30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لہ الجواب ایضا عما اعترض بہ کلام العامۃ والمتون وذلك ان الامام صاحب الھدایۃ قدس سرہ عبر فی المسألۃ بما ازیل بہ حدث اواستعمل قربۃ وقال فی الدلیل اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین [1]فافادان المراد بزوال الحدث ھو سقوط الفرض وان مؤداھما ھھنا واحد ولا شك ان سقوط الفرض عن عضو دون عضو بل عن بعض عضو دون بعضہ الاخر ثابت متحقق وان لم یترتب علیہ احکام ارتفاع الحدث وھو کما قدمت الاشارۃ الیہ فی بیان الفروع لیشمل مااذا تطھر کاملا اوغسل شیئا من اعضائہ بل عضوہ فلا تثلیث ولا اعتراض بعدم التجزی و(۱)تحقیقہ ماافادہ فی المنحۃ نقلا عن العلامۃ نوح افندی فی حواشی الدررناقلا عن الشیخ قاسم فی حواشی المجمع ان الحدیث یقال بمعنیین المانعیۃ الشرعیۃ عما لایحل بدون الطھارۃ وھذا لایتجزئ بلا خلاف عند ابی حنیفۃ وصاحبیہ وبمعنی النجاسۃ الحکمیۃ وھذا یتجزئ ثبوتا وارتفاعا بلا خلاف عند ابی حنیفۃ و عــــہ اصحابہ
اعتراض ہوتا تھا اُس کا جواب بھی ظاہر ہوجاتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ میں یہ تعبیر کی ہے کہ وہ پانی جس سے حدث زائل کیا گیا ہو یا بطور قربت استعمال کیا گیا ہو ، اور دلیل میں فرمایا کہ اسقاط فرض بھی مؤثر ہے تو فساد دونوں امروں سے ظاہر ہوگا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زوالِ حدث سے مراد سقوط فرض ہے اور دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے اور اس میں شک نہیں کہ فرض کا سقوط ایک عضو سے نہ کہ دوسرے عضو سے ، بلکہ بعض عضو سے نہ کہ دوسرے بعض سے ثابت متحقق ہے اگرچہ اس پر ارتفاع حدث کے احکام مترتب نہیں ہوتے ہیں اور یہ جیسا کہ میں اشارہ کرچکا ہوں بیان فروع میں اُس صورت کو بھی شامل ہے جبکہ پوری طرح طہارت کی یا کچھ اعضاء دھوئے بلکہ اپنے ایک عضو کا حصّہ دھویاتو نہ تثلیث ہوگی اور نہ عدم تجزی کا اعتراض ہوگا ، اس کی تحقیق منحہ میں علامہ نوح آفندی کی اُس تحقیق سے منقول ہے جو درر کے حواشی میں منقول ہے اور جو حواشی مجمع میں شیخ قاسم سے منقول ہے کہ حَدَث کا اطلاق دو معنی میں ہوتا ہے ، ایک تو یہ کہ جو چیز بلا طہارت جائز نہ ہو اُس کی شرعی ممانعت ، اور یہ چیز ابو حنیفہ اور ان کے صاحبین کے درمیان بالاتفاق
عــــہ : اقول قال فی الاول عند ابی حنیفۃ وصاحبیہ لان من المشائخ من قال بتجزیہ
اقول : پہلے کے متعلق امام ابو حنیفہ کے ساتھ صاحبیہ تثنیہ کا صیغہ ذکر کیا ہے کیونکہ بعض مشائخ نے کہا جنبی کو قرأت کیلئے کُلّی (باقی برصفحہ آئندہ)
وصیرورۃ الماء مستعملا بازالۃ الثانیۃ ففی مسألۃ البئر سقط الفرض عن الرجلین بلا خلاف والماء الذی اسقط الفرض صار مستعملا بلا خلاف علی الصحیح اھ قال العلامۃ نوح ھذا ھو التحقیق فخذہ فانہ بالاخذ حقیق [2] اھ اقول : (۱)بل اختار فی غایۃ البیان ثم النھر ثم الدران حقیقۃ الحدث ھو المعنی الثانی قال فی البحر تبعا للفتح الحدث مانعیۃ شرعیۃ قائمۃ بالاعضاء الی غایۃ استعمال المزیل [3] اھ قال فی النھر وتبعہ الدر ھذا تعریف بالحکم وعرفہ فی غایۃ البیان بانہ وصف شرعی یحل فی الاعضاء یزیل الطھارۃ [4] قال وحکمہ المانعیۃ لما جعلت الطہارۃ شرطا لہ الخ ونظر فیہ ش نقلا عن حاشیۃ الشیخ خلیل الفتال عازیا لبعض الفضلاء بان حکم الشیئ ماکان اثرالہ خارجا
غیر متجزی ہے ، اور دوسرا بمعنی نجاست حکمیہ ، اور یہ چیز ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے درمیان بالاتفاق متجزی ہے ثبوتاً بھی اور ارتفاعاً بھی ، اور پانی جو مستعمل ہوتا ہے تو دوسرے معنی کے ازالہ سے ہوتا ہے ، تو کنوئیں کے مسئلہ میں دونوں پیروں کا فرض ساقط ہوگیا اور وہ پانی جو اسقاط فرض میں استعمال ہوا مستعمل ہوگیا ، صحیح قول کے مطابق اس میں کوئی اختلاف نہیں ، اھ علامہ نوح آفندی نے فرمایا تحقیق یہی ہے اور اسی کو اختیار کرنا چاہئے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں غایۃ البیان ، نہر اور دُر نے دوسرے معنی کو مختار قرار دیا ہے ، بحر میں فتح کی متابعت کرتے ہوئے فرمایا حدث شرعی مانعیت ہے جو اعضاء کے ساتھ اس وقت تک قائم رہتی ہے یہاں تک کہ زائل کرنے والی چیز استعمال کی جائے ، نھر اور دُر میں ہے کہ یہ حکم کے ساتھ تعریف ہے ، اور غایۃ البیان میں اس کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک ایسا وصف ہے جو اعضاء میں حلول کرتا ہے اور طہارت کو زائل کرتا ہے فرمایا کہ اس کا حکم مانعیت ہے اس چیز کی جس کیلئے طہارت شرط ہے الخ اور “ ش “ نے اس میں حاشیہ شیخ خلیل فتال سے نقل (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حتی اجاز للجنب القراء ۃ بعد المضمضۃ للمحدث المس بعد غسل الید وقال ھھنا واصحابہ لان تجزی ھذا لاخلاف فیہ عند مشائخنا اھ منہ رضی الله تعالٰی عنہ۔
کافی ہے اور محدث کو مسِ مصحف کیلئے ہاتھ دھونا کافی ہے اور یہاں دوسرے معنی میں اصحاب جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے کیونکہ اس کو سب نے کافی کہا ہمارے مشائخ کا اس میں اختلاف نہیں اھ(ت)
عنہ مترتبا علیہ والمانعیۃ المذکورلیست کذلك وانما حکم الحدث عدم صحۃ الصلاۃ معہ وحرمۃ مس المصحف ونحو ذلك فالتعریف بالحکم کأن یقال الحدث مالا تصح الصلاۃ معہ تأمل[5] اھ قال ش(۱)علی ان التعریف بالحکم مستعمل عند الفقہاء لان الاحکام محل مواقع انظارھم [6] اھ وقد اشارالیہ ط وقال علی قولہ مانعیۃ ای کونہ مانعا من الصلاۃ ومس المصحف والاظھر ان یقال مانع شرعی [7] اھ
اقول : وبالله التوفیق(۲)کلام المعترضین علی البحر کلہ بمعزل عن غوص القعرفان مبناہ طرا علی ان تعریف البحر غیر تعریف الغایۃ ولا دلیل علیہ فان المانعیۃ بمعنی الحال فضلا عن کونہ ممالا قیام لہ بموضوع لعدم کونہ من الصفات المنضمۃ لاقیام لھا بالاعضاء اصلا فانھا غیر مانعۃ حتی تکون لھا مانعیۃ وبمعنی النسبۃ ای شیئ لہ انتساب الی مانع شرعی صادق قطعا علی ذلك الوصف
کرتے ہوئے نظر کی ہے ، اور اس کو بعض فضلاء کی طرف منسوب کیا ہے کہ ہر چیز کا حکم اس کے اثر کو کہتے ہیں جو اس سے خارج ہو اور اس پر مرتب ہو اور مذکورہ مانعیت اس قسم کی نہیں ہے ، اور حدث کا حکم تو یہی ہے کہ اس کے ساتھ نماز درست نہیں ہوتی اور مصحف کو نہیں چُھوا جاسکتا ہے اور اسی قسم کے دوسرے احکام ، تو تعریف بالحکم اس طرح ہوسکتی ہے کہ حدث وہ چیز ہے جس کے ساتھ نماز درست نہ ہو ، تامل اھ “ ش “ نے فرمایا کہ علاوہ ازیں تعریف بالحکم فقہاء کے نزدیک مستعمل ہے کیونکہ احکام ہی سے وہ بحث کرتے ہیں اھ اور “ ط “ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور “ مانعیت “ پر فرمایا کہ اس کا نماز سے مانع ہونا اور مصحف کے چُھونے سے مانع ہونا ہے اور اظہریہ ہے کہ کہا جائے کہ یہ مانع شرعی ہے اھ(ت)
میں بتوفیقِ الٰہی کہتا ہوں معترضین کے بحر پر اعتراضات گہرائی سے خالی ہیں ، کیونکہ ان کی بنیاد اس پر ہے کہ بحر کی تعریف غایہ کی تعریف سے مختلف ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ مانعیت بمعنی حال ہے اس سے قطع نظر کہ وہ صفات منضمہ میں سے نہ ہونے کی بنا پر اپنے موضوع کے ساتھ قائم نہیں ہوتی ، اس کا اعضاء کے ساتھ قیام بالکل ہوتا ہی نہیں کیونکہ اعضاء مانع نہیں تاکہ انکے ساتھ مانعیت قائم ہو اور بمعنی نسبت کے یعنی وہ شے جس کا کسی مانع شرعی کی طرف انتساب ہو
الشرعی الذی یحل بالاعضاء فیزیل طھرھا لان المانع ھو الخطاب الشرعی والمنتسب الیہ ما لاجلہ وردالخطاب و ھی النجاسۃ الحکمیۃ وھی بعینہا ذلك الوصف القائم بالاعضاء فرجع التعریف الی تعریف الغایۃ فلا خلاف ولا خلف الا تری ان تلمیذ المحقق علی الاطلاق اعنی المحقق الحلبی عرف الحدث فی الحلیۃ بانہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ و الحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھما من نواقض الوضوء ومنع من قربان الصّلاۃ وما فی معناھا معہ حال قیامہ بمن قام بہ الی غایۃ استعمال مایعتبر بہ زائلا [8] اھ وھو کما تری لیس الا بسطا لما اجملہ شیخہ المحقق وما ھو الاعین ماعرف بہ فی الغایۃ ولو قال مانع شرعی کما استظھرہ العلامۃ ط لکان ایضا مرجعہ الی ذلك لان ذلك الوصف الشرعی وھی النجاسۃ مانع شرعی بمعنی مالاجلہ المنع واستعمال المانع بھذا المعنی شائع ذائع(۱)غیران المحقق ابقاہ علی حقیقتہ فاتی بالنسبۃ فلا وجہ وجیھا للاستظھار ثم من(۲) اوضح دلیل علیہ ان البحر مغترف فی ھذا الحد من مناھل فتح القدیر کما ذکرہ فی ردالمحتار وقد قال المحقق فی
یہ قطعاً اس وصف شرعی پر صادق آتی ہے جو اعضاء میں حلول کرتا ہے اور ان کی طہارت کو زائل کرتا ہے اس لئے کہ مانع وہ خطاب شرعی ہے ، اور اس کی طرف منسوب وہ چیز ہے جس کی وجہ سے خطاب وارد ہوا ، اور وہی نجاستِ حکمیہ ہے ، اور وہ بعینہ وہ وصف ہے جو اعضاء کے ساتھ قائم ہے تو تعریف ، غایہ والی تعریف کی طرف لوٹ آئی تو کوئی خلاف نہیں اور نہ خلف ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد محقق حلبی نے حلیہ میں حدث کی تعریف اس طرح کی ہے کہ وہ ایک وصف حکمی ہے کہ شارع نے اعضاء کے ساتھ اس کے قیام کا اعتبار کیا ہے ، اور یہ جنابۃ ، حیض ، نفاس ، پیشاب اور پاخانہ وغیرہما نواقض وضو کے باعث ہوتا ہے ، اور یہ چیز نماز کے قریب جانے سے
[1] الہدایۃ باب الماء الذی لایجوز بہ الوضوء المکتبہ العربیۃ ۱ / ۱۲۲
[2] منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
[3] بحرالرائق باب شروط الصّلوٰۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۷
[4] درمختار کتاب الطہارت مجتبائی دہلی ۱ / ۱۶
[5] ردالمحتار کتاب الطہارت مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۳
[6] ردالمحتار کتاب الطہارت مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۳
[7] طحطاوی علی الدر کتاب الطہارت مصطفی البابی بیروت ۱ / ۵۶
[8] حلیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع