دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

میں کہتا ہوں وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا لیکن اِذن بلاشبہ ثابت ہے اور ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اُس شخص کیلئے لیں ، اور اس کو دیتے بھی اس لئے ہیں کہ وہ اُس میں تصرف کرے ، وہ غصب تو نہیں کررہا ہے کہ ضمان واجب ہو۔ (ت)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو ان اشیاء کا مالك نہیں سمجھتے ہیں ، اور وہ شخص ان چیزوں پر اس طرح قابض ہوتا ہے گویا وہ ان چیزوں کا پہلا مالك ہے ، اور اس طرح تصرف کرتا ہے گویا وہ اِن چیزوں کا مالك ہو تو ایسی صورت میں اذن متحقق نہ ہوگا کیونکہ ان کو تو پتا ہی نہیں کہ

لمالك لہ ولا عبرۃ بالظن البین خطؤہ کمن(۱) حسب ان الشیئ الفلانی من ودائع زید عند ابیہ فاداہ الی وارثیہ فتصرفوا ثم تبین انہ لابیہ لالزید فان لہ ان یرجع علےھم بہ قائما اوبضمانہ ھالکا۔ فی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ من دفع شیاا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ القایض کما فی شرح النظم الوھبانی وغیرہ من المعتبرات [1] اھ وفیھا وفی الخیریۃ من کتاب الوقف قد صرحوا(۲)بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بما ادی ولو کان قداستھلکہ رجع ببدلہ [2]  اھ۔

اقول :  ھذا فیما لوعلم انہ لیس للمدفوع الیہ لم یدفع الیہ اماھنا فانما یاتون بہ لہ ولوعلموا ان الملك یقع لہم لم یتخلفوا عن اعطائہ لہ فرضاھم بتصرفہ فیہ ثابت علی کل تقدیر ولھذا لم یکترث           

یہ چیز ان کی ملکیت میں ہے اور اُس کی مِلك میں اُسی وقت ہوگی جب وہ اِذن دیں ، اور اِس صورت میں اس کو گمان ہے کہ وہ مالك ہے اور ان کو بھی گمان ہے کہ وہی مالك ہے ، اور جس گمان کا خطا ہونا ظاہر ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ، مثلًا کوئی شخص یہ گمان کر بیٹھے کہ فلاں چیز زید کی امانتوں میں سے اس کے باپ کے پاس ہے اور اس پر گمان پر وہ چیز زید کے وارثوں کو دے دیتا ہے اور وہ اس میں تصرف کرلیتے ہیں پھر بعد میں اس کو پتا چلتا ہے کہ وہ چیز تو اس کے باپ ہی کی ہے زید کی نہیں ہے ، تو اگر وہ چیز موجود ہو تو وہ ان سے واپس لے سکتا ہے اور اگر ہلاك ہو گئی ہے تو اس کا ضمان لے سکتا ہے ، “ العقود الدریہ “ کے کتاب الشرکۃ میں ہے کہ جس نے کوئی ایسی چیز دی جو اُس پر واجب نہ تھی تو وہ اس کو واپس لے سکتا ہے ، ہاں اگر بطور ہبہ دی ہو اور اس کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی ہو تو واپس نہیں لے سکتا ہے ، یہی چیز شرح نظم وہبانی وغیرہ معتبر کتب میں ہے اھ اور اس میں اور الخیریہ کے کتاب الوقف کے حوالہ سے ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ گمان کیا کہ اُس پر دین ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ غلط ہے ، تو جو دیا ہے وہ واپس لے گا ، اور اگر وہ ہلاك ہوگیا ہو تو اس کا بدل لے گا اھ(ت)

میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں ہے جبکہ اس کو یہ علم ہواہو کہ یہ مدفوع الیہ کے لئے نہ تھا تو اُس کو نہ دے گا ، اور یہاں تو وہ اُسی کیلئے لاتے ہیں اور اگر ان کو یہ علم ہو کہ مِلك ان کیلئے واقع ہوگی تو اس کے دینے سے تخلف نہ کریں گے ، تو

بہ الخاصۃ فضلا عن العامۃ کما اعترف بہ فلاوجہ لنسبتھم الی الجھل والغفلۃ واقامۃ النکیر ، ھذا ماعندی والعلم بالحق عند اللطیف الخبیر۔

اُن کا اُس کے تصرف پر راضی ہونا بہرتقدیر ثابت ہے اور اس لئے خاص لوگ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے چہ جائیکہ عام لوگ ، جیسا کہ خود انہوں نے اعتراف کیا ، تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو جہل ، غفلت کی طرف منسوب کیا جائے یا انہیں نکیر کی جائے ھذا ماعندی الخ(ت)

تنبیہ اقول : یہ بلا ۱  معاوضہ تین صورتوں کو شامل ہے : ایك یہ کہ وہ اس کا اجیرہی نہ ہو۔

دوسرے یہ کہ اس کا اجیر تو ہے مگر اس کام پر نہیں کسی اور خاص کام پر ہے تو یہ بلامعاوضہ ہی ہوا۔ تیسرے یہ کہ مطلق کام خدمت پر نوکر ہے جس میں یہ کام بھی داخل مگر نوکری کے غیر وقت میں اُس سے اس کام کیلئے کہا مثلًا دن کا نوکر ہے اُس سے رات کو پانی بھروایا کہ یہ وقت بھی بلامعاوضہ ہے ولہٰذا ہم نے اِن صورتوں کو تشقیق میں نہ لیا۔

صورت چہارم میں وہ مباح آقا کی مِلك ہوگا یعنی جب کہ اُس کی نوکری کے وقت میں یہ کام لیا ورنہ صورت سوم میں داخل ہے کمامر اِس صورت میں مِلك آقا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نوکری کے وقت میں نوکر کے منافع اُس کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں اور اُس کا اُس کے حکم سے قبضہ بعینہ اُس کا قبضہ ہے۔ ہدایہ میں ہے :

((۲)الاجیر الخاص الذی یستحق الاجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعمل کمن استؤجر شھرا للخدمۃ اولرعی الغنم)وانما سمی اجیر وحدلانہ لایمکنہ ان یعمل لغیرہ لان منافعہ فی المدۃ صارت مستحقۃ لہ والاجر مقابل بالمنافع ولھذا یبقی الاجر مستحقا وان نقض العمل(لاضمان علی ماتف من عملہ)لان المنافع متی صارت مملوکۃ للمستأجر فاذا امرہ بالتصرف فی ملکہ صح ویصیر نائبا منا بہ فیصیر فعلہ منقولا الیہ      

وہ خاص اجیر جو اجرت کا مستحق ہوتا ہے کہ ایك مدت کے لئے اپنے آپ کو سپرد کردے خواہ کام نہ کرے(مثلًا کسی شخص کو ایك ماہ کے لئے خدمت یا بکریاں چرانے کیلئے اجرت پر لیا)اس کو اجیر وحد اس لئے کہتے ہیں کہ وہ دوسرے کا کام نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس مدت میں اس کے منافع سب اس کیلئے مخصوص ہوگئے ہیں اور اجر منافع کے مقابل ہوتا ہے اس لئے اجیر مستحق رہتا ہے اگرچہ کام ختم ہوجائے(اس کے عمل سے اگر کوئی چیز تلف ہوجائے تو اس پر ضمان نہیں ہے)کیونکہ منافع جب مستاجر کی مِلك ہوگئے تو اب جب اُس نے اپنی مِلك میں تصرف کا حکم دیا تو صحیح ہوگیا ، اور وہ

کانہ فعلہ بنفسہ فلھذا لایضمنہ [3]۔

اس کا قائم مقام ہوگا اور اس کا فعل اس کی طرف منقول ہوگا گویا یہ فعل اس نے خود کیا ہے ، اس لئے وہ اس کا ضامن نہ ہوگا۔ (ت)

یوں ہی صورت پنجم میں اور اجیر اجر مقرر کا مستحق ہوگا کہ یہ اجارہ صحیحہ ہے اور صورت ششم میں بھی وہ شے مباح مِلك مستأجر ہوگی مگر اجیر مثل پائے گیا جو مسمی سے زاید نہ ہو کہ یہ اجارہ فاسدہ ہے۔

اقول :  ویظھرلی ان الوجہ فیہ والله تعالٰی اعلم ان الاجارۃ اما علی العمل اعنی التصرف فی شیئ من النقل والحمل والقطع والقلع وغیر ذلك وھو فی الاجیر المشترك والمقصود فیہ حصول ذلك التصرف کیفما کان ولذا لم یتقید بعمل الاجیر نفسہ واما علی منافع الاجیر وھو فی الاجیر الخاص والاجارۃ فی المباحات لانعقل علی الوجہ الاول لانھا لاتختص بالمستأجر ونسبتھا الی الکل سواء فکیف یکون حصول تصرف فیھا موجبا للاجر علی المستأجر بل انما الاجر مقابل فیھا بمنافع الاجیر حیث یرید المستأجران یستعملہ فی حاجتہ فلا یکون الا اجیر وحد ولا تتقدر منافعہ الا بتعیین المدۃ فاذالم تذکر بقی المعقود علیہ مجھولا ففسدت ولذا لوکان الشیئ ملك المستأجر کأن یقول اقطع شجرتی ھذہ بدرھم جاز کما یاتی والله تعالٰی اعلم۔   

میں کہتا ہوں مجھے اس کی جو وجہ معلوم ہوتی ہے والله تعالٰی اعلم وہ یہ ہے کہ اجارہ یا تو عمل پر ہوگا یعنی کسی چیز میں تصرف کرنا ، نقل وحمل ، کاٹنے یا اکھاڑنے کے طور پر اور اس کو اجیر مشترك کہتے ہیں ، اور مقصود اس میں اس تصرف کا حاصل ہونا ہے خواہ کسی طرح ہو لہٰذا اس میں یہ قید نہیں کہ اجیر خود ہی عمل کرے اور یا اجارہ اجیر کے منافع پر ہوگا یہ اجیر خاص میں ہوتا ہے ، اور مباح چیزوں میں پہلی صورت میں اجارہ متصور نہیں ، کیونکہ وہ مستاجر کے ساتھ مخصوص نہیں ، اور سب کی طرف اس کی نسبت یکساں ہے ، تو اس میں تصرف کا حصول مستاجر پر اجر کو کیونکر لازم کرے گا ، بلکہ ان میں اجر اجیر کے منافع کے مقابل ہے کہ مستاجر چاہتا ہے کہ اس کو اپنی حاجت میں



[1]   عقود الدریۃ کتاب الشرکۃ قندھار افغانستان ۱ / ۹۱

[2]   فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف بیروت ۱ / ۱۳۰

[3]       الہدایۃ باب ضمان الاجیر مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۳۰۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن