اجر مثل ملے گا اھ۔ تو انہوں نے اس کے قول وما حصلاہ فلھما پر لکھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ خیریہ میں جو فتوی ہے وہ اسی سے ماخوذ ہے اگرچہ کچھ بھائی مل کر اپنے باپ کے ترکہ میں کام کریں ، اور پھر کچھ مال حاصل ہوا تو وہ ان کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا خواہ عمل اور رائے میں اختلاف ہی کیوں نہ رہا ہو اھ۔ فرمایا یہ حکم اُس صورت میں نہیں ہے جبکہ بیٹا باپ کے ساتھ مصروف عمل ہو ، کیونکہ قنیہ میں ہے اگر باپ بیٹا ایك ہی صنعت میں کام کرتے ہوں اور اُن کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہ ہو تو کل کمائی باپ کی شمار ہوگی بشرطیکہ بیٹا باپ کے عیال میں ہو ، کیونکہ وہ اس کا مددگار ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان کا اِس فرع کو اس بحث میں لانا یہ وہم پیدا کرتا ہے اگر بیٹا باپ کے عیال میں ہو اور باپ بیٹا کسی مباح چیز کے حاصل ہونے میں مل کر کام کریں تو حاصل شدہ چیز پوری کی پوری باپ کی ہوگی اور بیٹا اس کا مددگار قرار پائے گا ،
سبب الملك الاستیلاء فمن استولی فھو المالك ولا ینتقل الملك الٰی غیرہ الابوجہ شرعی کھبۃ وبیع ولا ینسب اخذہ لغیرہ الابوجہ شرعی ککونہ عبدہ اواجیرہ علیہ اما الاعانۃ مجانا فھی الخدمۃ وقد علمت بطلان الاستخدام فی تلك الاعیان وکتب علی قولہ باعانۃ صاحبہ سواء کانت الاعانۃ بعمل کما اذا اعانہ فی الجمع والقلع اوالربط اوالحمل اوغیرہ اوباٰلۃ کما لودفع لہ بغلا او راویۃ لیستقی علیھا اوشبکۃ لیصید بھا حموی وقھستانی ط [3] اھ۔
اقول : (۱)فلا یتوھمن منہ الاعانۃ فی قلع الحطب بان یقلع البعض ھذا والبعض ھذا لانہ ھو تحصیلھما(۲)بل المعنی انہ وضع یدہ مع یدہ فی القلع حتی ضعف تعلقہ فقلعہ المعان اوعمل ھذا اولا وترکہ قبل ان ینقلع ثم عمل ذاك فقلعہ یکون الاول معینا والملك للقالع(۳)کمن استقی من بئر فاذا دنا الدلو من رأسہ اخرجھا ونحاھا عن رأس البئر غیرہ فان الملك للثانی وکذلك اذا
حالانکہ بات یہ نہیں ہے کیونکہ شریعت نے مباح اشیاء میں مِلك کا سبب استیلاء کو قرار دیا ہے تو جو بھی کسی مباح پر قابض ہوجائے وہی مالك ہے اور دوسرے کی طرف اب اس کی ملك شرعی طریقوں سے ہی منتقل ہوسکتی ہے جیسے ہبہ اور بیع وغیرہ اور اس کا لینا اس کے غیر کی طرف صرف شرعی سبب سے ہی منسوب ہوگا ، مثلًا یہ کہ وہ اس کا غلام ہو ، یا مزدور ہو ، اور مفت کی اعانت تو یہ خدمت ہے ، اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ مباح چیزوں میں خدمت لینا باطل ہے ، اور “ باعانۃ صاحبہ “ پر لکھا کہ عام ازیں اعانت عملی ہو ، جیسے کسی چیز کے جمع کرنے ، اکھاڑنے ، باندھنے ، اٹھانے وغیرہ میں مدد کرے ، یا آلہ کے ذریعے مدد ہو جیسے اس کو خچر دیا ، پانی بھرنے کا بڑا ڈول دیا یا شکار کے لئے جال دیا ، حموی وقہستانی ط اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے یہ وہم پیدا نہ ہو کہ لکڑیاں اکھاڑنے میں مدد دینا بھی اسی طرح ہے ، مثلًا بعض لوگ اس طرف سے اور بعض اُس طرف سے لکڑیاں اکھاڑیں اس لئے یہ اُن دونوں کا حاصل کرنا ہے ، بلالکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایك ہی لکڑی پر ہاتھ رکھیں اور دونوں ایك ساتھ اس کو اکھاڑیں ، یا یہ کہ پہلے ایك شخص نے ایك درخت پر زور آزمائی کی اور ہٹ گیا پھر دوسرے نے زور آزمائی کی اور اس کو اکھاڑ لیا ، تو پہلا مددگار قرار پائے گا اور ملك اکھاڑنے والے کی ہوگی ، جیسے کوئی شخص ڈول بھر کر کنویں سے
اثار احد صیدا وجاء بہ علی اخر فاخذہ کان للاٰخذ وما احسن وابعد عن الایھام عبارۃ الھدایۃ حیث قال(۱)وان عمل احدھما واعانہ الاٰخر فی عملہ بان قلعہ احدھما وجمعہ الاٰخر اوقلعہ وجمعہ وحملہ الاٰخر فللمعین اجر المثل [4]۔
پانی نکالے اور جب ڈول کنویں کے دہانے تك آجائے تو دوسرا شخص نکال کر رکھ دے۔ اس صورت میں مِلك دوسرے کی ہوگی ، اسی طرح کسی نے شکار کو ہنکایا اور دوسرے شخص کے قریب آیا اور دوسرے شخص نے پکڑ لیا ، تو جس نے پکڑا اسی کا ہوگا۔ مگر ہدایہ کی عبارت ہر قسم کے وہم سے پاك صاف ہے اس میں ہے کہ اگر عمل ایك نہ کیا اور دوسرے نے اس عمل میں معاونت کی ، مثلًا یہ کہ درخت ایك شخص نے اکھاڑے اور دوسرے نے جمع کئے یا اکھاڑے اور جمع کئے لیکن اٹھائے دوسرے نے ، تو مددگار کو اجر مثل ملے گا۔ (ت)
دوم : کہ نص محرر المذہب سے مروی نظر ظاہر گمان کرے گی کہ بہت کتب معتمدہ مشہورہ نے اُس پر اعتماد کیا فتاوٰی(۱)اہل سمرقند پھر فتاوٰی۲ خلاصہ میں اُس کے حوالہ سے ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع