30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
استعمال کرے ، تو یہ اجیر وحد ہوگا ، اور اس کے منافع کا اندازہ مدۃ کی تعیین وتحدید سے ہی ہوگا اور جب مدۃ کا ذکر نہیں کیا گیا تو معقود علیہ مجہول رہے گا اور اجارہ فاسد رہے گا ، اور اسی لئے اگر کوئی چیز مستاجر کی مِلك ہو ، مثلًا مستاجر یہ کہے کہ میرا یہ درخت ایك درہم میں اٹ دو تو جائز ہے جیسا کہ آئے گا ، والله اعلم۔ (ت)
فتاوٰی عٰلمگیریہ میں قنیہ سے ہے :
قال(۱)نصیر سألت ابا سلیمٰن عمن استأجرہ لیحتطب لہ الی اللیل قال ان سمی یوما جاز والحطب للمستأجر(۲)ولوقال ھذا الحطب فالاجارۃ فاسدۃ والحطب للمستأجر وعلیہ اجر مثلہ(۳)ولوکان الحطب الذی عینہ ملك المستأجر جاز [1] ۔
اقول : والمراد اجر المثل بالغاما بلغ ان لم یسم معینا والا فالاقل منہ ومن المسمی کما ھو الاصل المعروف ولذا عولت علیہ وسیاتی التصریح بہ۔
نصیر نے فرمایا میں نے ابو سلیمان سے پوچھا کہ ایك شخص کسی مزدور سے معاہدہ کرے کہ وہ رات تك اس کیلئے لکڑیاں جمع کرے ، تو فرمایا کہ اگر ایك دن کا نام لیا تو جائز ہے اور لکڑیاں مستاجر کی ہوں گی ، اور اگر اشارہ کر کے کہا کہ یہ لکڑیاں تو اجارہ فاسد ہے اور لکڑیاں مستاجر کی ہیں اور اس پر اجرِ مثل ہے ، اگر وہ لکڑیاں مستاجر کی مِلك ہیں تو جائز ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں مراد اجر مثل ہے خواہ جتنا بھی ہو اگر اس نے معین نہ کیا ہو ورنہ اجر مثل اور اجر معین سے جو کم ہو وہ دیا جائے گا ، جیسا کہ کلیہ معروف ہے ، اس لئے میں نے اس پر اعتماد کیا اور اس کی تصریح بھی آجائے گی(ت)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(استأجرہ لیصیدلہ اویحتطب لہ فان وقت)لذلك وقتا(جاز والالا)فلولم یوقت وعین الحطب فسد (الا اذعین الحطب وھو)ای الحطب(ملکہ فیجوز) مجتبی وبہ یفتی صیرفیۃ [2] اھ۔ قال العلامۃ ش قولہ والالا ی والحطب للعامل ط قولہ فسد قال فی الھندیۃ ولو قال ھذا الحطب الٰی اٰخر مانقلنا قال قولہ وبہ یفتی صیر فیۃ قال فیھا ان ذکر الیوم
(اس کو اس لئے مزدوری پر لیا کہ وہ اس کے لئے شکار کرے یا لکڑیاں چنے تو اگر اس کا وقت مقرر کیا تو جائز ہے ورنہ نہیں)اور اگر وقت مقرر نہ کیا ، اور لکڑیاں مقرر کر دیں تو یہ عقد فاسد ہے(ہاں اگر لکڑیاں متعین کردیں اور وہ لکڑیاں اسی کی مِلك ہیں تو جائز ہے)مجتبٰی اسی پر فتوٰی ہے “ صیرفیۃ اھ “ ۔ علامہ “ ش “ نے فرمایا “ اور اس کا قول والالا یعنی لکڑیاں عامل کی ہوں گی ط ان کا قول “ فسد “ ہندیہ میں ہے ولو قال ھذا الحطب الی اٰخر
اقول : والمراد اجر المثل بالغاما بلغ ان لم یسم معینا والا فالاقل منہ ومن المسمی کما ھو الاصل المعروف ولذا عولت علیہ وسیاتی التصریح بہ۔ فالعلف للاٰمر والا فللمامور وھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبٰی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر [3] اھ۔
اقول : ھھنا تنبیھان الاول کون الحطب للعامل اذالم یوقت علی مافی الصیرفیۃ وتبع اطلاقھا الفاضلان ط و ش محلہ مااذالم یعین الحطب ایضا والاکان للاٰمر کما قدمنا عن الھندیۃ عن القنیۃ عن نصیر عن ابی سلیمٰن وقد نقلاہ ایضا واقراہ وفی غمز العیون استأجرہ لیصید لہ اولیحتطب جاز ان وقت بان قال ھذا الیوم اوھذا الشھر ویجب المسمی لان ھذا اجیر وحد وشرط صحتہ بیان الوقت وقد وجد وان لم یوقت ولکن عین الصید والحطب فالاجارۃ فاسدۃ لجھالۃ الوقت فیجب اجر المثل وما حصل یکون للمستأجر کذا فی الولوالجیۃ [4] اھ۔ وفی خزانۃ المفتین رجل استأجر اجیرا لیخیط لہ الی اللیل بدرھم جاز وکذا لیصتاد لہ الی اللیل اولیحتطب جاز ویکون الحطب والصید للمستأجر ولوقال لیصطاد ھذا الصید اولیحتطب
جو ہم نے نقل کیا ہے فرمایا ان کا قول وبہ یفتی صیرفیۃ اس میں ہے کہ اگر مستاجر نے دن کا ذکر کیا تو چارہ حکم دینے والے کے لئے ہوگا ورنہ اس کا ہوگا جس کو حکم دیا گیا ، اور یہ حاوی کی روایت ہے اور اس پر فتوی ہے۔ منح میں ہے اور یہ اُس کے موافق ہے جو ہم مجتبٰی سے نقل کر آئے ہیں اور اس لئے ہم نے اس پر مختصر میں اعتماد کیا اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہاں دو تنبیہات ہیں :
پہلی تنبیہ : لکڑیوں کا عامل کیلئے ہونا جبکہ اس نے وقت کا تعین نہ کیا ہو ، جیسا کہ صیرفیہ میں ہے ، اور دو۲ فاضلوں یعنی ط اور ش نے اس کے اطلاق کی متابعت کی ہے اس کا محل یہ ہے کہ جب لکڑیوں کا تعین بھی نہ کیا ہو ورنہ لکڑیاں آمر کی ہوں گی ، جیسا کہ ہم نے ہندیہ اور قنیہ کے حوالہ سے نقل کیا ، یہ روایت نصیر کی ابو سلیمان سے ہے ، اور اُن دونوں نے اس کو نقل کیا اور برقرار رکھا ، اور غمز العیون میں ہے کسی شخص نے مزدور کو اُجرت پر لیا کہ اُس کیلئے شکار کرے یا لکڑیاں جمع کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ اس نے اس وقت کا تعین کردیا ہو مثلًا یہ کہا ہو کہ اس دن یا اِس ماہ میں ، اور جو طے کیا ہو وہ واجب ہوگا کیونکہ یہ اجیر محض ہے ، اور اس کی صحت کی شرط وقت کا بیان ہے جو پائی گئی ہے اور اگر وقت کا تعین نہ کیا ہو لیکن شکار اور لکڑیوں کا تعین کیا ہو تو اجارہ فاسدہ ہے کہ وقت کی جہالت ہے ، تو اس صورت میں اجرِ مثل
ھذا الحطب فھو اجارۃ فاسدۃ والحطب وٍالصید للمستأجر وعلیہ للاجیر اجرالمثل ولو استعان من انسان فی الاحتطاب والاصطیاد فان الصید والحطب یکون للعامل [5]اھ۔
(۱)وفی الھندیۃ عن محیط السرخسی عن محمد رحمہ الله تعالٰی فیمن قال لغیرہ اقتل ھذا الذئب او ھذا الاسد ولك درہم و الذئب او الاسد صید فلہ اجر مثلہ لایجاوز بہ درھما والصید للمستأجر [6] اھ۔ وبالجملۃ النقول فیہ مستفیضۃ فما(۲)کان ینبغی اطلاق کون الحطب للعامل عند عدم التوقیت لشمولہ صورۃ تعیین الحطب وقد(۳)ذکرھا الشارح تفریعا علیہ بل(۴)اشار الیھا الماتن ایضا کما تری والثانی وقع فی الھندیۃ عن القنیۃ قبل مانقلناہ متصلا بہ مانصہ استأجر لیقطع لہ الیوم حاجا ففعل لاشیئ علیہ والحاج للأمور قال نصیر سألت ابا سلیمن[7] الخ۔ وکتبت علیہ مانصہ۔
واجب ہوگا ، اور جو حاصل ہوگا وہ مستأجر کو ملے گا کذا فی الولوالجیہ اھ۔ اور خزانۃ المفتین میں ہے کہ کسی شخص نے ایك اجیر لیا کہ وہ رات تك اس کے لئے سلائی کرے اور ایك درہم لے ، تو جائز ہے ، یا رات تك شکار کرے یا لکڑیاں جمع کرے ، اور یہ لکڑیاں اور شکار مستاجر کا ہوگا ، اور اگر کہا کہ یہ شکار کرے یا یہ لکڑیاں اکٹھی کرے ، تو اجارہ فاسد ہے ، اور لکڑیاں اور شکار مستاجر کا ہوگا اور اس کے ذمہ اجیر کیلئے اجر مثل ہوگا ، اور اگر کسی انسان سے لکڑیاں اکٹھی کرنے یا شکار میں مدد طلب کی تو شکار اور لکڑیاں عمل کرنے والے کی ہونگی اھ۔ اور ہندیہ میں محیط السرخسی سے محمد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی سے کہا کہ یہ بھیڑیا ہلاك کردو یا یہ شیر ، اور تم کو ایك درہم ملے گا۔ تو بھیڑیا اور شیر شکار شمار ہوگا اور اُس کا اجر مثل ملے گا جو ایك درہم سے زائد نہ ہوگا ، اور شکار مستاجر کا ہوگا اھ۔ خلاصہ یہ کہ اس میں نقول مشہور ہیں تو وقت کی تعیین نہ ہونے کی صورت میں لکڑیوں کا
[1] فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
[2] الدرالمختار اجارہ فاسدہ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۸۰
[3] ردالمحتار اجارہ فاسدہ البابی مصر ۵ / ۴۳
[4] غمز العیون مع الاشباہ کتاب الاجارۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۵۶
[5] خزانۃ المفتین
[6] ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
[7] ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع